واشنگٹن، تہران ( نیوز ایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جلد ہتھیار ڈال دے گا جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا
ہے کہ ایران کبھی سر نہیں جھکائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران بہت جلد ہتھیار ڈال دے گا جس کے بعد تیل کی قیمتیں کم ہوجائیں گی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات آبنائے ہرمز سے تیل کی ریکارڈ ترسیل ہوئی۔ اس سے قبل ایک انٹرویومیں انہوں نے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران پر ایک مرتبہ پھر حملوں کی دھمکی دی تھی۔ ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران دباؤ اور دھمکیوں کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ امریکہ کو جواب دینے ہوگا کہ وہ مذاکرات چاہتا ہے یا اس میں خلل ڈالنا چاہتا ہے۔ امریکہ کے وعدوں پر کیسے یقین کرلیں؟۔ اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مذاکرات اور مقابلے کیلئے تیار ہیں۔ امریکہ کی جانب سے ہماری تجاویز مسترد کئے جانے پر حیران ہیں۔ سفارت کاری کا راستہ ترک نہیں کیا۔ نئی جارحیت خواہ تباہ کن جنگ ہی کیوں نہ ہو ، اس کا سامنا کریں گے۔ دریں اثناء ایران نے نئی امریکی پابندیوں کے تناظر میں اپنی ایئرلائنز کی پروازوں پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے جواب میں کسی بھی عسکری کارروائی کی منصوبہ بندی کی تردید کردی۔ دوسری طرف ان ممالک کی فہرست طویل ہوتی جا رہی ہے جنہوں نے ایرانی طیاروں کی آمد کو روک یا معطل کر دیا ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹریٹ نے کہا کہ یہ دعویٰ کہ تہران حالیہ فضائی پابندیوں کا عسکری جواب دے گا مسترد کیا جاتا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس بات کی بھی توثیق کی گئی کہ کچھ غیر قانونی پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے متعلقہ ممالک کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں ۔ اگر ضرورت پڑی تو کچھ ہوائی اڈوں کے خلاف سول آپشنز کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔قبل ازیں ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان ابوالفضل شکارچی نے کہاہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں مداخلت کی تو اسے منہ کی کھانی پڑے گی۔ایرانی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام ایران کے ہاتھ میں ہے، دشمن کی ممکنہ جارحیت کا اس بار جدید عسکری ٹیکنالوجی سے جواب دیا جائے گا۔جنرل شکارچی کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس مغربی ایشیا سے انخلا کے سوا کوئی راستہ نہیں، امریکی افواج جتنی جلد خطے سے نکلیں گی، انہیں اتنا ہی کم نقصان اٹھانا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ایرن نئے عالمی نظام میں امریکا کو سابقہ حیثیت میں واپس نہیں آنے دے گا۔
ٹرمپ
