ماحولیاتی آلودگی کے مسائل ختم کرنا ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے اور اس کو ٹھیک کرنا ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے۔

بلین ٹری ہنی انیشی ایٹو پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے سامنے آج سب سے بڑے چیلنجز میں اپنے ملک کے ماحولیات کا دھیان رکھنا ہے، انگریز نے جو جنگلات بنائے تھے وہ ہم نے ختم کردیا ہے اور دریاؤں کو آلودہ کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ زیرزمین پانی آلودہ ہوتا جارہا ہے، سپریم کورٹ نے کہا کہ سندھ میں 70 فیصد زیر زمین پانی آلودہ ہے، ہوا کو آلودہ کردیا اورلاہور میں خاص طور پر سردیوں میں آلودگی خطرے سے بھی اوپر جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے بدترین متاثرین ہونے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر ہوگا جو آگے ہمارے لیے ایک چیلنج ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے جو بھی آیا اس نے اپنے 5 سال اور الیکشن کا سوچا اورکسی نے آگے کا نہیں سوچا کہ کس طرح کا پاکستان چھوڑ کر جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے اورمیری حکومت پر سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے جو مسائل آئے ہیں وہ ٹھیک کریں، جنگلات کو بڑھائیں اورفضائی آلودگی کو بھی ٹھیک کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایک ارب درخت لگانے کا کامیاب تجربہ ہوا اور اس کی آڈٹ باہر کی کمپنیوں اور ورلڈ اکنامک فورم نے اپنی طرف سے تصدیق کرکے ہمارے ساتھ تعاون کیا۔

انہوں نے کہا کہ اب جو نیا اقدام ہے اس پر امین اسلم اور ساتھ ہی گورنر کےپی شاہ فرمان کو بھی کریڈٹ دیتا ہوں کیونکہ اس سے مقامی لوگوں کو اس سے فائدہ ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپنے جنگلات کو شہد کی پیداوار کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ زبردست ہے کیونکہ اس سے مقامی لوگوں کو فوری طور پرروزگار ملے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پاکستان کی برآمدات بہت کم ہے اورجب کوالٹی کی منظوری دی جائے گی تو اس کو ہم برآمد کریں گے۔

مذاکرات کا وقت چلا گیا، اب مذاکرات اُس وقت ہوں گے جب وزیراعظم نہیں ہوگا: بلاول

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مذاکرات کا وقت چلا گیا، اب مذاکرات اُس وقت ہوں گے تو جب وزیراعظم نہیں ہوگا۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں بلاول کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کا فلسفہ اور منشور ملک کے غریب عوام کیلئے ہی ہے ، حکومت عوام کا دکھ درد محسوس ہی نہیں کر رہی، وزیراعظم عوام کے مسائل حل نہیں کرسکتے تو انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پاس عوام کے مسائل کا حل ہے، ہم تاریخی مہنگائی ، بیروزگاری کا مقابلہ کر رہے ہیں ، عوام اپنے مسائل حل نہ ہونے پر خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھاکہ ہم نے اپنے دور اقتدار میں عوام کو اکیلا نہیں چھوڑا تھا ، آپ اپنے کسان سے خریداری نہیں کررہے، دنیا سے خریداری کررہے ہیں۔

احتجاجی تحریک کے حوالے سے پی پی چیئرمین کا کہناتھاکہ لانگ مارچ تو ہونا ہی ہونا ہے، لانگ مارچ کا فیصلہ پی ڈی ایم کرے گی، لانگ مارچ میں عوام کو ساتھ لے کر جائیں گے اور اسلام آباد پہنچ کر استعفے چھین کر لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں چل رہے، مذاکرات کا وقت چلا گیا، اب مذاکرات جب ہوں گے تو جب وزیراعظم نہیں ہوگا، عوام اسلام آباد پہنچیں گے تو یہ وزیراعظم نہیں بچ سکے گا۔

بلاول نے مزید کہا کہ ارکان قومی اسمبلی کے پاس سیکریٹ بیلٹ کا حق موجود ہے، حکومت کو تکلیف ہوتی ہے تو ہمیں بہت مزا آتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے تعزیت کیلئے گیا تھے، میڈیا جو باتیں چل رہی ہیں یہ باتیں اس ماحول میں نہیں ہوسکتی، پولیس کے سامنے میڈیا پر چلنے والی باتیں نہیں ہوسکتیں، نا میڈیا میں آزادی ہے، نا پارلیمان میں آزادی ہے۔

سرائیل کو تسلیم کرنے کیلیے کوئی دباو نہیں، امارات کو پاکستان کا موقف بتادیا:شاہ محمود قریشی

ملتان: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہےکہ اسرائیل کے بارے میں یو اے ای کا موقف سنا اور اس پر پاکستان کا مؤقف بھی پیش کیا لہٰذا اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے ہم پر کوئی پریشر نہیں ہے۔

ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد سے ملاقات کی اور دبئی کے وزیر خارجہ سے طویل نشست میں ویزا کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا، متحدہ عرب امارت میں ویزہ کی پابندی عارضی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  دبئی، شارجہ میں پاکستانیوں کی اکثریت روزگار کے لیے مقیم ہے، یو اے ای حکمران سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا کوئی نعم البدل نہیں ہوسکتا، ویزا بندش کے معاملات جلد حل ہوجائیں گے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر یو اے ای کے حکمرانوں کو اعتماد میں لیا، اسرائیل کے بارے میں یو اے ای کا موقف سنا اور سمجھا، میں نے اسرائیل کے بارے میں پاکستان کا موقف پیش کیا، اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے ہم پر کوئی پریشر نہیں ہے۔

شاہ محمود نے مزید کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حل تک پاکستان کسی صورت اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں کرے گا، ہم نے پاکستان کے مفادات کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کرنے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو جب بھی موقع ملا اس نے پاکستان کے مفادات کو زک پہنچانے کی کوشش کی، بھارت جعلی این جی اوز اور سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کررہا ہے، بھارت کی کوششیں یورپ نے بے نقاب کی ہیں، ہم نے 14 نومبر کو ثبوت کے ساتھ پریس کانفرنس میں بھارت کی دہشت گردی کو بے نقاب کیا جب کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے سامنے بھی ہم نے یہ تحفظات پیش کردیے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کو پیغام دیا کہ آپ سرجیکل اسٹرائیک کرنا چاہتے ہیں یہ ہمارے علم میں ہے، بھارت سے کہا کہ ایسی حرکت مت کیجئے گا ہم بھرپور جواب دیں گے، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل اس کا نوٹس لے،  بھارت نے ایسی کوئی حرکت کی تو ہمارا ایکشن فوری ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے جلسے بے سود ہیں، ان میں صرف سیاسی جماعتوں کے ورکرزہیں، عوام کی پذیرائی نہیں ملی جب کہ استعفوں پر پی ڈی ایم کی صفوں میں انتشار ہے، واضح طور پر کہتا ہوں پیپلز پارٹی استعفیٰ نہیں دینا چاہتی اور مسلم لیگ ن میں 2 واضح دھڑے ہیں، ایک دھڑا استعفیٰ دینا چاہتا ہے، دوسرے دھڑے کی نظر میں استعفی دینا پارٹی کا نقصان ہے، ان سے کہتا ہوں قوم کو گمراہ نہ کریں اگر سنجیدہ ہیں تو 31 دسمبر تک اپنے استعفے اسپیکر کو پہنچادیں۔

بھارتی کسانوں کا احتجاج جاری مظاہرین یوپی سے دلی پہنچ گئے،مودی سرکار کی مذاکرات کے لیے منتیں

 دلی میں کسانوں کا احتجاج 25 ویں روز بھی جاری ہے، مظاہرین یو پی سے دلی کی سرحد غازی پور پہنچ گئے۔ مودی حکومت مذاکرات کے لیے منتیں کرنے لگی۔ کسان متنازع زرعی قوانین کو ہٹانے پر ڈٹ گئے۔

 کسانوں کا احتجاج مودی کے لیے دردِ سر بن گیا، دلی کا گھیراؤ جاری ہے۔ لاکھوں کسان دلی کے اندر دھرنا دیئے ہوئے ہیں اور لاکھوں ہی دارالحکومت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

شدید ترین سردی میں بھی کسانوں کا ولولہ بے مثال ہے، آل انڈیا کسان سبھا کا مہارشترا سے دلی کی طرف مارچ شروع ہو گیا۔ اترپردیش سے آنے والے کسان دلی کی سرحد غازی پور پہنچ گئے۔

مودی حکومت مذاکرات کے لیے منتیں کرنے لگیں، کسان تنظیمیں متنازع زرعی قوانین کو ہٹانے پر ڈٹ گئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے قوانین کی منسوخی تک گھر واپس نہیں جائیں گے۔ کسان رہنماوں کا کہنا ہے مودی بڑی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے زراعت کی نجکاری کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ 26 نومبر سے جاری احتجاج کے دوران 25 کسان جان دے چکے ہیں۔

نیوزی لینڈ کیخلاف ٹیسٹ کیلیے قومی اسکواڈ کا اعلان، بابر اور امام شامل نہیں

نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ کے لیے 17 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان کر دیا گیا جس میں بابراعظم اور امام الحق پہلے ٹیسٹ میں جگہ نہیں بناسکے۔

‏نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے اعلان کردہ قومی اسکواڈ میں ‏محمد رضوان (پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے کپتان)، سرفراز احمد، شاداب خان، عابد علی، اظہرعلی، شان مسعود، فواد عالم، سہیل خان، یاسر شاہ، محمد عباس، عمران بٹ، حارث سہیل، نسیم شاہ، شاہین شاہ آفریدی اور فہیم اشرف شامل ہیں۔

‏دائیں انگوٹھے میں فریکچر کی وجہ سے کپتان بابراعظم نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے لیے بھی دستیاب نہیں ہوں گے۔

بابراعظم 13 دسمبر کو انجرڈ ہوئے اور انہیں 12 روز آرام کا مشورہ دیا گیا ہے جب کہ پہلا ٹیسٹ میچ 26 دسمبر کو شروع ہونا ہے جس کی وجہ سے امکان یہی ظاہر کیا جا رہا تھا کہ بابر اعظم بروقت فٹ نہیں ہو سکیں گے اور آج پی سی بی نے اعلان کر دیا کہ وہ پہلے ٹیسٹ میں دستیاب نہیں ہوں گے، بابراعظم کے نائب محمد رضوان پہلے ٹیسٹ میچ میں کپتانی کریں گے۔

بابراعظم پہلے ہی انجری کی وجہ سے ٹی ٹوئنٹی سیریز کا حصہ نہیں ہیں اور بائیں ہاتھ کے اوپنر امام الحق کے بائیں ہاتھ کا انگوٹھا فریکچر ہے، وہ بھی پہلے ٹیسٹ کے لیے دستیاب نہیں ہیں، دونوں کرکٹرز نے تاحال کرکٹ ٹریننگ شروع نہیں کی ہے۔

‏ٹور سلیکشن کمیٹی نے اوپنر عمران بٹ کو 17 رکنی قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کرلیا ہے، انہوں نے پہلی مرتبہ قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں جگہ بنائی ہے۔

‏نیوزی لینڈ اے کے خلاف واحد 4 روزہ میچ میں پاکستان شاہینزکی نمائندگی کرنے والے عابد علی، اظہرعلی،حارث سہیل، شان مسعود، فواد عالم، سہیل خان، یاسر شاہ، محمد عباس اور نسیم شاہ 23 دسمبر کو ترنگا میں قومی ٹیسٹ اسکواڈ کو جوائن کرلیں گے۔

چیئر مین نیب سینٹ میں پیش نہ ہوئے تو وارنٹ گرفتاری جاری کرے گے:ڈپٹی چیئرمین سینٹ

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے خلاف قرار داد اور ان کی سینیٹ میں طلبی کے معاملے پر ایوان بالا کے چیئرمین صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا آمنے سامنے آگئے ہیں ۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی چیئرمین نیب کو بچانے کی مسلسل کوشش کررہے ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے اس معاملے پر سینیٹ کا اجلاس طلب کرنے کے لئے جمع کرائی گئی ریکوزیشن پر اعتراضات اٹھا دیئے جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور پیر کو دوبارہ ریکوزیشن جمع کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ پر شدید دبائو ہے کہ وہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کے خلاف تحریک استحقاق اور قرار داد کو ایوان میں زیر بحث لانے کی اجازت نہ دیں اور اس حوالے سے سینیٹ کا اجلاس بھی طلب نہ کیا جائے اسی وجہ سے انہوں نے پہلے ریکوزیشن پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے اسے واپس کر دیا تھا اور موقف اختیار کیا تھا کہ یہ ریکوزیشن قواعد کے مطابق نہیں ہے جو ایجنڈا دیا گیا تھا کہ اس پر بھی سینیٹ سیکرٹریٹ نے اعتراض لگا دیا تھا اور موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ریکوزیشن پر بلائے گئے اجلاس سے متعلق قواعد واضح ہیں

ریکوزیشن اجلاس کے دوران تحریک استحقاق اور قرار داد کی منظوری نہیں ہو سکتی ۔سینیٹ سیکرٹریٹ نے یہ بھی موقف اختیار کیا کہ ریکوزیشن اجلاس میں مختلف مسائل پر تحریک کے ذریعے بحث ہو سکتی ہے اس لئے ایجنڈا دوبارہ فراہم کیا جائے اس پر ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے شدید احتجاج کیا اور کہا کہ یہ سب کچھ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی ایماء پر ہو رہا ہے جو کہ نیب کے خلاف تحریک استحقاق اور قرار داد کو روکنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ روک نہیں سکتے ۔

ابتدائی طور پر نیب کے خلاف تحریک استحقاق منظور نہیں کی گئی ،اپوزیشن کے ایجنڈے پر اعتراضات سینیٹ قواعد کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔تاہم اپوزیشن لیڈر راجہ ظفر الحق کا کہنا ہے کہ وہ پیر کو نئی ریکوزیشن جمع کرائیں گے اور اس کے ایجنڈے میں بھی نیب کے خلاف قرار داد اور سلیم مانڈوی والا کی تحریک استحقاق شامل ہوگی تا کہ جو اعتراضات سینیٹ سیکرٹریٹ نے اٹھائے ہیں وہ دوبارہ نہ اٹھائے جا سکیں اس حوالے سے چیئرمین سینیٹ سے رابطہ کیا گیا ان کا موقف تھا کہ وہ ریکوزیشن پر اجلاس قواعد و قانون کے مطابق بلائیں گے ،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ جو اعتراضات اٹھائے ہیں ان کا بھی قواعد کے مطابق جائزہ لیا جائیگا ۔

نیپالی صدر نے ایک سال قبل اسمبلیاں توڑ دیں اپریل میں نئے الیکشن کا اعلان

کھٹمنڈو: نیپال کی صدر ودیا دیوی بھنڈاری نے کابینہ کی درخواست پر پارلیمنٹ تحلیل کرکے آئندہ برس 30 اپریل اور 10 مئی کو الیکشن کرانے کا اعلان کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیپال کی صدر ودیا دیوی بھنڈاری نے 68 سالہ وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی کابینہ کی درخواست پر پارلیمنٹ کو تحلیل کرتے ہوئے الیکشن کی مقررہ تاریخ سے ایک سال قبل الیکشن کرانے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم کے-پی شرما اولی نے 2017 میں ماؤ نواز باغیوں سے اتحاد کرکے انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی تھی تاہم نیپال کمیونسٹ پارٹی نے وزیراعظم پر حکومتی فیصلوں اور تقرریوں میں اپنی پارٹی کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرکے نیا مینڈیٹ لینے پر زور دیا تھا۔

