بلاک شناختی کارڈ کلیئر کرنے کیلئے 7شرائط، نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد (این این آئی) بلاک شناختی کارڈز کلیئر کرنے کیلئے 7 شرائط سے متعلق وزارت داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 1978 سے قبل کی کوئی بھی دستاویز جو متعلقہ شخص کی شہریت ثابت کرسکے۔ 1978سے قبل کے توثیق شدہ تعلیمی اسناد یا پاسپورٹ،یا توثیق شدہ شجرہ نصب یا 1990سے پہلے کا سرکاری ملازمت کا رکارڈ پیش کرکے بلاک شناختی کارڈ کلیئرکرایا جا سکتا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق اسی طرح سال 1978 سے پہلے کی زمین خریداری یا ڈومیسائل کا ریکارڈ دے کر بھی بلاک شناختی کارڈ کلیئر کرایا جاسکتا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق 7میں سے کوئی ایک یا ایک سے زیادہ شرائط پوری ہونے پر بلاک کارڈ کلیئرکردیئے جائیں گے۔

عمران خان کا دعوی جھوٹا ہے….مریم اورنگزیب کا دبنگ بیان

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا 10 ارب روپے کی پیشکش کا دعوی جھوٹا ہے۔وزیر مملکت برائے اطلاعات اور نشریات مریم اورنگزیب نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے الفاظ خود ان کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں جبکہ عمران خان نے اداروں کو گالی دینے کی سیاست متعارف کرائی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی بات یا فیصلہ عمران خان کے خلاف آئے تو وہ گالیاں دینا شروع کردیتے ہیں اور لوگوں کی عزت اور پگڑیاں اچھالنے کی سیاست عمران خان نے شروع کی۔مریم اورنگزیب نے اداروں کو دباو¿ میں لانے کی روایت کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ججوں کو متنازع بنانے کی مہم جاری ہے۔وزیرمملکت برائے اطلاعات اور نشریات کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے فیصلے کی تضحیک کی جارہی ہے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ عوام نے ووٹ دے کر نوازشریف کو تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب کیا اور انھوں نے خود کو اور اپنی 3 نسلوں کو احتساب کیلئے پیش کیا جبکہ 90 دن میں احتساب کا دعوی کرنے والوں نے احتساب کمیشن کو گذشتہ ڈھائی سال سے تالے لگا رکھے ہیں۔

ڈان لیکس ….قربانی کا بکرا کون بنے گا….خورشید شاہ پھٹ پڑے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ڈان لیکس پرچھوٹے سرکاری ملازم کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا۔پارلیمنٹ ہاو¿س اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ ڈان لیکس کے معاملے پرریاست کو سڑکوں پرگھسیٹا گیا، دشمن کواطلاعات دے کر مدد دی گئی، رپورٹ سے متعلق سب کو پہلے سے ہی معلوم ہے کہ رپورٹ میں کوئی بڑی چیز سامنے نہیں آئے گی، اس معاملے پرکچھ نہیں ہوگا، سب کو چھوڑکرچھوٹے سرکاری ملازم کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا اوراس پر چوہدری نثار بھی کہہ چکے ہیں کہ کمیشن متفق نہیں۔اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ملک میں گورننس نام کی کوئی چیزنہیں، اسلام آباد میں امن وامان کے چوہدری نثار کے دعوے بے نقاب ہو گئے، اسلام آباد میں سیکورٹی پر 7 ارب روپے لگے لیکن سفارت کار تک محفوظ نہیں۔

