متحدہ عرب امارات (یو اے ای)کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النیہان نےکہا ہے کہ امارات 15لاکھ پاکستانیوں کا دوسرا گھر ہے، موجودہ سفری بندشیں کورونا وائرس کی وجہ سے ہیں۔
ایک بیان میں اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النیہان نےکہا ہے کہ یو اے ای اور پاکستان کے تعلقات میں گہرائی بھی ہے اور اس میں مزید وسعت کی گنجائش بھی موجود ہے۔
ان کاکہنا تھا کہ امارات 15 لاکھ پاکستانیوں کا دوسرا گھر ہے، موجودہ سفری بندشیں کورونا وائرس کی وجہ سے ہیں، ویزوں کے اجراء میں پابندیاں عارضی ہیں۔
شیخ عبداللہ بن زاید النیہان کا کہنا ہے کہ پاکستانی برادری نے امارات کی تعمیرو ترقی میں اہم کردار اداکیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے معروف ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر آفیشل اکاؤنٹ بنالیا۔
شیخ محمد بن راشد المکتوم نے باضابطہ طور پر ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک جوائن کرنے کا اعلان بھی کیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ٹوئٹ میں شیخ محمد بن راشدالمکتوم نے کہا کہ ‘ میں نے باضابطہ طور پر ٹک ٹاک جوائن کرلی، جو تیزی سے بڑھتا ہوا پلیٹ فارم ہے جس کے 80 کروڑ سے زائد صارفین ہیں’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم وہاں ہونا چاہتے ہیں جہاں لوگ ہوں، ہم مثبت عرب مواد تخلیق کرنا، نوجوانون کو سننا اور ان سے اپنی کہانیاں شیئر کرنا چاہتے ہیں۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق شیخ محمد بن راشد المکتوم کے انسٹاگرام پر 54 لاکھ فالورز ہیں جبکہ ان کے ٹوئٹر پر ایک کروڑ 4 لاکھ فالوورز ہیں۔
دبئی کے حکمران نے ٹک ٹاک پر پہلی پوسٹ ایک حوصلہ افزا کہانی شیئر کی جسے اب تک ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد مرتبہ لائیک کیا جاچکا ہے
ٹک ٹاک پر ان کی پہلی ویڈیو کو اب تک 13 لاکھ مرتبہ دیکھا جاچکا ہے اور ان کے فالوورز کی تعداد 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ پنجاب کے نظر انداز کئے گئے علاقوں میں پہلی بار ترقیاتی کام ہو رہے ہیں۔ماضی کے حکمرانوں نے ذاتی پسند و نا پسند کے ذریعے ترقیاتی کام کرائے۔ہم نے عوام کی بنیادی ضرورتوں کو مد نظر رکھ کر منصوبے ترتیب دیئے ہیں۔لاہور میں ایک طرف ترقی اور دوسری طرف مایوسیاں نظر آتی ہیں۔لاہور میں نظر انداز کئے گئے علاقوں میں سہولتیں دیں گے۔ٹریفک کا مسئلہ مخصوص مقامات پر اوور ہیڈ برج اور انڈر پاسز بنا کر حل کریں گے۔انہوںنے کہا کہ 3 دہائیاں گزرگئیں، آبادی بڑھ گئی ،کوئی جنرل ہسپتال نہیں بنا۔لاہور میں فیروز پور روڈ کے بعد دیگر مقامات پر بھی جنرل ہسپتال بنائیں گے۔یہ وقت احتجاجی سیاست کا نہیں بلکہ دکھی انسانیت کی خدمت کا ہے۔پی ڈی ایم کا اتحاد صرف ذاتی مفادات اور کرپشن کے تحفظ کیلئے ہے۔ اپوزیشن کورونا کے پھیلائو کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے اور کورونا پھیلانے میں پیش پیش ہے۔ جن جن شہروں میں جلسے ہوئے وہاں کورونا کی شرح میںاضافہ دیکھنے میں آیا۔ کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسوں کی ذمہ داراپوزیشن ہے۔انہوںنے کہا کہ جہاں نادان دوست ہوں وہاں دشمن کی ضرورت نہیں رہتی۔ان لوگوں کو ذرہ بھر بھی خدا کا خوف نہیں۔ اپوزیشن کے خواب چکنا چور ہو چکے ہیں۔