Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • لاہور میں سکوٹی سوار لڑکی پر وحشیانہ تشدد کرنے والا ملزم گرفتار
    • راولپنڈی کے70 فیصد سرکاری کالج بھی طلباء کی زندگیوں کیلئے خطرہ بن گئے
    • لاہور: ایلیٹ فورس کی خراب گاڑی کو دوسری گاڑی سے رسی کے ذریعے باندھ کر لے جایا جا رہا ہے۔
    • ہر تیسرا گریجویٹ بے روزگار، 24 سالوں کے نوجوانوں کی تعداد زیادہ
    • پاکستان میں گریجوایٹس کی بیروزگاری معیشت کیلئے بڑا چیلنج، مدثر مسعود چوہدری
    • 5 روز قبل شہری کے گھر میں چوری و نقب زنی کا معمہ حل،پڑوسی چورنکلا
    • چیئرمین سی ڈی اے کا اسلام آباد ایکسپریس وے ایسٹ پراجیکٹ کا دورہ
    • لیفٹیننٹ جنرل محمد علی ،سیکرٹری ڈیفنس فائونڈیشن یونیورسٹی کے دوران ڈگری تقسیم کرتے ہوئے ۔
    • سندھ کو تقسیم کرنے کی سیاست قبول نہیں، وسیم اختر کے بیان پر ترجمان سندھ حکومت کا ردعمل
    • لاہور: پولیس اہلکار لاہور بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام وکلاء کو ریلی نکالنے سے روک رہے ہیں۔
    • پختونخواہ، پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا مذاکرات میں علی امین گنڈا پور کی نمائندگی کا مطالبہ
    • AIکانٹنگ کے شعبے کے لیے ایک اہم ایتھیکل چیلنج بن گئی
    • فارما ایشیا 2026: ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کی شرکت، تجارتی تعاون کے امکانات
    • پاکستان کے بڑے الخدمت اے آئی ہیکاتھون کے گرینڈ فائنل کی تیاریاں مکمل
    • ہارون اختر کی ایس ایم ایز کے کاروباری کلسٹرز کے ساتھ مالی سہولتوں تک رسائی کے حوالے سے مشاورتی نشست
    • راولپنڈی پولیس کی کارروائیاں ، 7 افراد کو حراست میں لے کر اسلحہ معہ ایمونیشن برآمد کر لیا
    • خیبرپختونخوا کے 60 ارکان اسمبلی کا گنڈاپور کو مذاکرات میں شامل کرنیکا مطالبہ
    • اٹک: ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرنیوالے شخص کی لاش کو ریسکیو1122کاعملہ ہسپتال منتقل کرتے ہوئے۔
    • رشتہ نہ ملنے کی پرانی رنجش پر ایک شخص نے لڑکی کو خنجر کے وار سے زخمی کردیا
    • شاہ محمود سمیت 120 ملزمان کیخلاف جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ملتوی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے

    By Daily Khabrainجون 29, 2021
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp
    حکومت کے 3سال بعد بھی ہمیں وہ مضبوط سسٹم نظر آرہا ہے نہ قانون کی پاسداری
     معاشرہ کے  ناسوروں کو مارنا ہی بہتر ہے ورنہ قانونی پیچیدگیوں کے باعث بچ جاتے ہیں
    پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے وزیر اعظم بننے سے پہلے قوم سے جو اہم ترین وعدہ کیا تھا وہ معاشرے میں مضبوط نظام انصاف کے قیام کا تھا۔کپتان کا کہنا تھا کہ سب لوگ قانون کے نیچے ہوں گے۔ ملک میں دو قانون نہیں بلکہ امیر غریب کے لئے ایک قانون ہوگا۔ اپنے وعدے میں پختگی لانے کے لئے وہ جو مثال دیا کرتے تھے وہ خیبر پختونخوا پولیس کی تھی۔ وہ کہتے کہ ہم نے کے پی کے پولیس کو مکمل غیر سیاسی بنا دیا ہے۔ کپتان بار بار کہتے کہ ہم سسٹم کو مضبوط بنائیں گے جہاں سب کو انصاف ملے گا، لیکن حکومت کے 3 سال بعد بھی ہمیں وہ مضبوط سسٹم نظر آ رہا ہے نہ قانون کی پاسداری، بلکہ اکثر تو قانون کہیں نظر ہی نہیں آتا۔
    یہ بات درست ہے کہ انصاف پر مبنی معاشرے کا قیام چٹکیوں میں عمل میں نہیں آتا بلکہ اس کے لئے مسلسل کوشش اور وقت درکار ہوتا ہے،کیونکہ
    بستی کا بسانا کھیل نہیں
    یہ بستے، بستے بستی ہے
