مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی اور ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کی تیاریوں کے پیشِ نظر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا انتہائی اہم خاندانی پروگرام منسوخ کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر قوم اور اپنے حامیوں کے نام ایک اہم پیغام شیئر کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی شادی کی تقریب میں شریک نہیں ہو سکیں گے۔
امریکی صدر نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا:
“میں تہہ دل سے اپنے بیٹے کی شادی کی پروقار تقریب کا حصہ بننا چاہتا تھا اور اس خوشی کے موقع پر اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا خواہشمند تھا، لیکن اس وقت ملک کے غیر معمولی حکومتی حالات، اہم ترین قومی ذمہ داریاں اور امریکہ سے میری والہانہ محبت مجھے ایسا کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتیں۔ موجودہ نازک صورتحال کا تقاضا ہے کہ میرا وائٹ ہاؤس میں موجود رہنا انتہائی ضروری ہے۔ میں یہاں رہتے ہوئے اپنے بیٹے ’ڈان جونیئر‘ اور ان کی منگیتر ’بیٹینا‘ کو زندگی کے اس نئے سفر کے آغاز پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔”
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ رواں ویک اینڈ نیو جرسی میں قائم اپنے گولف ریزورٹ پر گزارنے والے تھے جہاں یہ شادی طے تھی، تاہم پینٹاگون اور انٹیلی جنس حکام کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال پر ہنگامی بریفنگ کے بعد وہ فوری طور پر وائٹ ہاؤس منتقل ہو گئے ہیں۔ دفاعی ذرائع کے مطابق، خطے میں امریکی فوج کو الرٹ رہنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جس کے باعث صدر نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم سے تمام صورتحال کی براہِ راست نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔






































