لاہور(کر ائم رپو رٹر)نصیر آ با د کے علا قہ
چلڈرن اسپتال میں کام کرنے والے یورولوجی کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر غلام مجتبی ظفر کے خلاف ایک خاتون ڈاکٹر کی مدعیت میں ہراسگی اور دھمکیاں دینے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ۔تھانہ نصیر آباد میں درج ہونے والے مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 354 اور 509 شامل کی گئی ہیں۔ متاثرہ خاتون ڈاکٹر نے موقف اختیار کیا ہے کہ پروفیسر غلام مجتبی ظفر نے انہیں کام کی جگہ پر جنسی طور پر ہراساں کیا، دبا ئو ڈالا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔مقدمے کے متن کے مطابق 11 جون 2026 کو پیش آنے والے اس واقعے کی باضابطہ شکایت وائس چانسلر کو بھی دی گئی تھی، جس کے بعد ادارے میں دو مختلف ہراسمنٹ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔خاتون ڈاکٹر کا الزام ہے کہ شکایت درج کرانے کے بعد انصاف فراہم کرنے کے بجائے انہیں بنیادی تربیت سے ہٹا کر مختلف مقامات پر ڈیوٹیاں کرنے پر مجبور کیا گیا۔نصیر آ با د پولیس نے خاتون ڈاکٹر کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے واقعے کی قانونی و ضابطہ کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
