پشاور(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی مد میں این ایف سی ایوارڈ میں ہر سال خیبرپختونخوا حکومت کو حصہ دیا جاتا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ کانٹر ٹیررازم کی مد میں این ایف سی میں ہر سال حصہ جاتا ہے، این ایف سی شروع ہوئے 2010 سے اب 16 سال ہوگئے ہیں، ڈیڑھ سوارب سے اوپر کی رقم لا اینڈ آرڈر میں کہاں لگی، کوئی بتا سکتا ہے؟وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پچھلے ساڑھے 13 سال میں ٹمبر، ٹوبیکو اور منرلز کے ٹھیکے کن لوگوں کو ملے؟ مسئلہ نیت کا ہے، نیت ٹھیک ہوگی تو کام ہوجائیں گے۔عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ کہتے ہیں ہمارا مینڈیٹ قیدی کو رہا کرانا ہے، ڈویلپمنٹ مینڈیٹ نہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح احکامات ہیں کہ شہریوں کی آمدورفت میں کوئی خلل نہیں ڈالا جائے گا، ایک دھرنے سے تاجروں کو 120 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے نوجوانوں کی غلط ذہن سازی کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے پی ٹی آئی کو اسلام آباد آکر امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے پی ٹی آئی کو اسلام آباد آکر امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، حکومت انہیں بھرپور طریقے سے روکے گی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج تک پی ٹی آئی کو پرامن احتجاج کرتے نہیں دیکھا، یہ ہوش کے ناخن لیں ورنہ ان کے ساتھ وہ ہوگا جو یہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔عطا تارڑ کا کہنا تھاکہ عمران خان کی بہنوں کو مصدقہ اطلاع پر گرفتار کیا گیا کہ وہ امن و امان خراب کرینگی.انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں بات کریں تو کس سے کریں ؟ ان کے ہاں انچارج اور فیصلہ ساز کون ہے؟ بیرسٹر گوہر فارغ ہیں، پی ٹی آئی میں ان کی کوئی نہیں سنتا، یہ جو دو تین بندے کہتے ہیں بات کرلیں ،ان کے پلے ہے کیا؟ ان سے مذاکرات کا کوئی جواز اور فائدہ نہیں، ان کی زبان پر اعتبار نہیں ہے۔
