کرونا کی 23 نئی اقسام نیا وائرس دماغ میں داخل ہوکر خلیوں کو ختم کرتا ہے، بعض کے سانس لینے میں دشواری، متعدد کے گردے متاثر

برطانیہ میں کورونا کی 23 نئی اقسام زیادہ تیزی سے پھیلنے لگیں جس کے باعث اموات کی تعداد ساڑھے 67 ہزار کے قریب پہنچ گئی۔

برطانیہ میں ایک ہی دن میں کورونا کے مزید 36 ہزار نئے مریض سامنے آگئے جس کے بعد پچھلے اتوار کے مقابلے میں اس بار 95 فیصد زیادہ کیسز ریکارڈ کیے گئے۔

کورونا کے باعث نئی پابندیوں سے بچنےکے لیے لوگ لندن چھوڑکر جانےلگے جس سے  ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں کا ہجوم لگ گیا جب کہ سڑکوں پر بھی ٹریفک جام ہوگیا۔

برطانیہ کے وزیرصحت میٹ ہینکوک نے کورونا کے باعث پابندیاں مزید اگلے چند ماہ برقرار رہنے کاخدشہ ظاہر کیا ہے۔

دوسری جانب میٹ ہینکوک نےلندن سے بھاگنے والوں کو ’غیر ذمےدار‘ قرار دے دیا۔

مولانا فضل الرحمان سمیت 20 سیاستدانوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے، شیخ رشید

اسلام آباد: وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ 20 سیاستدانوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے اور اس حوالے سے تھریٹ الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحما ن پر بھی حملے کا خدشہ ہے اور ان کو بھی آگاہ کردیا گیا۔

وزیر داخلہ  نے کہا کہ ملک میں سی پیک کے خلاف سازش ہورہی ہے۔ سی پیک کے خلاف کسی تھریٹ کو کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا۔ ملک میں کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے، اپوزیشن لوگوں کو امتحان میں نہ ڈالیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف ملکی اداروں کے خلاف بیانیہ رکھتے ہیں۔ پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ سینیٹ الیکشن میں حصہ لے گی، یہ یقین سے کہہ رہا ہوں۔ وزیراعظم ایسی قانون سازی کریں گے کہ آئندہ  کوئی بھی دھاندلی کا نہیں سوچے گا۔

شیخ رشید نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان 5 سال پورے کریں گے۔ پارلیمنٹ کے علاوہ مسائل کا اور کوئی حل نہیں۔ مولانا فضل الرحمان اس اسمبلی کو ناجائز کہہ رہے ہیں جن میں وہ صدارتی امیدوار تھے۔ مولانا فضل الرحمان کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ منی لانڈرنگ اور کرپشن کرنے والے نہیں بچ سکیں گے۔ اچھا موقع ہوگا اپوزیشن اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی سوچ مثبت ہے،ن لیگ کو مولانا فضل الرحمان نے آگے لگایا ہے۔ مولانا فضل الرحمان سے درخواست ہے ایسا کھیل نہ کھیلیں ،ان کے ہاتھ کچھ نہیں آنا۔

وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف میلی آنکھ سے دیکھا تو یہ جنگ آخری ہوگی۔

برطانیہ میں کورونا وائرس کی نئی قسم ،پاکستان نے برطانیہ سے ایک ہفتے کیلئے پروازوں پر پابندی عائد کردی،مسافروں کو 7 دن تک قرنطینہ کیا جائیگا

پاکستان نے بھی دیگر کئی ممالک کے بعد برطانیہ میں نئے کروونا وائرس کے پیش نظر وہاں سے آنے والے مسافروں پر عارضی پابندیاں عائد کردی ہیں۔