اپوزیشن کی استعفے دینے کی دھمکی محض گیدڑ بھبکی ہے۔انہوںنے کہا کہ یہ مفاد پرست ٹولہ اپنے پائوںپرکبھی کلہاڑی نہیںمارے گا۔حکومت کو عوام کی مکمل حمایت و تائید حاصل ہے، مدت پوری کریں گے۔ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی پی ٹی آئی قیادت کا عزم ہے۔31دسمبر آئے گی اورگزر جائے گی ،استعفے جیبوں میں رہ جائیںگے۔عاقبت نااندیش پی ڈی ایم کوتاریخیں دینے کی عادت پڑچکی ہے۔یہ ٹولہ جانتا ہے کہ استعفے دیئے تو خالی نشستوں پر الیکشن ہوںگے۔انہوںنے کہا کہ اس کرپٹ اپوزیشن میں استعفے دینے کی اخلاقی جرأت ہرگز نہیں۔ شو ر و غوغا کرنے والے قوم پررحم کریںاورمنفی سیاست ترک کردیں۔ اپوزیشن پے درپے ناکامیوں کے باوجوداب تک خواب غفلت میں سورہی ہے۔انہوںنے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے ہوتے ہوئے انہیںلوٹ مارکا حساب دیناہوگا۔یہ عناصرجتنی مرضی منت ترلے کرلیں، این آر او نہیں ملنے والا۔ اپوزیشن کے نا آسودہ ارمانوں پراوس پڑچکی ہے۔
لاہور: ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کا کہنا ہے کہ سینیٹ الیکشن کے شیڈول کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کا لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ استعفے دینے کا فیصلہ سیاسی جماعتوں کا ہے، اگر سیاسی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ یہ صحیح ہے تو ٹھیک ہے۔
سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے الیکشن کے شیڈول کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا، مارچ میں سینیٹرز ریٹائر ہوں گے تو شیڈول آئے گا، باقی جو مرضی کہتے رہیں۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کہتے ہیں کہ حکومت کے وزراء کہہ رہے ہیں ہم مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، ہر ادارے کو اپنے ملازمین کا خود احتساب کرنا چاہیے، اگر پارلیمنٹیرین پر الزام آئے گا تو پارلیمنٹ ان کا احتساب کرے، اگر ہر کوئی چور ڈاکو ہے ساری پارلیمنٹ گھر چلی جائے۔
پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں میزبان ٹیم نے گرین شرٹس کو باآسانی 9 وکٹوں سے شکست دے کر 3 میچز کی سیریز 0-2 سے اپنے نام کرلی۔
ہملٹن میں کھیلے گئے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں قومی ٹیم کے کپتان شاداب خان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔
میچ کے آغاز میں ہی قومی ٹیم کے اوپنر ٹیم کو بڑا اسکور نہیں دے سکے اور 16 کے مجموعی اسکور پر حیدر علی 8 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے جبکہ ان کے بعد آنے والے عبداللہ شفیق بغیر کوئی رن بنائے 16 کے مجموعی اسکور پر ہی پویلین لوٹ گئے۔
جس کے بعد محمد رضوان اور محمد حفیظ نے ٹیم کے اسکور کو کچھ آگے بڑھایا تاہم 33 رنز کے مجموعی اسکور پر محمد رضوان 22 رنز بنا کر ٹم ساؤتھی کی گیند کا نشانہ بن گئے۔
33 رنز پر 3 کھلاڑیوں کے نقصان کے بعد قومی ٹیم کو سہارا دینے کے لیے کپتان شاداب خان آئے تاہم وہ بھی کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے اور 56 کے مجموعی اسکور پر صرف 4 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔
تاہم اس کے بعد سینئر بلے باز محمد حفیظ اور خوشدل شاہ نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 50 رنز سے زائد کی پارٹنرشپ کی اور قومی ٹیم کے 100 رنز مکمل کیے۔
