علاقائی جنگ کے باعث سعودی عرب کی تیل پیداوار 1990 کے بعد کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اگست 2026 میں سعودی عرب کی خام تیل کی پیداوار تقریباً 6.2 سے 6.24 ملین بیرل یومیہ رہی، جو جولائی کے مقابلے میں تقریباً 23 فیصد کم ہے۔ اوپیک کے اعداد و شمار کے مطابق یہ 2026 میں سعودی پیداوار کی اب تک کی کم ترین ماہانہ سطح ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران جنگ اور اس کے نتیجے میں خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران ایران نواز حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مغربی ساحلی علاقوں کے خلاف حملوں اور بحری ناکہ بندی کے اعلان نے تیل کی برآمدات کو شدید متاثر کیا۔ اس صورتحال کے باعث سعودی عرب کو اپنی پیداوار کم کرنا پڑی کیونکہ تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش محدود ہے۔
اگست میں سعودی عرب کی خام تیل کی برآمدات بھی کم ہو کر تقریباً 3.1 ملین بیرل یومیہ رہ گئیں، جو کم از کم 2013 کے بعد کی کم ترین سطح بتائی گئی ہے۔ سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر ینبع کی بحیرہ احمر بندرگاہ کے ذریعے تیل کی ترسیل بڑھانے کی کوشش کی، تاہم باب المندب کے قریب حوثی حملوں نے اس راستے کو بھی متاثر کیا۔
سعودی پیداوار میں کمی کا عالمی تیل مارکیٹ پر بھی اثر پڑا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جس سے عالمی سطح پر مہنگائی اور توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ سعودی عرب اوپیک کا سب سے بڑا پیدا کنندہ اور دنیا کا بڑا تیل برآمد کنندہ ہے، اس لیے اس کی پیداوار میں بڑی کمی عالمی سپلائی پر نمایاں اثر ڈالتی ہے۔
نوٹ: “1990 کے بعد کم ترین سطح” کی نسبت بعض رپورٹس میں سامنے آئی ہے؛ اوپیک/فنانشل ٹائمز کے تازہ اعداد و شمار براہِ راست یہ بتاتے ہیں کہ اگست 2026 کی پیداوار 2026 کی کم ترین سطح تھی۔

