حالیہ خبروں (2026) کے مطابق، ایران کے حوالے سے اس طرح کے جملے کئی تناظر میں سامنے آئے ہیں:
1. امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تردید (مارچ 2026)
مارچ 2026 کے آخر میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی براہِ راست مذاکرات کی خبروں کی تردید کی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران کو ثالثوں کے ذریعے موصول ہونے والے امریکی پیغامات میں “غیر معقول مطالبات” شامل تھے، جنہیں ایران نے مسترد کر دیا۔ ایران کا موقف رہا ہے کہ وہ اپنے “جائز حقوق” (خاص طور پر جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے) سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور اس کے مطالبات عالمی قوانین کے عین مطابق ہیں۔
2. انسانی حقوق اور عوامی مظاہرے (جنوری – اپریل 2026)
ایران میں انسانی حقوق اور احتجاجی لہر کے حوالے سے بھی اسی طرح کی زبان استعمال کی جاتی رہی ہے:
-
عوامی موقف: مظاہرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل یہ کہہ رہی ہیں کہ وہ اپنے جائز شہری اور سیاسی حقوق مانگ رہے ہیں۔
-
حکومتی جواب: دوسری جانب، ایرانی حکومت اکثر یہ کہتی ہے کہ وہ مظاہرین کے ان مطالبات کو تو تسلیم کرتی ہے جو “معقول” ہوں، لیکن “شرپسندی” کو برداشت نہیں کرے گی۔ جنوری 2026 کی رپورٹوں کے مطابق، ایران نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی ان قراردادوں کو مسترد کر دیا تھا جنہیں وہ اپنے داخلی معاملات میں مداخلت اور “غیر منصفانہ” سمجھتا ہے۔
3. آبنائے ہرمز اور معاشی حقوق (اپریل 2026)
اپریل 2026 کی ایک اہم خبر یہ تھی کہ ایرانی عہدیداروں (جیسے محسن رضائی) نے بیان دیا کہ جب تک ایران کے معاشی اور تجارتی حقوق تسلیم نہیں کیے جاتے، وہ خطے میں (خاص طور پر آبنائے ہرمز میں) اپنی پالیسیاں سخت رکھیں گے۔ ان کا موقف تھا کہ ایران کے مطالبات بین الاقوامی تجارتی قوانین کے تحت “ذمہ دارانہ” ہیں۔






