کابینہ سیکریٹریٹ کے ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ این سی او سی کے اجلاس میں برطانیہ میں نئے کورونا وائرس کے پیش نظر برطانیہ سے آنے والے مسافروں پر 22 دسمبر کی رات سے 29 دسمبر کی رات تک عارضی پابندی ہوگی، جبکہ براہ راست اور بلواسطہ برطانیہ سے آنے تمام مسافروں پر پابندی کا اطلاق ہوگا۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ وہ مسافر جو 10 روز سے برطانیہ میں ہیں ان پر بھی پابندی کا اطلاق ہوگا، تاہم برطانیہ سے ٹرانزٹ فلائٹ کے ذریعے آنے والے مسافروں پر پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔‏

پاکستانی شہری، جو وزٹ ویزا پر برطانیہ میں ہیں انہیں سفر سے 72 گھنٹے قبل کروونا کا ٹیسٹ کروانا لازمی ہوگا، برطانیہ سے آنے والے مسافروں کا ایئرپورٹ پر دوبارہ ٹیسٹ کیا جائے گا اور پی سی ار ٹیسٹ رپورٹ آنے تک مسافروں کو حکومتی مسافر خانہ میں ہی رہنا ہوگا۔

این سی او سی کے فیصلے کے مطابق ایسے مسافروں کو 7 دن کے لیے گھر میں قرنطینہ بھی لازم کرنا ہوگا، 7 روز قبل برطانیہ سے آنے والے مسافروں کے بھی ٹیسٹ کیے جائیں گیے جن میں 21 اور 22 دسمبر کو آنے والے مسافر بھی شامل ہوں گے۔

قبل ازیں یورپی یونین کے متعدد ممالک اور کینیڈا نے برطانیہ کے سفر پر پابندی عائد کردی اور دیگر بھی ایسے ہی اقدام پر غور کر رہے ہیں تاکہ انگلینڈ کے جنوبی حصے میں سامنے آنے والے کورونا وائرس کی ایک نئی قسم کو براعظم تک پھیلانے سے روکا جاسکے۔

فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، بیلجیئم، آسٹریا، آئرلینڈ اور بلغاریہ نے برطانیہ کے سفر پر پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

آج سال کی طویل ترین رات ہوگی

آج رات سال کی سب سے طویل رات ہوگی، جس کا دورانیہ 13 گھنٹے 37 منٹ ہوگا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 21 اور 22 دسمبر کی درمیانی شب سال کی طویل ترین رات ہوگی۔

آج ملک میں غروب آفتاب 5 بج کر 49 منٹ پر ہوا، سورج کل صبح 7 بج کر 12 منٹ پر طلوع ہوگا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 21 اور 22 دسمبر کی درمیانی شب کا دورانیہ 13 گھنٹے اور 37 منٹ کا ہوگا۔

آج کے دن کا کل دورانیہ 10 گھنٹے اور 23 منٹ رہا۔

حمزہ شہباز نے بھی استعفیٰ لکھ دیا، کاپی کل جاری ہوگی

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز  نے بھی اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ لکھ دیا۔

مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمی بخاری  کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈرپنجاب اسمبلی کے استعفے کی کاپی کل جاری کی جائے گی۔

واضح رہے کہ حمزہ شہباز شریف ان دنوں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں قید ہیں۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) نے استعفے جمع کرانے کی ڈیڈ لائن میں کمی کردی اور ارکان اسمبلی کو اگلے 8 دن کے بجائے صرف 2 دن کی مہلت دے دی۔

ن لیگ نے ارکان کو 31 دسمبر کے بجائے 23 دسمبر تک استعفے جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔

آئین کے تحت سینیٹ انتخابات 10 فروری سے قبل ممکن نہیں، ای سی پی

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سینیٹ انتخابات کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں پر وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ آئین کے تحت 10 فروری سے قبل سینیٹ انتخابات نہیں ہوسکتے۔

ای سی پی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ‘چند روز سے سینیٹ انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داریوں پر بھی آرا کا اظہار کیا گیا جس سے کچھ ابہام پیدا ہوا’۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘اب محسوس کیا گیا کہ صورت حال کو آئین اور قانون کی روشنی میں واضح کیا جائے، سینیٹ آف پاکستان کے نصف اراکین 11 مارچ 2021 کو اپنی 6 سالہ مدت میعاد پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہوجائیں گے’۔

