اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں )پاکستان کی جانب سے بھارت میں اسلامی مقدس مقامات کی منظم اورریاستی سرپرستی میں مسماری پر گہری تشویش اور مذمت کا اظہار کیا گیا ہے ۔دفترخارجہ سے جاری بیان کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ بھارت میں اسلامی مقدس مقامات کی مختلف بہانوں سے منظم مسماری 1950 کے انڈیا پاکستان معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے جس کے تحت مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت میں جاری جبر اس کے اپنے قوانین، بالخصوص 1991 کے پلیسز آف ورشپ ایکٹ کی بھی خلاف ورزی ہے جس کے تحت عبادت گاہ کا مذہبی تشخص وہی برقرار رہنا چاہیے جو 15 اگست 1947 کو تھا۔ہندوتوا پر مبنی اسلاموفوبک مہم نے صدیوں پرانے ورثے اور عبادت گاہوں کی تباہی کو فوری خطرے سے دوچار کر دیا ہے، آپومجی، اجمیر شریف اور سہارنپور کلکٹریٹ مسجد سمیت صدیوں پرانی اسلامی عبادت گاہیں ہندوتوا مہم کا نشانہ بنی ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ 1992 میں تاریخی بابری مسجد کی مسماری مذہبی عدم برداشت، تعصب اور نفرت پر مبنی نظریے کی ایک ہولناک یاد ہے۔
دفتر خارجہ
