Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • پاکستانی فضائی حدود کی پابندیوں سے ایئر انڈیا کو 2.3 ارب ڈالر کا نقصان
    • وسیم اکرم کا گمشدہ کتا مل گیا، دو افراد کو 2 لاکھ 50 ہزار روپے انعام دیا گیا
    • زمبابوے کر کٹ ٹیم کے کپتان سکندر رضا کی بیٹی عنایہ حافظِ قرآن بن گئیں
    • گلگت بلتستان کی براڈ پیک چوٹی پر برفانی تودہ، 2 لاشیں برآمد، عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما نرمل پرجا سمیت 8 افراد تاحال لاپتا
    • کوئٹہ کے قریب کوئلے کی کان میں دھماکہ، 34 کان کن جاں بحق، 2 لاپتا
    • اطالوی فٹبال لیجنڈ فرانکو باریزی 66 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
    • حماس نے اسرائیل سے غیر مسلح ہونے کے معاہدے کی تصدیق کر دی
    • اسرائیلی فوج کی سیکیورٹی میں آبادکاروں کا نابلس پر حملہ
    • شان مسعود انجری کے باعث ویسٹ انڈیز سیریز کے دوسرے ٹیسٹ سے باہر
    • 53 روز بعد مظفرآباد میں انٹرنیٹ سروس بحال
    • آئی سی سی رینکنگ: پاکستان دوسرے نمبر پر برقرار
    • کربلا میں اربعین موکب کے قریب امریکی فضائی حملہ
    • پاکستان نے چین کا 1.4 ارب ڈالر قرض واپس کر دیا، ری فنانسنگ چند ہفتوں میں متوقع
    • ارشد ندیم کامن ویلتھ گیمز کے جیولن تھرو فائنل کے لیے کوالیفائی کر گئے
    • پاکستان نے بنگلہ دیش کو شکست دے کر مینز والی بال چیمپئن شپ اپنے نام کر لی
    • جو روٹ انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مقرر
    • اسٹیفن فلیمنگ انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ مقرر
    • اروبا مرزا نے ثاقب چدھڑ کے ساتھ مبینہ چیٹ شیئر کر دی، سوشل میڈیا پر ہلچل مچ گئی
    • "پاکستان کا ‘اینٹی کاکروچ اسپرے’ اتنا مؤثر ہے کہ یہاں کوئی کاکروچ نہیں بچا، پاکستان کا بھارت سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا، ہر ملک کے اپنے حالات اور ڈائنامکس ہوتے ہیں۔” — اعجاز الحق
    • کویتی وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کی جی ایچ کیو میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    سائنس دانوں نے ایڈز کو کنٹرول کرنے والی دوا کا کامیاب تجربہ کر لیا

    By Khabrain Newsمئی 13, 2026
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    ایڈز اور ایچ آئی وی کے علاج میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے، سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مریضوں میں نئی سیل تھراپی مؤثر ثابت ہو گئی ہے۔

    روئٹرز کے مطابق ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایک مرتبہ دی جانے والی سیل تھراپی ایچ آئی وی انفیکشن کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق ایچ آئی وی کے مریض کے اپنے مدافعتی خلیات کو دوبارہ تیار کر کے وائرس کو تلاش اور تباہ کرنے کے قابل بنایا گیا، انسانوں میں اس کی ابتدائی آزمائش میں انفیکشن کو کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔

    تاہم محققین نے کہا ہے کہ نتائج کی تصدیق اور یہ تعین کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ کن مریضوں کو اس سے زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے۔

    فیز ون ٹرائل میں CAR-T تھراپی استعمال کی گئی، جو ایک بار دی جانے والی علاجی تکنیک ہے۔ اس میں مریض کے ٹی سیلز جسم سے نکال کر لیبارٹری میں تبدیل اور بڑھائے جاتے ہیں، پھر دوبارہ جسم میں داخل کیے جاتے ہیں۔ اس تحقیق میں CAR-T کو ایچ آئی وی کے CD4 اور CCR5 بائنڈنگ سائٹس کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

    اگر علاج نہ کیا جائے تو ایچ آئی وی وائرس جسم میں بڑھتا ہے اور انفیکشن سے لڑنے والے خلیات کو تباہ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں مرض بڑھ کر ایکوائرڈ امیونو ڈیفیشنسی سنڈروم یعنی ایڈز میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً 4 کروڑ 10 لاکھ افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، اور اگرچہ اینٹی ریٹرووائرل تھراپی میں پیش رفت نے اس انفیکشن کو قابلِ کنٹرول بیماری بنا دیا ہے، تاہم اس کا علاج پوری زندگی جاری رکھنا پڑتا ہے۔



