امریکی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ وہ 22 جولائی 2026 سے برازیل کی کچھ درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف (محصولات) عائد کرے گی۔
سرکاری وجہ: امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر (USTR) نے بیان دیا ہے کہ ایک سال طویل تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ برازیل "غیر منصفانہ تجارتی طریقوں” میں ملوث ہے۔ اس تنازعہ کی مرکزی وجہ برازیل کا "Pix” الیکٹرانک ادائیگی کا نظام ہے، جس کے بارے میں امریکہ کا دعویٰ ہے کہ یہ امریکی حریفوں کو غیر منصفانہ طور پر نقصان پہنچاتا ہے۔ امریکہ نے انسداد بدعنوانی کے نفاذ اور دیگر تجارتی رکاوٹوں پر بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔
برازیل کا ردعمل: صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کے دفتر کی قیادت میں برازیلی حکومت نے اس فیصلے کی باضابطہ مذمت کی ہے۔ برازیل نے غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے ان یکطرفہ اقدامات کو بلاجواز قرار دیا ہے، اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) کے ذریعے جوابی ٹیرف اور قانونی چارہ جوئی کرنے کا عزم کیا ہے۔
استثنیٰ: یہ ٹیرف ہدف شدہ ہیں؛ کافی، بیف (گائے کا گوشت)، اور توانائی کی کچھ مصنوعات سمیت کئی اہم اشیاء کو فی الحال مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ امریکی سپلائی چین اور معیشت کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔
سیاسی تناظر: تجارتی کشیدگی پیچیدہ دو طرفہ تعلقات اور ملکی سیاست کے پس منظر میں پیدا ہوئی ہے۔ صدر لولا نے عندیہ دیا ہے کہ امریکی فیصلہ سیاسی عوامل سے متاثر ہے اور انہوں نے اپنے انتخابی حریف، سینیٹر فلاویو بولسونارو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان پر برازیل کے معاملات میں غیر ملکی مداخلت کی حوصلہ افزائی کا الزام لگایا ہے۔
برازیل نے امریکی 25 فیصد ٹیرف کی مذمت کر دی

