میشا شفیع-علی ظفر کیس: اداکارہ عفت عمر کی جرح مکمل نہ ہوسکی

گلوکار علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف دائر کیے گئے ہتک عزت کے کیس میں اداکارہ عفت عمر کی جرح دوسری سماعت کے دوران بھی مکمل نہ ہوسکی اور عدالت نے انہیں آئندہ سماعت پر بھی جرح کے لیے بلا لیا۔

ہتک عزت کے کیس کی سماعت سیشن کورٹ کے جج امتیاز علی کی عدالت میں ہوئی، جہاں اداکار عفت عمر سے علی ظفر کے وکلا نے جرح کی، تاہم دوسری سماعت کے دوران بھی ان کی جرح مکمل نہ ہوسکی، جس پر عدالت نے گلوکار کے وکلا کو آئندہ سماعت میں اداکارہ سے جرح مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی۔

اس سے قبل 12 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں پہلی بار علی ظفر کے وکلا نے عفت عمر سے جرح کی تھی، جو مذکورہ کیس میں میشا شفیع کی گواہ ہیں۔

گزشتہ سماعت کے دوران عفت عمر کی طبیعت خراب ہوگئی تھی اور ان کی طبیعت بگڑنے کے باعث سماعت کو کچھ دیر کے لیے روکا گیا تھا، تاہم بعد ازاں سماعت کو 19 دسمبر تک ملتوی کیا گیا تھا۔

آج ہونے والی سماعت میں علی ظفر کے وکلا نے اداکارہ عفت عمر سے جرح کے دوران پوچھا کہ کیا انہوں نے کبھی ڈاکٹر سے اپنا ذہنی توازن چیک کروایا ہے، جس پر اداکار نے جواب دیا کہ انہوں نے اپنا ذہنی تواز چیک کروایا ہے اور وہ بلکل ٹھیک ہیں۔

اداکارہ کے جواب پر علی ظفر کے وکلا نے پھر سوال کیا کہ جب انہوں نے ذہنی توازن چیک کروایا تو ڈاکٹر نے انہیں کوئی میڈیسن دی تھی؟ جس پر عفت عمر نے بتایا کہ انہیں ڈاکٹر نے بلڈ پریشر اور ڈپریشن کی دوائی دی تھی۔

مولانا طارق جمیل کورونا وائرس سے صحتیاب ہوگئے

ممتاز عالمِ دین طارق جمیل نے عالمی وبا کورونا وائرس کو 5 دن میں شکست دے دی۔

انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ الحمداللہ آپ سب مٌحبین کی دعاؤں سے میرا ٹیسٹ نیگیٹو آگیا ہے۔

انہوں نے مکمل شفایابی کیلئے دعاؤں کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ مکمل صحتیابی کےلیے ابھی مزید آپ سب کی دعاؤں کا محتاج ہوں۔

عالمِ دین طارق جمیل نے یہ بھی لکھا کہ اللہ کریم اپنی رحمت سے اس وبا سے انسانیت کو خلاصی نصیب فرمائیں۔

بوم بوم شاہد آفریدی قلندرز فیملی کا حصہ بن گئے

بوم بوم شاہد آفریدی قلندرز فیملی کا حصہ بن گئے اور وہ ابو ظبی ٹی ٹین لیگ میں قلندرز ٹیم کے آئیکون پلیئر ہوں گے

ابوظبی ٹی ٹین لیگ کی ٹیم قلندرز کے آنر عاطف رانا نے لاہور میں ایک نیوز کانفرنس میں آئیکون پلیئر کا اعلان کیا جب کہ قلندرز کے ساتھ چوہدری عمر کی کمپنی کے ساتھ شراکت داری کا اعلان بھی پریس کانفرنس میں کیا گیا۔

عاطف رانا نے کہا کہ آج یہ اعلان کرتے ہوئے بڑے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ لالہ شاہد آفریدی قلندرز فیملی کے ساتھ جڑ گئے ہیں اور وہ 28 جنوری سے شروع ہونے والی ابوظبی ٹی ٹین لیگ میں قلندرز کے آئیکون پلئیر ہوں گے۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ آج قلندرز فیملی کا حصہ بننے پر خوشی ہو رہی ہے، خواہش بہت پرانی تھی، لاہور قلندرز سارا سال کام کرتی ہے صرف ایک ماہ کی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہتی اس لیے قلندرز فیملی کا حصہ بننا اعزاز ہے۔