جے آئی ٹی کی تشکیل بارے اسحاق ڈار کا اہم بیان سامنے آگیا

واشنگٹن(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاناما لیکس کے معاملے پر جے آئی ٹی قانون کے مطابق بنے گی اور اس میں وزارت خزانہ کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس پر جے آئی ٹی کی تشکیل قانون کے مطابق ہو گی اور اس میں وزارت خزانہ کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔ جے آئی ٹی میں 6 اداروں کے افسران شامل ہوں گے جب کہ اسٹیٹ بینک اور ایس ای ایس پی وزارت خزانہ کے ماتحت ادارے نہیں ہیں۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ امریکا کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائز مک ماسٹر سے ملاقات مفید رہی اور مک ماسٹر نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہا۔ مک ماسٹر کے ساتھ دفاع، مسئلہ کشمیر، بھارت اور افغانستان کے ساتھ مسائل پر بھی بات ہوئی۔ پاکستان کی سالمیت کے خلاف کام کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا، سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج نے کارروائیاں کی ہیں، چاہتے ہیں کہ پاکستانی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، ضرب عضب کی کامیابی کے بعد آپریشن ردالفساد کامیابی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا، جنرل (ر) راحیل شریف کی مسلم ممالک کے فوجی اتحادکےسربراہ کی حیثیت سے تعیناتی میں کوئی ابہام نہیں، وہ ریٹائر ہو چکے ہیں اور اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ 4 سالوں میں پاکستان کی کرنسی مستحکم رہی اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں صرف 5 فیصد گراوٹ آئی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے کنٹری ڈائریکٹر سے بات چیت مفید رہی، اب آئی ایم ایف کے مزید پروگرام کی ضرورت نہیں جب کہ بڑی امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش مند ہیں۔ آئندہ بجٹ میں کوئی نئے ٹیکس نہیں لگانے جا رہے، بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کریں گے۔

مریم نواز سے قریبی رشتہ ….؟اعتزاز احسن کا حیران کن انکشاف

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ بہت مشکل ہے کہ جے آئی ٹی قانونی تقاضے پورے کر سکے جب کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی مریم نواز سے قریبی رشتہ داری ہے۔لاہور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی آزاد نہیں ہو سکتی، پاناما کیس میں جے آئی ٹی پر عدالت خود ہی عدم اعتماد کا اظہار کر چکی ہے بہت مشکل ہے کہ جے آئی ٹی قانونی تقاضے پورے کر سکے گی۔پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی مریم نواز سے قریبی رشتہ داری ہے اور جب شریف خاندان نے اپنی جائیداد تسلیم کر لی ہے تو پھر جے آئی ٹی بنانے کا کیا مقصد ہے۔

الیکشن کمیشن نے میئر راولپنڈی کو نااہل قرار دے دیا

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے میئر راولپنڈی سردار نسیم کو گذشتہ برس مخصوص نشستوں پر ہونے والے بلدیاتی انتخابات پر اثرانداز ہونے کا جرم ثابت ہونے پر نااہل قرار دے دیا۔واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والی طاہرہ تنویر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی لبنیٰ اقبال نے سردار نسیم کی نااہلی کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں درخواستیں دائر کی تھیں۔ان درخواستوں میں سردار نسیم پر گذشتہ برس 15 نومبر کو مخصوص نشستوں کے بلدیاتی الیکشن کے دوران انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے اور ایک مخصوص امیدوار کے حق میں ٹھپے لگانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔درخواست گزاروں نے اپنے دعووں کے ساتھ ویڈیو ثبوت بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروائے تھے۔چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے 5 رکنی بینچ نے میئر راولپنڈی سردار نسیم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔سماعت کے دوران ملزم سردار نسیم نے اپنے وکیل کے توسط سے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ مذکورہ تاریخ کو پولنگ اسٹیشن میں داخل ضرور ہوئے تھے، تاہم انتخابی عملے کی جانب سے اعتراض اٹھائے جانے پر وہ فوراً ہی وہاں سے چلے گئے تھے۔تاہم سردار نسیم نے کسی بھی غلط کام یا مخصوص امیدوار کے حق میں ٹھپے لگائے جانے کی تردید کردی۔الیکشن کمیشن نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے سردار نسیم کے خلاف نااہلی کی درخواستیں منظور کرلیں اور انھیں میئر راولپنڈی کے عہدے سے ڈی سیٹ کردیا۔

