جنسی ہراساں : ریحام خان پھٹ پڑیں …. چونکا دینے والا انکشاف

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)معروف صحافی ریحام خان کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی جماعتوں کو خدا کا خوف ہوتا تو عزت دار گھرانوں کی خواتین ان کا حصہ بنتیں۔ گفتگو میں ریحام خان نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف ، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی جمہوری جماعتیں نہیں ہیں۔ ریحام خان کا کہنا تھا کہ اب آمروں اور سیاستدانوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا وہ خواتین جوان کے جلسوں کی رونق بنتی ہیں آپ نے کبھی انہیں سٹیج پر بیٹھے دیکھا؟ پی ٹی آئی نے ریحام خان کے اس بیان کو براہ راست پارٹی پر حملہ ٹھہرادیا۔ ساتھ ہی بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی زوردار بحث چھڑگئی ہے۔ خواتین سمیت کئی افراد کا کہنا ہے کہ ریحام خان کی جانب سے یہ بیان حقائق کے برعکس ہے۔ پی ٹی آئی کی رکن نازبلوچ نے ریحام خان کے بیان کے حوالے سے اپنے ٹوئٹر پر پیغام میں لکھا ریحام بی بی، پی ٹی آئی کی تمام خواتین کارکنان عزت دار ہیں اور انہیں آپ کی طرف سے کریکٹر سرٹیفکیٹ نہیں چاہیے۔ کارکن صائمہ ندیم نے لکھا ہم ریحام خان سے اپنے بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

بیدیاں روڈ خود کش ھماکہ : عینی شاہدین نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