قلندرز کے کوچ عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ شاہد آفریدی سے بڑا کوئی آئیکون پلیئر نہیں ہو سکتا وہ اکیلے اسٹیڈیم بھر سکتا ہے، بہت پرجوش ہیں کہ شاہد آفریدی اس مرتبہ قلندرز کا حصہ ہوں گے۔

 گزشتہ برس شاہد آفریدی پی سی بی کی جانب سے پاکستانی کرکٹرز کو این او سی جاری نہ کیے جانے کی وجہ سے نہیں کھیل سکے تھے لیکن اس مرتبہ انہیں این او سی جاری کردیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم کی کشتی کا چپو دو بچوں کے پاس ہے، فردوس عاشق

وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق نے مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی کشتی کا چپو دو بچوں کے پاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بتا دیں عدالتوں نے جنھیں مفرور قراردیا ہے وہ پاکستان کب واپس آرہے ہیں؟

فردوس عاشق کا مزید کہنا تھا کہ ریسٹورنٹ میں پیزا کھانے کے بجائے انھیں پاکستان آنا چاہیے، 31 جنوری کے بعد راج کماری کو نئی تاریخ دینی پڑے گی۔

ہم اپنے نظام میں زیادہ سے زیادہ جمہوری اقدار لائیں گے، چیف جسٹس

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کہا ہے کہ ہم اپنے سسٹم (نظام) میں زیادہ سے زیادہ جمہوری اقدار لائیں گے اور اسی اقدار کے تحت ہم آگے بڑھیں گے۔

لاہور میں پنجاب بار کونسل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ ججز اور وکلا کے درمیان باہمی بات چیت کے حوالے سے جو دیوار تھی اسے کافی حد تک مسمار کردیا گیا ہے اور کوشش کر رہے ہیں وکلا اور ججز کے درمیان عدالتوں سے متعلق معاملات کو باہمی مشاورت کے ساتھ لے کر آگے بڑھیں۔

انہوں نے کہا کہ عدالتوں اور وکلا سے متعلق معاملات میں ہم دونوں ایک دوسرے کو اعتماد میں لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ججز کے معاملات میں بہت ساری چیزیں تبدیل کی ہیں، وکلا کی مشاورت جو ایک دباؤ والا مطالبہ تھا ہم نے کوشش کی کہ اسے پورا کریں اور ہم نے وکلا کو ججز کے تقرر کے معاملے میں شامل کیا ہے جبکہ باہمی مشورے سے مزید ججز کی تقرریاں بھی کریں گے اور لاہور ہائیکورٹ کے ججز کی بھی تقرریاں کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا یہی کام ہے کہ نئے نئے قوانین لے کر آئیں اور ان کی تشریح دیں۔

اس موقع پر انہوں نے وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وکلا کو کسی بھی طرح پرتشدد نہیں ہونا چاہیے، اگر جج کا فیصلہ پسند نہیں تو اس سے جھگڑا نہیں کرنا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات مجھے بہت پہلے سمجھ آگئی تھی، ساتھ ہی انہوں نے اپنے وکالت کے دور سے متعلق یہ بتایا کہ وہ بھی گرم دماغ کے وکیل تھے تاہم وکیل تجربے سے سیکھتا ہے۔

دوران خطاب انہوں نے اپنے ماضی کا ایک قصہ سناتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ انہیں ایک مرتبہ ان کے والد نے جج کے پاس معافی مانگنے کے لیے بھی بھیجا تھا۔

انہوں نے کہا کہ نئے نئے وکیلوں کے خون میں گرمی ہوتی ہے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ بات سمجھ آتی ہے، ساتھ ہی انہوں نے وکلا برادری کو ہڑتال کلچر ختم کرنے پر مبارک باد دی۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب ہم اپنے نظام میں زیادہ سے زیادہ جمہوری اقدار لائیں گے اور اسی جمہوری اقدار کے تحت ہم آگے بڑھیں گے۔

علاوہ ازیں چیف جسٹس گلزار احمد نے پنجاب بار کونسل کے توسیعی منصوبے اور سینٹر آف ایکسیلنس اینڈ بائیو میٹرک سسٹم کا افتتاح بھی کیا۔

