All posts by Daily Khabrain

شادی کے بعد دپیکا نے مشرقی بیویوں کی طرح رنویر پر پابندیاں لگادیں

ممبئی( ویب ڈیسک )بالی ووڈ اداکارہ دپیکا پڈوکون نے اپنے شوہر رنویر سنگھ پر شادی کے بعد تین پابندیاں عائد کردیں۔حال ہی میں شادی کے بندھن میں بندھنے والی اداکارہ دپیکا پڈوکون چاہے بالی ووڈ کی کتنی ہی بڑی اداکارہ ہوں لیکن بہر حال وہ ایک روایتی بیوی ہیں جنہوں نے شادی کے بعد اپنے شوہر رنویر سنگھ پر دیگر شادی شدہ خواتین کی طرح پابندیاں لگائی ہیں۔دپیکا نے روایتی بیویوں کی طرح رنویر پرپابندی لگاتے ہوئے کہا کہ رنویر سنگھ بہت دیر تک گھر سے باہر نہیں رہ سکتے۔ اس کے علاوہ دپیکا نے رنویر کے بغیر کھانا کھائے گھر سے نکلنے پر پابندی لگادی ہے۔ دپیکا نے رنویر پر تیسری اور سب سے اہم پابندی لگاتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بھی دپیکا کی کال نظر انداز نہیں کریں گے۔

اپوزیشن اتحاد نے مشترکہ حکمت عملی کیلیے کمیٹی تشکیل دے دی

 اسلام آباد(ویب ڈیسک) فوجی عدالتوں سمیت اہم معاملات پر مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے اپوزیشن اتحاد نے مختلف معاملات پر یکسوئی اور مشترکہ رائے کے لیے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔ متحدہ اپوزیشن کی کمیٹی سینیٹ اور قومی اسمبلی میں حکومت کے ساتھ رابطہ کار کا کردار بھی ادا کرے گی۔کمیٹی میں پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے 3،3 جبکہ جے یو آئی اور اے این پی کا ایک ایک نمائندہ شامل ہے۔ کمیٹی میں (ن) لیگ کے شاہد خاقان عباسی ، رانا تنویر اور رانا ثناء اللہ شامل ہیں جب کہ پیپلز پارٹی کے راجا پرویز اشرف، خورشید شاہ اور شیری رحمان شامل ہیں۔اپوزیشن رہنماؤں کے اجلاس میں شرکت کرنے والے اختر مینگل اور ان کی پارٹی کو باضابطہ اپوزیشن میں آنے کی صورت میں نمائندگی دی جائے گی۔واضح رہے کہ منگل کے روز اپوزیشن جماعتوں کا ایک مشترکہ اجلاس ہوا تھا جس میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مشترکہ حکمت عملی بنانے اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے وسیع تر اتحاد قائم کیا گیا تھا۔

متحدہ عرب امارات کی مالی معاونت تاحال موصول نہ ہوسکی،اسٹیٹ بینک

کراچی (ویب ڈیسک) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی مالی معاونت تاحال موصول نہ ہوسکی جب کہ زرمبادلہ کے مجموعی زخائر 13 ارب 48 کروڑ 92 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے۔ ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے، نومبر کے مقابلے میں جاری کھاتے کا خسارہ 45 کروڑ ڈالر بڑھ گیا اور دسمبر کے مہینے میں جاری کھاتے کو مزید ایک ارب 66 کروڑ ڈالر کی کمی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 13 ارب 48 کروڑ 92 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 11 جنوری کو زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر کی مالیت 6 ارب 90 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئی، اور کمرشل بینکوں کے پاس 6 ارب 58 کروڑ 80 لاکھ  ڈالر مالیت کا زرمبادلہ موجود ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد وشمار کے مطابق جولائی تا دسمبر جاری کھاتے کا خسارہ گزشتہ سال سے 37 کروڑ ڈالر کم رہا، جولائی تا دسمبر جاری کھاتے کو 7 ارب 98 کروڑ ڈالر خسارہ ہوا اور 6 ماہ کا تجارتی خسارہ 15 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔ اشیاء و خدمات کی تجارت کو 17 ارب 49 کروڑ ڈالر خسارہ ہوا۔اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتہ کے دوران غیرملکی قرضوں اور سود کی مد میں 14 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ادا کیے گئے، جب کہ تاحال متحدہ عرب امارات کی مالی معاونت موصول نہ ہوسکی۔

کابینہ نے بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی منظوری دیدی

 اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت نے پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی منظوری دے دی۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ کے نام ای سی ایل سے نکالنے پر غور کیا گیا۔ وفاقی کابینہ نے دونوں افراد کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی منظوری دے دی۔گزشتہ روز سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا تھا جس میں دونوں افراد کے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا گیا۔7 جنوری کو بھی اس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ کے نام ای سی ایل میں ڈالنے پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ جے آئی ٹی نے بلاول بھٹو کو معاملے میں کیوں ملوث کیا، کس کے کہنے پر بلاول کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا، بلاول نے پاکستان آکر کیا کیا وہ معصوم بچہ ہے، بلاول صرف اپنی ماں کا مشن آگے بڑھا رہا ہے، جہاں جہاں بلاول بھٹو زرداری کا نام ہے اس حصے کو حذف کیا جائے۔واضح رہے کہ جعلی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیس میں جے آئی ٹی نے اپنی تحقیقات کے بعد آصف علی زرداری سمیت 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی تھی۔ وفاقی کابینہ نے جے آئی ٹی کی سفارشات کی روشنی میں تمام نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی منظوری دی تھی۔

ادا کا رہ پا ئل چو دھری ، شا نزہ کو بڑھکیں مارنے ،شائقین کو ذو معنی اشارے کرنے پر وا رننگ

لاہو ر (صدف نعیم سے )الحمرا آرٹس کو نسل کے انچار ج ما نیٹر نگ کمیٹی نیا ز حسین لکھویرا نے ادا کا رہ پا ئل چو دھری اور شا نزہ پر وا ر ننگ عا ئد کر دی ہے۔ایک نو ٹییفکیشن میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ دو نو ں فنکا را ئیں دورا ن پر فا رمنس شا ئقین کوبرا ہ را ست ا شا رے ،ذومعنی گفتگو اور بڑھکیں مار تی ہیںجو الحمرا آرٹس کو نسل کے اصول و ضوا بط کی کھلی خلا ف ور زی ہے اور اگر ان دونوں نے اپنا رویہ نہ بدلا تو ان پر پا بندی عا ئد کر دی جا ئیگی۔

ثاقب نثار: پاکستان کے سب سے متنازع چیف جسٹس؟بی بی سی کی چو نکا دینے وا لی رپو رٹ

لند ن (ویب ڈیسک)پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار شاید ملک کی عدالتی تاریخ کے واحد جج ہوں گے جنھیں ان کے عدالتی فیصلوں سے زیادہ ’غیر عدالتی‘ سرگرمیوں کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔مثلاً انھوں نے پاکستان میں پانی کی کمی کے مسئلے کو جس شدت اور تواتر کے ساتھ اجاگر کیا اس کے نتیجے میں وہ ڈیم بنانے کا اپنا ہدف تو ابھی تک پورا نہیں کر پائے لیکن اس دوران انھوں نے پانی کی کمی کے مسئلے کو پاکستانی میڈیا اور سیاست کے مرکز تک پہنچا دیا۔بطور چیف جسٹس آف پاکستان وہ اپنی تعیناتی کے دوران انصاف کی ممکنہ فراہمی کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات بھی کر جاتے تھے جو کہ قانونی ماہرین کی نظر میں براہ راست حکومتی اور انتظامی امور میں مداخلت کے مترادف تھے۔صاف پانی، ہسپتالوں کی صفائی، بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈز کی اپیل، ناجائز تجاوزات کے خلاف کارروائی، اہم سیاسی اور دیگر شخصیات سے سکیورٹی واپس لینے کے احکامات اور آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے کانفرنس کا انعقاد، یہ ایسے کام ہیں جو کہ براہ راست حکومت کے کرنے کے ہیں لیکن ان کاموں کا بوجھ بھی چیف جسٹس نے اپنے کندھوں پر ا±ٹھایا ہوا تھا۔ان مسائل کے حل کے لیے زیادہ تر از خود نوٹسز کا سہارا لیا گیا۔ سپریم کورٹ کے پاس از خود نوٹس ایک ایسا ہتھیار ہے جسے کسی بھی وقت کسی کے خلاف بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس قانون کے استعمال کے بارے میں وکلا کی رائے بھی منقسم ہے۔جہاں انہوں نے بہت اہم مقدمات میں از خود سماعت کا اختیار استعمال کرتے ہوئے ان پر فیصلے کیے وہیں ان کے دور میں سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد کم ہونے کی بجائے اس میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جب جسٹس ثاقب نثار نے یہ عہدہ سنبھالا تو سپریم کورٹ میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد 32 ہزار تھی اور آج جب وہ جا رہے ہیں تو یہ تعداد 40 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔جسٹس ثاقب نثار ہفتہ وار تعطیل کے دن بھی سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری برانچ میں مقدمات کی سماعت کرتے تھے لیکن ان میں زیادہ تر مقدمات مفاد عامہ کے ہوتے تھے۔ تاہم انھوں نے خود بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ لوگوں کو اس طرح انصاف نہیں مل رہا جس طرح ماضی میں ملا کرتا تھا۔عدالت عظمیٰ کی طرف سے ازخود نوٹس کا معاملہ ان کی عدالت میں بھی زیر التوا رہا ہے جس کو اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچایا گیا۔سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بعد اگر کسی چیف جسٹس نے از خود نوٹس کا سب سے زیادہ استعمال کرتے ہوئے انتظامی معاملات میں مداخلت کی ہے تو وہ خود جسٹس ثاقب نثار ہیں۔ ا±نھوں نے بطور چیف جسٹس 43 معاملات پر از خود نوٹس لیے جن میں سے زیادہ تر کو نمٹا دیا گیا ہے۔یہ افتخار محمد چوہدری ہی تھے جو اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی مخالفت کے باوجود میاں ثاقب نثار کو لاہور ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ میں لے کر آئے تھے جبکہ اس وقت کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف سنیارٹی کے اعتبار سے پہلے نمبر پر تھے۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے کیے گئے عدالتی فیصلوں پر وکلا تو تنقید کرتے ہی رہے ہیں لیکن جس طریقے سے وہ عدالتی کارروائی چلاتے تھے اس پر وکلا کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھی جج صاحبان بھی ا±ن سے اختلاف کیا کرتے تھے۔