Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • کراچی:گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی اپلایا میمن ایسوسی ایشن کی تقریب حلف برداری سے خطاب کر رہے ہیں۔
    • دستاویزات کی تصدیق کیلئے ڈیجیٹل نظام فعال کر دیا گیا:وزارت خارجہ
    • لاہور:صوبائی وزیر صنعت و تجارت چودھری شافع حسین چین کے یادیہ ٹیکنالوجی گلوبل گروپ کے چیئرمین کو یادگاری شیلڈ دے رہے ہیں۔
    • کابینہ ڈویژن نے جولائی تا ستمبر 2026 توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری کردیا
    • جی سیون کا 44 ممالک میں غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کیلئے 2.5 بلین ڈالر مختص کرنے کا اعلان
    • دہشت گردی کے سنگین جرائم میں ملوث ہونے پرسعودی عرب میں 5 ملزمان کے سر قلم کردیئے گئے
    • 32 ممالک کی نمائندگی کرنیوالے وفد کا ایمرجنسی سروسز ہیڈ کوارٹرز کا دورہ
    • جی 6 ایچ 9 اتوار بازار بند غریبوں اور چھوٹے تاجروں پر معاشی دباو بڑھنے کا خدشہ
    • راولپنڈی پولیس کی کارروائیاں،5 افراد کو حراست میں لے کر شراب اور اسلحہ معہ ایمونیشن برآمد کرلیا
    • ایکسپورٹ بڑھانے اور امپورٹ کم کرنے سے زرمبادلہ پر دبائو کم ہوگا:چودھری سرور
    • گورنر اسٹیٹ بینک نے پاکستانی معیشت اور معاشی منظرنامے کی مضبوطی سے بیرونی سرمایہ کاروں کو آگاہ کیا
    • سامان لوڈنگ کے دوران پیسوں کے تنازع پر مزدور نے ڈرائیور کو چاقو مار کر زخمی کر دیا
    • غزہ پر اسرائیلی قبضہ ختم ازاد فلسطین کیلئے ناقابل تنسیخ مدت کی جائے پاکستان
    • حسن ابدال :ہزاروں افراد کو پینے کا پانی فراہم کرنیوالا دوہفتوں سے بند واٹرفلٹریشن پلانٹ تحصیل انتظامیہ کی کارکردگی کا منہ چڑارہا ہے ۔
    • اینٹی کرپشن کی عملے نے کاروائی کرتے ہوئے ایک سب انسپیکٹر کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا
    • کیس کی شفاف تحقیقات کیلئے خصوصی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے:مطالبہ
    • غربت اور صحت کے بحران سے نمٹنے کیلئے ایمرجنسی نافذ کی جائے:پی ایم اے
    • راولپنڈی پولیس کی منشیات کے خلاف کارروائیاں، 2 منشیات سپلائر گرفتار،3 کلو سے زائد چرس برآمد
    • خیبرپختونخوا: خستہ حال سکولوں میں تدریسی عمل فوری روکنے کا حکم
    • آراے بازار پولیس کی کارروائی ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر بوگس کالز کرنے والے دو بھائی گرفتار
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    سائنس دانوں نے ایڈز کو کنٹرول کرنے والی دوا کا کامیاب تجربہ کر لیا

    By Khabrain Newsمئی 13, 2026
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    ایڈز اور ایچ آئی وی کے علاج میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے، سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مریضوں میں نئی سیل تھراپی مؤثر ثابت ہو گئی ہے۔

    روئٹرز کے مطابق ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایک مرتبہ دی جانے والی سیل تھراپی ایچ آئی وی انفیکشن کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق ایچ آئی وی کے مریض کے اپنے مدافعتی خلیات کو دوبارہ تیار کر کے وائرس کو تلاش اور تباہ کرنے کے قابل بنایا گیا، انسانوں میں اس کی ابتدائی آزمائش میں انفیکشن کو کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔

    تاہم محققین نے کہا ہے کہ نتائج کی تصدیق اور یہ تعین کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ کن مریضوں کو اس سے زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے۔

    فیز ون ٹرائل میں CAR-T تھراپی استعمال کی گئی، جو ایک بار دی جانے والی علاجی تکنیک ہے۔ اس میں مریض کے ٹی سیلز جسم سے نکال کر لیبارٹری میں تبدیل اور بڑھائے جاتے ہیں، پھر دوبارہ جسم میں داخل کیے جاتے ہیں۔ اس تحقیق میں CAR-T کو ایچ آئی وی کے CD4 اور CCR5 بائنڈنگ سائٹس کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

    اگر علاج نہ کیا جائے تو ایچ آئی وی وائرس جسم میں بڑھتا ہے اور انفیکشن سے لڑنے والے خلیات کو تباہ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں مرض بڑھ کر ایکوائرڈ امیونو ڈیفیشنسی سنڈروم یعنی ایڈز میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً 4 کروڑ 10 لاکھ افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، اور اگرچہ اینٹی ریٹرووائرل تھراپی میں پیش رفت نے اس انفیکشن کو قابلِ کنٹرول بیماری بنا دیا ہے، تاہم اس کا علاج پوری زندگی جاری رکھنا پڑتا ہے۔