محمد وسیم قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر مقرر

پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد وسیم کو چیف سلیکٹر اور سلیم یوسف کو پی سی بی کرکٹ کمیٹی کا سربراہ مقرر کردیا۔

چیف سلیکٹر کا عہدہ مصباح الحق کے ایک عہدہ چھوڑنے سے خالی تھا جب کہ چیئرمین کمیٹی کا عہدہ اقبال قاسم کے عہدہ چھوڑنے سے خالی تھا جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے دو اہم خالی عہدوں پر تقرریوں کا اعلان کر دیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد وسیم کو قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کا چیئرمین اور سلیم یوسف کو کرکٹ کمیٹی کا سربراہ مقرر کردیا اور دونوں عہدیداران کی تقرری تین سال کے لیے کی گئی ہے لہٰذا یہ دونوں آئی سی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ 2023  تک اس عہدے پر کام کرتے رہیں گے۔

محمد وسیم کی پہلی اسائنمنٹ جنوبی افریقا کے خلاف 2 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کے لیے جنوری کے وسط میں قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان کرنا ہے۔

پی سی بی کرکٹ کمیٹی کا سال 2021 میں پہلا اجلاس بھی جنوبی افریقا کے خلاف سیریز سے قبل کراچی میں ہوگا۔

43 سالہ محمد وسیم فی الحال ناردرن کرکٹ ایسوسی ایشن کی کوچنگ کررہے ہیں اور وہ اپنی نئی ذمہ داریوں کا چارج قائد اعظم ٹرافی کے بعد سنبھالیں گے۔

پی سی بی نے قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کی تشکیل میں کوئی تبدیلی نہیں کی، تمام کرکٹ ایسوسی ایشنز کی فرسٹ الیون ٹیموں کے ہیڈ کوچز ہی سلیکشن پینل میں شامل رہیں گے۔

محمد وسیم کے چیئرمین سلیکشن کمیٹی کا چارج سنبھالنے کے بعد ناردرن کرکٹ ایسوسی ایشن کے لیے نئے کوچ کی تقرری کردی جائے گی۔

سلیم یوسف نے آخری مرتبہ بطور رکن سلیکشن کمیٹی پی سی بی کے ساتھ کام کیا تھا، وہ 2013 سے 15 تک قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے رکن رہے اور  اب کرکٹ کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے کام کریں گے۔

ان کے پینل میں علی نقوی ( میچ آفیشلز کے نمائندہ)، عمر گل ( ڈومیسٹک کرکٹرز کے نمائندہ)، عروج ممتاز (خواتین کرکٹرز کی نمائندہ)،  وسیم اکرم (سابق کرکٹر اور میڈیا کے نمائندہ) شامل ہیں۔

وفاقی وزیر اسد عمر کو بھی کورونا ہو گیا

وفاقی وزیر منصوبہ بندی  اور  کورونا کی مانیٹرنگ کے لیے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر  کو بھی کورونا وائرس لگ گیا۔

اسد عمر نے ٹوئٹ کرکے بتایا کہ انہوں نے اپنا کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروایا تھا جس کی رپورٹ پازیٹو آئی ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ کورونا وائرس کی رپورٹ آنے کے بعد میں نے اپنے آپ کو گھر پر آئسولیٹ کرلیا ہے۔

آئی ایم ایف سے دوبارہ قرض لینے کا فیصلہ وزیراعظم نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی

وزیر اعظم عمران خان نے بالآخر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد آئی ایم ایف پروگرام کا دوبارہ آغاز کرنا ہے جو گزشتہ 10ماہ سے تعطل کا شکار تھا۔

