نیویارک (نما ئندہ خصوصی)وفاقی وزیر برائے خزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام، ابتدائی انتباہی نظام اور لاگت پر مبنی موسمیاتی سرمایہ کاری منصوبوں کو مضبوط بنانے کے لیے بیرونی معاونت کے ساتھ ملکی وسائل اور مالیاتی گنجائش کو بھی بروئے کار لانا ضروری ہے۔انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیو یارک میں متعدد اعلی سطح کے اجلاسوں میں شرکت کے موقع پرگفتگوکرتے ہوئے کہی ۔ وزیر خزانہ نے پاکستان کو درپیش موسمیاتی خطرات، قدرتی آفات سے نمٹنے کی ترجیحات، ڈیجیٹل تبدیلی و ٹوکنائزیشن کے مواقع اور موسمیاتی وعدوں کو عملی اور قابلِ سرمایہ کاری اقدامات میں تبدیل کرنے کی اہمیت پرروشنی ڈالی اوراس حوالے سے پاکستان کے موقف کو اجاگر کیا۔عالمی اقتصادی فورم کے کے فنانسنگ پلینٹ اینڈ پراسپیریٹی اجلاس میں وزیر خزانہ نے موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی قدرتی آفات بالخصوص سیلابوں کے باعث بنیادی ڈھانچے اور عوام کو درپیش شدید خطرات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام، ابتدائی انتباہی نظام اور لاگت پر مبنی موسمیاتی سرمایہ کاری منصوبوں کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کی کوششوں سے آگاہ کیا اور اس امر پر زور دیا کہ بیرونی معاونت کے ساتھ ملکی وسائل اور مالیاتی گنجائش کو بھی بروئے کار لانا ضروری ہے۔وزیرخزانہ نے امداد، موسمیاتی موافقت اور تعمیرِ نو کے لیے عالمی بینک ، ایشیائی ترقیاتی بینک اور بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹس کے ذریعے مالی وسائل متحرک کرنے کا حوالہ دیا تاہم انہوں نے غفلت سے گریز پر زور دیتے ہوئے گرین کلائمیٹ فنڈ اور لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ سمیت بین الاقوامی موسمیاتی فنڈز سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے طریقہ کار کو آسان بنائیں اور مالی معاونت تک رسائی کو تیز کریں۔