ای سی پی نے کہا کہ ‘آئین کے آرٹیکل 224 کی ذیلی شق تین کے تحت جو نسشتیں اپنی مدت میعاد مکمل ہونے کے بعد خالی ہوں گی ان پر انتخابات 30 دن سے پہلے نہیں ہوسکتے’۔

اپنے بیان میں وضاحت کرتے ہوئے ای سی پی نے کہا کہ ‘ان خالی ہونے والی نشستوں پر انتخابات کا انعقاد آئین کے مطابق 10 فروری 2021 سے قبل نہیں ہوسکتے’۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘گزشتہ 4 سے 5 انتخابات مارچ کے پہلے ہفتے میں منعقد ہوتے رہے ہیں اور اس بار بھی الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق مناسب وقت پر ان انتخابات کی تاریخ کا اعلان ایک انتخابی پروگرام کی صورت میں جاری کرے گا’۔

ای سی پی نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ‘آئین کے آرٹیکل 218(3)، 224(3) اور الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 107 کے تحت سینیٹ انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے اور الیکشن کمیشن اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے پر عزم ہے’۔

نیوزی لینڈ کیخلاف ٹیسٹ کیلیے قومی اسکواڈ کا اعلان، بابر اور امام شامل نہیں

نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ کے لیے 17 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان کر دیا گیا جس میں بابراعظم اور امام الحق پہلے ٹیسٹ میں جگہ نہیں بناسکے۔

‏نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے اعلان کردہ قومی اسکواڈ میں ‏محمد رضوان (پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے کپتان)، سرفراز احمد، شاداب خان، عابد علی، اظہرعلی، شان مسعود، فواد عالم، سہیل خان، یاسر شاہ، محمد عباس، عمران بٹ، حارث سہیل، نسیم شاہ، شاہین شاہ آفریدی اور فہیم اشرف شامل ہیں۔

‏دائیں انگوٹھے میں فریکچر کی وجہ سے کپتان بابراعظم نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے لیے بھی دستیاب نہیں ہوں گے۔

بابراعظم 13 دسمبر کو انجرڈ ہوئے اور انہیں 12 روز آرام کا مشورہ دیا گیا ہے جب کہ پہلا ٹیسٹ میچ 26 دسمبر کو شروع ہونا ہے جس کی وجہ سے امکان یہی ظاہر کیا جا رہا تھا کہ بابر اعظم بروقت فٹ نہیں ہو سکیں گے اور آج پی سی بی نے اعلان کر دیا کہ وہ پہلے ٹیسٹ میں دستیاب نہیں ہوں گے، بابراعظم کے نائب محمد رضوان پہلے ٹیسٹ میچ میں کپتانی کریں گے۔

بابراعظم پہلے ہی انجری کی وجہ سے ٹی ٹوئنٹی سیریز کا حصہ نہیں ہیں اور بائیں ہاتھ کے اوپنر امام الحق کے بائیں ہاتھ کا انگوٹھا فریکچر ہے، وہ بھی پہلے ٹیسٹ کے لیے دستیاب نہیں ہیں، دونوں کرکٹرز نے تاحال کرکٹ ٹریننگ شروع نہیں کی ہے۔

‏ٹور سلیکشن کمیٹی نے اوپنر عمران بٹ کو 17 رکنی قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کرلیا ہے، انہوں نے پہلی مرتبہ قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں جگہ بنائی ہے۔

‏نیوزی لینڈ اے کے خلاف واحد 4 روزہ میچ میں پاکستان شاہینزکی نمائندگی کرنے والے عابد علی، اظہرعلی،حارث سہیل، شان مسعود، فواد عالم، سہیل خان، یاسر شاہ، محمد عباس اور نسیم شاہ 23 دسمبر کو ترنگا میں قومی ٹیسٹ اسکواڈ کو جوائن کرلیں گے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کورونا وائرس کا شکار ہوگئے۔