وزیر اعظم عمران خان کی بجلی کے نرخوں میں نئے اضافے کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد 10ماہ سے تعطل کا شکار عالمی مالیاتی فنڈ کے 6 ارب ڈالر قرض پروگرام کو دوبارہ شروع کیا جائے گا اور جس کے تحت بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ایک ناگزیر شرط تھی۔ منظوری کے بعد بجلی کی نرخوں میں 25 فیصد یعنی 3روپے 34 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ اصولی طور پر کیا جاچکا ہے تاہم حتمی فیصلہ صرف یہ کرنا ہے کہ یہ اضافہ ایک ہی بار کردیا جائے یا اسے بتدریج دو سہ ماہی میں کیا جائے گا۔وزیر اعظم کی جانب سے بھی منظوری دیے جانے کے بعد حکومتی معاشی ٹیم نے قیمتوں میں اضافے کے طریقہ کار اور ایک کھرب 200 ارب کے گردشی قرضوں سے متعلق مشاورت کا آغاز کردیا ہے۔ اس وقت بجلی کا بنیادی ٹیرف 13 روپے 35 پیسے فی یونٹ ہے جو بڑھ کر 16 روپے 69 پیسے ہوجائے گا۔

وزارت مالیات کے ترجمان اور خصوصی سیکریٹری مالیات کامران افضل نے ایکسپریس کو بتایا کہ اس وقت اس عمل کا جائزہ لیا جارہا ہے اور کوئی حتمی بات کے بارے میں نہیں کہا جاسکتا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کی بنیادی شرائط میں شامل ہے تاہم حکومت پاکستان کی جانب سے نئے ٹیرف کے نوٹی فکیشن کے جاری ہونے تک آئی ایم ایف وفد کے پاکستان آنے کا امکان نظر نہیں آتا۔

علاوہ ازیں ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کے زیر غور یہ تجویز بھی ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر کو دیے گئے بہت سے ٹیکس استثنا کو ختم کردیا جائے جس کے نتیجے میں حکومت کو 200 ارب روپے کا اضافی ٹیکس حاصل ہوگا۔

ذرائع کے مطابق پاور ڈویڑن کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ موجودہ 13 روپے 54 پیسے فی یونٹ کا ٹیرف گزشتہ دسمبر سے نافذالعمل ہے اور اس کے بعد سے تجویز کردہ اضافہ ماہانہ ایڈجسمنٹ کی مد میں صارفین تک منتقل نہیں کیا گیا ہے۔

چیلنج کرتاں ہوں اپوزیشن لانگ مارچ کا ایک ہفتہ گزار دے استعفیٰ کا سوچوں گا:عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کے مطالبات کو ذاتی مفادات کی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ لانگ مارچ کر کے یہاں آکر ایک ہفتہ گزار گئے تو استعفے کا سوچوں گا۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے بجلی کے حوالے سے اندازہ نہیں تھا کیونکہ بجلی لاگت 17 روپے کے قریب ہے اور ہم عوام کو 14 روپے پر فراہم کر رہے ہیں جس سے گردشی قرضہ بڑھتا جا رہا ہے۔

عوام کو امیدیں دلانے سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘لوگوں نے مجھے یہ نہیں کہا تھا کہ جس دن آپ آئیں گے ایک سوئچ آن کریں گے ملک ٹھیک ہوجائے گا اور آتے ہی تبدیلی آگئی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جب وعدے کرتے ہیں تو لوگوں کو 5 سال کا وقت دیتے ہیں تب آپ جج کرتے ہیں اور پھر اگلے انتخابات میں ووٹ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘تبدیلی یہ آئی ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ جو بڑے بڑے نام تھے جن پر کوئی ہاتھ نہیں لگاسکتا تھا وہ جیلوں کے چکر لگا رہے ہیں’۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے 31 جنوری تک استعفیٰ دینے کی ڈیڈلائن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘اگر وہ لانگ مارچ کریں تو پتہ چل جائے گا کہ استعفیٰ مجھے دینا ہے یا ان کودینا پڑے گا اور رہی کہی کسر لانگ مارچ میں پوری ہوجائے گی’۔

عمران خان نے کہا کہ ‘میں چلنج کرتا ہوں کہ یہ وہاں ہفتہ گزار گئے تو تب میں واقعی استعفے کا سوچنا شروع کردوں گا، وہ اس لیے ہفتہ نہیں گزاریں گے کیونکہ ان کے پاس لوگ چل کے نہیں آئیں گے، ہمارے پاس عوام تھے اس لیے ہم نے 126 دن گزار سکے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘عوام کو سمجھنا چاہیے یہ خود کو ڈیموکریٹس کہہ رہے ہیں اور پاکستان کی فوج کو اپیل کر رہے ہیں کہ جمہوری حکومت کو ہٹادیں، اس پر آئین کا آرٹیکل 6 لگتا ہے’۔

