اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے المناک واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری صحت محمد اسلم غوری کو عہدے سے ہٹا دیا۔ یہ فیصلہ وزیراعظم کی زیرِ صدارت واقعے کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا۔
پمز اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ (MCH) وارڈ کی تیسری منزل پر بدھ کی صبح تقریباً 6 بج کر 45 منٹ پر نرسری میں آگ بھڑک اٹھی۔ حکام کے مطابق حادثے کے وقت نرسری میں 15 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے صرف ایک کو زندہ بچایا جا سکا، جبکہ 14 نومولود جاں بحق ہوگئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ ایک ایئر کنڈیشننگ یونٹ کے کمپریسر میں دھماکے کے بعد لگی۔ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا اور اسے اسپتال کے دیگر حصوں تک پھیلنے سے روک دیا۔
واقعے پر وزیراعظم شہباز شریف نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آتشزدگی کے اسباب، حفاظتی انتظامات اور ذمہ داروں کا مکمل تعین کیا جائے اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں متعلقہ حکام کی کارکردگی پر بھی برہمی کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کی سربراہی سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کریں گے، جبکہ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر نبیل اعوان سمیت دیگر حکام کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
دوسری جانب اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے بھی واقعے کی وجوہات اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک کثیرالجہتی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی ہے، جسے 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کمیٹی یہ بھی دیکھے گی کہ نرسری میں فائر سیفٹی کے مناسب اور فعال انتظامات موجود تھے یا نہیں اور ہنگامی صورتِ حال میں ریسکیو کارروائی کس حد تک مؤثر رہی۔
پمز سانحے نے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی، ہنگامی ردعمل اور نومولود بچوں کے وارڈز میں حفاظتی انتظامات سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکومت نے واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا اعلان کیا ہے۔