وزیر اعلیٰ کے فوکل پرسن برائے ڈجیٹل میڈیا اظہر مشوانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں کہا کہ ‘عثمان بزدار کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘وزیر اعلیٰ کو گزشتہ رات سے ہلکی علامات یعنی بخار اور فلو تھا اور وہ ڈاکٹر کے مشورے پر سیلف آئیسولیشن میں ہیں’۔

قبل ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے طبیعت کی ناسازی کے باعث دفتری مصروفیات ترک کردی تھیں۔

اظہر مشوانی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ ڈاکٹرز نے طبعیت کی ناسازی کے باعث عثمان بزدار کو عارضی طور پر تمام سیاسی و دفتری مصروفیات ترک کرکے آرام کا مشورہ دیا ہے۔

ساتھ ہی فوکل پرسن نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جلد صحتیابی کی دعا بھی کی۔

فوری طور پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی طبیعت ناساز ہونے کی وجوہات سامنے نہیں آئی تھیں۔

واضح رہے کہ ملک میں اس وقت کورونا وائرس کی عالمی وبا کی دوسری لہر جاری ہے اور مختلف سیاسی و سماجی شخصیات اس وائرس سے متاثر ہوچکی ہیں۔

خیال رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پہلی مرتبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کئی مرتبہ ان پر اعتماد کا اظہار کرچکے ہیں جبکہ وہ انہیں ’وسیم اکرم پلس‘ بھی کہتے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے حوالے سے اگر بات کریں تو وہ پی پی 286 ڈی جی خان سے 26 ہزار 897 ووٹ لے کر رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

پہلی مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے والے سردار عثمان بزدار، پرویز مشرف کے دور حکومت میں ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی علاقے کے تحصیل ناظم بھی رہ چکے ہیں۔

وہ بزدار قبیلے کے سردار فتح محمد خان بزدار کے بیٹے ہیں جو خود 1985، 2002 اور 2008 میں رکن صوبائی اسمبلی اور ایک اسکول ٹیچر رہ چکے ہیں۔

‘اپوزیشن نے نیب قانون میں منی لانڈرنگ کو بطور جرم ختم کرنے کی بھی ترمیم پیش کی’

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے نیب قانون کی 38 شقوں میں سے 34 میں ترامیم پیش کی جن میں منی لانڈرنگ کو بطور جرم ختم کرنے کی ترمیم بھی شامل تھی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ ‘آج اعداد و شمار سے عوام کو معلوم ہوجائے گا کہ کس نے این آر او مانگا اور کس نے نہیں دیا، فیٹف پر اپوزیشن کے مذاکرات اپنی ذات کے لیے تھے، فیٹف بل پر مذاکرات کے لیے کمیٹی کی صدارت شاہ محمود قریشی کر رہے تھے جبکہ میں اس کمیٹی کا رکن تھا’۔

انہوں نے کہا کہ جب اجلاس شروع ہوا تو پہلا سوال ہوا کہ نیب کا بل کہاں ہے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نیب بل پر بعد میں مذاکرات کرلیں گے جس پر ان کا جواب تھا نہیں، اس کے بعد اپوزیشن کمیٹی کی اجلاس سے باہر چلی گئی اور آدھے گھنٹے بعد آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ این آر او پر بات کرنے کا پس منظر کیا ہے، اپوزیشن کہتی ہے ہم نے این ار او مانگا ہی نہیں، اپوزیشن یہ بھی کہتی ہے کہ نہ ہی وزیر اعظم این آر او دے سکتے ہیں۔

نیب قانون میں اپوزیشن کی پیش کردہ ترامیم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نیب قانون کی 38 شقوں میں سے 34 میں اپوزیشن نے ترامیم کیں، ان کا کہنا تھا کہ نیب کے قانون کی عمل داری 1999 سے کی جائے، اس سے ان کے 1999 تک بنائے گئے غیر قانونی اثاثے قانونی ہوجاتے۔

شبلی فراز نے کہا کہ ان کی ترمیم تھی کہ ایک ارب روپے سے کم کی کرپشن پر نیب کارروائی نہیں کرے گا، اس ترمیم سے جن کے کیسز ایک ارب روپے سے کم کرپشن کے ہیں ان کو چھوٹ مل جاتی، منی لانڈرنگ کی شق پر کہا گیا کہ اس کو بطور جرم ہٹا دیا جائے، اس کے بینیفشری شہباز شریف، آصف زرداری اور فریال تالپور اثاثے کیس ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی ایک ترمیم بے نامی کے متعلق تھی جس پر اپوزیشن نے کہا کہ بچوں اور اہلیہ کو باہر نکالا جائے، جبکہ ایک ترمیم یہ تھی کہ نااہلی نہیں ہوگی جب تک سپریم کورٹ کی طرف سے حکم نہ آئے، مطلب مقدمے کو دس بیس سال چلاتے رہیں جب تک فیصلہ نہ ہو اور نااہل نہ کیا جائے، عدالت سے نااہلی کچھ کیسز میں تاحیات اور کچھ میں دس سال ہوتی ہے، کہا گیا کہ عدالت سے نااہلی کی مدت 5 سال کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی ایک ترمیم تھی کہ نیب 2015 سے پہلے کے کرپشن کیسز کی تحقیقات نہیں کرے گا، اس ترمیم سے پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کو این آر او پلس مل جاتا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ اپوزیشن ریلیاں نکالنا چاہتی ہے نکالے لیکن عوام کی صحت کا خیال رکھیں کیونکہ کورونا بہت بڑھ گیا ہے، اپوزیشن کو پتہ ہے کہ جب تک وزیر اعظم عمران خان ہیں یہ اپنی چوری کا تحفظ نہیں کر سکتے، اپوزیشن کو نہ قانون کی پرواہ ہے نہ لوگوں کے جان کی پرواہ ہے، یہ بضد ہیں لیکن ان کا ہر میلہ فیل ہوا ہے اور لاڑکانہ میں بھی ان کو ندامت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا مقصد اپنی کرپشن کو چھپانا ہے، یہ کرپٹ اور نااہل لوگ ہیں، یہ جمہوری حکومت کو ہٹانے کے لیے لگے ہوئے ہیں، ایک طرف کہتے ہیں ووٹ کو عزت دو دوسری طرف ان کا بیانیہ غیر جمہوری ہے، دو سال تک یہ سوئے ہوئے تھے کیونکہ ان کو امید تھی کہ این آر او مل جائے گا۔

میشا شفیع نے فیض کے شعر میں ردو بدل پر معافی مانگ لی

گلوکارہ میشا شفیع نے انقلابی اور رومانوی شاعری کرنے والے فیض احمد فیضؔ کے شعر میں ردو بدل کرنے پر ان کے مداحوں سے معافی مانگتے ہوئے اپنا ٹوئٹ ڈیلیٹ کردیا۔

کچھ روز قبل میشا شفیع نے فیض احمد فیض کے مشہور زمانہ شعر کے مصرع میں لفظوں کے ردوبدل سے شعر کے معنی ومفہوم تبدیل کردیے تھے۔

میشا شفیع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر فیض احمد فیض کے مشہور شعر بول کے لب آزاد ہیں تیرے کو اپنے الفاظ دیتے ہوئے ’ٹرول کے لب آزاد ہیں تیرے‘ لکھتے ہوئے ناقدین پر تنقید کی تھی۔

اس پر فیض احمد فیض کے نام سے چلائے جانے والے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے میشا کو مخاطب کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا گیا کہ ’آپ تو فیض صاحب کی شاعری پر گانے گا کرہی مشہور ہوئی ہیں اور ان کی ہی شاعری پر ٹرول کر رہی ہیں۔‘