وزیراعظم نے کہا کہ ‘اگر آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف مجھے نہیں ہٹاتے ہیں تو فوج سے کہہ رہے ہیں مجھے ہٹا دیں، جس طرح کی باتیں جلسوں میں کر رہے ہیں یہ پریشان ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان کی فوج حکومت کا ایک ادارہ ہے، وہ میرے نیچے ہیں، پاکستان کی فوج میرے اوپر نہیں بیٹھی بلکہ میرے نیچے ہے اور میں منتخب وزیراعظم ہوں اور یہ کہنا کہ میرے نیچے ایک ادارہ مجھے گرا دے تو دنیا کی کسی جمہوریت میں یہ کہا گیا ہے’۔

عمران نے کہا کہ ابھی تک جو چیز میری حکومت نے کرنا چاہا اور میرا منشور ہے اس پر پاکستان کی فوج اور پاکستان کے سارے ادارے میرے ساتھ کھڑے رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے دو سال میں پاکستان کو جس مشکل سے نکالا ہے، اگر پاکستانی فوج اور ادارے میرے ساتھ کھڑے نہ ہوتے تو میں اکیلا کیا کرسکتا تھا’۔

وزیراعظم نے نواز شریف کے حوالے سے کہا کہ ‘ہم نے دیکھا ہے کہ پاکستان کی فوج نے اس کو کیسے بنایا، نواز شریف کو پاکستان پیپلزپارٹی کے خلاف کھڑا کیا گیا، جنرل ضیا نے پی پی پی سے ڈر کر ان کو تیار کیا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘جنرل ضیا الحق نے 1988 میں اپنے چھوٹے بیٹے انوار کے ذریعے پیغام بھیجا کہ میں پاکستان میں وزارت دینا چاہتا ہوں کیونکہ ہمارے پاس کوئی نہیں ہے’۔

نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ملک کے اندر کرپشن شروع نواز شریف نے کی، سارے جوہر ٹاؤن کے پلاٹس دے کر پارٹی بنائی، پیسے دے کر پارٹی بنائی اور اسٹبلشمنٹ ان کےساتھ تھی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جنرل باجوہ کی تعریف کرتا ہوں، میں پرانے آرمی چیفس کو بھی جانتا تھا، اس طرح کسی آرمی چیف کو نشانہ بنانے سے فوج کے اندر ایک ردعمل آتا ہے’۔

عمران خان نے کہا کہ ‘جنرل باجوہ ایک سلجھے ہوئے آدمی ہیں، ان کے اندرایک ٹھہراؤ ہے، اس لیے وہ برداشت کر رہے ہیں، کوئی اور فوج میں ہوتا تو بڑا ردعمل آنا تھا، اس وقت اندر بہت غصہ ہے لیکن مجھے پتہ ہے کہ وہ برداشت کر رہے ہیں کیونکہ وہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں’۔

اپوزیشن پر الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘جنرل فیض اور ان کو نشانہ بنانے رہے اور فوج کو بلیک میل کر رہے ہیں کہ کسی طرح جمہوری حکومت کو گرانے کے لیے دباؤ ڈالیں’۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی واپسی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘ہم چاہ رہے ہیں انہیں ڈی پورٹ کروائیں، ڈی پورٹ تو ہم ابھی کرواسکتے ہیں، حوالگی ہم نے کروانی ہے لیکن اس کا عمل بہت لمبا ہے کتنی دیر لگے گی کچھ نہیں کہہ سکتا’۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم جو کرنا چاہتی ہے اس کے لیے میں تیار ہوں، پیش گوئی کر رہا ہوں جو بھی کریں گے نقصان ان کا ہونا ہے، مینار پاکستان کے جلسے سے ان کو نقصان ہوا ہے لیکن جتنے بھی لوگ تھے یہ فلاپ شو تھا۔

استعفوں کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ میں ان کو دعوت دیتا ہوں کہ کل نہیں آج استعفے دیں، ہمارا فائدہ کروائیں گے، ان کی پارٹی کے خلاف اکثریت استعفے دیں گے، اپنی پارٹی سے استعفے کا مطالبہ کریں گے تو ان کی اکثریت استعفے نہیں دے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ دھرنے میں ان کی پوری مدد کروں گا کیونکہ میں اس کا ماہر ہوں لیکن میری مدد کے باوجود یہ ایک ہفتہ نہیں گزار سکیں گے۔