    محققین کے مطابق ماضی میں ایچ آئی وی کے علاج کے لیے بعض کینسر مریضوں کو ایسے لوگوں کے بون میرو سیلز دیے گئے تھے جن کے جسم میں ایک نایاب قدرتی تبدیلی موجود تھی، جو ایچ آئی وی وائرس کے خلاف مزاحمت رکھتی تھی۔ تاہم نئی CAR-T تھراپی اس سے مختلف ہے اور اسے زیادہ تعداد میں مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    غیر منافع بخش ادارے کیرنگ کراس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر بورو ڈروپولک نے کہا ’’ہمارا مقصد ان تھراپیز کو سستا اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔‘‘ اس تحقیق میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس اور کیس ویسٹرن ریزرو یونیورسٹی اسپتال کے محققین نے بھی حصہ لیا۔

    تحقیق کے مطابق معیاری CAR-T خوراک حاصل کرنے والے تین مریضوں میں سے دو نے اینٹی ریٹرووائرل ادویات بند کرنے کے بعد بھی ایچ آئی وی کی انتہائی کم یا ناقابلِ شناخت سطح برقرار رکھی۔ ان میں سے ایک مریض دو سال سے زائد عرصے سے اور دوسرا تقریباً ایک سال سے بہتر حالت میں ہے۔ تیسرے مریض میں ابتدا میں وائرس دوبارہ بڑھا، تاہم بعد میں وہ کم مگر قابلِ شناخت سطح تک محدود رہا۔

    تحقیق میں شامل دیگر تین مریضوں کو وہ کیموتھراپی نہیں دی گئی جو سیلز کی دوبارہ منتقلی سے قبل بون میرو کی تیاری کے لیے استعمال ہوتی ہے، جب کہ مزید تین مریضوں کو CAR-T کی کم خوراک دی گئی۔

    ڈاکٹر اسٹیون ڈیکس، جو یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو میں پروفیسر اور تحقیق کے مرکزی محقق ہیں، نے کہا جن دو مریضوں نے سب سے طویل عرصے سے ایچ آئی وی کی ادویات بند کر رکھی ہیں اور اچھی حالت میں ہیں، ان کی تشخیص بہت جلد ہو گئی تھی اور انھیں فوری علاج فراہم کیا گیا تھا۔

    انھوں نے وضاحت کی کہ اینٹی ریٹرووائرل تھراپی وائرس کو ایک جگہ منجمد کر دیتی ہے تاکہ وہ تبدیل نہ ہو سکے، جب کہ یہ جسم کے مدافعتی نظام کو بھی ایچ آئی وی کے شدید اثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔ ڈاکٹر ڈیکس نے کہا کہ اب یہ جاننے کے لیے مزید کام جاری ہے کہ بعض مریضوں میں مثبت ردعمل کیوں سامنے آیا۔

    انھوں نے کہا ’’CAR-T سیلز چند ہفتوں بعد غائب ہو گئے تھے، اس لیے ہم اس کی وضاحت کے لیے ممکنہ طریقۂ کار تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ اس وقت CAR-T علاج خون کے کئی اقسام کے کینسر کے لیے دستیاب ہے، جب کہ اسے لیوپس اور اسکلروڈرما جیسی خودکار مدافعتی بیماریوں کے لیے بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر ڈیکس کے مطابق ’’کینسر کے مریضوں میں بیماری کا بوجھ کہیں زیادہ ہوتا ہے، اور عام طور پر کار ٹی سیلز زیادہ دیر تک جسم میں موجود رہتے ہیں۔‘‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ایچ آئی وی ٹرائل کے مریضوں میں وہ شدید ضمنی اثرات سامنے نہیں آئے جو CAR-T علاج لینے والے کینسر کے مریضوں میں دیکھے جاتے ہیں، جن میں شدید سوزش پر مبنی ردعمل سائٹوکائن ریلیز سنڈروم بھی شامل ہے۔ اس تحقیق کے نتائج منگل کو بوسٹن میں امریکن سوسائٹی آف سیل اینڈ جین تھراپی کے سالانہ اجلاس میں پیش کیے جانے تھے۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      انسانی مزدوروں کا مستقبل خطرے میں؟ شیاؤمی کا ہیومنائیڈ روبوٹ 98 فیصد کامیاب

      "گلیکسی اَن پیکڈ ڈیوائسز لانچ سے پہلے لیک ہو گئیں۔”

      لاہور میں ٹریفک کی نگرانی کے لیے اے آئی سے چلنے والا ڈرون سسٹم متعارف کروا دیا گیا۔

      تازہ ترین

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ

      * رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی خاموشی، محسن نقوی کے اہم انکشافات

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.