    محققین کے مطابق ماضی میں ایچ آئی وی کے علاج کے لیے بعض کینسر مریضوں کو ایسے لوگوں کے بون میرو سیلز دیے گئے تھے جن کے جسم میں ایک نایاب قدرتی تبدیلی موجود تھی، جو ایچ آئی وی وائرس کے خلاف مزاحمت رکھتی تھی۔ تاہم نئی CAR-T تھراپی اس سے مختلف ہے اور اسے زیادہ تعداد میں مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    غیر منافع بخش ادارے کیرنگ کراس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر بورو ڈروپولک نے کہا ’’ہمارا مقصد ان تھراپیز کو سستا اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔‘‘ اس تحقیق میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس اور کیس ویسٹرن ریزرو یونیورسٹی اسپتال کے محققین نے بھی حصہ لیا۔

    تحقیق کے مطابق معیاری CAR-T خوراک حاصل کرنے والے تین مریضوں میں سے دو نے اینٹی ریٹرووائرل ادویات بند کرنے کے بعد بھی ایچ آئی وی کی انتہائی کم یا ناقابلِ شناخت سطح برقرار رکھی۔ ان میں سے ایک مریض دو سال سے زائد عرصے سے اور دوسرا تقریباً ایک سال سے بہتر حالت میں ہے۔ تیسرے مریض میں ابتدا میں وائرس دوبارہ بڑھا، تاہم بعد میں وہ کم مگر قابلِ شناخت سطح تک محدود رہا۔

    تحقیق میں شامل دیگر تین مریضوں کو وہ کیموتھراپی نہیں دی گئی جو سیلز کی دوبارہ منتقلی سے قبل بون میرو کی تیاری کے لیے استعمال ہوتی ہے، جب کہ مزید تین مریضوں کو CAR-T کی کم خوراک دی گئی۔

    ڈاکٹر اسٹیون ڈیکس، جو یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو میں پروفیسر اور تحقیق کے مرکزی محقق ہیں، نے کہا جن دو مریضوں نے سب سے طویل عرصے سے ایچ آئی وی کی ادویات بند کر رکھی ہیں اور اچھی حالت میں ہیں، ان کی تشخیص بہت جلد ہو گئی تھی اور انھیں فوری علاج فراہم کیا گیا تھا۔

    انھوں نے وضاحت کی کہ اینٹی ریٹرووائرل تھراپی وائرس کو ایک جگہ منجمد کر دیتی ہے تاکہ وہ تبدیل نہ ہو سکے، جب کہ یہ جسم کے مدافعتی نظام کو بھی ایچ آئی وی کے شدید اثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔ ڈاکٹر ڈیکس نے کہا کہ اب یہ جاننے کے لیے مزید کام جاری ہے کہ بعض مریضوں میں مثبت ردعمل کیوں سامنے آیا۔

    انھوں نے کہا ’’CAR-T سیلز چند ہفتوں بعد غائب ہو گئے تھے، اس لیے ہم اس کی وضاحت کے لیے ممکنہ طریقۂ کار تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ اس وقت CAR-T علاج خون کے کئی اقسام کے کینسر کے لیے دستیاب ہے، جب کہ اسے لیوپس اور اسکلروڈرما جیسی خودکار مدافعتی بیماریوں کے لیے بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر ڈیکس کے مطابق ’’کینسر کے مریضوں میں بیماری کا بوجھ کہیں زیادہ ہوتا ہے، اور عام طور پر کار ٹی سیلز زیادہ دیر تک جسم میں موجود رہتے ہیں۔‘‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ایچ آئی وی ٹرائل کے مریضوں میں وہ شدید ضمنی اثرات سامنے نہیں آئے جو CAR-T علاج لینے والے کینسر کے مریضوں میں دیکھے جاتے ہیں، جن میں شدید سوزش پر مبنی ردعمل سائٹوکائن ریلیز سنڈروم بھی شامل ہے۔ اس تحقیق کے نتائج منگل کو بوسٹن میں امریکن سوسائٹی آف سیل اینڈ جین تھراپی کے سالانہ اجلاس میں پیش کیے جانے تھے۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      "گلیکسی اَن پیکڈ ڈیوائسز لانچ سے پہلے لیک ہو گئیں۔”

      لاہور میں ٹریفک کی نگرانی کے لیے اے آئی سے چلنے والا ڈرون سسٹم متعارف کروا دیا گیا۔

      جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے خلا میں پراسرار مالیکیول دریافت کر لیا

      تازہ ترین

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.