محمد حفیظ نے جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے نصف سینچری مکمل کی تاہم ان دونوں بلے بازوں کی یہ پارٹنر شپ 119 رنز کے مجموعی اسکور پر ٹوٹ گئی اور خوشدل شاہ چکھا لگانے کی کوشش میں باؤنڈری پر کیچ دے بیٹھے۔
ٹم ساؤتھی نے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا—تصویر: آئی سی سی ٹوئٹر
ان کے بعد آنے والے کھلاڑی فہیم اشرف تھے جو صرف 4 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
تاہم محمد حفیظ نے جارحانہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور آخری اوور میں 2 چوکے اور ایک چھکا لگا کر قومی ٹیم کا اسکور 163 تک پہنچ دیا لیکن اوور مکمل ہونے کے باعث محمد حفیظ صرف ایک رنز سے اپنی سنچری مکمل نہ کرسکے۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے فاسٹ باؤلر ٹم ساؤتھی نے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ جیمز نیشام اور اش سودھی نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
164 رنز کے ہدف کے تعاقب میں نیوزی لینڈ کی ٹیم نے بیٹنگ کا آغاز ذمہ دارانہ انداز میں کیا۔
تاہم 35 کے مجموعی اسکور پر اوپنر مارٹن گپٹل آؤٹ ہوگئے جس کے بعد ٹم سیفرٹ نے جارحانہ انداز میں بیٹنگ کی اور ایک وکٹ کے ہی نقصان پر ٹیم کا اسکور 100 سے بڑھا دیا۔
نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں نے ذمہ دارانہ کھیل پیش کیا—تصویر: بلیک کیپس ٹوئٹر
جس کے بعد ٹم سیفرٹ اور کیوی کپتان کین ولیمسن نے جارحانہ انداز میں کھیل جاری رکھا اور 20ویں اوور میں 4 گیند قبل ہی ایک وکٹ کے نقصان پر 164 رنز کا ہدف حاصل کرلیا۔
ٹم سیفرٹ نے 63 گیندوں پر 84 رنز جبکہ کین ولیمسن نے 42 گیندوں پر 57 رنز اسکور کیے اور دونوں ناٹ آؤٹ رہے۔
پاکستان کی جانب سے واحد وکٹ فہیم اشرف نے حاصل کی، اس کے علاوہ کوئی بھی پاکستانی باؤلر وکٹ حاصل نہ کرسکا۔
یوں اس طرح میزبان نیوزی لینڈ نے 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز 0-2 سے اپنے نام کرلی۔
واضح رہے آج کھیلے جارہے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں قومی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔
تاہم کیوی ٹیم نے آج کے میچ میں 4 تبدیلیاں کی گئی تھیں اور کپتان کین ولیمسن ٹیم کی نمائندگی کررہے تھے جبکہ ان کے علاوہ کائل جیمیسن، ٹم ساؤتھی، ٹرینٹ بولٹ بھی میزبان ٹیم کا حصہ تھے۔
واضح رہے کہ 18 دسمبر کو سیریز کے پہلے میچ میں میزبان نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 5 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کرلی تھی۔
پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ آکلینڈ میں کھیلا گیا تھا، جہاں پاکستانی ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے 154 رنز کا ہدف دیا تھا جو کیوی ٹیم نے 5 وکٹ کے نقصان پر 7 گیندیں قبل ہی حاصل کرلیا تھا۔
دورہ نیوزی لینڈ پر موجود پاکستانی ٹیم ابتدا سے ہی مشکلات کا شکار ہے اور پہلے کورونا وائرس کے باعث اسکواڈ کے 8 اراکین کے متاثر ہونے کی وجہ سے ٹیم کو قرنطینہ میں رہنا پڑا تھا جبکہ اس کے بعد قومی ٹیم کے کپتان اور مایہ ناز بلے باز بابر اعظم انجری کے باعث ٹی 20 سیریز سے باہر ہوگئے تھے۔
میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل تھیں
