All posts by Khabrain News

کراچی ایئرپورٹ پر کارروائی، دہری شہریت کی حامل خاتون مسافر سے 6 کلوگرام چاندی برآمد

کراچی:

پاکستان کسٹمز نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے دہری شہریت کی حامل خاتون مسافر سے 6 کلو گرام چاندی برآمد کرلی۔

ترجمان پاکستان کسٹمز کے مطابق دہری شہریت کی حامل خاتون دبئی سے غیرملکی پرواز کے ذریعے کراچی پہنچی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ مسافر کی باڈی سرچنگ کے دوران 6 چاندی کے بسکٹس برآمد ہوئے اور ہر چاندی کے بسکٹ کا وزن ایک کلو گرام ہے۔

ترجمان کسٹمز نے بتایا کہ برآمد شدہ چاندی کی مالیت تقریباً 70لاکھ روپے ہے تاہم سامان ضبط کرکے کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل میں ملاقات کرادی گئی

راولپنڈی:

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل میں 3 ملاقات کرادی گئی۔

جیل ذرائع نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ملاقات 30 منٹ تک جاری رہی اور دونوں میاں بیوی کی ملاقات کانفرنس روم میں کرائی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ بشریٰ بی بی نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے بارے میں دریافت کیا اور میاں بیوی آدھے گھنٹے تک ایک دوسرے کے ساتھ رہے اور حال احوال پوچھا۔

بار اور بینچ لازم و ملزوم، وکلا کے مسائل حل کرنا ترجیح ہے: چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے پنجاب کی مختلف ضلعی و تحصیل بار ایسوسی ایشنز کے وفود کے ساتھ ملاقات کی،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے بتایا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کا ویژن ہے کہ عدالتی نظام کی بہتری کے لیے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں بار ایسوسی ایشنز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اسی سلسلہ میں خصوصی ہدایات پر صوبہ بھر کے جوڈیشل کمپلیکسزمیں موجود بار ایسوسی ایشنز میں ای لائبریریز اور سولر سسٹم مہیا کئے جارہے ہیں اور لاہورہائیکورٹ کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے عدالتی نظام میں نئی اصلاحات نافذ کی گئی ہیں۔

جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ مقدمات کی دائری کے لئے بائیو میٹرک تصدیق کے حوالے سے درپیش مشکلات کے تدارک کے لئے نئے ایس او پیز بھی منظور کر لئے گئے ہیں،جو کہ جلد جاری کردیے جائیں گے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بلاشبہ زیر التواء مقدمات کے خاتمے، جدید اصلاحات کے نفاذ اوربارز کو درپیش مسائل کے حل کے لئے وکلاء کا تعاون ناگزیر ہے۔ عدالتی نظام کے بنیادی اسٹیک ہولڈرز سائلین ہیں اور سائلین کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے ہڑتال کلچر کی حوصلہ شکنی کرنا ضروری ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ بنچ اور بار کی عزت مشترکہ ہے، وکلاء اگر عدالتوں کی عزت و تکریم کا خیال رکھیں گے تو وکلاء کی عزت میں بھی اضافہ ہوگا۔
مزید برآں بار ایسوسی ایشنز کے وفود نے فاضل چیف جسٹس کی جانب سے جدید اصلاحات کے نفاذ کی تعریف کی اور وکلاء کو درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا، جس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ بارایسوسی ایشنز خصوصاً خواتین اور نوجوان وکلاء کے مسائل کا حل لاہور ہائی کورٹ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جس کے لئے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جارہا ہے۔

ملاقات کرنے والوں میں ضلعی بار ایسوسی ایشنز بہاولپور، بہاولنگر،جھنگ، لیہ، لودھراں، حافظ آباد، وزیر آباد اور تحصیل بار ایسوسی ایشنز بھیرہ، کھاریاں، کبیروالا اور گوجر خان کے صدور و سیکرٹری صاحبان موجود تھے۔ اس موقع پر رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ امجد اقبال رانجھا بھی موجود تھے۔

قومی اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال مکمل

  قومی اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال مکمل ہوگیا جس کے دوران نمایاں قانون سازیاں کی گئیں۔

