پاکستان نے 4 سال کی سب سے مہنگی ایل این جی درآمد کر لی
پاکستان نے توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور قطر سے طے شدہ گیس سپلائی میں تعطل کے باعث گزشتہ چار برسوں کی سب سے مہنگی اسپاٹ ایل این جی کارگو خرید لی ہے۔ بین الاقوامی تاجروں کے مطابق سرکاری ادارے پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (PLL) نے 21 سے 22 جولائی کی ترسیل کے لیے ایل این جی کارگو تقریباً 20.70 امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) کے نرخ پر خریدا، جو 2022 کے بعد سب سے مہنگی خریداری ہے۔
رپورٹس کے مطابق قطر سے آنے والی ایک طے شدہ ایل این جی کھیپ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث منسوخ ہو گئی، جس کے بعد پاکستان کو گیس کی ممکنہ قلت سے بچنے کے لیے فوری طور پر اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی ایل این جی خریدنا پڑی۔ یہ جولائی کے دوران پاکستان کی اسپاٹ مارکیٹ سے خریدی گئی چوتھی ایل این جی کارگو ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگی ایل این جی درآمد سے ملک کے درآمدی بل، بجلی کی پیداواری لاگت اور توانائی کے شعبے پر مالی دباؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ اگر عالمی سپلائی میں رکاوٹ برقرار رہی تو مستقبل میں گیس اور بجلی کی قیمتوں پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

