وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ایوان بالا میں اکثریت ختم کرنا عدم اعتماد کا ووٹ نہیں ہے جبکہ سینیٹ انتخابات کو دیکھیں تو ملک کے موجودہ مسائل کی وجہ سمجھ آجاتی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات جس طرح ہوئے ہیں انہی سے ملک کے مسائل کی وجہ سمجھ آجاتی ہے، خیبر پختونخوا میں ہماری پہلی حکومت میں مجھے پتہ چلا کہ سینیٹ کے انتخابات میں پیسہ چلتا ہے اور یہ سلسلہ 30 سے 40 سال سے چل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات سے ملک قیادت آتی ہے، جب ایک سینیٹر رشوت دے کر سینیٹر بن رہا ہے اور ارکان پارلیمنٹ پیسے لے کر اپنے ضمیر بیچ رہے ہیں تب سے میں نے اوپن بیلٹ کی مہم چلانا شروع کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پارلیمنٹ میں بھی اوپن بیلٹ کا بل پیش کیا، ہم نے اوپن بیلٹ کے لیے بل پیش کیا تو یہ تمام جماعتیں خفیہ بیلٹ پر اکٹھی ہوئیں، جس کے بعد ہم معاملے کو سپریم کورٹ لے کر گئے، وہاں الیکشن کمیشن نے اس کی مخالفت کی اور عدالت عظمیٰ نے کہا کہ صاف و شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔
عمران خان نے کہا کہ جب سے ہماری حکومت آئی ہے تب سے پرانی جماعتوں کی کرپٹ قیادت کو خوف آگیا کہ چونکہ میں نے کرپشن کے خلاف ہی مہم چلائی ہے تو کہیں یہ ہم پر ہاتھ نہ ڈال دیں، میں کہہ چکا تھا کہ جب ان پر ہاتھ پڑے گا تو یہ سب اکٹھے ہوجائیں گے اور ایسا ہی ہوا، انہوں نے مجھ پر ہر طرح سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ملک کو فیٹف کی بلیک لسٹ میں ڈلوایا، جب ہم نے گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے قانون سازی کی کوشش کی تو انہوں نے این آر او مانگتے ہوئے اپنے نکات پیش کر دیے اور بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے پوری کوشش کی کہ سینیٹ انتخابات کے لیے ہمارے اراکین توڑیں اور ہماری اکثریت کو ختم کریں، اکثریت ختم کرنا عدم اعتماد کا ووٹ نہیں ہے، ان کا مقصد تھا کہ اعتماد کے ووٹ کی تلوار مجھ پر لٹکائیں اور میں این آر او دوں،لیکن میں اپوزیشن کے ہاتھوں نہ بلیک میل ہوں گا نہ این آر او دوں گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ 1985 کے بعد ملک میں تباہی مچی اور کرپشن اوپر گئی، جب وزیر اعظم اور وزیر چوری کرتا ہے تو ملک کو مقروض کر دیتا ہے، جیلوں میں جو غریب چور ہیں وہ تمام مل کر بھی 30 ارب روپے چوری نہیں کر سکتے، قانون کی بالادستی کا مطلب ہوتا ہے کہ غریب و امیر کے لیے انصاف کا معیار ایک ہو، انصاف وہ ہوتا ہے جو طاقتور کو قانون کے نیچے لاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں تحریک انصاف کو اتنی ہی سیٹیں ملیں جتنی ملنی تھیں، انہوں نے سارا ڈرامہ ایک عبدالحفیظ شیخ کی نشست کے لیے کیا، ہمارے اراکین نے بتایا کہ انہیں فون کرکے پیسوں کی پیشکش کی گئی اور 2 کروڑ سے بولی لگنا شروع ہوئی۔

