تازہ تر ین

عمران خان نے ‘ون کانسٹیٹیوشن ایونیو’ میں اپنا اپارٹمنٹ 4 سال پہلے ہی فروخت کردیا تھا

یسے وقت میں جب اسلام آباد ہائیکورٹ نے ‘ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو’ کی لیز منسوخی کے حوالے سے بی این پی پرائیویٹ لمیٹڈ کی درخواست مسترد کی ہے، سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے یہ اہم معلومات سامنے آئی ہیں کہ وہ اب اس منصوبے میں حصہ دار نہیں رہے کیوں کہ عمران خان اسلام آباد کے متنازعہ پروجیکٹ ‘ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو’ میں اپنا اپارٹمنٹ پہلے ہی فروخت کرچکے ہیں۔ 

روزنامہ ڈان میں کاشف عباسی کی شائع کردہ خبر کے مطابق عمران خان نے اس پروجیکٹ میں اپنا لگژری اپارٹمنٹ سال 2022 میں فروخت کر دیا تھا، یہ اپارٹمنٹ عمران خان کے ظاہر کردہ اثاثوں کا حصہ رہا ہے، تاہم اب وہ اسے فروخت کرکے اس منصوبے سے قانونی طور پر الگ ہو چکے ہیں، یہ انکشاف اس لیے اہم ہے کیونکہ حال ہی میں عدالت نے بلڈر کی جانب سے سپریم کورٹ کی شرائط پوری نہ کرنے پر لیز منسوخی کے آرڈر کو قانونی قرار دیا ہے۔ 

 

 

بتایا جارہا ہے کہ ماضی میں ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کا منصوبہ اس وقت شہ سرخیوں میں رہا تھا جب اس کی لیز منسوخی کے خلاف سپریم کورٹ میں کارروائی چل رہی تھی، اس دوران عمران خان سمیت کئی اہم شخصیات کے نام اس میں اپارٹمنٹس رکھنے کے حوالے سے سامنے آئے تھے، سپریم کورٹ نے 2019ء میں لیز بحال کرتے ہوئے بلڈر کو 17.5 ارب روپے قسطوں میں ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ 

واضح رہے کہ بلڈر کے ڈیفالٹ کرنے پر اب یہ معاملہ دوبارہ عدالتوں میں ہے، چونکہ عمران خان 2022 میں اپنا اپارٹمنٹ فروخت کر چکے ہیں، اس لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے (جس میں لیز منسوخی برقرار رکھی گئی ہے) کا براہِ راست اثر ان پر نہیں پڑے گا، اب اس فیصلے سے وہ ‘تیسرا فریق’ یا انویسٹرز متاثر ہوں گے جو اب بھی اس بلڈنگ میں حقوق رکھتے ہیں۔


اہم خبریں





   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain