Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • دمشق میں کیفے دھما کے میں 4 افراد جاں بحق
    • پاکستان نے بھارت کو شکست دے کر ای اسپورٹس نیشنز کپ 2026 کے لیے کوالیفائی کر لیا
    • پاکستان میں پہلی بار نیم ایکٹیو روبوٹک اسپائن سرجری کامیابی سے انجام دے دی گئی
    • پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے برآمدی ادائیگیوں کے قواعد میں عارضی نرمی کر دی
    • کراچی میں مون سون سے قبل 584 خطرناک عمارتوں کو خالی کرانے کا فیصلہ
    • برطانوی پاؤنڈ میں روپے کے مقابلے 3.3 روپے اضافہ، امریکی ڈالر اب بھی کمزور
    • برطانیہ میں 1884 کے بعد دوسرا سب سے گرم جون ریکارڈ
    • پنجاب میں بارشوں سے تباہی، مختلف حادثات میں کم از کم 2 افراد جاں بحق اور 9 زخمی
    • سوات کی سیف اللہ جھیل میں افسوسناک حادثہ، کشتی الٹنے سے پانچ سیاح جاں بحق
    • حکومت نے مری ایکسپریس وے میں 70 کلومیٹر توسیع کی منظوری دے دی
    • پاکستان بھر میں پاسپورٹ دفاتر میں نقدی ادائیگی کا نظام ختم، ڈیجیٹل نظام نافذ
    • لاہور میں غیر قانونی سمر کیمپ کے دوران اسکول کی چھت گرنے سے بچہ جاں بحق
    • پاکستان میں سونے کی قیمت میں اچانک تقریباً 10 ہزار روپے کا اضافہ
    • دلجیت دوسانجھ کا کہنا ہے کہ سیاست انہیں لاہور آنے سے روک رہی ہے
    • وِنٹ سرف، “فادر آف دی انٹرنیٹ”، تقریباً 60 سال بعد ریٹائر ہو گئے
    • گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کے پگھلنے سے سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی
    • پنجاب میں غیر رسمی اسکولوں کی گرمیوں کی چھٹیاں بڑھا دی گئیں
    • روما مائیکل: مس گرینڈ انٹرنیشنل 2024 میں پاکستان کی جانب سے کوئی مالی معاونت نہیں ملی
    • پلے اسٹیشن 2028 تک ڈسک پر گیمز کی ریلیز ختم کرے گا
    • جنوبی فرانس میں شدید جنگلاتی آگ، سینکڑوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    کیا 1969ءمیں انسان نے چاند پر واقعی قدم رکھا تھا ؟تہلکہ خیز خبر

    By Daily Khabrainجولائی 21, 2018
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    امریکہ (ویب ڈیسک)چاند انسانی تہذیب کے آغاز سے ہی رات کے اوقات میں انسان کے لیے روشنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہونے کی وجہ سے سب کی توجہ کا مرکز رہا ہے, تقریبا 50 سال پہلے جب روس نے پہلا انسان زمین کے گرد مدار میں بھیجا تو امریکا اور روس کے درمیان باقاعدہ خلائی دوڑ کا آغاز ہوا۔امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند پر انسان کو بھیجنے کا اعلان کرنے کے بعد پہلی کوشش میں ہی انسان کو چاند کی سطح پر نہیں اتارا بلکہ اس سے پہلے چاند کی طرف بہت سی خلائی گاڑیاں بھیجی گئیں اور اس خلائی منصوبے کو "اپولو مشن” کا نام دیا گیا۔چونکہ چاند زمین سے تقریبا 3 لاکھ کلومیٹر دور ہے اور زمین سے اتنا زیادہ فاصلہ انسانی تاریخ میں پہلے کبھی طے نہیں کیا گیا تھا اس لیے اپولو مشن میں 12 اپولو خلائی گاڑیاں چاند کی طرف ایک ایک کرکے بھیجی گئیں اور ہر خلائی گاڑی چاند پر نہیں اتری بلکہ پہلی کچھ گاڑیاں زمین کا چکر لگا کر واپس آئیں اور کچھ چاند کی طرف بھیجی گئیں جن میں سے اپولو 3 (جس میں 3 خلاباز موجود تھے) راستے میں ہی آکسیجن سلنڈر پھٹنے سے تباہ ہوگئی اور یہ انسانی تاریخ میں زمین سے بہت زیادہ فاصلے پر ہونے والا ہولناک واقعہ اور پہلی انسانی ہلاکتیں قرار پائیں۔اپولو 7 کی خلائی گاڑی کو 25 دسمبر 1968 کو چاند کی طرف روانہ کیا گیا جس میں 3 خلاباز (فرینک بورمین، جیمز لوول اور ولیم انڈرز) موجود تھے لیکن یہ خلائی گاڑی چاند کی سطح سے 90 کلومیٹر کے فاصلے پر اس کا چکر لگا کر زمین پر واپس آگئی، یوں انسانی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ تھا جب اس نے اپنے گھر یعنی سیارہ زمین کو پہلی بار دور سے دیکھا۔اپولو 7 سے لی گئی تصاویر میں زمین کو دیکھ کر انسان کو اندازہ ہوا کہ اس کائنات میں اسکی حیثیت کتنی اہم ہے، اپولو 7 کے زمین پر واپس آجانے کے بعد ناسا نے انسان کو چاند پر اتارنے کا حتمی اعلان کیا اور 16 جولائی 1969 کو اپولو 11 کی خلائی گاڑی 3 خلابازوں کو لے کر چاند کی طرف روانہ ہوئی۔زمین سے روانگی کے 5 دن بعد 21 جولائی 1969 کو پاکستانی وقت کے مطابق رات 1 بج کر 17 منٹ پر اپولو 11 کی خلائی گاڑی چاند کی سرزمین پر اتری۔6 گھنٹے بعد خلائ بازوں نے صبح 7 بج کر 56 منٹ بعد چاند پر قدم رکھا۔چاند کی سطح پر اس مقام کو "ٹرانسکویلیٹی بیس” یعنی امن مرکز کا نام دیا گیا،اپولو کی اس خلائی گاڑی کے 2 حصے تھے جن میں سے ایک حصہ الگ ہوکر چاند پر اترا، جسے چاند گاڑی "ایگل” کہا جاتا ہے اور دوسرا حصہ پائلٹ گاڑی "کولمبیا” تھی جو کہ چاند کے گرد چکر لگاتی رہی۔چاند گاڑی میں نیل آرم اسٹرانگ اور بز ایلڈرین موجود تھے جبکہ مائیکل کولن پائلٹ گاڑی میں رہے۔چونکہ مائیکل کولن زمین سے 3 لاکھ کلومیٹر دور اکیلے تھے اس لیے انہیں حضرت آدم کے بعد "دنیا کا سب سے تنہا انسان” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔چاند پر "ایگل” کے اترنے کے تھوڑی دیر بعد جب امریکی خلاباز نیل آرم اسٹرانگ نے چاند گاڑی سے نکل کر چاند پر پہلا قدم رکھا تو اس وقت ان کے الفاظ یہ تھے: "انسان کا یہ چھوٹا سا قدم، نوع انسانی کے لیے ایک بڑی چھلانگ ہے”۔زمین پر موجود 50 کروڑ انسانوں نے یہ منظر ٹیلی ویڑن پر براہِ راست دیکھا۔اپولو 11 کے بعد مزید 5 خلائی گاڑیاں بھی بھیجی گئیں اور آج تک کل 12 خلاباز چاند پر چہل قدمی کرچکے ہیں۔ان سب کے باوجود دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو اس سب کو محض ہولی وڈ فلم انڈسٹری کی شاہکار فلم کہتے ہیں۔چاند تک انسان کے پہنچنے کے اس واقعے کو دھوکہ یا فراڈ کہنے والوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو سائنس کی زیادہ سمجھ بوجھ نہیں رکھتے۔اس تاریخی واقع کے منکرین اپنی بات کو دنیا کے سامنے صحیح ثابت کرنے کے لئے اپولو 11 مشن کے موقع پر دنیا بھر کو دکھائی جانے والی ویڈیو اور تصاویر پر کچھ اعتراضات کرتے ہیں۔ جن میں سے سب سے بڑا اعتراض یہ کہا جاتا ہے کہ چاند پر صرف امریکا کا ہی جھنڈا لہرایا گیا۔لوگ کہتے ہیں کہ سائنسدان بتاتے ہیں کہ 4 ارب سال پہلے چاند کی فضا موجود تھی لیکن شمسی ہواو¿ں اور چاند کی کم کشش ثقل کی وجہ سے یہ فضا ختم ہوگئی ہے اور اب چاند پر ہوا موجود نہیں ہے تو پھر اپولو 11 مشن کی تصویروں میں جب خلاباز نیل آرم اسٹرانگ امریکی جھنڈا قمری سطح میں گاڑھتے ہیں تو جھنڈا لہراتا دکھائی دیتا ہے لہذا ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ یہ سب زمین پر کسی ہولی وڈ فلم کی طرح فلمایا گیا۔اس حوالے سے دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ قمری آسمان میں ستارے کیوں نظر نہیں ا?رہے، یہ اعتراض اکثر کیا جاتا ہے کہ زمین پر تو روشنیوں سے بھرے شہروں سے بھی آسمان میں ستارے دکھائی دیتے ہیں مگر چاند پر تو نہ فضا ہے نہ اور ہی کوئی آلودگی تو تصاویر میں ستارے واضع دکھائی دینے چاہیے، لیکن کوئی ستارہ نظر نہیں آتا۔یہ بات بھی حقیقت سے قریب تر معلوم ہوتی ہے لیکن موبائل کیمرہ ہو یا ڈی ایس ایل آر کیمرہ سے اس کی وجہ بآسانی بتائی جا سکتی ہے۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      دمشق میں کیفے دھما کے میں 4 افراد جاں بحق

      برطانوی پاؤنڈ میں روپے کے مقابلے 3.3 روپے اضافہ، امریکی ڈالر اب بھی کمزور

      برطانیہ میں 1884 کے بعد دوسرا سب سے گرم جون ریکارڈ

      تازہ ترین

      آئرلینڈ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ چیمپئن بھارت کو 2-0 سے وائٹ واش کر دیا

      وینزویلا :زلزلے میں ارجنٹائن کے فٹبالر لوکاس ٹریخو نے اہلیہ اور دو بچوں کو کھو دیا

      تھور، گلگت بلتستان میں کلاؤڈ برسٹ سے بڑے پیمانے پر تباہی

      اسلام آباد، کشمیر، پشاور ،لاہور میں زلزلے کے جھٹکے شدت 5.9ریکارڈ

      یو اے ای میں ہنگامی الرٹ، شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.