پاکستان: شاداب خان(کپتان)، محمد رضوان، عبدالہ شفیق، حیدر علی، محمد حفیظ، خوشدل شاہ، عماد وسیم، فہیم اشرف، وہاب ریاض، شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ جس کا دل چاہتا ہے لانگ مارچ کرلے ہم استقبال کے لیے تیار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کے دوران وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان قوم کو آگے لے کرجائیں گے، وہ معیشت کو بھی بہتر کریں گے، عمران خان کی وجہ سے پولیس کو پہلی مرتبہ عزت ملنے جارہی ہے، 23 دسمبر کو وزیراعظم پولیس لائنز میں تقریب میں شرکت کریں گے
انھوں نے کہا کہ عمران خان نے مجھ پر اعتماد کیا ہے، 100 دن میں وزارت داخلہ میں تبدیلی ہوگی، اس وقت 10 ممالک میں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے اجرا کا انتظام ہے، دنیا بھر میں وزارت خارجہ سے مل کر شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھجوائیں گے۔ ایک لاکھ شناختی کارڈ روز جاری ہوں گے جب کہ پہلا مفت ہوگا، تمام تحصیلوں میں شناختی کارڈ دفاترکھولے جائیں گے، جو تحصیلیں رہ گئی ہیں وہاں ہر ہفتے ایک دفتر کھولیں گے۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان 5 سال پورے کریں گے، جنہیں استعفے فروری میں دینے ہیں وہ کل دے دیں شوق پورا کریں، جس کا دل چاہتا ہے آ جائے لانگ مارچ کرے، ہم استقبال کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی قیادت نے یکم فروری کو لانگ مارچ کا فیصلہ کیا ہے۔
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ یکم فروری سے لانگ مارچ ہوگا، عوام ابھی سے تیاریاں شروع کردیں۔
ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کے سلسلے میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے چندہ مہم شروع کردی۔
ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کے اخراجات کا معاملے کو مدنظر رکھتے ہوئے مریم نواز کی جانب سے ن لیگ کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے چندہ مہم میں حصہ ڈالنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مریم نواز چندہ مہم کے سلسلے میں پنجاب کے مختلف شہروں کا دورہ بھی کریں گی، ان کے ہمراہ پارٹی کے مرکزی رہنما بھی ہونگے۔
ن لیگ پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے چندہ مہم کے سلسلے میں ورکرز کنونشن اور ریلیوں کو حتمی شکل دے دی۔
مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز ان ریلیوں سے خطاب بھی کرینگی اور چندہ بھی جمع کریں گی۔
چندہ جمع کرنے کا فیصلہ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس فنڈ سے لانگ مارچ کے اخراجات پورے کیے جائیں گے۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی پی ڈی ایم مینار پاکستان جلسے میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمہوریت میں ہمارا خون شامل ہے، اس کا دفاع کریں گے، مذاکرات کا وقت گزر چکا اب اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔
اس کے علاوہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یکم فروری سے لانگ مارچ ہوگا، عوام ابھی سے تیاریاں شروع کردیں۔
وفاقی حکومت نے 50 پائلٹس کے لائسنس تصدیق نہ ہونے پر منسوخ کرکے ان کے کیسز ایف آئی اے کے حوالے کر دیے اور اب ان کے خلاف فوجداری کارروائی کا آغاز ہوگا۔