ترجمان قومی اسمبلی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 16 ویں قومی اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال کے دوران نمایاں قانون سازی کی گئی۔ دوسرے سال کی تکمیل اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں ایوان نے قانون سازی اور پارلیمانی نگرانی کے شعبوں میں قابلِ ذکر پیشرفت ہوئی، دوسرے پارلیمانی سال کے دوران 59 سرکاری بل پیش کیے گئے، 14 بل سینیٹ سے موصول ہوئے جس میں سے 46 بل منظور ہوئے۔

ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق دوسرے پارلیمانی سال میں 48 نجی بل پیش کیے گئے، 38 سینیٹ سے موصول ہوئے، دوسرے پارلیمانی سال میں قومی اسمبلی نے 13 نجی بلز منظور کیے، دوسرے پارلیمانی سال کے دوران 40 سرکاری اور 6 نجی ایکٹ بنے۔

ترجمان کے مطابق دوسرے پارلیمانی سال کے دوران قومی اسمبلی کے ایوان نے 27 قراردادیں منظور کیں، قومی اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال کے دوران قومی اسمبلی کے 11 اور تین مشترکہ اجلاس منعقد ہوئے۔

ترجمان قومی اسمبلی نے اعلامیے میں بتایا کہ اجلاسوں کے دوران 130 ورکنگ ڈیز مکمل کیے گئے، جن کا مجموعی دورانیہ 237 گھنٹے 36 منٹ رہا جبکہ اس دوران 7,625 سوالات پوچھے گئے جن میں سے 1 ہزار 710 سوالات کے جوابات ایوان میں وزرا نے دیے۔

 

اعلامیے کے مطابق دوسرے پارلیمانی سال کے دوران ممبران کی جانب سے 329 توجہ دلاؤ نوٹس موصول ہوئے، جن میں سے 49 ایوان میں زیرِ بحث آئے جبکہ استحقاق کی 33 تحریکیں پیش ہوئیں، جن میں سے 6 متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوائی گئیں، 18 زیرِ غور ہیں، 6 نامنظور جبکہ 2 واپس لے لی گئیں۔

 

ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق رول 259 کے تحت 263 تحاریک موصول ہوئیں، جن میں سے 4 کو آرڈر آف دی ڈے میں شامل کیا گیا اور 3 پر بحث کی گئی جبکہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ اجلاس کے دوران سالانہ بجٹ پر ایوان میں تفصیلی بحث کی گئی۔

قومی اسمبلی ترجمان کے مطابق پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ فنانس بل کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے دونوں ایوانوں کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس کے اراکین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے فنانس بل پر طویل غور خوص کے بعد اپنی سفارشات ایوان میں پیش کیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ دوسرے پارلیمانی سال کے دوران نمایاں قانون سازی میں 27ویں آئینی ترمیم سمیت کئی اہم بلز ایکٹ بنے، دوسرے پارلیمانی سال کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان کی کارروائی غیر جانبداری سے چلائی جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی نے قومی اہمیت کے امور پر حکومت اور اپوزیشن کے مابین رابطہ کاری کیلئے اہم کردار ادا کیا جبکہ وقفہ سوالات کو مؤثر بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ وزارتوں کی جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ترجمان کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے ممبران کے سوالات کے جوابات نا موصول ہونے پر متعلقہ سیکرٹریز کو طلب کیا،  اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن اراکین سمیت تمام اراکینِ قومی اسمبلی کیلئے اپنے چیمبر کے دروازے کھلے رکھے۔

اعلامیے کے مطابق 16 ویں قومی اسمبلی کے دوران پارلیمان نے بھارتی جارحیت کو دنیا بھر میں بے نقاب کیا اور قومی سطح پر یکجہتی قائم کرنے کیلئے اہم کردار ادا کیا جبکہ پارلیمان نے علاقائی اور عالمی سطح پر بھارت کے مکروہ چہرہ کو بے نقاب کرنے کیلئے پارلیمانی سفارتکاری کو فروغ دیا۔

ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ پارلیمان نے معرکہ حق کے دوران مسلح افواج کے ساتھ قومی یکجہتی کا اظہار کیا اور مسلح افواج کے پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مہارتوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا، 16 ویں قومی اسمبلی کے دوران  معرکہ حق اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے  شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر اسپیکر قومی اسمبلی کی قیادت میں 16ویں قومی اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال مؤثر قانون سازی، فعال نگرانی، بڑھتی ہوئی شفافیت، متحرک پارلیمانی سفارتکاری اور جمہوری اقدار سے تجدیدِ عہد کا مظہر ثابت ہوا ہے۔