سینیٹ انتخابات پر انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن ہمارے اوپر ہے ہم ایک مہینہ پہلے بھی کر سکتے ہیں اور سپریم کورٹ میں آئین کی تشریح کے لیے جارہے کہ اوپن بیلٹ پر انتخابات کر سکتے ہیں یا نہیں۔

سری لنکا نے کرونا کا شکار 20بچے سمیت 15مسلمانوں کی لاشیں جلا دیں،دنیا بھر میں شدید غموں غصہ

سری لنکا میں کرونا (کورونا) وائر س میں مبتلا ہو کر ہلاک ہونے والے 15 مسلمانوں (جن میں ایک  بچہ بھی شامل ہے) کی میتیں خاندان کی خواہشات اور اسلامی تعلیمات کے برعکس جلانے پر شدید بے چینی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

بدھ مت پیروکاروں کی اکثریتی آبادی والے ملک میں صحت کے حکام  کا اصرار ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہونے والے تمام افراد کی لاشیں جلانا ضروری ہے، چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوں، جو روایتی طور پر اپنی میتوں کا چہرہ قبلہ رو کرکے دفن کرتے ہیں۔ سری لنکن حکومت کے اس فیصلے کے خلاف مقامی مسلمان کولمبو میں ایک قبرستان کے گرد لوہے کی باڑ پر سفید کپڑے کے ٹکڑے باندھ کر احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مسلمانوں کی میتیں نذر آتش کرنے کے معاملے پر مقامی اور عالمی سطح پر احتجاج میں اضافے کے پیش نظر سری لنکا کے ہمسایہ ملک مالدیپ نے کہا ہے کہ وہ کرونا وائرس  سے متاثر ہو کر چل بسنے والے مسلمانوں کو اپنی سرزمین پر دفن کرنے کی درخواست پر غور کر رہا ہے۔

مالدیب کے وزیر خارجہ عبداللہ شہید نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ اس سلسلے میں ملک  کے صدر ابراہیم محمد سولہی حکام سے مشاورت کر رہے ہیں تاکہ سری لنکا میں ان مسلمانوں کی آخری رسومات، جو کرونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوئے، اسلامی طریقے سے ادا کرنے میں سری لنکن حکام کی مدد کی جا سکے۔

57 ارکان پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم نے سری لنکا کے مسلمانوں کی میتیں جلانے کے حکم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے رشتہ داروں کی میتیں مذہبی عقائد کے مطابق دفن کرنے کی اجازت دی جائے۔

تنظیم نے ایک بیان میں کہا: ‘اسلام میں میت کو جلانا حرام ہے۔ اوآئی سی مطالبہ کرتی ہے کہ مسلمانوں کی آخری رسومات کا اسلامی عقیدے کی روشنی میں احترام کیا جائے۔’

یاد رہے کہ سری لنکا میں کرونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی لاشیں جلانے کا حکم اپریل میں جاری کیا گیا تھا۔ اس سے قبل بااثر بدھ رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ لاشیں دفن کرنے سے زیر زمین موجود پانی وائرس سے آلودہ ہو سکتا ہے اوروائرس پھیل سکتا ہے۔

سری لنکا میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے 19 مسلمانوں کی میتیں ان کے خاندانوں کی جانب سے وصول کرنے سے انکار کے بعد گذشتہ ہفتے اٹارنی جنرل نے لاشوں کو جلانے کا حکم دیا تھا۔

اب تک  کم ازکم 15 مسلمانوں کی میتیں جلائی جا چکی ہیں، جن میں ایک 20 دن کا شیخ نامی بچہ بھی شامل ہے۔ حالانکہ بچے کے والدین نے اس کی میت نذر آتش نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔

بچے کے خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں ڈرا دھمکا کر بچے کی میت جلانے پر رضامند کرنے کی کوشش کی گئی لیکن جب وہ اپنی بات پر قائم رہے تو حکام نے اسے زبردستی جلا دیا۔ اس موقعے پر خاندان کا کوئی فرد موجود نہیں تھا۔