اسلام آباد ( انٹرویو : ملک منظور احمد )پاکستان میں یو رپی یونین کی سفیر انڈرولا کامینارا نے کہا ہے کہ یو رپی یونین پاکستان کی جانب سے فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر مطمئن ہے ۔ پاکستان نے فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے متعدد سنجیدہ اقدامات اٹھائے ہیں اور اس حوالے سے بہت کام کیا گیا ہے ۔یو رپی یونین اس سلسلے میں اٹھائے جانے والے پاکستانی اقدا مات کو سراہتی ہے ۔ پاکستان نے فیٹف کے 27میں سے 26نکات پر عمل درآمد مکمل کر لیا ہے ۔ تاہم میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ پاکستان فیٹف کی گرے لسٹ سے نکل پائے گا یا نہیں کیونکہ یہ فیصلہ فیٹف کو کرنا ہے ۔پی آئی اے کی یورپ میں پروازوں کی بحالی کے لیے پاکستان کے سول ایوی ایشن کو یورپی سول ایوی ایشن کو مطمئن کرنا ہو گا اس سلسلے میں جلد ہی ہماری ایک ٹیکنیکل ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی ۔پاکستان میں الیکشن اصلاحات پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے یو رپی یونین کی ما نیٹری ٹیم بھی جلد پاکستان کا دورہ کرنے والی ہے ۔پاکستان اور یو رپی یونین کے درمیان تعلقات اور روابط میں ڈراما ئی بہتری آئی ہے ۔افغانستان کے معاملے پر بھی پاکستان اور یو رپی یونین ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا یو رپی یونین کے ایجنڈے میں نہیں ہے لیکن افغان حکومت کے ساتھ ہم نے رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔پاکستان کی جانب سے افغانستان سے غیر ملکی شہریوں کے انخلا میں مثبت کردار کو سراہتے ہیں۔ پاکستان اور یو رپی یونین کے درمیان 2014ءمیں پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس ملنے سے لے کر 2020ءتک باہمی تجارت میں 65فیصد اضافہ ہو چکا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے خبریں کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا ۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان میں ستمبر 2019ءمیں آئی تھی اور جنوری 2020ءمیں کرونا آگیا ۔پاکستان اور یو رپی یونین کے درمیان 7.5ارب یو رو کی تجارت ہے جس میں کہ 2014ءمیں پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس ملنے سے لے کر 2020ءتک 65فیصد کا اضافی ریکارڈ کیا گیا جو کہ بہت ہی خاطر خواہ اضافہ ہے ،2020ءمیں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان کرونا کی وجہ سے تجارت میں کمی ریکارڈ کی گئی لیکن پھر 2021ءمیں پاکستان کی یورپی یونین کے ساتھ تجارت میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو گیا بلکہ کہنا چاہیے کہ پاکستان کی صعنتیں اس تجارت میں اضافہ کرنے میں کامیاب رہی ہیں جو کہ بڑی کامیابی ہے اس عرصے کے دوران پاکستان نے تجارت کے حوالے سے دیگر ممالک کی مارکیٹ میں پر بھی اپنا حصہ جمایا ۔ہم پاکستان کے ساتھ اپنی تجارت میں وسعت لانا چاہتے ہیں ۔پاکستان اس وقت یو رپی یونین کو 3سے 4اشیا ءہی برآم کررہا ہے ہم چاہتے ہیں کہ اس صورتحال میں وسعت پیدا ہو اور پاکستان ہمیں زیادہ اشیا ءبرآمد کرے تاکہ زیادہ لوگوں کو فائدہ ہو سکے ۔اس کی مثال اسی طرح ہے کہ ہم نے پاکستان کو جی ایس پی پلس کی صورت میں ایک کشادہ دروازہ دیا ہے لیکن پاکستان کی برآمد ابھی بھی سکٹر کر اس دروازے سے گزر رہی ہیں ۔اس صورتحال میں تبدیلی کے لیے پاکستان میں چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں (sme’s) کے ساتھ بزنس فورمز کا انعقاد کررہے ہیں ان فورمز کا انعقاد پاکستان کے کئی شہروں میں کیا جا رہا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس دسمبر 2023ءتک ہے اس کے بعد یورپی یونین اپنے قوانین کی نئی جنریشن متعارف کروائے گی اور کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ ایک جی ایس پی پلس 2لایا جائے گا۔ نئے قوانین لائے جا ئیں گے ان پر یو رپی پا رلیمنٹ میں بحث ہو گی اور معاملہ آگے بڑھے گا ۔یہ ایک معمول کی بات ہے یو رپ میں جو بھی قوانین لائے جاتے ہیں تو کچھ عرصے کے بعد ان پر نظر ثانی کی جاتی ہے یہ بات دیکھی جاتی ہے کہ آیا ان قوانین کو لانے کا جو مقصد تھا وہ پو را ہو ا ہے یا نہیں اس کے بعد قوانین کی نئی جنریشن متعارف کروائی جاتی ہے ۔یہ ضرور ہے کہ پاکستان سمیت جن بھی ممالک کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس درکار ہو گا ان کو اس کے لیے ری اپلائی کرنا ہو گا ۔ایک سوال کے جواب میں انڈرولا کامینا را کا کہنا تھا کہ گزشتہ 2سال کے دوران پاکستان اور یو رپی یونین کے درمیان رابطوں میں بڑی تیزی آئی ہے ،ملا قاتوں اور رابطوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے حالیہ عرصے کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی دورہ برسلز کیا تھا جہاں پر ان کی نا ئب صدر یو رپی کمیشن جوزف بو ریل سے ملا قات ہوئی تھی ،پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جا وید باجوہ اس وقت برسلز میں مو جود ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تعلقات میں مزید گرم جوشی پیدا ہوئی ہے ۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے یو رپی یونین کی سفیر نے کہا کہ فاٹف کے معاملے پر یو رپی یونین پاکستان کے اقدامات کو سراہتی ہے ،پاکستان نے اس حوالے سے بہت کام کیا ہے اور سنجیدہ اقدامات اٹھائے ہیں۔ پاکستان نے فاٹف کی جانب سے دیے گئے 27میں سے 26اہداف پر کام مکمل کر لیا ہے جو کہ مثبت پیشرفت ہے لیکن میں اس حوالے سے یہ نہیں کہہ سکتی کہ پاکستان فاٹف کے آئندہ اجلاس میں گرے لسٹ سے باہر آئے گا یا نہیں لیکن یو رپی یونین پاکستان کے اقدامات سے مطمئن ہے ۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے معاملے پر پاکستان اور یورپی یونین کے دوران رابطے بہت بڑھ گئے ہیں ۔اس وقت افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا یو رپی یونین کے ایجنڈے پر نہیں ہے ،لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمارے طالبان کی حکومت کے ساتھ رابطے نہیں ہیں ،رابطے موجود ہیں ،یو رپی یونین نے افغانستان کے لیے ایک خصوصی نمائندہ مقرر کیا ہے ،پاکستان کی جانب سے افغانستان کے مسئلہ پر او آئی سی کا اہم اجلاس بلانے کو سراہتے ہیں ،پاکستان کی جانب سے افغانستان کو انسانی امداد کی فراہمی کو بھی سراہتے ہیں ۔پاکستان نے افغانستان سے غیر ملکی شہریوں کے انخلا کے لیے بہت مدد کی اس اقدام کو بھی تسلیم کرتے ہیں ۔
گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے پاکستانی اقدامات سے مطمئن ہیں، پاکستان میں یورپی یونین کی سفیر انڈرولا کامینارا کا خبریں کو خصوصی انٹرویو