    لیکن یہ عمل اس قدر طویل نہیں ہونا چاہئے کہ لوگ مسلسل اذیت میں رہیں، کیونکہ حکومت اپنی آدھی سے زائد مدت گزار چکی ہے۔ مضبوط نظام نا سہی کم از کم اس کے کچھ آثار ہی نظر آجاتے لیکن ایسا کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔ پولیس کا نظام ابھی تک تباہ حال ہے۔ ڈاکو، چور اچکے دندناتے پھر رہے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان میں لادی گینگ نے اپنے مخالف شخص کے جانوروں کی طرح اعضاء کاٹ کر اس کی باقاعدہ ویڈیو وائرل کی۔ وزیراعظم عمران خان نے اس کا نوٹس لیااور اگلے دن لیہ میں خطاب کے دوران قوم کو یقین دلایا کہ ایسے عناصر کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعظم کے اس اعلان کو ایک ماہ سے زائد عرصہ بیت چکا لیکن ابھی تک لادی گینگ کا بال تک بیکا نہیں کیا جا سکا۔ گینگسٹر فیس بک اور سوشل میڈیا کو سرکاری ٹی وی کی طرح استعمال کرتے ہوئے اپنی آزادانہ نقل و حرکت اور دیگر سرگرمیوں کی ویڈیوز جاری کر رہے ہیں۔پولیس کو باقاعدہ دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ گرفتار فلاں فلاں مبینہ سہولت کار کو چھوڑ دو ورنہ برا ہوگا۔ حیرت ہے کہ ایک عام شخص جائز اسلحہ کے ساتھ بھی کوئی تصویر سوشل میڈیا پراپ لوڈ کر دے تو اسی وقت گرفتار کر لیا جاتا ہے لیکن یہ ڈاکو مہینوں سے خطرناک اسلحہ کی نمائش کر رہے ہیں روزانہ اپنی تقریریں کر رہے ہیں لیکن ہمارے جدید سائبر کرائم ونگ سمیت کسی کو ان تک رسائی نہیں ہو سکی۔ کیا وہ پاکستان نہیں کسی اور ملک میں رہ رہے ہیں …… یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ جوہر ٹاؤن لاہور میں ہونے والے دھماکوں اور خانیوال میں 4سالہ بچی کے قتل کے ملزم حساس اداروں نے ٹریس کر کے دیے ورنہ پولیس ڈیرہ غازی خان کی طرح یہاں بھی اپنے ”مشاغل“ میں مصروف تھی۔
    ہمارے کمزور نظام انصاف کی بدترین حالت یہ ہے کہ عوام تو دور کی بات خود پولیس کے اعلیٰ حکام کو بھی ہمارے نظام انصاف پر اعتماد اور یقین نہیں۔ اس کی ایک حالیہ اور واضح مثال شجاع آباد کا دلہن زیادتی کیس ہے، جب شادی کی پہلی رات پولیس وردی میں ملبوس 4 ڈاکوؤں نے اہل خانہ کو یرغمال بنا کر دلہن سے اجتماعی زیادتی کی۔ اس کے بعد ایک شرمناک صورتحال یہ سامنے آئی کہ واقعہ کو اہلخانہ کی ذاتی دشمنی یا ”تعلقات“ کا نتیجہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کی گئی۔ اس طرح قوم کی اس متاثرہ بیٹی کو مزید زخم دیے گئے لیکن اس موقع پر روزنامہ ”خبریں“ کا کردار اہم رہا اور کسی کے ”اشارے“ کے بجائے حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرتے ہوئے اس بیٹی کی ڈھارس بندھائی، مہینے بعد اس اندوہناک واقعہ کے 2 ملزم عابدی اور شوکت پکڑے تو گئے لیکن حکام کو ان ملزموں کو مقابلے میں ”پار“ کرنا پڑا۔
    ایسے پولیس مقابلوں کے حوالے سے پولیس کے پاس دوموقف ہوتے ہیں،پہلا سرکاری موقف کہ ملزم کو چھڑانے کے لیے ملزم کے ساتھیوں نے فائرنگ کی جس میں تمام اہلکار محفوظ رہے لیکن ملزم مارا گیا۔ دوسرا آف دی ریکارڈ موقف یہ کہ معاشرے کے ان ناسوروں کو مارنا ہی بہتر ہے ورنہ وہ قانونی پیچیدگیوں کے باعث بچ جاتے ہیں یا متاثرہ فریق پر پریشر ڈال کر زبردستی صلح کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
    اس حد تک تو بات درست ہے کہ ان معاشرتی ناسوروں کا خاتمہ ضروری ہے لیکن کیا یہ سب کچھ ماورائے قانون اور ماورائے عدالت ہونا چاہیے؟ کیا ہمارے ہاں کوئی قانون نہیں؟ یا پھر یہ نظام اتنا کمزور ہے کہ کسی کو انصاف نہیں مل سکتا؟
    جناب وزیراعظم آپ نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ مضبوط نظام انصاف لاؤں گا۔ آپ کی جماعت کا نام بھی تحریک انصاف ہے،یہاں امیر تو قانون خرید بھی سکتے ہیں لیکن اصل مسئلہ غریبوں کا ہے جن کی ان ڈاکوؤں، لٹیروں کے ہاتھوں مال اور جان کجا عزتیں تک محفوظ نہیں اور یہ اپنے اوپر ہونے والے مظالم کھل کر بیان بھی نہیں کر سکتے۔آخر یہ مضبوط نظام کب آئے گا۔
    بقول فیض احمد فیض:
    بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے
    تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے
    مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
    منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے
    (کالم نگارقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      ہاکی کھلاڑیوں کو یومیہ 110ڈالر دیے جا رہے ہیں: صدر پی ایچ ایف

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.