پائلٹس کے جعلی لائسنس کے معاملے میں وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو تحریری جواب میں آگاہ کیا ہے کہ مشکوک قرار دیئے گئے 262 میں سے 172 پائلٹس کے لائسنس کی تصدیق ہونے پر کلیئر قرار دئیے گئے ہیں۔
وفاق نے کہا کہ پچاس پائلٹس کے لائسنس تصدیق نہ ہونے کے باعث منسوخ کر دیئے گئے ہیں جس کی سمری وفاقی کابینہ سے بھی منظور ہو چکی ہے۔
یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کی پابندیاں “آن سائٹ “یا “ریموٹ آڈٹ “ کے بعد ہی ختم ہو سکتی ہیں، آڈٹ جنوری 2020 سے شروع ہونا ہے۔ جعلی لائسنس رکھنے والے پائلٹس کیخلاف کارروائی کا معاملہ ایف آئی اے کو بھی بھیج دیا گیا ہے اور جعلی پائلٹس کیخلاف ممکنہ طور پر کریمنل کارروائی کا آغاز ہو جائے گا۔
جعلی لائسنس رکھنے والے ایسے کسی پائلٹ کو اس موقع پر آرٹیکل 199 کے تحت ریلیف نہیں دیا جا سکتا، سپریم کورٹ میں کورونا کے سوموٹو کیس سے بھی یہ معاملہ جڑا ہوا ہے،وفاق نے سپریم کورٹ سے کیس کے حتمی فیصلے تک ہائیکورٹ میں کارروائی روکنے کی استدعا بھی کردی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پرصارفین نے دبئی میں ابوظہبی اسلامی بینک (ADIB) کے کیخلاف آن لائن مہم کا آغاز کردیا ہے کیونکہ ابو ظہبی اسلامی بینک نے اسرائیل کے لیمی بینک کے ساتھ تعاون کرلیا ہے جو کہ بلیک لسٹڈ ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق آن لائن صارفین نے اسلامی بینک کے ایک ایسے اسرائیلی بینک کے ساتھ تعلقات رکھنے پر بائیکاٹ کی مہم شروع کی ہے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔
صہیونی انٹرپرائزز کا بائیکاٹ کرنے والی مہم کے کارکنان کا ٹویٹر پر کہنا ہے کہ اے ڈی آئی بی نے لیمی بینک کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جو اقوام متحدہ کی غیر قانونی اسرائیلی آباد کاریوں میں ملوث کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہے ۔
ابو ظہبی اسلامی بینک نے متحدہ عرب امارات ، اسرائیل اور دیگر بین الاقوامی منڈیوں کے ساتھ باہمی تعاون کو جاری رکھتے ہوئے اسرائیل کا دوسرا بڑا بینک لیمی بینک کے ساتھ تعاون کیا ہے اور دونوں بینکوں کے درمیان مفاہمتی اعلامیے پر 16 دسمبر کودستخط بھی کردیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ ابوظہبی اسلامی بینک متحدہ عرب امارات کے سب سے بڑے تجارتی بینکوں میں سے ایک ہے جس کا سرمایہ تقریبا 3.63 بلین درہم (988 ملین ڈالر) ہے۔
سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے آرمی چیف سے حکومت گرانے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا، یہ وزیر اعظم کے اندر کا خوف بول رہا ہے۔
لاہور میں (ن) لیگ کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ‘اپوزیشن نے آرمی چیف سے حکومت گرانے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا، یہ وزیر اعظم کے اندر کا خوف بول رہا ہے، عمران خان کلین بولڈ، اسٹمپ آؤٹ ہوچکے ہیں لیکن ضدی بچے کی طرح کریز پر کھڑے ہیں، جبکہ اپوزیشن عوام کی طاقت کے ساتھ اس سلیکٹڈ حکومت کو گھر بھیجے گی’۔
اداروں میں تشویش اور ناراضگی سے متعلق انہوں نے کہا کہ ‘اداروں میں ناراضگی ہوگی تو آپ کی کارکردگی سے ہوگی، ادارے ناراض اس پر ہوں گے کہ آپ نے معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ہے، اداروں میں تشویش اس پر ہوسکتی ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے دوست ملک دور ہوگئے’۔