لاہور(اپنے سٹاف رپورٹر سے)پنجاب حکومت نے امن و امان کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور سکیورٹی انتظامات میں معاونت کے لیے وفاقی وزارت داخلہ سے رینجرز کی خدمات 5 اکتوبر تک طلب کرلی ہیں محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے وفاقی وزارت داخلہ کو رینجرز کے دستوں کی تعیناتی کے لیے باقاعدہ مراسلہ ارسال کردیا گیا ہیمحکمہ داخلہ پنجاب کے ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کے دستے تعینات کرنے کی درخواست کی ہے، جن کی تعیناتی 5 اکتوبر تک رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔مراسلے کے مطابق راولپنڈی میں رینجرز کی 3 کمپنیاں، اٹک میں 5 ونگز جبکہ جہلم اور میانوالی میں ایک، ایک کمپنی تعینات کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ترجمان کے مطابق رینجرز کی تعیناتی کی منظوری کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے 59ویں اجلاس میں دی گئی، جس کے بعد وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلہ بھجوایا گیا۔م حکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق رینجرز کی تعیناتی آئین پاکستان کے آرٹیکل 245، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعات 4 اور 5 جبکہ پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959 کی دفعات (ب) اور 10 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔ دریں اثناء محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبہ بھر میں عوامی امن، سکون اور جان و مال کو لاحق سنگین خطرات کے پیش نظر 5 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے نوٹیفکیشن کے مطابق عوامی مقامات، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر 5 یا زائد افراد کے اجتماع، جلوس یا اکٹھ پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش پر بھی پابندی ہو گی۔ غیر قانونی اجتماعات میں لوگوں کو شرکت کیلئے اکسانے یا ترغیب دینے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے بتایا کہ دفعہ 144 کے تحت عائد پابندیوں کا اطلاق شادی کی تقریبات، نماز جنازہ، تدفین، مساجد اور دیگر عبادت گاہوں پر نہیں ہو گا۔ عدالتیں، حکومتی ادارے اور باضابطہ اجازت سے ہونے والی تقریبات بھی پابندی سے مستثنی ہوں گی جبکہ ڈیوٹی پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلیجنس ایجنسیوں اور سکیورٹی اہلکاروں پر ان پابندیوں کا اطلاق نہیں ہو گا۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے راولپنڈی ریجن میں 27 ستمبر سے موبائل اور انٹرنیٹ سروسز ڈان گریڈ کرنے کیلئے وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق راولپنڈی کے مخصوص مقامات پر 2G، 3G اور 4G نیٹ ورک جیمنگ جبکہ اٹک کے مخصوص علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز ڈائون گریڈ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ موٹروے پر براہمہ باہتر، گنجو، احاطہ، ٹیکسلا سٹی، واہ صدر، تھلیاں اور چکری کے علاقوں میں بھی موبائل و انٹرنیٹ سروسز ڈان گریڈ اور جیمنگ کی درخواست کی گئی ہے۔