سپریم کورٹ کےان ججوں میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منصور علی شاہ پیش پیش ہیں۔ پشاور میں آرمی پبلک سکول کے واقعے سے متعلق از خود نوٹس کے معاملے پر قاضی فائز عیسیٰ نے برملا اختلاف کیا جبکہ جسٹس منصور علی شاہ نے کچھ عرصے کے بعد اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور کہا کہ ا±نھیں اس بینچ کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا اور چیف جسٹس یعنی میاں ثاقب نثار کا عمل غیر قانونی تھا۔ان اختلافات کی بنا پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بہت کم اس بینچ کا حصہ بنتے ہوئے دیکھا گیا جس کی سربراہی چیف جسٹس کرتے تھے۔اعلیٰ عدلیہ کے علاوہ ماتحت عدلیہ کے ججوں سے بھی ان کا سلوک خبروں اور تبصروں کی زینت بنتا رہا۔ دور? سندھ کے دوران ا±نھوں نے لاڑکانہ کی ایک بھری عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج گل ضمیر سولنگی کے ساتھ جو رویہ اپنایا وہ کئی دن تک ٹی وی چینلز اور ٹاک شوز پر زیرِ بحث رہا اور پھر اس کے نتیجے میں مذکورہ جج کا استعفیٰ بھی سامنے آیا۔
جعلی اکاونٹس سے اربوں روپے بیرون ممالک منتقل کرنے کے مقدمے میں جسٹس ثاقب نثار بحریہ ٹاو¿ن کے مالک کو یہ پیشکش کرتے رہے کہ وہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے ایک ہزار ارب روپے دے دیں تو ا±ن کے تمام مقدمات نمٹا دیے جائیں گے جبکہ اس کے برعکس ان کے دور میں سپریم کورٹ نیب کی طرف سے پلی بارگین کے طریق? کار کے خلاف بھی رہی اور عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ یہ قانون بدعنوانی کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔جسٹس ثاقب نثار کے بارے میں صحافتی حلقوں میں یہ تاثر عام تھا کہ ا±نھیں بھی سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرح میڈیا میں رہنے کا بہت شوق تھا۔ میاں ثاقب نثار نے پہلے پانچ ماہ خاموشی میں گزارے اور اس عرصے کے دوران صحافیوں کی زیادہ تعداد نے بھی سپریم کورٹ باقاعدگی کے ساتھ جانا چھوڑ دیا لیکن اس کے بعد صحافی عدالتی وقت شروع ہونے پر ایسے سپریم کورٹ میں پہنچتے تھے جیسے وہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں جاتے تھے۔یہی نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے میڈیا کے نمائندوں کو ایسے ٹکرز بھیجے جاتے ہیں جیسے کوئی سیاسی جماعت یا تنظیم ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے رابطے میں رہتی ہے۔بعض اوقات ایسے بھی ہوتا تھا کہ میاں ثاقب نثار نے اگر کسی جگہ کا دورہ کرنا ہوتا تو میڈیا کو ٹکرز کے ذریعے پہلے سے ہی مطلع کر دیا جاتا اور پھر ٹی وی چینلز پر یہ خبریں چلائی جاتیں کہ’چیف جسٹس کا اچانک چھاپہ’۔بات یہیں پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ میاں ثاقب نثار کے ترکی کے دورے کے دوران نماز پڑھتے ہوئے ان کی تصویر جو کہ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کی گئی تھی، کو بھی نجی ٹی وی چینلز اور اخبارات کی زینت بنایا گیا۔ سپریم کورٹ کے وکلا کا موقف یہ ہے کہ اس تصویر کو جاری کرنے کا مقصد شاید یہ بھی ہوسکتا ہے کہ توہین مذہب کے مقدمے میں ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کے بعد ایک مذہبی جماعت کی طرف سے میاں ثاقب نثار کے مسلمان ہونے پر سوال اٹھائے گئے تھے۔