این سی پی کی مرکزی کمیٹی کے ممبر بشنو رجل نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی، مرکزی کمیٹی اور پارٹی کے سکریٹریٹ میں وزیر اعظم اعتماد کھو چکے ہیں جس پر پارٹی کے اندر سمجھوتہ کرنے کی بجائے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا انتخاب کیا۔

دوسری جانب وزیراعظم پی-کے شرما اولی کے معاون راجن بھٹارائے نے کہا کہ وزیر اعظم نے ان کی پارٹی کے ردعمل کے جواب میں نئے الیکش کا کہا ہے جس نے ان سے صدر کے عہدے سے دستبردار ہونے پر بھی غور کرنے کو کہا تھا۔

سوشل میڈیا خطرناک،روزانہ لاکھوں افراد تنہائی اور موت کا شکار ہونے لگے

وقت گزاری کے لیے یوں تو بہت سے کام ہیں، کئی شوق ہیں جنہیں لاک ڈاؤن کے دوران پورا کیا جا سکتا ہے۔کچھ شوق جیسے مطالعہ لاک ڈاؤن کی بدولت ملنے والی چھٹیوں کا بہترین استعمال ہے لیکن سمارٹ فون کی بدولت اکثر لوگ لاک ڈاؤن  میں اپنے محبوب یا سوشل میڈیا سے زیادہ جڑ گئے ہیں۔

ویسے بھی آج کے دور میں واٹس ایپ ، انسٹاگرام، ٹوئٹر، ٹک ٹاک اور فیس جیسی ایجادات کے بغیر انسان تقریباً نا مکمل ہے۔ یہ سچ ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں سوشل میڈیا نے انسانوں سے گہرا  رشتہ قائم کر لیا ہے۔ جدید ایجادات کی  مدد سے بڑے سے بڑا اور مشکل سے مشکل کام چند لمحوں میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے، لیکن انسانوں کا واٹس ایپ ، انسٹاگرام، ٹوئٹر اور فیس بک  اور دیگر ویب اور موبائل ایپلیکیشنز میں کھو جانا کسی مہذب معاشرے اور ہماری تہذیب و تمدن سے بالکل میل نہیں کھاتا۔

آپس میں ملنا جلنا، ایک دوسرے کا خیال رکھنا اور دکھ درد میں ایک دوسرے کے کام آنا ہماری تہزیب اور معاشرت کا اہم حصہ ہے۔ ان معاشرتی اچھائیوں کو نئی نسل تک پہنچانا ہماری ذمہ داری بھی ہے اور فرض عین بھی۔ آج کل لاک ڈاؤن نے ایک دوسرے سے ملنے سے روکا ہوا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی کے کام نہیں آسکتے یا کوئی نیکی نہیں کما سکتے۔

یہ سچ ہے کہ لاک ڈاؤن  کے دوران دنیا میں زیادہ تر لوگ سوشل میڈیا سے جڑے ہوئے ہیں۔ وطن عزیز بھی اس معاملے میں کسی دوسرے ملک سے پیچھے ہرگز نہیں ہے۔ مرد، خواتین، بچے، بوڑھے، جوان، امیر، غریب، سب اپنا اچھا خاصا وقت سوشل میڈیا میں لگا رہے ہیں۔

بالخصوص نوجوان نسل کے دل و دماغ پر تو سوشل میڈیا جنون کی حد تک حاوی ہو چکا ہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں  دن بھر سوشل میڈیا سے چپکے رہنے کے باوجود رات میں بھی جب تک سوشل میڈیا پر کچھ وقت نہیں گزار لیتے تب تک انہیں نیند ہی نہیں آتی۔ لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ فیس بک پر دوست بڑھتے جا رہے ہیں لیکن حقیقی زندگی میں ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

آٹا، چینی اسکینڈل کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب

قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ملک میں غربت، افلاس، صحت اور تعلیم کی سہولیات کی زبوں حالی کی وجہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آٹا اور چینی اسکینڈل کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