خاموشی اختیارکرنے پر کتنے پیسے عمران خان کا سنسنی خیز انکشاف

پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جیسے ہی سپریم کورٹ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کا حکم دیا، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جے آئی ٹی پر اعتراض اور وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سب سے پیش پیش ہے تاہم گذشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے کیا گیا ایک ‘انکشاف’ خصوصی اہمیت اختیار کرگیا۔گذشتہ روز (25 اپریل) کو پشاور میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال میں شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے دعویٰ کیا کہ انہیں وزیراعظم نواز شریف نے پاناما پیپر لیکس کے معاملے پر خاموشی اختیار کرنے کے عوض 10 ارب روپے کی پیشکش کی تھی۔عمران خان کے فیس بک اکاو¿نٹ پر پوسٹ کی گئی اس ویڈیو میں عمران خان کو کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ جے آئی ٹی کے معاملے پر ‘اگر ہم چپ کرکے بیٹھ جائیں تو وزیراعظم نواز شریف کے پاس بہت وسائل ہیں’۔عمران خان کا مزید کہنا ہے کہ ‘ہمیں اس بات کا خطرہ ہے کہ تحقیقات کرنے والے سارے ادارے ان کے ماتحت ہیں’۔چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق ‘اب وزیراعظم اس معاملے سے نکل نہیں سکتے تاہم اگر ہم چپ کرکے بیٹھ جائیں تو ان کے پاس بہت وسائل ہیں، جب مجھے چپ کرنے کے لیے 10 ارب روپے آفر کرسکتے ہیں تو یہ اداروں کو کتنا آفر کرسکتے ہیں؟’۔

دوہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر

لا ہور(خصوصی رپورٹ)حکومت نے دہشت گردوں اور غیر ملکی ایجنٹوں کا نیٹ ورک توڑنے کے لئے امریکہ ، برطانیہ اور خلیجی ممالک سے آنے والے دوہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کی پنجاب اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں آمد ورفت کی کڑی نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بعض ممالک کے انٹیلی جنس ادارے علیحدگی پسندوں کو مالی امداد، اسلحہ اور تربیت بھی دے رہے ہیں، جس کے لئے افغانستان اور خلیجی ممالک کی سرزمین استعمال کی جارہی ہے ۔ پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں نے کئی مرتبہ اس نیٹ ورک کو ڈی کوڈ کیا مگر یہ اتنے بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے کہ بیک وقت کئی ممالک کے سلسلے وار گروپ کام کر رہے ہیں جن کا رابطہ زمینی بھی ہے اور یہ لوگ جدید ترین مواصلاتی ذرائع بھی استعمال کر رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ بلوچستان دنیا کی بڑی طاقتوں کی گریٹ گیم کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں 20 ممالک کے سراغ رسانی کے ادارے اپنا اپنا مفاد حاصل کرنے میں مصروف ہیں، جن میں امریکہ، روس، بھارت، اسرائیل، برطانیہ، فرانس اور بعض خلیجی ممالک بھی شامل ہیں۔بلوچستان کی جیو سٹریٹجک اہمیت اور وہاں موجود تیل و معدنیات کے بھاری ذخائر کی وجہ سے دنیا کی اہم طاقتوں نے بلوچستان پر گزشتہ 12 برسوں سے فوکس کر رکھا ہے مگر حالیہ برسوں میں جب سے گوادر کا انتظام چین کو دیا گیا ہے اس کے بعد سے صوبے میں” را“ سمیت عالمی انٹیلی جنس اداروں کی سرگرمی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس بات کا اعتراف وقتاً فوقتاً سکیورٹی اداروں، سیاست کے ایوانوں اور اعلیٰ عدالتوں میں بھی سننے میں آتا رہا ہے جبکہ اس ضمن میں باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ چند برس قبل امریکی سی آئی اے نے بلوچستان میں اپنے نیٹ ورک کو وسعت دینے کیلئے 500 سے لیکر 1000ڈالر ماہانہ پر اپنے ایجنٹ بھرتی کئے تھے ان میں اکثریت بلوچوں، بروہی اور پشتون پر مشتمل ہے۔ ان بھرتیوں میں دوہری شہریت کے حامل افراد کو خاص ترجیح دی گئی تاکہ وہ باآسانی پاکستان سے آ جا سکیں۔ اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں نے کئی بار کامیابی سے بیرونی ممالک سے لایا گیا اسلحہ اور پیسہ پکڑا اور ان شرپسندوں پر بھی ہاتھ ڈالا گیا جو مقامی سطح پر ان کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں وزیر داخلہ بلوچستان نے موقف اختیار کیا ہے کہ بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کافی عرصے سے ہو رہی ہے جس میں بھارتی ”را“ اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایف سب سے زیادہ مسائل پیدا کر رہی ہیں جبکہ بھارت کے افغانستان میں کونصلیٹس سے سارے معاملات کو چلایا جا رہا ہے، چنانچہ ان حالات میں باہر سے آنے والے ہر فرد کی نگرانی کرنا ہماری سلامتی کیلئے لازم ہو چکا ہے، پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر نے کہا کہ یہ ایک کھلا راز ہے کہ بلوچستان میں کئی ممالک کے انٹیلی جنس ادارے کام کر رہے ہیں جن میں بعض دوست ممالک کے نام بھی آتے ہیں۔ آئی جی پو لیس پنجا ب نے اس با رے میں مو قف اختیا ر کیا ہے کہ حکومت نے دہشت گردوں اور غیر ملکی ایجنٹوں کا نیٹ ورک توڑنے کے لئے امریکہ ، برطانیہ اور خلیجی ممالک سے آنے والے دوہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کی پنجاب اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں آمد ورفت کی کڑی نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اور اس کا م کے لیے سپیشل برا نچ کے اہلکا رو ں کی ایک ٹیم کو نگرا نی کے لیے ما مو ر کیا گیا ہے ۔

کھانے والی اشیاءکھلی فروخت کرنے پر پابندی لگانے کی تیاریاں

لاہور (خصوصی رپورٹ)ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نور الامین مینگل نے کہا ہے کہ قواعد و ضوابط میں ضروری تبدیلیاں کردگئی گئی ہیں جن کے تحت ڈیڑھ سال کے اندر کھلی فوڈ آئٹمز کی فروخت پر پابندی عائد کردی جائے گی۔ اس سے ملاوٹ کا خاتمہ ہوگا اور لوگ بیماریوں سے بچیں گے۔ انہوں نے یہ بات لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط اور نائب صدر ناصر حمید خان سے لاہور چیمبر میں ملاقات کے موقع پر بتائی۔ نور الامین مینگل نے کہا کہ کھلی آئٹمز کی فروخت پر پابندی سے فوڈ انڈسٹری کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فوڈ انڈسٹری کو ریگولیٹ کرنے کا مقصد اسے اپنے ریڈار میں لانا ہے تاکہ ملاوٹ و جعلسازی کا خاتمہ کیا اور ا±ن کالی بھیڑوں کا محاسبہ کیا جاسکے جو انسانی جانوں کے ساتھ ایماندار تاجروں اور صنعتکاروں کو بھی نقصان پہنچارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کو وزیراعلیٰ پنجاب کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے، ابھی یہ پانچ اضلاع میں کام کررہی ہے جبکہ 31دسمبر تک اس کا دائرہ کار پنجاب بھر میں پھیل جائے گا۔ گلی محلوں میں موبائل ٹیمیں کام کریں گی ۔ ڈویژن کی سطح پر سکول بنائے جارہے ہیں۔ صنعتی ورکرز کے لیب ٹیسٹ کے لیے موبائل ٹیمیں فیکٹریوں میں ہی ٹیسٹنگ کی سہولت مہیا کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ سلاٹرنگ ہاﺅس فوڈ پراسیسنگ کی جگہ ہیں لہٰذا انہیں ریگولیٹ کرنا اتھارٹی کا کام ہے۔ اس بات کو یقینی بنایا جارہا ہے کہ اتھارٹی کا کوئی نمائندہ اپنے اختیارات کا غلط استعمال نہ کرے۔ لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط نے کہا کہ فوڈ انڈسٹری کا عالمی حجم 300ارب ڈالر ہے جس کا دس فیصد حصہ پاکستانی برآمدات میں 30ارب ڈالر اضافہ کرسکتا ہے لیکن فوڈ فیکٹریوں اور ریستورانوں وغیرہ کی چیکنگ کو چھاپوں کا نام دینے اور میڈیا کوریج سے فوڈ انڈسٹری کی ساکھ خراب ہورہی ہے اور فوڈ انڈسٹری کی برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری ساکھ بنانے میں دہائیاں صرف ہوتی ہیں جبکہ خراب ہونے میں تھوڑی ہی دیر لگتی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں لاہور چیمبر کو نمائندگی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر پنجاب فوڈ اتھارٹی کے تعاون سے سیمینارز اور ٹریننگ پروگرامز منعقد کرنے کو تیار ہے۔ لاہور چیمبر کے نائب صدر محمد ناصر حمید خان نے کہا کہ محکمہ خوراک مختلف چیمبر آف کامرس کے تعاون اور وساطت سے اس سلسلے میں ضابطہ اخلاق اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے آگاہی مہم کا آغاز کرے۔
کھلی فوڈ آئٹمز پابندی

لاہور بڑی تباہی سے بچ گیا ، رینجرز کی بڑی کامیابی

لاہور (خصوصی رپورٹ) رینجرز اہلکاروں نے شیرا کوٹ بند روڈ کے علاقہ میں کارروائی کرتے ہوئے گاڑی سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کرکے پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ذرائع کے مطابق رینجرز اہلکاروں نے خفیہ اطلاع ملنے پر شیرا کوٹ کے علاقے میں بند روڈ پر کارروائی کی جہاں ایک مشکوک کار کو روکا گیا جس میں سے دوران چیکنگ بھاری مقدار میں اسلحہ اور ہزاروں گولیاں برآمد ہوئیں۔ رینجرز اہلکاروں نے کار میں سوار پانچ ملزمان کو بھی حراست میں لے لیا۔ذرائع کے مطابق ملزمان سے 35 پستول، 10 پستول نائن ایم ایم، 2 دیسی ساختہ کلاشنکوف، 20 پمپ ایکشن اور 7500 سے زائد گولیاں شامل ہیں۔ رینجرز ذرائع کے مطابق ملزمان کو مزید تفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ گنگارام ہسپتال کے قریب رات گئے کار سوار پولیس ناکے پر اہلکاروں کو ٹکرمار کر فرار ہوگئے۔ پولیس اہلکاروں کے تعاقب کرنے پر گاڑی جیل روڈ پر درخت سے ٹکرا گئی۔ تینوں کار سور زخمی ہوگئے۔ پولیس نے تینوںکو حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔ پولیس کے مطابق گاڑی تیز رفتاری کے باعث درخت سے ٹکرائی۔ گرفتار ہونے والوں میں آصف‘ بابر اور مجتبیٰ شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق تینوں افراد مشکوک ہیں۔ تفتیش جاری ہے جبکہ پولیس نے جعلی اے ٹی ایم کارڈ سے کروڑوں کی رقم لوٹنے والے گروہ کے پانچ ارکان کو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق سی آئی اے پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے جعلی اے ٹی ایم کارڈز تیار کرکے رقم لوٹنے والے گروہ کے ارکان نوید گجر اور حفیظ کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے جعلی اے ٹی ایم کارڈ برآمد کرلئے۔ ملزموںکی نشاندہی پر کراچی سے نیٹ ورک کے اہم رکن سمیت تین افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ملزمان سے جعلی کارڈ تیار کرنے والی مشین‘ سینکڑوں کارڈ اور اسلحہ برآمد کرلیا ہے۔ جعل ساز جعلی کارڈ تیار کرکے ملکی و غیرملکیوں کے اے ٹی ایم کے پاس ورڈ ہیک کرتے اور پھر ملک بھر کے مختلف بینکوں سے رقم نکلوا کر خریداری کرتے تھے۔ اس کے علاوہ نیٹ ورک کے ہیکرز دبئی سمیت دیگر ممالک میں کام کرتے ہیں۔