بدھ 15 جولائی 2026 کی شام کو عراق کے کرد علاقے کے شہر اربیل میں ڈرون حملہ کیا گیا۔ متعدد ڈرون شہر کی جانب بھیجے گئے، جن میں امریکی قونصل خانے اور ہوائی اڈے کے قریب کے علاقے شامل تھے۔
سرکاری ردعمل: عراقی وزیر اعظم علی الزیدی نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عراق کے استحکام اور امن کو نقصان پہنچانے کی ایک "شریمانہ” کوشش قرار دیا۔ انہوں نے وفاقی سیکیورٹی ایجنسیوں کو ہدایت کی کہ وہ کردستان کی علاقائی حکومت کی فورسز کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں تاکہ مستقبل کے حملوں کو روکنے اور ذمہ داروں کی نشاندہی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔
واقعہ: آنے والے ڈرونز کے جواب میں ایئر ڈیفنس سسٹم کو فعال کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق متعدد ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ مار گرائے گئے ڈرونز کے ملبے سے علاقے میں گاڑیوں کو کچھ مادی نقصان پہنچا، لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پس منظر: یہ حملہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ہوا۔ وزیر اعظم الزیدی کا بیان اس وقت سامنے آیا جب وہ واشنگٹن کے دورے پر تھے، جہاں انہوں نے عراق میں سیکیورٹی تعاون اور مسلح گروہوں کے مستقبل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے امریکی حکام سے ملاقات کی تھی۔ 16 جولائی 2026 تک کسی بھی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