مریم نواز کی چودھری شوگر ملز کیس: گارنٹی رقم واپسی کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری

عدالت نے نیب کو ایک ہفتے میں چودھری شوگر ملز کیس بند کرنے کے لیے احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کردی ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے آٹھ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے چودھری شوگر ملز کیس میں ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو بطور گارنٹی جمع کرائی گئی 7 کڑور رقم واپسی کی استدعا کی، نیب رپورٹ کے مطابق 2020 میں مریم نواز کے خلاف انکوائری کو انویسٹیگیشن میں تبدیل کیا گیا۔

فیصلہ کے متن میں لکھا گیا کہ تفتیش مکمل ہونے پر بتایا گیا کہ کیس میں کہیں کرپشن ثابت نہیں ہوئی، فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ تفتیشی افسر نے نیب ترمیمی ایکٹ کے تحت کیس کلوز کرکے تفتیش بند کردی، نیب ترمیمی ایکٹ تفتیش بند کرنے کی رپورٹ متعلقہ عدالت میں دائر کرنے سے نہیں روکتا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے مطابق چیئرمین نیب خود سے عدالتی اختیار استعمال کرتے ہوئے انویسٹیگیشن بند نہیں کرسکتے، یہ اختیار صرف عدالتوں کے پاس ہے، نیب ترمیمی ایکٹ میں واضح لکھا کہ کہ انویسٹیگیشن بند کرنے یا واپس لینے کے لیے متعلقہ کورٹ سے رجوع کرنا ہوگا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی سوال پر نیب کے وکیل نے اعتراف کیا نیا ایگزیکٹو بورڈ بند انویسٹیگیشن دوبارہ کھولنے کا حکم دے سکتا ہے، نیب کے بیان بعد ضروری ہے کہ کیس بند کرنے کے لیے احتساب عدالت سے رجوع کیا جائے۔

عدالت نے نیب کو ایک ہفتے میں چودھری شوگر ملز کیس بند کرنے کے لیے احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کردی اور احتساب عدالت کو ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا عدالت نے متعدد ہدایات کےساتھ درخواست نمٹا دی۔

سٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، ہنڈرڈ انڈیکس منفی زون میں بند ہوا

کاروباری ہفتے کے دوسرے روز کاروبار کے آغاز پر سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، 1600 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ سٹاک مارکیٹ میں ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 76 ہزار 131 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔

تاہم ٹریڈنگ کے دوران سٹاک مارکیٹ میں اچانک مندی چھاگئی جو کاروباری روز کے اختتام تک برقرار رہی جس کے باعث ہنڈرڈ انڈیکس 1303 پوائنٹس کی کمی کیساتھ ایک لاکھ 73 ہزار 150 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری دن کے اختتام پر ہنڈرڈ انڈیکس 5149 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ ایک لاکھ 74 ہزار 453 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔

عمران خان کو تازہ پھلوں کاجوس، دیسی مرغ، مٹن، شہد،کافی، مکس اچار بھی ملتا ہے، اڈیالہ جیل میں دستیاب سہولیات کی رپورٹ سامنے آگئی

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اڈیالہ جیل میں سہولیات پر رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی گئی۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے تین صفحات پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل میں کمپاؤنڈ 7 سیل پر مشتمل ہے، ‏بانی پی ٹی آئی کے سیل کے سامنے 57 فٹ لمبی اور 14 فٹ چوڑی راہدری ہے، ‏بانی پی ٹی آئی کے کمپاؤنڈ سے ملحق 35/37 کا لان ہے۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ کے مطابق عمران خان لان میں بیٹھ کر کتابیں اور اخبارات پڑھتے ہیں اور دھوپ سینکتے ہیں، بانی پی ٹی آئی کے 7 سیلز پرمشتمل کمپاؤنڈ میں 30 سے35 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے۔

رپورٹ کے مطابق ‏بانی پی ٹی آئی کو ورزش کے لیے سائیکلنگ مشین اور دیگرجم کا سامان فراہم کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ عمران خان ناشتے میں کھجور، اخروٹ، شہد،کافی،دلیہ، لسی،گرم دودھ اور چیا سیڈز لیتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی ناشتے میں مسمی اور انار کا جوس بھی پیتے ہیں۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کو دوپہر کےکھانے میں دیسی مرغ، مٹن، سلاد، مکس اچار، آلوچپس، انڈہ فرائی اور مکس دال فراہم کی جاتی ہے۔

