مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد جموں و کشمیر کے نئے وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ انہوں نے قانون ساز اسمبلی میں ہونے والے انتخاب میں 30 ووٹ حاصل کیے، جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار خان صرف 14 ووٹ حاصل کرسکے۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اس وقت 46 ارکان موجود ہیں، جبکہ 7 نشستوں پر انتخابات کا عمل مکمل ہونا باقی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو اسمبلی میں 32 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 14 ہے۔
بیرسٹر افتخار گیلانی اس سے قبل آزاد کشمیر کے وزیرِ تعلیم بھی رہ چکے ہیں۔ وہ پہلی مرتبہ 2011 میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ حالیہ انتخابات میں وہ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر اسمبلی کا حصہ بنے۔
وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر افتخار گیلانی کا نام مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے حکومت سازی کے حوالے سے ہونے والے مشاورتی اجلاس میں حتمی کیا تھا۔ اجلاس میں رانا ثناء اللہ، خواجہ سعد رفیق، شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر سمیت پارٹی کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔
نو منتخب اسپیکر چوہدری طارق فاروق اور ڈپٹی اسپیکر احمد رضا قادری بھی مشاورتی عمل میں شریک تھے۔ پارٹی قیادت نے بیرسٹر افتخار گیلانی کی نامزدگی پر اتفاقِ رائے کا اظہار کیا تھا۔
افتخار گیلانی کی کامیابی کے ساتھ آزاد کشمیر میں نئی حکومت کی تشکیل کا ایک اہم مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔ وہ آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار خان کو 14 ووٹ ملے، جبکہ اسمبلی میں موجود ارکان نے وزیراعظم کے انتخاب میں حصہ لیا۔ اب نئی حکومت کو باقی سات نشستوں پر انتخابات اور آئندہ کے حکومتی معاملات کو آگے بڑھانے کا مرحلہ درپیش ہوگا۔
بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب، اسمبلی سے 30 ووٹ حاصل کیے