نیب کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق چیئرمین نیب نے کہا کہ دھیلے کی نہیں بلکہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی، ملک میں غربت، افلاس، صحت اور تعلیم کی سہولیات کی زبوں حالی کی وجہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مضاربہ میں اسلامی سرمایہ کاری کے نام پر سادہ لوح اور معصوم لوگوں کو لوٹاگیا، لوگوں کو شرعی منافعے کا لالچ دے کر ان کی عمر بھر کی جمع پونجی لوٹی گئی۔

چئیرمین نیب نے کہا کہ مضاربہ کیس ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی ہیں لیکن نیب کی مؤثر پیروی کے باعث اس کیس میں مفتی احسان اور س کے ساتھیوں کو 10 سال کی سزا اور 10 ارب روپے جرمانہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے، قائداعظم محمد علی جناح نے آئین ساز اسمبلی کے اجلاس میں رشوت ستانی اور اقربا پروری کو بڑا مسئلہ قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب وائٹ کالر کرائمز اور اسٹریٹ کرائمز میں فرق ہے، نیب اقوام متحدہ کی بدعنوانی کے خلاف کنونشن کے تحت فوکل ادارہ ہے۔

اگر بھارت نے جعلی آپریشن کی غلطی کی تو پاکستان منہ توڑ جواب دے گا، وزیراعظم

یراعظم عمران خان نے بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کو نشانہ بنانے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برداری کو واضح کیا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف جعلی آپریشن کیا تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے ایل او سی پراقوام متحدہ کے مبصر گروپ کی گاڑی پر جان بوجھ کر فائرنگ کی جس پر اقواممتحدہ کا نشان اور جھنڈا واضح طور پر لہرا رہا تھا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس سے بھارت کے ایک ریاست کے طور پر تمام بین الاقوامی اقدار، بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کے قانون کے احترام سے انحراف ہے، پاکستان اس رویے کی شدید مذمت کرتا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں ایک مرتبہ پھر عالمی برادری کو خبردار کرنا چاہتاہوں کہ بھارت میں بڑھتے ہوئے اپنے اندرونی مسائل خاص کر معاشی تنزلی، کسانوں کے احتجاج اور کووڈ-19 کی ناقص حکمت عملی سے مودی حکومت پاکستان کے خلاف جعلی فلیگ آپریشن کے ذریعے اندرونی چپقلش سے توجہ ہٹائے گی’۔

وزیراعظم نے بتایا کہ ‘بھارت نے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر 2020 میں بلااشتعال جنگ بندی کی 3 ہزار خلاف ورزیاں کی ہیں اور عام شہری آبادی کو نشانہ بنانے سے 92 خواتین اور 68 بچوں سمیت 276 افراد متاثر ہوئے’۔

اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ ‘میں عالمی برادری کو واضح کر رہا ہوں کہ اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف جعلی فلیگ آپریشن شروع کرنے کی غلطی کی تو اس کو پاکستانی قوم کا مضبوط جواب ملے اور ہر سطح پر منہ توڑ جواب دیا جائے گا، بھارت ایسے غلطی نہ کرے’۔

اس سے قبل دفترخارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘پاکستان نے اقوام متحدہ کے مبصر گروپ پر بھارت کے قابل مذمت حملے کو باقاعدہ طور پر اٹھایا ہے اور زور دیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں’۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘اقوام متحدہ میں پاکستان کے مسقتل مندوب نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو خط میں لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کے واضح نشان والی گاڑی کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا جو مبصر گروپ کے کام میں رکاؤٹ ڈالنے کی ایک اور جابرانہ اور بزدلانہ کوشش ہے’۔

انہوں نے سیکریٹری اور سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ ‘پاکستان کے پاس مصدقہ معلومات ہیں کہ آر ایس ایس-بی جے پی حکومت مقامی مشکلات سے توجہ ہٹانے اور پاکستان کے خلاف ایک اور ناکام کارروائی کو تقویت بخشنے کے لیے ایک جعلی کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے