نیویارک (این این آئی)نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے ساتھپاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برادر اور شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر فلسطینی کاز کو آگے بڑھانے اور بین الاقوامی قانونی اصولوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور دیرپا حل کے فروغ کے لیے کام جاری رکھیں گے، غزہ کی تعمیر نو اور حکمرانی کے انتظامات فلسطینی قیادت میں ہونے چاہئیں جن میں فلسطینی اتھارٹی کا مرکزی کردار ہو۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر فلسطین سے متعلق او آئی سی کمیٹی آف سکس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے او آئی سی کیلئے سیکرٹری جنرل کے لیے اتفاق رائے سے انتخاب پر اسماعیل شیخ محمد کو مبارکباد دی ۔انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا۔انہوں نے غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور غزہ تنازعہ کے خاتمے کے جامع منصوبے پر عملدرآمد کو آگے بڑھانے کے لیے امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا، جس کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے ذریعے کی گئی ہے۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے مسجد اقصیالحرم الشریف میں اسرائیل کی جانب سے جاری خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی۔انہوں نے مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی حصے سمیت مغربی کنارے میں غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیوں، آبادکاروں کے تشدد اور الحاق پر مبنی اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور او آئی سی کی جانب سے نئی اور مربوط سفاaرتی کارروائی پر زور دیا۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے غزہ امن منصوبے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل اور خلوص کے ساتھ عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ غزہ کی تعمیر نو اور حکمرانی کے انتظامات فلسطینی قیادت میں ہونے چاہئیں، جن میں فلسطینی اتھارٹی کا مرکزی کردار ہو، اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں پر احتساب کا مطالبہ کیا۔ پاکستان اور لیبیا کے درمیان تجارت، تعلیم اور کاروباری روابط بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے لیبیا کے قائم مقام وزیر خارجہ الطاہر الباعور کی ملاقات ہوئی، اسحاق ڈار نے لیبیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اسحاق ڈار اور لیبیا کے قائم مقام وزیر خارجہ نے علاقائی و عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں وزرائے خارجہ نے مشرق وسطی کی بدلتی صورتحال پر بھی بات چیت کی۔ اس موقع پر مشرق وسطی کی صورتحال کے علاقائی امن، توانائی کی فراہمی اور عالمی معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا گیا، ترقی پذیر ممالک پر علاقائی صورتحال کے معاشی اثرات بھی زیر بحث آئے۔ دفتر خارجہ کے مطابق لیبیا کے وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی تعمیری سفارتی کوششوں کی تعریف کی، اسحاق ڈار نے علاقائی چیلنجز کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کو واحد قابل عمل ذریعہ قرار دیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ تمام فریق علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئیں۔
اسحاق ڈار