لاہور (کرائم رپورٹر) حساس اداروں نے بیدیاں روڈ پر مانوالہ چوک میں خود کش دھماکے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا جس میں پیشرفت بھی ہوئی ہے، دھماکے میں زخمی ہونے والے ویگن کے ڈرائیور کے بعد پیٹرول پمپ سے ایک مشکوک شخص اور سپیئرپارٹس کی دکان کے مالک کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حساس اداروں نے بیدیاں روڈ پر خود کش دھماکے کے بعد مختلف مقامات سے حاصل کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے اور اس میں پیشرفت بھی ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ خود کش دھماکے میں زخمی ہونے والے ویگن کے ڈرائیور عثمان کو ہسپتال سے حراست میں لے کر نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ عثمان نے مردم شماری کے عملے کو لے جانے کے بعد سپیئر پارٹس کی دکان کے مالک یعقوب کو فون کر کے لیکج بارے آگاہ کیا تھا جس پر حساس اداروں نے مذکورہ شخص کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ ویگن محفوظ پورہ میں واقع ایک پیٹرول پمپ سے فیول لینے کےلئے بھی رکی اور تقریباً دس منٹ تک کھڑی رہی۔ یہاں پر ایک موٹر سائیکل سوارکھڑا تھا اور ممکنہ طو رپر اس نے یہاں سے نکلنے کے بعد ویگن کی ریکی کی ہو۔ حساس اداروں نے پیٹرول پمپ سے بھی ایک مشکوک شخص کو حراست میں لے کر اس سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ادھر پولےس اور قانون نافذ کر نےوالے اداروں نے بیدیا ں روڈ دھماکے کی ابتدائی رپورٹ جاری کردی۔ ذرائع کے مطابق بدھ کے روز لاہور کے علاقہ بےدےاں روڈ پر ہونےوالے دہشت گردی ابتدائی جاری ہونےوالی رپورٹ مےں بتاےا گےا ہے کہ پاک فوج کو حملہ آور کا سر 40فٹ اونچی قریبی دوکان کی چھت سے ملاخودکش حملہ آور کی عمر 20 سے 22 سال تھی اور اس کا سر 40 فٹ اونچی قریبی عمارت سے ملا,حملہ آور چہرے اور بالوں کے خدوخال سے ازبک معلوم ہوتا ہے۔سی ٹی ڈی اور دیگر حساس اداروں نے مقامی دکانداروں ا ور عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیئے ۔ عینی شاہدین کے مطابق خود کش حملہ آور گزشتہ کئی روز سے اسی وقت علاقہ میں واقع المدینہ ہوٹل پر ناشتہ وغیرہ کرنے کیلئے آتاتھا ۔ عینی شاہدین کے بیانات کے بعدحساس اداروں نے علاقہ میں موجود تمام دکانوں اور گھروں پر لگے سی سی ٹی ٹی وی کیمرے اور ریکارڈنگ قبضہ میں لے لی ہے تاکہ خوکش حملہ آور اور اس کے سہولت کاروں تک رسائی ممکن ہو سکے ۔ بیدیاں روڈ خودکش دھماکے کے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ دھماکے کی جگہ سے 100 فٹ کی دوری پر تھا ، خود کش حملہ آور کا ٹارگٹ صرف اور صرف فوجی جوان تھے ۔ دھماکے کے عینی شاہد نے بتایا کہ جب خودکش حملہ آور نے دھماکہ کیا تواس وقت وہ 100 فٹ کی دوری پر تھا کہ ایک دم دھماکہ ہوگیا اس کے بعد ہم جائے وقوعہ پر پہنچے تو وہاں پر فوجیوں کو ہٹ کیا گیا تھا جس کے بعد ہم نے ریسکیو 1122 کی ٹیموں کو 20 منٹ بعد آتے ہوئے دیکھا۔عینی شاہد نے مزیدبتایا کہ دھماکہ صبح سات سوا سات کے قریب کیا گیا اور اس میں صرف اور صرف فوجی جوانوں کو نشانہ بنایا گیا،دھماکے کی جگہ پر حملہ آور کی ٹانگیں پڑی تھیں اور ایک بچہ بھی زخمی حالت میں پڑا تھا۔واضح رہے کہ بیدیاں روڈخودکش دھماکے میں 4 فوجیوں سمیت 6 افراد شہید ہوچکے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دہشت گرد کے ساتھ ایک سہولت کار بھی تھا جو خو دکش حملہ آور کو جائے وقوعہ پر چھوڑ کر گیا ،بتا یا جا رہاہے کہ مردم شماری ٹیم کو نشانہ بنانے سے پہلے کئی دن تک ان کی ریکی کی گئی تھی جس کے بعد مردم شماری کی ٹیم پر حملہ کیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سہولت کار کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے اور متعدد مشکوک افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔قبل ازیں بیدیاں روڈ پر مانوالہ چوک میں خود کش دھماکے میں شہید ہونے والے فوجی جوانوں کی اجتماعی نماز جنازہ ایوب اسٹیڈیم میں ادا کی گئی جس کے بعد جسد خاکی آبائی علاقوں کو روانہ کر دیئے گئے۔ اس موقع پر پاک فوج کے چاک و چوبند دستے نے میتوں کو سلامی دی اور اعلیٰ سیاسی و عسکری شخصیات کی طرف سے پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں۔ تفصیلات کے مطابق مردم شماری کی ٹیم پر خود کش حملے میں شہید ہونے والے حوالدار محمد ریاض، لانس نائیک ارشاد، سپاہی محمد ساجد اور سپاہی محمد عبد اللہ کی اجتماعی نماز جنازہ ایوب اسٹیڈیم میں ادا کی گئی جس میں گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ، وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف، کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل صادق علی ، ڈائریکٹر جنرل رینجرز پنجاب اظہر نوید حیات، صوبائی وزیر انسداد دہشتگردی سردار محمد ایوب گادھی، چیف سیکرٹری پنجاب کیپٹن (ر) زاہد سعید، آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا، ہوم سیکرٹری میجر (ر) اعظم سلیمان ،سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین وینس، ڈی آئی جی ڈاکٹر حیدر اشرف ، کمانڈر رینجرز ستلج عاصم رضا گردیزی سمیت دیگر اعلیٰ سیاسی و عسکری شخصیات اور فوجی جوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد پاک فوج کے چاک و چوبند دستے نے میتوں کو سلامی دی جبکہ سیاسی و عسکری شخصیات کی طرف سے میتوں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں۔ فوجی جوانوں کی اجتماعی نماز جنازہ کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے ۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد میتوں کو آبائی علاقوں کو روانہ کر دیا گیا ۔

شرجیل میمن کیس :عدالت کا اہم فیصلہ

کراچی (ویب ڈیسک) احتساب عدالت نے سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی روکنے کا حکم دے دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن پر5 ارب 70 کروڑ روپے کی کرپشن کا الزام ہے ، سابق صوبائی وزیر ہائیکورٹ سے ضمانت منظور ہونے کے بعد پہلی بار احتساب عدالت پیش ہوئے جہاں کیس کی سماعت کے بعد عدالت نے شرجیل میمن کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی روکنے کا حکم دے دیا ، عدالت نے کیس کی کارروائی 6 مئی تک ملتوی کر دی ۔

