امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول نیوکلیئر تعاون کے مجوزہ معاہدے کو کانگریس کے جائزے کے لیے پیش کردیا ہے، تاہم وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی صورت میں ہی آگے بڑھے گا۔
یہ معاہدہ گزشتہ ماہ طے پایا تھا اور اس کے تحت امریکی کمپنیوں کو سعودی عرب کو سول جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا موقع ملے گا۔ مجوزہ منصوبے میں سعودی عرب میں امریکی ساختہ AP1000 ری ایکٹرز کی تعمیر بھی شامل ہے، جبکہ معاہدہ 30 سال تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
امریکی قانون کے تحت معاہدے کو کانگریس کے سامنے پیش کیا گیا ہے، جہاں اسے 90 سیشن دنوں تک جائزے کے مرحلے سے گزرنا ہوگا۔ اگر کانگریس مقررہ مدت میں مشترکہ قرارداد کے ذریعے اسے مسترد نہیں کرتی تو معاہدہ نافذ ہوسکتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ صدر کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور معاہدہ اسی وقت آگے بڑھے گا جب سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر رضامند ہوگا۔ سعودی عرب نے تاحال اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب واضح اور قابلِ اعتماد پیش رفت کو اپنی بنیادی شرط قرار دیتا رہا ہے۔
دوسری جانب معاہدے کے بعض حصوں پر امریکی قانون سازوں اور جوہری عدم پھیلاؤ کے ماہرین نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو یورینیم افزودگی یا جوہری فضلے کی دوبارہ پراسیسنگ کی اجازت ملنے کی صورت میں خطے میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے میں قانون کے مطابق جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔ تاہم سعودی عرب کی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی شرط نے معاہدے کے مستقبل کو پیچیدہ بنا دیا ہے، کیونکہ ریاض فلسطینی ریاست کے معاملے پر اپنے مؤقف میں واضح تبدیلی نہیں لایا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان توانائی، ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک تعاون کو نئی سمت دے سکتا ہے، لیکن اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاملات اس ڈیل کی حتمی منظوری میں اہم رکاوٹیں بن سکتے ہیں۔

