Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • بین کٹنگ اور ایرن ہالینڈ کے گھر ننھے مہمان کی آمد، خوبصورت تصاویر شیئر کر دیں
    • غزہ میں 94 فیصد آبادی کے پاس رہنے کیلئے چھت نہیں ہے، اقوام متحدہ
    • میرے گانے غلط کاموں کیلئے استعمال نہ کریں، آریانا گرانڈے ٹرمپ کی ٹیم پر شد ید برہم
    • پاکستانی کوہ پیما عاصمہ مشتاق بلند پہاڑی مقام پر طبی ایمرجنسی کے بعد انتقال
    • 5 ماہ کے دوران خلیجی ممالک سے 21 ہزار 951 پاکستانی ڈی پورٹ
    • سندھ میں فائر فائٹنگ نظام جدید بنانے کے لیے چینی کمپنی کی بڑی پیشکش
    • عمران خان نے ہمیشہ مجھ سے محبت کی، اب بھی ملاقات کی خواہش ہے:شعیب اختر
    • عامر خان نے معین اختر کی تمام اقساط مانگ لیں، کہا ایسا اداکار کبھی نہیں دیکھا ،aداکارہ ثروت گیلانی
    • عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں طبی معائنے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا
    • چیف آف ڈیفنس فورسز کے نئے عہدے کو باضابطہ تسلیم کرنے کے لیے قانون منظور
    • عروج ممتاز نے پاکستانی فاسٹ بولنگ کے زوال کا ذمہ دار بابر اعظم کو قرار دے دیا
    • بانی پی ٹی آئی جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال روانہ
    • یمنی حوثیوں کے سعودی عرب میں نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے
    • سوشل میڈیا پر حکومت مخالف بیانیہ پھیلانے والے سرکاری ملازمین کیخلاف کارروائی کا فیصلہ
    • پاکستانی بولر کا وسیم اکرم کی رہنمائی سے انکار، بھارتی صارف کا دعویٰ سابق کپتان نے من گھڑت قرار دے دیا
    • پاکستان کا ایک اور اعزاز،شاہ زیب خان نے ورلڈ تائیکوانڈو پریزیڈنٹ کپ میں کانسی کا تمغہ جیت لیا
    • ریاض ایئر کی پہلی پرواز لاہور پہنچ گئی، پاک سعودی فضائی روابط مزید مضبوط
    • سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، ریٹ 5 لاکھ روپے کے قریب پہنچ گیا
    • آئی سی سی نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم سے ڈی میرٹ پوائنٹ واپس لے لیا
    • پاکستان میں الرٹ: نیا میل ویئر حکومتی اداروں اور تنظیموں کو نشانہ بنا رہا ہے
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    الوداع ماسکو، الوداع اے شہرِ بے مثال

    By Daily Khabrainاگست 7, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    سلمیٰ اعوان
    میں نے داشا Dashaکو سُنا تھا جو مجُھ سے کہتی تھی۔”کل آپ کا ماسکو میں آخری دن ہے۔ کیسا لگتا ہے؟“
    میں چند لمحے داشا کو دیکھتی رہی۔ پھر عجیب سی یاس گھُلی آواز میں بولی۔
    جانتی ہو میرا جی کیا چاہتا ہے؟ میں تمہارا ہاتھ پکڑوں،اُس گاڑی میں بیٹھ جاؤں جو تمہارے شہر جاتی ہے۔ دریائے دویناDvina کے ساحلی کناروں پربستے تمہارے شہر کو تلاسKotlasکے اُس گاؤں جہاں پہنچنے کے لئے تمہیں گھنے جنگلوں میں بہتے آبی راستوں پر سفر کرناپڑتا ہے۔ اِن راستوں پر جاتے ہوئے میں سُندربن کے جنگلوں کو یاد کروں گی۔ اُن جنگلوں میں بہتے ندی نالوں پر اپنے اُس سفر کو یاد کروں گی جب میں وہاں گئی تھی اور جب بنگلہ دیش میرا پُور بو پاکستان تھا۔
    تمہارے گاؤں کے بڑے بڑے چوبی لٹھوں پر بنے مکانوں کو دیکھوں گی جو زمانے اور آگ کے ہاتھوں سیاہ ہوگئے ہیں۔ میرے چترال کے گھروں کی اکثریت بھی ایسے ہی لٹھوں پر بنے مکانوں کی ہے جو اتنے سیاہ ہو گئے ہیں کہ یو ں لگتا ہے جیسی ابھی اُن پر پینٹ کیا گیا ہو۔ یہ گھر بالکل تمہارے گھروں جیسے ہی ہیں۔ کہیں دو منزلہ۔کہیں یک منزلہ۔ اگلے حصّے گرمیوں، پچھلے حصّے سردیوں کے لئے۔
    ”چوبی ڈیزائن کاری کیسی ہوتی ہے؟اُس کا تو اندازہ ہی نہیں ہے آپ کو۔“
    داشا نے جب یہ کہا تو میں فوراً بول اُٹھی۔
    ”یہ کیا بات کی ہے داشا تم نے؟ میرے ملک کے شمالی حصّوں خاص طور پر بلتستان کی خانقاہوں، امام بارگاہوں، مسجدوں اور راجے مہاراجوں کے گھروں کی چوبی کنندہ کاری اگر تم دیکھو تو حیرت سے آنکھیں پھٹ جائیں گی تمہاری۔“
    داشا تمہارے لہجے میں چھلکتا فخر اور غرور مجھے اچھا لگا تھا جب تم بیلنا کے بارے میں بات کرتی تھیں۔ ایسے کردار ہمارے دیہاتوں میں بھی ہوتے ہیں۔ قصہ گو، مجاہدوں کے کارناموں اور لوک داستانوں کوسنانے والے۔
    ایلیا مورومیش کے بارے میں بتاتے ہوئے تم کتنی پُر جوش تھیں۔اپنے بچپن کے اُن دنوں کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے تمہاری آنکھیں چمکتی تھیں۔ تو یہ ایلیاویسا ہی ایک کردارہے۔ ہمارے ہاں کے جگے اورسُلطانہ ڈاکو جیسا۔ جو امیروں کو لوٹتے اور غریبوں کو نوازتے تھے۔
    کاش میں تمہارا ہاتھ پکڑ کر دریائے دوینا پر سفر کرتے ہوئے قدیم رُوس کی اُس تہذیب کو دیکھ پاتی جسے شہروں میں دیکھنا ممکن نہیں۔
    داشا چلی گئی تھی۔ میں ابھی تک وہیں بیٹھی ہوں۔ گلیارے کے اوپر سے پسنجرٹرین گذر رہی ہے، اُس کی کھڑکیوں سے نظرآنے والے چہرے جو جانے کہاں کہاں سے آئے تھے اور جانے کِن کِن منزلوں کی جانب رواں دواں تھے۔یہ چہرے جنہیں میں نے پل بھر کے لئے دیکھا ہے اور جنہیں دوبارہ کبھی نہیں دیکھوں گی۔
    گلیارے میں بیٹھی عورتیں اپنی اپنی دُکانداری میں مصروف ہیں۔ ہم نے اپنے قیام کے دوران پھل صرف اِن سے ہی خرید اہے۔ اِن میں سے دو جارجیا سے ہیں۔ سبزی بیچنے والی ماسکو سے ہے چھوٹی موٹی کتابیں، رسالے، اخبار، جرابیں، کنگھے اور مُنیاری کی دوسری چیزوں کو فروخت کرنے والی اولیانوفسک کے شہر سے ماسکو آئی ہوئی ہے۔ پہلے دن اُن کا رویہ رُوکھا پھیکا تھا۔ دوسرے دن قدرے بہتر ہوا۔ تیسرے دن سے اب تک اچھی خاصی دوستی ہو گئی ہے۔ زبان کا مسئلہ آڑے آتا ہے پر مسکراہٹوں اور جسچر کا فی حد تک مددکرتا ہے۔
    میری نظروں کا رُخ بے اختیار وسیع وعریض میدان کی طرف اُٹھ گیا ہے جو سونے جیسی دھوپ میں نہا رہا ہے۔ جس کے کناروں پر سُنبل کے درخت ہیں۔ جن درختوں سے روئی اُڑ اُڑ کر راستوں پر بکھرتی ہے۔
    میدان میں آگے پیچھے کھڑی بسیں جنہوں نے پورے ماسکوسے اِ س قدر سہولت اور آرام سے یوں مجھے متعارف کروایا کہ میرے پاس شکریے کے چند الفاظ ہی ہیں۔
    ماسکوکی بلند قامت عمارات سے میرا تعارف ایک بار تھوڑی کئی بار ہوا۔اس کی
    کشادہ ترین شاندار سڑکوں کو میں نے اِن بسوں سے دیکھا۔اور بار بار دیکھا۔ اِن کھڑکیوں سے جھانکتی میں نے سمولینکایا Smolenskaya سکوائر میں وزارتِ خارجہ کی بے حد شانداراور جاہ وجلال والی عمارت کو دیکھا اور حیرت زدہ ہوئی۔رُوس کی خارجہ پالیسی کی نمائندہ عکاس ہے یہ عمارت۔انہی سڑکوں پر چکر کاٹتے گھومتے پھرتے میں لیونینسکایا گورے کی خوبصورتی سے آشنا ہوئی۔ یہ ماسکو کا جنوب مغربی حصّہ ہے۔ دریائے ماسکو کے کنارے واقع اِس پہاڑی جگہ سے پورا شہر آنکھوں کے سامنے آ جاتاہے۔ ایک طرف شہر ہے۔دوسری طرف ماسکو یونیورسٹی کا شہر۔1930سے 1950تک ماسکو کو نیوکلاسیکل سٹائل کے رنگوں سے سجا یا گیا۔Vosovy Goryکی پہاڑی سے بھی منظروں کا نظارہ کیا اور میں نے یونیورسٹی کو بھی چھُوا۔
    میدان میں کھڑی اور چلتی بسوں کے ڈرائیور بھی جان گئے تھے۔ہر روز ساڑھے تین چار بجے واپس آتے۔ تھوڑا سا آرام کرتے، پھر کیفے میں آجاتے۔کیفے کی تینوں ویٹرس لڑکیوں میں سے جوجو حاضر ہوتی اُس سے گپ شپ کرتے۔
    اب ماسکو کے پونے دو سو کے قریب میوزیم اور نمائش گاہوں کو دیکھنا ہمارے لئے کہاں ممکن تھا؟کتنے بے شمار تھیٹرز ہیں؟ پینتالیس، پچاس۔ ڈھیروں ڈھیر تعلیمی ادارے، لائبریریاں اور کلچرل سینٹرز ہیں۔ کتنا کچھ دیکھتے لیتے؟
    KaOeکی خوبصورت لڑکیوں نے بُہت محبت دی۔سچی بات ہے ہم نے بھی تمہاری چاہت میں باہر کھانا کھانا چھوڑ دیا تھا۔
    تو اب رُخصت ہوتے ہیں۔ڈھیر سارا پیار۔ زنسکایا۔دوشااور ورونیکا۔
    (کالم نگار معروف سفرنگار اورناول نگار ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

      بن گویر کا غزہ میں ہر رات ’30 یا 40‘ افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.