آسیہ بی بی کو رہا کرنے کا فیصلہ بھی چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہی تحریر کیا تھا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آسیہ بی بی کو توہین مذہب کے مقدمے میں رہائی کے بعد جس طرح ایک مذہبی جماعت کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف نظرثانی کی اپیل ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ تک نہیں لگائی گئی۔کہا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ کی انتظامیہ میاں ثاقب نثار کی پروٹوکول کی ڈیوٹی ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے بیٹے کو بھی پروٹوکول ڈیوٹی دینے پر مجبور تھی۔ سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے خلاف جتنے بھی فیصلے آئے وہ سب چیف جسٹس کے صاحبزادے نے اس گیلری میں بیٹھ کر سنے جو کسی بھی جج کی ریٹائرمنٹ کے بعد فل کورٹ ریفرنس کے لیے ان کے خاندان کے افراد کے لیے مختص کی جاتی ہے۔آباد ی پر کنٹرول کے معاملے پر سابق چیف جسٹس نے جو کانفرنس بلائی تھی اس میں وزیر اعظم عمران خان جب اس کانفرنس میں شرکت کے لیے سپریم کورٹ میں آئے تو وزیر اعظم کے ساتھ چیف جسٹس کی ملاقات میں میاں ثاقب نثار کے بیٹے کی موجودگی پر قانونی، سیاسی اور صحافتی حلقوں میں خاصی لے دے ہوئی۔میاں ثاقب نثار کی لاہور ہائی کورٹ میں بطور جج تعیناتی اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی سفارش پر ہی ہوئی تھی۔میاں ثاقب نثار کی طرف سے نواز شریف کو پاکستان مسلم لیگ نواز کی صدارت سے ہٹائے جانے کے فیصلے کے بعد جب صحافیوں نے احتساب عدالت میں میاں نواز شریف سے ثاقب نثار کے اس فیصلے کے بارے میں پوچھا تو ا±نھوں نے جواب میں صرف حضرت علی کا قول دہرایا تھا کہ’جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو’۔اسلام آباد کے رہائشیوں کی دیرینہ خواہش ہے کہ گذشتہ14 سال سے بند شاہراہ سہروردی کا ایک حصہ، جہاں پر فوج کے خفیہ ادارے کا ہیڈ آفس ہے کو دوبارہ کھولا جائے۔مبصرین کے مطابق میاں ثاقب نثار کے دل میں بھی پاک فوج کے لیے اتنا ہی مقام ہے جتنا عام پاکستانیوں کے دلوں میں ہے اس لیے وہ بھی فوج کے خلاف کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو عدالتی معاملات میں مبینہ مداخلت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تو بحیثیت چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس ثاقب نثار نے اس کا فوری نوٹس لیا اور ججز کے خلاف پاکستان کی عدالتی تاریخ کی مختصر ترین کارروائی کے بعد جسٹس شوکت صدیقی کو ان کے عہدے سے برخاست کرنے کی سفارش کر دی۔جسٹس ثاقب نثار نے اعلیٰ عدلیہ کے چند دیگر ججز کی طرح سابق ملٹری ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے پی سی او یعنی عبوری آئینی حکم کے تحت حلف ا±ٹھایا تھا۔گر میاں ثاقب نثار فوجی جنرل کے پی سی او کے تحت حلف نہ ا±ٹھاتے تو شاید وہ پاکستان کے چیف جسٹس کے عہدے پر بھی نہ پہنچ پاتے۔میاں ثاقب نثار نے بطور چیف جسٹس آف پاکستان عدالتی فیصلوں پر من وعن عمل درآمد کروایا لیکن چند کام ایسے بھی ہیں جن پر وہ چاہتے ہوئے بھی عمل درآمد نہ کروا سکے۔اسلام آباد کے رہائشیوں کی دیرینہ خواہش ہے کہ گذشتہ14 سال سے بند شاہراہ سہروردی کا ایک حصہ، جہاں پر فوج کے خفیہ ادارے کا ہیڈ آفس ہے دوبارہ عوام کے لیے کھولا جائے لیکن عدالتی احکامات کے باوجود کیا لوگوں کی خواہش کا احترام کیا گیا ہے، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب سب جانتے ہیں۔

18سالوں میں50ہزار مقد ما ت نمٹانے والے نئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کون ؟شہرت کن فیصلوں نے دی؟

لاہور (چو دھری شفیق ) سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے سے شہرت پانے وا لے جسٹس آصف سعید کھوسہ پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں ۔جبکہ سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کا فیصلہ سنایا تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں نواز شریف کو نااہل قرار دینے کی سفارش کی تھی۔جسٹس آصف سعید کھوسہ 21 دسمبر 1954 کو صوبہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے، وہ اپنی تعلیمی قابلیت اور سب سے زیادہ فیصلے تحریر کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے 1969 میں میٹرک کے امتحان میں ملتان بورڈ سے پانچویں جبکہ 1971 میں انٹرمیڈیٹ میں لاہور بورڈ اور 1973 میں پنجاب یونیورسٹی سے پہلی پوزیشنز حاصل کیں، اسی یونیورسٹی سے جسٹس ا?صف سعید کھوسہ نے 1975 میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی، ان کی قابلیت کی وجہ سے انہیں 3 مرتبہ نیشنل ٹیلنٹ اسکالرشپ سے نوازا گیا۔ماسٹرز ڈگری کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے برطانیہ کا رخ کیا، جہاں کیمبرج یونیورسٹی سے 1977 اور 1978 میں انہوں نے قانون کی 2 ڈگریاں حاصل کیں، برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ 1979 میں وطن واپس ا?ئے اور لاہور ہائیکورٹ سے وکالت کا ا?غاز کیا اور 1985 میں سپریم کورٹ کے وکیل بن گئے۔20 سال تک وکالت جاری رکھنے کے بعد جسٹس ا?صف سعید کھوسہ 21 مئی 1998 میں لاہور ہائیکورٹ جبکہ 2010 میں سپریم کورٹ کے جج منتخب ہوئے۔مئی 1998 میں آصف سعید کھوسہ لاہور ہائی کورٹ میں جج مقرر ہوئے اور جب سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے 7 نومبر 2007 کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے آئین معطل کیا تو جسٹس آصف سعید کھوسہ بھی ان ججز میں شامل تھے جنہوں نے ‘پی سی او’ کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا۔اگست 2008 میں وکلا کی تحریک کے بعد وہ لاہور ہائی کورٹ میں جج کی حیثیت سے بحال ہوئے۔علاوہ ازیں جسٹس آصف سعید کھوسہ 4 کتابوں کے خالق بھی ہیں جن میں، ہیڈنگ دی کانسٹیٹیوشن، کانسٹیٹیوشنل اپولوگس، ججنگ ود پیشن اور بریکنگ نیو گراونڈ شامل ہیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کو لمز یونیورسٹی، بی زیڈ یو اور پنجاب یونیورسٹی لا کالج میں قانون پڑھانے کا وسیع تجربہ بھی حاصل ہے، ایک اندازے کے مطابق جسٹس آصف سعید کھوسہ 18 سال سے زائد عرصے میں 50 ہزار کے قریب مقدمات کے فیصلے سنا چکے ہیں۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کو پاکستان کا 26 واں چیف جسٹس تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے، موجودہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار آج ریٹائر ہوجائیں گے، جس کے بعد جسٹس آصف سعید کھوسہ 18 جنوری کو عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔چیف جسٹس کے عہدے پر 3 سو 47 دن تک فائز رہنے کے بعد جسٹس آصف سعید کھوسہ رواں سال 20 دسمبر کو ریٹائر ہوجائیں گے۔ان کے بعد جسٹس گلزار احمد اس عہدہ پر فائز ہوں گے اور وہ یکم فروری 2022 تک چیف جسٹس کے عہدے سے ریٹائر ہوجائیں گے۔