شہباز شریف کا دہشتگردوں کے نام اہم پیغام

لاہور(اپنے سٹاف رپورٹر سے)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ لاہور میں پاک فوج کے جوانوں اور دوسرے سرکاری اہلکاروںپر دہشت گردوں کا حملہ شکست اور ہزیمت سے دوچار دشمن کی بزدلانہ کارروائی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ وزیراعلیٰ نے آج یہاں اپنے بیان میں کہا ہے کہ عوامی خدمت کا فریضہ ادا کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے ہمارے قومی ہیرو ہیںاور میں انہیں سیلوٹ کرتا ہوں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سرکاری فرائض کی ادائیگی میں مصروف معصوم اور پرامن افراد کی جانوں سے کھیلنے والے دہشت گرد اور ان کے سرپرست دنیا کی بدترین سزا کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گرد اور ان کے سہولت کار پاک دھرتی کا بوجھ ہیں اور اتحاد و اتفاق کی قوت سے اس بوجھ کو ہمیشہ کے لئے اتار پھینکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہداءکی عظیم قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور ان کے قیمتی خون کی ایک ایک بوند کا قرض اتاریں گے۔ قائد اعظم کے پاکستان میں آگ اور خون کے کھیل کو بند کرنے کے لئے آخری حد تک جائیں گے کیونکہ دہشت گردی اور انتہا پسندی پاکستانی قوم کا مقدر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم دہشت گردوں کے خلاف متحد ہے اور ہم یہ جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک لڑیں گے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ انشاءاللہ ہم نہ صرف اس طرح کی گذشتہ مذموم کارروائیوں کی طرح اس واقعہ کے ذمہ داروں کا سراغ لگانے اور انہیں قانون کی گرفت میں لانے میں کامیاب ہوں گے بلکہ انہیں ان کے عبرتناک انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔ محمدشہبازشریف نے کہا کہ پاکستان کے عوام شہداءکے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ دہشت گردوںکا کوئی دےن ہے نہ مذہب۔دہشت گرد صرف دہشت گردہے اورجن کی کوئی جغرافےائی شناخت نہےں ۔ وہ مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے منتخب نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے جنہوں نے آج یہاں ان سے ملاقات کی ۔وزےراعلیٰ شہبازشرےف نے کہا کہ پاکستان مےں دہشت گردی اورانتہاءپسندی کے ناسور کے خاتمے کےلئے 20کروڑ پاکستانی متحد ہےں اوردہشت گردوں کے مذموم عزائم کو کسی صورت کامےاب نہےں ہونے دےا جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ بےدےاں روڈ پر مردم شماری کی ٹےم کی وےن کے قرےب ہونے والا دھماکہ انتہائی افسوسناک ہے اورہماری تمام تر ہمدرےاں شہداءکے لواحقےن اورزخمی افراد کے ساتھ ہےں۔ انہوںنے کہا کہ دہشت گردی اورانتہاءپسندی کے ناسورسے نمٹنے کےلئے قوم ےکجان دوقالب ہے۔اےسے بزدلانہ حملے قوم کے غےر متزلزل عزم کو کمزور نہےں کرسکتے ۔انہوںنے کہا کہ ہم نے ملکر پاکستان سے دہشت گردوں اوران کے سہولت کاروں کا صفاےا کرنا ہے اورپاک دھرتی سے فسادیوں کے ناپاک وجودکو پاک کر کے دم لےں گے۔وزےراعلیٰ نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو بھی ملک مےں امن کے قےام کےلئے اپنا بھر کردارادا کرنا ہے ۔وزےراعلیٰ سے ملاقات کرنےوالوں مےں اراکےن قومی اسمبلی معےن وٹو،اظہر قےوم ناہرہ،رکن پنجاب اسمبلی مہر فےاض،چےئرمےن ضلع کونسل گوجرانوالہ مظہر قےوم ناہرہ اورسابق رکن قومی اسمبلی مدثر قےوم ناہرہ شامل تھے ، صوبائی وزےر بلدےات منشاءاللہ بٹ بھی اس موقع پر موجود تھے ۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے بیدیاں روڈ پر مانانوالہ چوک کے قریب مردم شماری کی ٹےم کی وےن کے قرےب دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اوراس افسوسناک واقعہ مےں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پرگہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے دھماکے کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور دھماکے کے ذمہ داروں کی جلد سے جلد گرفتاری کا حکم دےاہے۔ وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ واقعہ میں زخمی ہونے والے افراد کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں اور اس ضمن میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ وزیراعلیٰ نے شہید ہونے والے 4 فوجی جوانوں اور 2 شہریوں کے لواحقین سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مردم شماری کی ٹیم کو نشانہ بنانے کے واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔ فرض کی ادائیگی میں اپنی جانیں قربان کرنے والے شہداءہمارے ہیرو ہیں۔دھماکے کے ذمہ دار قانون کی گرفت سے بچ نہیں پائیں گے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ معصوم انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے سفاک درندے اور ان کے سہولت کار قرار واقعی سزا سے کسی صورت بچ نہیں پائیں گے۔ فرائض کی ادائیگی میں شہید ہونے والے جوانوں کی عظیم قربانی رائیگاں نہیں جانے دیں گے، ذمہ داروں کو ضرور سزا ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ میری اور پنجاب حکومت کی تمام تر ہمدردیاں شہداءکے لواحقین کے ساتھ ہیں اور پنجاب حکومت ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ اپنا آج وطن کے کل پر قربان کرنے والے قوم کے ہیرو ہیں اور قوم شہداءکی عظیم قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف سے ازبکستان کے سفےرفرقت صادقوف (Mr.Furqat Sidiqov) نے ملاقات کی،جس مےں باہمی دلچسپی کے امور،پاکستان ازبکستان کے درمےان تعلقات کے فروغ اورمختلف شعبوں مےں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خےال کےا گےا۔ازبکستان کے سفےر نے لاہور مےں دھماکے کی مذمت کی اورقےمتی انسانی جانوں کے ضےاع پر دکھ اورافسوس کا اظہارکےا۔انہوںنے کہا کہ پاکستان ہمارا برادرملک ہے اورپاکستان خصوصاً پنجاب کےساتھ مختلف شعبوں مےں تعاون بڑھانا چاہتے ہےں۔انہوںنے کہا کہ وزےراعلیٰ شہبازشرےف نے صوبے کی ترقی کےلئے بے پناہ محنت سے کام کےا ہے اور صوبے کے عوام کی فلاح وبہبود کےلئے وزےراعلیٰ نے متعدد مےگاپراجےکٹس مکمل کےے ہےں اوران کی قےادت مےں پنجاب تےزی سے ترقی کررہا ہے ۔ازبکستان کے سفےرنے وزےراعلیٰ شہبازشرےف کو ازبکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔وزےراعلیٰ شہبازشرےف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی و انتہاءپسندی اےک عالمی مسئلہ ہے اوراس ناسور سے نمٹنے کےلئے اقوام عالم کو مشترکہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوںنے کہا کہ ازبکستان کےساتھ تجارتی و معاشی تعلقات کو پائےدار بنےادوں پر فروغ دےں گے۔ازبکستان کو کاٹن کے شعبہ مےں مہارت حاصل ہے اورہم ازبکستان کی مہارت سے فائدہ اٹھائےں گے۔انہوںنے کہا کہ پھلوں کی اےکسپورٹ کے حوالے سے ازبکستان بہترےن مارکےٹ ہے ۔ہم اپنے ازبک بھائےوں کو پھلوں کی اےکسپورٹ کےلئے اقدامات کرےں گے۔وزےراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت کا وفد جلد ازبکستان کا دورہ کرے گا۔ انہوںنے کہا کہ زراعت، کاٹن اوردےگر شعبوں مےں تعاون کو بڑھانے کےلئے فوری اقدامات کےے جائےں گے اور مےں بھی ازبکستان کا دورہ کروں گا۔صوبائی وزےر منصوبہ بندی و ترقےات ملک ندےم کامران ،چےئرمےن پی اےنڈ ڈی اورسی ای او پنجاب سرماےہ کاری بورڈ بھی ملاقات مےں موجود تھے ۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے وائس چےئرمےن نظرےہ پاکستان ٹرسٹ ڈاکٹر رفےق احمد کو گلدستہ بھجواےاہے اوران کی جلد صحت ےابی کےلئے دعاکی ہے۔وزےراعلیٰ نے ڈاکٹر رفےق احمد کےلئے نےک تمناو¿ںکا اظہار کےا۔

پانامہ کیس کا فیصلہ : جسٹس عظمت سعید نے بڑی خوشخبری سنا دی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ میں خیبرپختونخوا اساتذہ کی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت میں پانامہ کیس کا تذکرہ چھڑ گیا جس کے دوران جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پانامہ کیس کا فیصلہ لکھنے میں لگے ہوئے ہیں،پانامہ سے جان چھوٹی نہیں کہ اب اورنج لائن ذمے لگ گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا میں استاتذہ کی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس کے دوران درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ جج صاحب گزارش ہے کہ کیس آج ہی سن لیں،پہلے بھی پانامہ کی وجہ سے میرا کیس التوائ کا شکار رہا ہے۔جواب میں جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ آج کیس نہیں سن سکتے کیونکہ اورنج لائن کیس کے باعث وقت ختم ہوگیا ہے اس لئے کیس آج سننا ممکن نہیں اور آئندہ ہفتے سنا جائے گا۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے پانامہ کیس کا فیصلہ محفوظ کیا ہوا جو کہ بعد میں سنائے جانے کا کہا گیا۔

ایک اور بڑے ملک نے سی پیک میں شمولیت کا اظہار کر دیا

لندن(ویب ڈیسک )برطانیہ نے سی پیک منصوبے میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کردی ۔ لندن میں ایک کانفرنس سے خطاب میں برطانوی وزیرمملکت برائے انٹرنیشنل ٹریڈ کریگ ہینڈز نے کہا کہ برطانیہ سی پیک منصوبے کا اہم پارٹنر ثابت ہو سکتا ہے، ہم پاکستان اور چین کے ساتھ تجارت بڑھانا چاہتے ہیں، تینوں ممالک خطے میں پیدا ہونے والے نئے تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔برطانوی وزیرمملکت کا کہنا تھا کہ سی پیک میں کی جانےوالی سرمایہ کاری سے پاکستان کی معیشت مضبوط ہوگی جب کہ پاکستان بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی خصوصی توجہ کا مرکز بن جائے گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ایران کے صدر نے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات میں پاک چین راہداری منصوبے کا حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جب کہ سعودی عرب اور افغانستان بھی اس منصوبے میں شامل ہونے کا خواہاں ہے۔

الیکشن کمیشن کی حکومت کو وارننگ

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) نئی حلقہ بندیوں کیلئے مردم شماری کی تکمیل ستمبر تک ضروری ہوگئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہاہے کہ اگر ملک میں جاری مردم و خانہ شماری کا عمل ستمبر تک مکمل نہ ہوا تو 2018 میں شیڈول عام انتخابات موجودہ حلقہ بندیوں کے مطابق کی ہرانے ہوں گے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے ایڈیشنل سیکریٹری برائے ٹریننگ، ریسرچ اینڈ ایویلوایشن ظفر اقبال نے کہا کہ اگر عام انتخابات کے لیے نئی حلقہ بندیاں کرنی ہیں تو مردم شماری کا عمل ستمبر تک مکمل کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مردم شماری ستمبر تک مکمل نہ ہوئی تو آئندہ انتخابات نئی حلقہ بندیوں پر نہیں ہو سکیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیاں کرانے کے لیئے تیار ہے۔ دریں اثنا الیکشن کمیشن نے انتخابی اصلاحات کیلئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو خط لکھ دیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ 2018 کے عام انتخابات کیلئے جلد الیکشن ایکٹ منظور کیا جائے۔ اسمبلیوں کی مدت ختم ہونے سے 6 ماہ قبل انتخابات کا ایکشن پلان تیار کرنا ہے۔ الیکشن ایکٹ کے اطلاق میں تاخیر سے چیلنجز کھڑے ہو جائیں گے۔ انتخابی اصلاحات کو جلد ازجلد مکمل کرنے کی ہدایت کی جائے۔ قبل ازیں الیکشن کمشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ اگر ملک میں جاری مردم و خانہ شماری کا عمل ستمبر تک مکمل نہ ہوا تو 2018 میں شیڈول عام انتخابات موجودہ حلقہ بندیوں کے مطابق ہی کرانے ہوں گے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں الیکشن کمشن آف پاکستان (ای سی پی) کے ایڈیشنل سیکرٹری برائے ٹریننگ، ریسرچ اینڈ ایویلوایشن ظفر اقبال نے کہا کہ اگر عام انتخابات کے لئے نئی حلقہ بندیاں کرنی ہیں تو مردم شماری کا عمل ستمبر تک مکمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری ستمبر تک مکمل نہ ہوئی تو آئندہ انتخابات نئی حلقہ بندیوں پر نہیں ہو سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمشن نئی حلقہ بندیاں کرانے کے لئے تیار ہے۔ الیکشن کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ سفارشات کو جلد حتمی شکل دینے کیلئے کمیٹی سے پوچھا جائے اور مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017ءکی جلد از جلد منظوری کرائی جائے۔ انتخابی اصلاحات کمیٹی کو جلد از جلد کام مکلم کرنے کی ہدایت کی جائے۔ اسمبلیوں کی مدت ختم ہونے سے چھ ماہ قبل انتخابات کا ایکشن پلان تیار کرنا ہے۔ علاوہ ازیں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو مستحکم بنانے اور انتخابی عمل کو مزید شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن کو انتخابی اخراجات کے حوالے سے مقرر کی گئی حد پر نظرثانی کرنی چاہئے جبکہ کمیٹی نے انتخابی عمل اور الیکشن کمیشن کی کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ کیلئے آئندہ اجلاس میں سیکرٹری الیکشن کمیشن کو طلب کرلیا ہے۔ اجلاس بدھ کو کمیٹی کے چیئرمین میاں عبدالمنان کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان ڈاکٹر نثار احمد جٹ‘ میاں طارق محمود‘ رشید احمد خاان‘ چودھری سلمان حنیف خان‘ عارفہ خالد پرویز‘ شاہدہ رحمانی‘ ڈاکٹر شازیہ، ثوبیہ، نفیسہ، عنایت اللہ خٹک، ملک اعتبارخان سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسروں نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز پر لاہور بیدیاں روڈ پر بم دھماکہ میں پاک فوج کے شہید جوانوں کے ایصاب ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ کمیٹی نے الیکشن کو ہدایت کی کہ جن ارکان اسمبلی نے اپنے اثاتوں کی تفصیلات جمع کرادی ہیں ان کی تفصیلات کمیٹی کو فراہم کی جائیں کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ الیکشن کمیشن کو مستحکم بنانے اور انتخابی عمل کے حوالہ سے اقدامات پر مبنی بریفنگ کیلئے آئندہ اجلاس میں سیکرٹری الیکشن کمیشن کو مدعو کیا جائیگا۔ کمیٹی کے استفسار پر ایڈیشنل سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، اگر ضرورت پڑی تو نئی حلقہ بندیاں ستمبر 2017ءمیں کی جائیگی۔ کمیٹی کے ارکان نے انتخابی اخراجات کے حوالہ سے الیکشن کمیشن کی طرف سے مقرر کی گئی حد پر تحفظات کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ انتخابی اخراجات کی حد میں اضافہ کیا جائے، کمیٹی کے ایک رکن کے انتخابی مہم کے دوران انتخابی ریلیوں کے حوالہ سے سوال کے جواب میں الیکشن کمیشن کی طرف سے موقف اختیار کیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ باہمی مشاورت کے بعد ہی اس حوالہ سے کوئی فیصلہ کیا جاسکتا ہے، کمیٹی کے ارکان کا یکساں اور ٹھوس موقف تھا کہ ہر سیاسی جماعت اور اس کا لیڈر الیکشن کمیشن کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب دینے کا پابند ہے، کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ریٹرننگ آفسران کی تعیناتی میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ انتہائی باصلاحیت افراد کی تعیناتی یقینی بنائی جائے تاکہ الیکشن کے موقع پر الیکشن کمیشن آف پاکستان موثر انداز میں اپنا کردار ادا کرسکے۔

مصباح نے ٹیسٹ کرکٹ کو بھی خیر باد کہہ دیا

لاہور(ویب ڈیسک ) ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کے بعد مصباح الحق نے ٹیسٹ کرکٹ سے بھی ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا تھا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز میرے کرکٹ کیرئیز کی آخری سیریز ہو گی، کوشش ہو گی کہ اس سیریز میں بہتر پرفام کر کے اپنی آخری سیریز کو یادگار بناؤں۔ ان کا کہنا تھا کہ کیرئیر میں جتنی بھی کرکٹ کھیلی اس پر مطمئن ہوں لیکن خواب تھا کہ پاکستان کے لئے ورلڈ کپ جیتتا لیکن یہ خواب پورا نہ ہو سکا۔مصباح الحق نے کہا کہ کپتان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہونا چاہیئے، ہمیں سرفراز احمد پر زیادہ دباؤ نہیں ڈالنا چاہیئے بلکہ سب کو اسے سپورٹ کرنا چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت سے سیریز نہ ہونے پر افسوس ہے لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ عرصے تک ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتا رہوں گا۔

گستاخانہ مواد : پی ٹی اے کی اہم کاروائی ، ویب سائٹس بلاک

اسلام آباد (اے پی پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ‘ اداروں‘ میڈیا سمیت پوری قوم کو ملکر اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے۔ اسلام کسی دوسرے مذہب کو برا کہنے کی اجازت نہےں دیتا اور نہ ہم کسی دوسرے مذہب کے ساتھ جنگ چاہتے ہیں، بطور مسلمان ہمیں اپنے مذہب کا دفاع کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ بھارت مختلف ممالک اور قومیتوں کے درمیان تفرقات ڈالنے سمیت پاکستان کے خلاف کئی محاذوں پر سازشیں کررہا ہے بحثیت مسلمان اور پاکستانی ہمیں ان سازشوں کا اداراک کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔ کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان سمیت وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمن ایڈوکیٹ اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ فیس بک سمیت سوشل میڈیا پر توہین آمیز موادکے حوالے سے چیئرمین پی ٹی اے اسماعیل شاہ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے گستاخانہ مواد کو کوئی مسلمان برداشت نہیں کرسکتا اور اس سے ہماری دل آزاری ہوئی ہے اس حوالے سے وزارت مذہبی امور میں سیل نے کام شروع کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 15 فیصد گستاخانہ مواد فیس بک جبکہ 85 فیصد دیگر ویب سائٹس پر ہے۔ فیس بک انتظامیہ کو گستاخانہ مواد کے حوالے سے فوکل پرسن دے دیا ہے۔ فیس بک انتظامیہ نے پاکستان آکر اس معاملے کا جائزہ لینے کے لئے وزارت داخلہ کے خط بھی لکھ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فیس بک انتظامیہ جب پاکستان کے دورے پر آئی تو ان کے سامنے مزید ایشوز پر بھی بات ہوگی۔ اس حوالے سے اقدامات مذہبی فریضہ سمجھ کر اٹھائے جارہے ہیں۔ عوامی شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی لنکس کو بلاک کیا گیا ہے۔ گستاخانہ مواد کی سختی سے مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ پی ٹی اے کے 25 افسران اس پر کام کررہے ہیں۔ اس موقع پر ارکان کے سوالوں کے جواب میں وزیر مملکت انوشہ رحمن ایڈوکیٹ نے کہا کہ گستاخانہ مواد پر مبنی فلم کے حوالے سے یوٹیوب کو بند کیا گیا تھا۔ این جی اوز نے بین الوزارتی کمیٹی کو چیلنج کیا ہے ہم صارفین کے آن لائن اور آف لائن حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں۔ہم بطور مسلمان سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کو ایک لمحہ کے لئے بھی برداشت نہیں کرسکتے‘ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے سائبر کرائم بل منظور کیا ہے، ہم نے بل کا جو مسودہ پارلیمنٹ میں پےش کیا تھا پارلیمنٹ نے اس میں طویل بحث کے بعد ترامیم کیں جس کے بعد بل میں شامل اقدامات صرف 40فیصد منظور ہوئے۔ حالانکہ توہین رسالت اور بچوں کے خلاف جرائم کے حوالے سے سیکورٹی اداروں کو مکمل اختیار دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو ملکر توہین آمیز مواد کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سائبر کرائم بل کے تحت ہم پاکستان میں تو اقدامات اٹھا سکتے ہیں مگر جن ممالک سے یہ ہو رہا ہے وہاں یہ قانون لاگو نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی سائبر کرائم بل کے بعد ڈیٹا پروٹیکشن کا قانون بھی منظوری کے لئے جلد پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔ یہ بھی متنازعہ معاملہ ہے اور پارلیمنٹ اس معاملے پر بھی حمایت درکار ہوگی۔ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ مذہب کی توہین سوچنے والا بھی جہنمی ہے، عالم اسلام کو ملکر اسے روکنا ہوگا۔ کمیٹی اس معاملے کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ آزادی اپنی جگہ مگر مذہب اور انبیاءکی توہین کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ ذرائع ابلاغ سمیت ملک کے ہر فرد کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہم دوسرے مذہب سے جنگ نہیں چاہتے تاہم ہمیں اپنے مذہب کا دفاع کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ بھارت مختلف ممالک اور قومیتوں کے درمیان تفرقات ڈالنے سمیت مختلف محاذوں پر پاکستان کے خلاف سازشیں کررہا ہے ہمیں ان سازشوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ سائبر کرائم سمیت اس طرح کے مواد کی روک تھام کے لئے ایف آئی اے اور دیگر ایجنسیوں کو سوشل میڈیا کے مواد کی مانیٹرنگ کرنی ہوگی۔پی ٹی اے کے چیئرمین اسماعیل شاہ نے کہا کہ اگر ہم بھاری تنخواہوں پر ماہرین کی خدمات حاصل کرتے ہیں تو آڈٹ اور پی اے سی رکاوٹ ڈال دیتی ہے۔ انٹرنیٹ پر اس طرح کے مواد کو روکنے کے لئے بھاری تنخواہ پر ماہرین کی خدمات حاصل کئے بغیر آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ اس پر کمیٹی کے چیئرمین شاہی سید نے کہا کہ آپ کے جو مطالبات ہیں، آپ تجویز بنا کر پارلیمنٹ میں پیش کریں۔ تاہم آپ اقدامات اٹھانے کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ بھی ہیں۔

پاک فوج پر فخر ہے ہمیشہ دہشتگردی کیخلاف چیلنج قبول کیا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں وتبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی وتجزیہ کار ضیا شاہد نے بیدیاں روڈواقعہ پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد تک دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ سہولت کار وفنانشل دہشت گرد اسکی جڑیں ہیں۔ پاک افواج پر فخر ہے کہ انہوں نے مایوس ہونے کے بجائے ہمیشہ اس چیلنج کو قبول کیا۔ ترجمان پاک فوج کا بیان سن کر بہت خوشی ہوئی کہ مردم شماری جاری رہے گی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج کا کام نہیں بلکہ ہر خاص وعام کو اس میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ سیاستدان برسوں سے اپنے اداروں کو مضبوط کرنے میں ناکام رہے جسکی وجہ سے سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ دار فوج ملک کے اندرونی معاملات میں بھی قوم کیلئے اپنی خدمات انجام دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں لگنے والے مارشل لاءکی حمایت نہیں کرتا لیکن فوج کے ساتھ دشمنانہ رویہ ختم ہونا چاہیے۔ آصف زرداری سے لے کر خواجہ آصف تک کے صف اول کے سیاستدان فوج پر طنز کرتے ہیں کیا یہ خود دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن میں جا سکتے ہیں۔ مردم شماری، آزادکشمیر زلزلہ، تھر میں قحط اور سڑک کی تعمیر سمیت دیگر تقریاتی کاموں میں فوج کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور جب وہ آ جاتی ہے تو طنز کیا جاتا ہے کہ یہ کام فوج کو نہیں کرنا چاہیے۔ فوج کی ہمت ہے کہ اتنا کچھ برداشت کرتی ہے اور ہزاروں جانوں کا نذرانہ دینے کے باوجود ملک وقوم کی خدمت میں مصروف رہتی ہے۔ محکمہ پولیس اپنا کام ٹھیک کر رہا ہوتا تو چھوٹے چھوٹے کاموں کیلئے فوج کو بلانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے بانی متحدہ کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ بھارت کے دباﺅ میں آ کر ختم کیا کیونکہ اگر تحقیقات ہوتیں تو ثابت ہو جانا تھا کہ یہ پیسہ بھارتی سفارتخانے سے ماہانہ وصول ہو رہا تھا جس کو چھپانے کیلئے برطانوی حکومت نے غیرمعمولی حد تک جا کر مقدمہ ختم کر دیا۔ خود میں نے لندن کے ہسپتال میں 4 ماہ علاج کروایا تھا وہاں ایک دوسرے کو چھوٹی سی رقم دینا بھی کتنا مشکل ہوتا ہے اسکا بخوبی اندازہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شملہ معاہدے میں یہ تھا کہ پاک بھارت کشمیر سمیت دیگر مسائل مذاکرات سے حل کرینگے۔ ذوالفقار بھٹو نے شملہ معاہدے کیلئے جانے سے پہلے 8 دن تک مری میں مختلف مکاتب فکر کے وفود سے ملاقاتیں کیں۔ وہ یہ تاثر دے رہے تھے کہ بہت اہم مشن ہے اس لیے لوگوں سے مشورہ کر کے جا رہا ہوں۔ مجھ سمیت کچھ اخبارنویسوں کی بھی ان سے ملاقات ہوئی جس دوران ایک اخبار نویس نے سوال کیا کہ ہم کمزور پوزیشن میں ہیں۔ جواب میں بھٹو نے کہا کہ ہم اپنے مفادات کی خاطر انکی بات مان لیں گے اور جب کل طاقتور ہو جائیں گے تو انہوں نے ایک کاغذ پھاڑ کر کہا کہ معاہدے کا یہ کرینگے لیکن اس معاہدے پر عمل ہی نہیں ہوا جسکی وجہ سے میرے نزدیک تو یہ ختم ہو چکا ہے۔ معاہدوں پر عمل نہ ہو تو انہیں توڑ دیتے ہیں۔ ہماری حکومتوں کی کمزوری رہی ہے کہ کھل کر شملہ معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان نہیں کرتیں۔ سابق صدر مشرف کے ساتھ ایک دفعہ امریکہ گیا وہاں اس وقت کے امریکی کچھ اخبار نویسوں کی صدر بش سے ملاقات کرائی گئی۔ مجھے کشمیر پر بات کرنے کا اشارہ دیا گیا تو میں نے بش سے مسئلہ کشمیر پر بات کی تو انہوں نے کہا کہ پاک بھارت کے درمیان اس پر شملہ معاہدہ ہوا ہے وہ مداخلت نہیں کر سکتے جس پر میں نے کہا کہ کشمیر میں رائے شماری کرانے کی سلامتی کونسل کی قرارداد میں امریکہ نے بھی حمایت کی ہے۔ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ بھار ت کو شملہ معاہدے پر عمل کرنے کیلئے مجبور کریں۔ بش نے کہا کہ وہ ایسا کرینگے لیکن پھر بھی کوئی عملدآمد نہیں ہوا۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ علاقے کے امن کو خطرہ ہے ایک قوم کی آزادی گروی پڑی ہوئی ہے لہٰذا ہر وہ ملک جو کشمیر میں رائے شماری کا حمایتی ہے اسکی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کو شملہ معاہدے پر عمل کرنے کا کہے۔ ایران کے اسلامی اتحاد میں فورس کا رکن نہ بننے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھٹو دور میں شاہ فیصل شہید اور ذوالفقار بھٹو کی کوششوں سے لاہور میں اسلامی کانفرنس ہوئی تھی تو اس وقت ایران بھی شامل تھا۔ ا گر اس وقت شریک تھا تو اب کیا وقت ہے۔ اس وقت بھی شاہ فیصل شہید سعودی عرب کے بادشاہ تھے۔ پاکستان بار بار کہتا ہے کہ یمن میں سعودی عرب کی مدد کیلئے اپنی فوج نہیں بھیجی۔ واضح کیا کہ ایران یا شام کے خلاف سعودی عرب کی کسی کارروائی میں بطور فریق موجود نہیں۔ ایرانی قیادت سے ہمیشہ کہا کہ اس ضمن میں پاکستان صرف صلح وصفائی کیلئے مدد کر سکتا ہے۔ اورنج ٹرین کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی ڈویلپمنٹ کے حق میں ہوں۔ اگر کہیں بہت اہم تاریخی ورثے کو نقصان پہنچ رہا ہے تو اسے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر پنجاب حکومت بین الاقوامی معیار کی ٹرین چلانے کا منصوبہ بنایا ہے تو یہ اچھا ہے اسے مکمل ہونا چاہیے۔ شام کے حالات بارے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کو کبھی سچ بولتے نہیں دیکھا۔ اگر وہ بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ نہیں کرنا چاہتے تھے تو اس کے خلاف جنگ کیوں شروع کی۔ امریکہ کو وہاں سے کچھ نہیں ملا انہوں نے شام کو تباہ کرنا تھا کر دیا۔ افغانستان کو تباہ کرنے کیلئے بھی امریکہ نے اسامہ کا بہانہ بنایا تھا۔