بانی پی ٹی آئی شام کو بادام،کشمکش،پسا ہوا ناریل، دودھ،کھجور،کیلے اور سیب کا شیک پیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق عمران خان کو صبح سے لےکر شام تک قدرتی روشنی اور تازہ ہوا کی رسائی دی جاتی ہے۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ عمران خان کو اڈیالہ جیل میں محفوظ ماحول میں رکھا گیا ہے، ‏بانی پی ٹی آئی کو بہترکلاس مہیا کی گئی ہے۔

چیٹ جی پی ٹی میں صارفین کی سکیورٹی بہتر بنانے کیلئے 2 نئے فیچرز متعارف

اوپن اے آئی نے اپنے مقبول آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی میں 2 نئے فیچرز متعارف کرائے ہیں۔

یہ دونوں فیچرز صارفین کی سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا حصہ بنائے گئے ہیں۔

ان میں سے ایک فیچر لاک ڈاؤن موڈ ہے جبکہ دوسرا ایلیویٹڈ رسک لیبلز ہے۔

کمپنی نے بتایا کہ ان ٹولز کا مقصد صارفین کو خطرے کا باعث بننے والے ممکنہ فیچرز سے خبردار کرنا ہے جبکہ باہری کنکشن کو محدود کرنا ہے۔

کمپنی کے مطاق یہ فیچر پروموٹ انجیکشن اٹیکس کی روک تھام کریں گے۔

ہروموٹ انجیکشن اٹیک میں ہیکرز کسی ویب پیج یا فائل میں مشتبہ ہدایات کو ایمبیڈ کر دیتے ہیں تاکہ اے آئی سسٹم سے خفیہ تفصیلات حاصل کرسکیں گے۔

چونکہ اے آئی چیٹ بوٹس جیسے چیٹ جی پی ٹی میں ڈاکومنٹ ریڈنگ، ویب براؤزنگ اور ایپ کنکشنز جیسے فیچرز عام ہوتے ہیں تو پروموٹ انجیکشن کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔

کمپنی کے مطابق لاک ڈاؤن موڈ ایک آپشنل فیچر ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ باہری سسٹمز سے چیٹ جی پی ٹی کا تعلق کم از کم ہو۔

جب اس فیچر کو ان ایبل کیا جائے گا تو مخصوص ٹولز اور کنکشنز تک رسائی کو محدود یا ڈس ایبل کر دے گا۔

اوپن اے آئی نے بتایا کہ بیشتر صارفین کو لاک ڈاؤن موڈ استعمال کرنے کی ضرورت ہے بلکہ یہ ان صارفین کے لیے ہے جن کے اکاؤنٹس میں حساس تفصیلات ہوتی ہیں یا ان کے لیے ہیکنگ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

کمپنی کو توقع ہے کہ اس فیچر سے مخصوص صارفین کو اپنے ڈیٹا اور پرائیویسی پر زیادہ اختیار مل سکے گا۔

دوسرا فیچر ایلیویٹڈ رسک لیبز ہے جس میں مختلف لیبز ان ٹولز یا فیچر کے سامنے نظر آئیں گے جو باہری مواد یا سسٹمز سے زیادہ رابطے میں رہتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کا 40 لاکھ خاندانوں کو رمضان نگہبان کارڈ دینے کا اعلان

لاہور:

وزیر اعلیٰ پنجاب نے 40 لاکھ خاندانوں کو رمضان نگہبان کارڈ دینے کا اعلان کردیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت رمضان نگہبان پروگرام کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں انہوں نے رمضان المبارک میں مہنگائی کے روک تھام، منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔

وزیر اعلیٰ نے رمضان المبارک میں مارکیٹوں، شاپنگ سنٹر اوقات کار کی پابندی ہٹانے کا بھی اعلان کردیا۔ مریم نواز نے کہا کہ ماہ رمضان میں مہنگائی کا جن باہر نکل آتا ہے لہٰذا تمام کمشنر اور ڈپٹی کمشنرز اپنے فرائض بخوبی سرانجام دیں۔

مریم نواز نے کہا کہ رمضان المبارک میں مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ بے روزگار اور مالی مشکلات کا شکار افراد کو ریاست کے پاس نہیں آنا پڑے گا بلکہ ریاست خود معاونت کرے گی۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ ضرورت مند خاندانوں کو حکومت گھر کی دہلیز پر حق پہنچائے گی۔ 4 لاکھ سے زائد رمضان نگہبان کارڈ گھروں کی دہلیز پر  پہنچائے جاچکے ہیں، 10 رمضان المبارک تک 40 لاکھ خاندانوں کو رمضان نگہبان کارڈ مہیا کر دیئے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ مستحق افراد رمضان نگہبان کارڈ کو استعمال کے بعد ضائع نہ کریں، آئندہ بھی اسی کارڈ کے ذریعے ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

بی ایل اے علیٰحدگی پسند نہیں سنگین دہشت گرد تنظیم ہے: امریکی جریدہ

دی ریئل کلیئر ورلڈ میں اہم انکشافات ہوئے ہیں جس کے تحقیقی آرٹیکل میں بی ایل اے کو محض علیٰحدگی پسند نہیں بلکہ منظم اور سنگین دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین کی رائے کے مطابق بلوچستان لبریشن آرمی کو صرف علیٰحدگی پسند تحریک کہنا فرسودہ اور غلط تصور ہے جو سیاسی محرومیوں سے جنم لینے والی تحریک سے بدل کر جدید طرز کی دہشت گرد تنظیم میں تبدیل ہو چکی ہے۔

بی ایل اے کا ہدف عام شہری اور قومی انفراسٹرکچر پر دانستہ حملے اِس کی حکمت عملی کا حصہ ہے،خوف، عدم استحکام اور ریاستی کمزوری پیدا کرنا بی ایل اے کا بنیادی طریقہ کار بن چکا ہے۔

امریکی تجزیہ کار کا کہنا تھاکہ بی ایل اے بلوچ عوام کی حقیقی اُمنگوں اور زمینی حقائق سے کٹ چکی ہے، بلوچ عوام کی ترجیح علیٰحدگی نہیں بلکہ روزگار، بہتر طرز حکمرانی، بدعنوانی کا خاتمہ اور امن ہے، سرویز میں علیٰحدگی کی حمایت نہ ہونے کے برابر اور اکثریت خود کو پاکستانی شناخت سے جوڑتی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بے چینی کی اصل وجوہات سیاسی شمولیت کی کمی اور کمزور نمائندگی ہے، مرکزی دھارے کے بلوچ رہنما آئینی و سیاسی عمل کے ذریعے مسائل کے حل کے حامی جب کہ بی ایل اے عوام سے دور ہے، بی ایل اے کی حکمت عملی میں تبدیلی، خودکش حملے اور ہمہ جہت دہشت گردی پر فوکس ہے۔

تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ ٹرین ہائی جیکنگ، بیک وقت کئی شہروں میں حملے اور اہم تنصیبات کی تباہی، خطرناک رجحان ہے، شہری مقامات، بسیں، تعلیمی ادارے اور عام لوگ بھی بی ایل اے کے نشانے پر ہیں،بی ایل اے عسکریت اور جرائم کا امتزاج ہے، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، سمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیاں فنڈنگ کے ذرائع ہیں۔

اِسی طرح بی ایل اے اور ٹی ٹی پی سمیت مختلف گروہوں کے درمیان عملی تعاون، دہشت گرد نیٹ ورک کا پھیلاؤ ظاہر کرتا ہے، چینی شہریوں، بندرگاہوں، ٹرانسپورٹ روٹس اور سی پیک منصوبوں کو نشانہ بنانا، پاکستان کے خلاف معاشی جنگ کا پہلو واضح کرتا ہے۔

امریکی جریدہ ریئل کلیئر ورلڈ کا مضمون میں مزید یہ بھی لکھا گیا کہ سرحد پار محفوظ ٹھکانے، اسلحہ اور بیرونی انٹیلی جنس سپورٹ، بیرونی کردار کے شواہد ہیں، بی ایل اے کی کارروائیاں بلوچ عوام کے جائز مسائل کے حل میں رکاوٹ ہیں، پاکستان میں بی ایل اے علیٰحدگی پسند تحریک سے زیادہ خطرناک ہے۔