مسجد جلانے کیلئے جانیوالے ہندو کی کہانی

یہ ایک ایسے نوجوان شخص کی آپ بیتی ہے جسے اسلام اور مسلمان نام سے ہی بے حد چڑ تھی۔ یوراج گجرات کے ایک گاو¿ں کے ٹھاکر زمیندار کا بیٹا ہے۔ میرا پرانا نام یوراج ہے۔ یوراج نام سے ہی لوگ مجھے جانتے ہیں۔ تاہم بعد میں پنڈتوں نے میری راشی کی خاطر میرا نام مہیش رکھا ، مگر میں یوراج نام سے ہی مشہور ہو گیا۔ لیکن اب میں سہیل صدیقی ہوں۔ میں 13 اگست 1983 کو پیدا ہوا۔ جسپال ٹھاکر کالج سے میں بی کام کر رہا تھا کہ مجھے تعلیم چھوڑنی پڑی۔ میرا ایک بھائیاور ایک بہن ہے۔ میرے جیجا جی بڑے لیڈر ہیں۔ گجرات کے گودھرا سانحہ کے بعد 2002 کے فسادات میں ہم آٹھ دوستوں کا ایک گروپ تھا ، جس نے ان فسادات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ہمارے علاقے میں درندگی کا ننگا ناچ ہو رہا تھا۔ ہمارے گھر کے پاس گاو¿ں میں ایک چھوٹی سی مسجد تھی۔ لوگ کہتے ہیں یہ تاریخی مسجد ہے۔ ہم لوگوں نے منصوبہ بنایا کہ گاو¿ں کی اس مسجد کو گرا دینا چاہئے۔ ہم آٹھ ساتھی اس مسجد کو گرانے کے لئے گئے۔ بہت محنت کے بعد بھی ہم اس مسجد کو گرا نہ سکے۔ ایسا لگتا تھا ہمارے کدال لوہے کے نہیں لکڑی کے ہوں۔بہت مایوس ہو کر ہم نے مسجد کے باہر والی دیوار گرانی شروع کر دی جو کچھ سال پہلے ہی گاو¿ں والوں نے بنوائی تھی۔ دیوار گرانے کے بعد ہم دوستوں نے سوچا کہ اس مسجد کو جلا دینا چاہیے۔ اس کے لئے پٹرول لایا گیا اور پرانے کپڑے میں پٹرول ڈال کر مسجد کو جلانے کے لئے ایک ساتھی نے آگ جلائی تو خود اس کے کپڑوں میں آگ لگ گئی۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ خود جل کر مر گیا۔ میں تو یہ منظر دیکھ کر ڈر گیا۔ ہماری اس کوشش سے مسجد کو کچھ نقصان پہنچا۔ حیرت کی بات یہ ہوئی کہ اس واقعہ کے بعد دو ہفتے کے اندر میرے چار ساتھی ایک کے بعد ایک مرتے گئے۔ ان کے سر میں درد ہوتا تھا اور وہ تڑپ تڑپ کر مر جاتے تھے۔ میرے علاوہ باقی دو ساتھی پاگل ہو گئے۔ یہ سب دیکھ کر میں تو بہت ڈر گیا۔ میں ڈرا چھپتا پھرتا تھا۔ رات کو اسی ٹوٹی مسجد میں جا کر روتا تھا اور کہتا تھا۔ اے مسلمانوں کے خدا مجھے معاف کر دے۔ اس دوران مجھے خواب میں جہنم اور جنت نظر آنے لگے۔ میں نے ایک بار خواب میں دیکھا کہ میں جہنم میں ہوں اور وہاں کا ایک داروغہ میرے ان ساتھیوں کو جو مسجد گرانے میں میرے ساتھ تھے اپنے مسلمانوں سے سزا دلوا رہا ہے۔ سزا یہ ہے کہ طویل کانٹوں کا ایک نیٹ ورک ہے۔ اس جال پر ڈال کر ان کو کھینچا جا رہا ہے جس سے گوشت اور کھال گردن سے پیروں تک اتر جاتی ہے لیکن جسم پھر ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ان کو الٹا لٹکا دیا اور نیچے آگ جلا دی گئی جو منہ سے باہر اوپر کو نکل رہی ہے اور دو جلاد ہنٹر سے ان کو مار رہے ہیں۔وہ رو رہے ہیں ، چیخ رہے ہیں کہ ‘ ہمیں معاف کر دو۔ داروغہ غصہ میں کہتا ہے، معافی کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ خواب میں اس طرح کے خوفناک منظر مجھے باربار ظاہر ہوتے اور میں ڈر کے مارے پاگل سا ہونے کو ہوتا تو مجھے جنت دکھائی دیتا۔ میں جنت میں دیکھتا کہ تالاب سے بھی چوڑی دودھ کی نہر ہے۔ دودھ بہہ رہا ہے۔ ایک نہر شہد کی ہے۔ ایک ٹھنڈے پانی کی اتنی صاف کہ اس میں میراعکس صاف نظر آرہا تھا۔ میں نے ایک بار خواب میں دیکھا کہ ایک بہت خوبصورت درخت ہے ، اتنا بڑا کہ ہزاروں لوگ اس کے سائے میں آ جائیں۔ میں خواب میں بہت اچھے باغ دیکھتا اور ہمیشہ مجھے اللہ اکبر کی تین بار آواز آتی۔ یہ سن کر مجھے اچھا نہ لگتا اور جب کبھی میں ساتھ میں اللہ اکبر نہ کہتا تو مجھے جنت سے اٹھا کر باہر پھینک دیا جاتا۔ جب میری آنکھ کھلتی تو میں بستر سے نیچے پڑا ملتا۔ اس طرح بہت دن گزر گئے۔ گجرات میں فسادات ہوتے رہے لیکن اب مجھے دل سے لگتا جیسے میں مسلمان ہوں۔ اب مجھے مسلمانوں کے قتل کی اطلاع ملتی تو دل بہت دکھتا . میں ایک دن بیجا پور گیا۔ وہاں ایک مسجد دیکھی۔ وہاں کے امام صاحب سہارنپور کے تھے۔ میں نے ان کو اپنی پوری کہانی بتائی۔ انہوں نے کہا، اللہ کو آپ سے بہت محبت ہے ، اگر آپ سے محبت نہ ہوتا تو اپنے ساتھیوں کی طرح آپ بھی جہنم میں جل رہے ہوتے۔ خواب دیکھنے سے پہلے میں اسلام کے نام سے ہی چڑتا تھا۔ ٹھاکر کالج میں کسی مسلمان کا داخل نہیں ہونے دیتا تھا۔ لیکن جانے کیوں اب مجھے اسلام کی ہر بات اچھی لگنے لگی۔ بیجا پور سے میں گھر آیا اور میں نے طے کر لیا کہ اب مجھے مسلمان ہوجانا چاہیے۔ میں احمد آباد کی جامع مسجد میں گیا اور اسلام قبول کر لیا اور آج میں سہیل صدیقی کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہوں۔

روزانہ 2 ڈبیاں سگریٹ پینے والے جنرل ایوب کو بٹلرکا کرارا جواب ، پھر سابق جنرل نے ایسا کام کردیا کہ دنیادنگ رہ گئی

اسلا م آباد (ویب ڈیسک ) صدر ایوب خان پاکستان کے پہلے ملٹری ڈکٹیٹر تھے ، وہ روزانہ سگریٹ کے دو بڑے پیکٹ پیتے تھے‘ روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کے دو پیکٹ ٹرے میں رکھ کر ان کے بیڈ روم میں آجاتاتھا اورصدر ایوب سگریٹ سلگا کر اپنی صبح کا آغاز کرتے تھے‘ وہ ایک دن مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے‘ وہاں ان کا بنگالی بٹلرانہیں سگریٹ دینا بھول گیا۔جنرل ایوب خان کو شدید غصہ آیا اورانہوں نے بٹلر کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ جب ایوب خان گالیاں دے دے کر تھک گئے تو بٹلر نے انہیں مخاطب کر کے کہا ”جس کمانڈر میںاتنی برداشت نہ ہو وہ فوج کو کیا چلائے گا‘ مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقبل خراب دکھائی دے رہا ہے“۔بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی ‘ انہوں نے اسی وقت سگریٹ ترک کر دیا اور پھر باقی زندگی سگریٹ کو ہاتھ نہ لگایا۔۔ دنیا میں لیڈرز ہوں‘ سیاستدان ہوں‘ حکمران ہوں‘ چیف ایگزیکٹو ہوں یا عام انسان ہو‘ان کا اصل حسن ان کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی شارٹ ٹمپرڈ‘ کوئی غصیلہ اور کوئی جلد باز شخص ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا میں معاشرے‘ قومیں اور ملک بھی صرف وہی آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ہوتی ہے۔ جن میں دوسرے انسان کی رائے‘ خیال اور اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک‘ ہمارے معاشرے میں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے۔ہم میں سے ہر شخص ہروقت کسی نہ کسی شخص سے لڑنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ شائد قوت برداشت کی یہ کمی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ قتل اور سب سے زیادہ حادثے ہوتے ہیں لیکن یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اپنے اندر برداشت پیدا کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہاں ہے اور اس کا حل رسول اللہ ?کی حیات طیبہ میں ہے۔ ایک بار ایک صحابی? نے رسول اللہ ? سے عرض کیا ”یارسول اللہ ?آپ مجھے زندگی کو پر سکون اور خوبصورت بنانے کاکوئی ایک نسخہ بتا دیجئے“ آپ ? نے فرمایا ”غصہ نہ کیا کرو“ آپ? نے فرمایا ”دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔اول وہ لوگ جو جلدی غصے میں آجاتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں۔ دوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں اور سوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور دیر سے اصل حالت میں لوٹتے ہیں“ آپ? نے فرمایا ” ان میں سے بہترین دوسری قسم کے لوگ ہیں جبکہ بدترین تیسری قسم کے انسان“۔ غصہ دنیا کے90فیصد مسائل کی ماں ہے اور اگر انسان صرف غصے پر قابو پا لے تواس کی زندگی کے 90فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں۔

پاکستانی فوجی واٹس ایپ گروپ کیوں چھوڑ رہے ہیں؟

لاہور (ویب ڈیسک ) گذشتہ ہفتے پاکستان کی عسکری قیادت کے 217ویں کور کمانڈر اجلاس کے بعد جاری ہونے والی پریس ریلیز بظاہر معمولی نوعیت کی تھی جو عمومی طور پر ایسے اجلاسوں کے بعد شائع کی جاتی ہیں اور جن میں علاقائی اور ملکی صورتحال کا تذکرہ ہوتا ہے۔لیکن اس اجلاس کے چند روز بعد واٹس ایپ گروپس پر ایسے پیغامات گردش کرنے لگے جن میں اس اجلاس میں ہونے والے مبینہ فیصلوں کا حوالہ دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ پاکستانی فوج کے ارکان کو اپنے واٹس ایپ گروپس بند کرنے یا ان سے نکل جانے کو کہا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ انھیں سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کا اکاو¿نٹ بنانے سے بھی روک دیا گیا ہے۔اسی طرح کے ایک اور پیغام کے مطابق فوج کے تمام حاضر سروس افسران کو مبینہ طور پر متنبہ بھی کیا گیا کہ اگر انھوں نے تمام واٹس ایپ گروپس سے قطع تعلق نہ کیا تو ان کے خلاف انضباطی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔فوجیوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے میں کیا قباحت ہے؟ان پیغامات کے سامنے آنے کے بعد بی بی سی نے اس حوالے سے مختلف فوجی ذرائع سے رابطہ کیا اور حقائق جاننے کی کوشش کی کہ آیا اس نوعیت کے کوئی احکامات انھیں دیے گئے ہیں یا نہیں۔پاکستانی فوج کے متعدد افسران کی جانب سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ تصدیق کی گئی کہ یہ پیغامات درست ہیں۔ یہی نہیں بلکہ گذشتہ چند دنوں کے دوران فوجی افسران کی جانب سے ایسے واٹس ایپ گروپس چھوڑنے کے واقعات بھی پیش آئے جن کا تعلق ان کی پیشہ ورانہ زندگی سے نہیں تھا۔کرنل کے عہدے پر فائز ایک افسر سے جب بی بی سی نے یہ سوال کیا کہ ان احکامات کی کوئی وجہ بتائی گئی ہے تو انھوں نے اپنے ایک لفظی جواب میں کہا: ‘سکیورٹی’۔اسی طرح کی تصدیق چند دیگر فوجی افسران نے بھی کی جو مختلف واٹس ایپ گروپس کا حصہ تھے لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ ‘سرکاری وجوہات’ کی بنا پر گروپ چھوڑ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر انھیں حساس نوعیت یا اپنے پیشے سے متعلق معلومات شیئر نہ کرنے کا حکم دیا گیا اور اب واٹس اپ اور دیگر سوشل میڈیا کا استعمال ترک کرنے کو کہہ دیا گیا ہے۔