لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) خبریں گروپ کے چیف ایڈیٹر، سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ امید ہے کہ پانامہ کیس پر عدالتی بنچ کوئی مضبوط فیصلہ دے گا۔ سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لئے نیب یا ایف آئی اے کی مدد نہیں لینی چاہئے کیونکہ ان اداروں پر عوام کو اعتماد نہیں۔ نیب کی کارکردگی کوئی اتنی شاندار نہیں کہ اس سے کام لیا جائے۔ چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اگر خود فیصلہ دیتا ہے تو اچھی بات ہے، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا لیکن اگر کمیشن بنتا ہے تو عدلیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشانہو گا۔ اس سے پہلے بھی سابق چیف جسٹس آف پاکستان نے سماعت کی اور پھر ان کی ریٹائرمنٹ کے باعث کیس کو ازسر نو سماعت کے لئے کہا گیا اور اب اگر فیصلے کے بجائے کمیشن بنتا ہے تو مزید ابہام پیدا ہوں گے۔ عدالت دونوں فریقین کو سوالات کا تحریری جواب ایک ہفتے کے اندر اندر جمع کرانے کا حکم دے سکتی ہے۔ جاوید ہاشمی کے حوالے سے سوال کے جواب میں ضیا شاہد نے کہا کہ ان پر الزام لگانے کے بجائے ان کی دماغی حالت کی بہتری کیلئے دُعا گو ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہو یا اپوزیشن کمیٹیاں اور کمیشن وقت گزارنے کے لئے ہوتے ہیں۔ اگر حکومت کی نیت نیک ہو تو 18 ویں ترمیم کی طرح تمام سیاسی جماعتوں کو بیٹھا کر ایک دن میں احتساب قوانین میں اتفاق رائے سے ترمیم کر سکتی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں جس کی وجہ سے فیصلہ نہیں ہو رہا اور معاملے کو لٹکایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول کو چاہئے کہ وہ پنجاب کے دورے کرنے سے پہلے ذوالفقار بھٹو کی طرح غریبوں کے دُکھ کا مداوا اور خوشحال مستقبل کے لئے واضح پلان دیں تو سب آپ کے ساتھ ہوں گے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو عوام کی بھٹو دور کی خواہشات کبھی دوبارہ تازہ نہیں ہوں گی کہ اب ایک نیا بھٹو ان کے دکھوں کا مداوا لے کر آیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے میں عوامی مسائل کا نچوڑ دیا تھا، لیکن آج ان کے علاوہ اور بھی بہت سے مسائل ہیں۔ پی پی کی جانب سے پنجاب کے عوام کے عوام کیلئے کوئی پروگرام یا سلوگنز نظر نہیں آتے۔ بڑے جلسے یا جلوسوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی کارروائی سے مطمئن ہیں۔ 5 رکنی بنچ کے مطابق بار ثبوت شریف خاندان پر ہیں۔ جسے پیش کرنے میں وہ ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ پشاور کے بعد حکومت نے پی ٹی آئی سے مطالبہ کیا تھا کہ غیر معمولی حالات میں غیرمعمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ جس کے بعد 21 ویں ترمیم پر مشروط اتفاق ہوا کہ حکومت فوجی عدالتوں کے قیام کے دوران 2 سال میں قانون اصلاحات کر کے انسداد دہشتگردی عدالتوں کو موثر اور فعال کرے گی مگر اس نے کچھ نہیں کیا۔ حکومت ملٹری کورٹس میں توسیع کے لئے ہمیں کہہ رہی ہے جبکہ ان کے اپنے حلیف مولانا فضل الرحمن اور اچکزئی سب سے زیادہ مخالفت کر رہے ہیں، جس سے حکومت کی نیت پر شک ہوتا ہے۔ حکومت فوجی عدالتوں میں توسیع نہیں چاہتی صرف دکھاوے کے لئے کہہ رہی ہے، وہ پی ٹی آئی کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانا چاہتی ہے۔ اگر سنجیدہ ہوتی تو سکیورٹی معاملات پر پارلیمانی لیڈروں کو دی جانے والی بریفنگ میں وزیرداخلہ کیوں شامل نہیں ہوتے۔ آخری بار وزیراعظم نے خود دلچسپی لی تھی لیکن اب وہ بھی لاتعلق ہو کر بیٹھے ہیں۔ فوجی عدالتوںنے بہت اچھا کام کیا اگر انسدادِ دہشتگردی عدالتوں سے موازنہ کیا جائے تو وہ کچھ بھی نہیں۔ رانا ثناءکہتے ہیں کہ فوجی عدالتوں کی اہمیت پر قائل نہیں، وفاقی حکومت توسیع دینا چاہتی ہے جبکہ پنجاب حکومت مخالفت کر رہی ہے۔ حکومت گومگو کے عالم میں ہے، پلان شیئر نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف پلی بار گین کے خلاف ہے۔ حکومت ایک جانب تو نیب قوانین میں اصلاحات کیلئے کمیٹی بناتی ہے تو دوسری جانب آرڈیننس پیش کر دیتی ہے، جس سے اس کی نیت پر شک ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول کی کامیابی کیلئے دُعا گو ہوں لیکن ان کے پاس محدود اختیارات ہیں۔ پالیسی سازی کا اختیار آصف زرداری کے پاس ہے۔ بلاول نے پانامہ پر 4 مطالبات رکھے آصف زرداری نے آ کر ان پر پانی پھیر دیا۔ پہلے پارلیمنٹ میں جانے کا اعلان کیا اب سنا ہے وہ بھی زیرغور ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن اسمبلی کے حوالے سے اپوزیشن جماعتیں ایک ہیں اور 26 جنوری کو شروع ہونے والے اسمبلی اجلاس میں تمام اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم کی پارلیمنٹ سے غلط بیانی پر ایک مشترکہ تحریک استحقاق پیش کرنے جا رہی ہیں۔ پیپلزپارٹی کے رہنما مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ بلاول ایک نئی ٹیم لے کر آئے ہیں جس پر ورکروں کو مکمل اعتماد ہے۔ آج صبح 10 بجے بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں بلاول ہاﺅس سے ریلی نکلے گی جو براستہ شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور شاہ کوٹ سے ہوتی ہوئی فیصل آباد پہنچ کر اختتام پذیر ہو گی جہاں بلاول اپنا فائنل خطاب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہا بھارت کے حوالے سے بلاول کا موقف بڑا واضح ہے، گزشتہ برس آزاد کشمیر کے انتخاب میں انہوں نے مودی سرکار کے خلاف سخت موقف اپنایا تھا جس پر وہ قائم ہیں۔
امید ہے عدالتی بنچ کوئی فائنل فیصلہ دیگا، عوام کو نیب اور ایف آئی اے پر اعتماد نہیں نامور تجزیہ کار ضیا شاہد کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو

