ڈان لیکس, طارق فاطمی بارے بڑی خبر سامنے آگئی

واشنگٹن (آن لائن) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاناما لیکس کے معاملے پر جے آئی ٹی قانون کے مطابق بنے گی اور اس میں وزارت خزانہ کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔ واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس پر جے آئی ٹی کی تشکیل قانون کے مطابق ہو گی اور اس میں وزارت خزانہ کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔ جے آئی ٹی میں 6 اداروں کے افسران شامل ہوں گے جبکہ اسٹیٹ بینک اور ایس ای ایس پی وزارت خزانہ کے ماتحت ادارے نہیں ہیں۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ امریکا کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائز مک ماسٹر سے ملاقات مفید رہی اور مک ماسٹر نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہا۔ مک ماسٹر کے ساتھ دفاع، مسئلہ کشمیر، بھارت اور افغانستان کے ساتھ مسائل پر بھی بات ہوئی۔ پاکستان کی سالمیت کے خلاف کام کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا، سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج نے کارروائیاں کی ہیں، چاہتے ہیں کہ پاکستانی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، ضرب عضب کی کامیابی کے بعد آپریشن ردالفساد کامیابی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا، جنرل (ر) راحیل شریف کی مسلم ممالک کے فوجی اتحادکے سربراہ کی حیثیت سے تعیناتی میں کوئی ابہام نہیں، وہ ریٹائر ہو چکے ہیں اور اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ 4 سالوں میں پاکستان کی کرنسی مستحکم رہی اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں صرف 5 فیصد گراوٹ آئی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے کنٹری ڈائریکٹر سے بات چیت مفید رہی، اب آئی ایم ایف کے مزید پروگرام کی ضرورت نہیں جبکہ بڑی امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہشمند ہیں۔ آئندہ بجٹ میں کوئی نئے ٹیکس نہیں لگانے جا رہے، بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کریں گے۔ ڈان لیکس کے حوالے سے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ڈان لیکس پر تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم نواز شریف کو پیش کی جا چکی، رپورٹ کی سفارشات پرعمل درآمد کیا جائے گا، رپورٹ کیسے لیک ہوئی اس پر انکوائری ہونی چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں طارق فاطمی کو ہٹانے کی سفارش نہیں کی گئی بلکہ طارق فاطمی کے عہدے میں تبدیلی پر بات ہو رہی ہے۔ تاہم ان کی تبدیلی کا فیصلہ انتظامی ہو گا۔ امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے کے معاشی فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ چینی کمپنیاں پاک-چین اقتصادی راہداری میں سرمایہ کاری کررہی ہیں جن میں ٹیکس میں بڑی مراعات ہوں گی لیکن انھوں نے دعویٰ کیا کہ ‘اس مخصوص فیصلے’ سے ملک کی معیشت کو نقصان نہیں ہوگا۔اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ’میں نے ورلڈ بینک کے صدر جم یانگ کم سے پورے بلوچستان کو روشن کرنے کے منصوبے پر بات چیت کی اور ان کا جواب مثبت تھا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے انھیں صوبے کے دورے کی دعوت دی تھی جس کو انھوں نے قبول کیا’۔وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ ‘میں نے انھیں یہ بھی کہا ہے کہ جب یہ تیار ہوگا تو ہم اس سلسلے کے پہلے منصوبے کا افتتاح ان سے کروانا چاہیں گے اور میرا خیال ہے کہ چیزیں مثبت ہوں گی’۔اسحٰق ڈار نے کثیر تعداد میں پاکستان نڑاد امریکی شرکا کو بتایا کہ جب 1999 میں ملک میں فوجی مداخلت ہوئی تو پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت ‘گوادر کو دبئی میں تبدیل’ کرنے کے قریب تھی لیکن پورے منصوبے کو پٹڑی سے اتار دیا گیا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم کراچی سے گوادر تک متوازی مشرق وسطیٰ تعمیر کرنا چاہتے تھے لیکن مداخلت نے ہمیں ایسا کرنے سے روکا’۔وفاقی وزیر نے وہاں پر موجود بلوچ شرکا سے اتفاق کیا کہ اگر بلوچوں کو ان کے حقوق دیے جاتے توصوبہ اپنی صلاحیتوں کو پا لیتا اور وہاں پر موجود شورش بھی نہیں ہوسکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کے دوسرے حصوں کی طرح بلوچستان کی معاشی خومختاری کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے اور امید ظاہر کی کہ سی پیک صوبے کے لیے نیا آغاز ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ چینی کمپنیوں کو ٹیکس میں چھوٹ دینے کے خاص فیصے سے قبل حکومت نے ‘لاگت اور منافع’ کا جائزہ لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہم اس طرح کے منفی باتیں سن رہے ہیں لیکن یہ دوطرفہ انتظامات ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘یورپین یونین نے اپنے اراکین کے لیے ٹیرف میں کمی کررکھی ہے، امریکا اپنے پڑوسیوں کو اسی طرح کی چھوٹ دیتا ہے اور اگر ہم اسی طرح کی آسانیاں چین کو دے رہے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفت کا کھانا نہیں ملتا’وہ 56 ارب ڈالر سرمایہ کاری کر رہے ہیں جس کے جواب میں ہم نے کچھ چھوٹ کی پیش کش کی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ چین عظیم دوست ہے اور منفی باتوں کا مقصد ‘سی پیک کے منصوبے کو کمتر’ ثابت کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘سی پیک نہ صرف دو طرفہ منصوبہ ہے بلکہ بنیادی طور پر پورے خطے کے لیے ایک وژن ہے اور جلد ہی تمام ہمسایہ ممالک تک پھیلا دیا جائے گا۔ اسحٰق ڈار نے چینی کمپنیوں کو سالانہ 150 ارب روپے کی چھوٹ دینے کے حوالے سے ایک سوال پر کہا کہ ‘یہ چھوٹ چینی کمپنیوں کو سی پیک میں 56 ارب ڈالر کی سرمایہ پر دی جارہی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘سی پیک کے حوالے سے غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ‘چین پیسہ حکومت کو نہیں دے رہا ہے اور اس کے مالی فوائد نجی شعبوں توانائی اور انفراسٹرکچر کے لیے مہیا کیے جارہے ہیں’۔انتخابات کے قریب آتے ہی مقبول پالیسیاں بنانے سے ملک کی معیشت کو نقصان پہنچنے کے حوالے سے ورلڈ بینک کے خدشات پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا ایسا کچھ کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے گزشتہ چند برسوں کے دوران جو حاصل کیا ہے اس کو صرف انتخابات میں جیت پر ضائع کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔ وضاحت کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘یہ حکومت کی پالیسی نہیں ہے،میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ صرف مقبولیت کے لیے ہم آنے والے بجٹ میں ایسے اقدامات نہیں کریں گے’۔اسحٰق ڈار کے مطابق ‘لوڈ شیڈنگ 2018 تک تاریخ کا حصہ بن جائے گی، جس کے لیے حکومت منصوبوں کو تیزی سے مکمل کررہی ہے۔ورلڈ بینک کی جانب سے مضبوط روپے سے پاکستان کی افزائش پر خدشات کے حوالے سے ایک اور سوال پر انھوں نے کہا کہ یہ اچھی معاشی پالیسی کی ایک علامت ہے جبکہ حکومت اور اسٹیٹ بینک اس میں تبدیلی کے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ پاکستان اوپن مارکیٹ پالیسی کو جاری رکھے گا۔ان کا کہنا تھا کہ’سرمایہ کار خوش ہیں کہ ہمارا ملک مستحکم ہے، مشرق وسطیٰ کی کرنسی کئی دہائیوں سے مستحکم ہے اور ان کی معیشتوں پر کوئی برعکس اثر نہیں پڑا تو پاکستان کی مستحکم کرنسی اس کی بڑھوتری کو نقصان کیوں پہنچائے گی۔ اسحٰق ڈار نے اعتراف کیا کہ روپے کی قدر میں استحکام اور تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث پاکستان کی برآمدات میں کمی آئی ہے لیکن حکومت اس کو درست کرنے کے لیے مراعات کی پیش کش کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ توانائی کے منصوبے چلتے رہیں گے، نئے بجٹ میں نئے ٹیکس لگانے کی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو از سرنومرتب کرنا چاہتاہے ، ہمیں دوستوں کی حیثیت سے آپس کے ابہام دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ نائن الیون کے بعد سے افغانستان میں جاری آپریشنز کو زیادہ کامیابی نہیں ملی، آپ ہر ایک طالبان کو تلاش کر کے مار نہیں سکتے اس کےلئے بہت طویل عرصہ چاہیے۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ پاکستان افغانستان کے مسئلہ کے افغانوں کی زیر قیادت سیاسی حل پر یقین رکھتا ہے۔ تاہم ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ نئی انتظامیہ کیا سوچ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں یقین ہے کہ نئی انتظامیہ اس معاملہ کو دیکھ رہی ہو گی ، ہمیں مل بیٹھ کر یہ دیکھنا ہوگا کہ کہاں کہاں خامیاں ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہاکہ حکومت پاکستان نے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو توڑنے اور دہشت گردوں کے صفایا کرنے کےلئے فوجی آپریشنز تیز کئے ہیںجبکہ بارڈر سکیورٹی کو بھی بڑھایا گیا ہے۔ افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ ہم امن کی کوششوں میں ہر ممکن طریقے سے کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم توقع کرتے ہیں کہ امریکہ ایک مشترکہ دوست کی حیثیت سے مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جلد از جلد خوش اسلوبی سے حل کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لئے ایک پرکشش مقام بن چکا ہے، عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی منفی سے مستحکم اور پھر مستحکم سے مثبت کر دی ہے، توقع ہے کہ پاکستان 2030ءتک جی 20 ممالک میں شامل ہو جائے گا، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کیا ہے اور عدالت کے فیصلے کی روشنی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے قیام کا خیرمقدم کرے گی۔

10ارب کی آفر کس نے کی؟, کپتان کے سنسنی خیزانکشافات

اسلام آباد (آن لائن) چیئرمین تحریک انصاف کے عمران خان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے قریبی دوست جو میرے بھی دوست ہیں نے مجھے10 ارب روپے آفر کئے، آفر پانامہ کیس پر خاموش رہنے کیلئے کی گئی، نوازشریف اس سے قبل بھی بہت سے لوگوں کو آفر کر چکے ہوں گے، آفر کرنے والے شخص کا نام نہیں بتاو¿ں گا، بیچار پھنس جائے گا، پانامہ کیس ختم نہیں ہوا، دو ماہ اور چلے گا، جے آئی ٹی میں شریف خاندان کو 13 سوالات کے جواب دینا ہوں گے، کیس کا فیصلہ اسی بنچ کو سنانا چاہئے، نیا بنچ بنا تو قبول نہیں کریں گے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ پانامہ کیس میں خاموش رہنے کے لئے مجھے دس ارب روپے کی آفر کی گئی، دبئی کے ذریعے مجھ تک آفر بھیجوائی گئی، شریف فیملی کی جانب سے دو ہفتے پہلے مجھے آفر کا پتہ چلا، میں پہلا شخص نہیں جس کو نوازشریف نے پیشکش کی ہو۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے پہلے بھی بہت سے لوگوں کو پیشکش کی، شہباز شریف کے قریبی دوست جو میرے بھی دوست ہیں میرے پاس آفر لیکر آئے جو میں نے قبول نہیں کی ۔ آفر لینے والے نے کہا کہ آپ کیلئے آفر ہے جو دس ارب سے شروع ہوتی ہے باقی آپ کی مرضی۔ انہوں نے کہا کہ آف لانے والے کا نام نہیں بتاو¿ں گا، وہ پھنس جائے گا آفر لانے والے سے میری ملاقات دو ہفتے قبل ہوئی اس لئے مجھے دیر سے پتہ چلا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول کیا ہے، فیصلے پر تنقید نہیں کی، جے آئی ٹی میں بار ثبوت شریف خاندان پر ہے ،نواز شریف اور ان کے خاندان کو 13 سوالات کے جوابات دینے ہوں گے، لندن کے فلیٹ ہی نہیں شریف خاندان کے سارے اثاثے خطرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ کیس ابھی ختم نہیں ہوا دو مہینے اور لگیں گے، عدالت کے سامنے جھوٹ بولنے کی الگ سزا ہے، پانامہ ساکھ اور صادق اور امین کا ہے، جس پر وزیراعظم پورا نہیں اترے، قطری خط کو عدالتی بنچ نے مسترد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی دو ہفتے بعد رپورٹ پیش کریگی، پہلی رپورٹ سے ہی پتہ چل جائے گا کہ کیس کس طرف جارہا ہے ،پانامہ کیس میں ثبوت ہم نے نہیں دینے تھے، شریف فیملی نے دینے تھے جواس نے نہیں دیئے ،پانامہ پیپرزآئی سی آئی جے نے ریلیزکئے ،جن پردنیاکے کسی فردنے اعتراض نہیں کیا۔انہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ کے 5ججزنے وزیراعظم کے خلاف فیصلہ دیاہے ،پاکستان کی تاریخ میں طاقتورکے خلاف کبھی فیصلہ نہیں آیا،پانامہ کیس کافیصلہ اسی بنچ کوکرناچاہئے ۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم کومستعفی ہوناچاہئے ،جس کیلئے ہم اپناپورازورلگائیں گے ،نوازشریف جے آئی ٹی پراثراندازہوں گے ،نوازشریف نے پانامہ کیس سننے والے ججزپربھی دباو¿ڈالاہوگا۔عمران خان نے کہاکہ آصف زرداری نے خودکہاکہ آراوزکے الیکشن ہوئے ہیں اوردھرنے میں ہمارے خلاف ہوگئے ،میں زرداری کے ساتھ مل کرکرپشن کے خلاف مہم نہیں چلاسکتا،زرداری خودکرپٹ ترین انسان ہیں ،زرداری کے ساتھ مل کرکرپشن کے خلاف احتجاج کرنانوازشریف کوفائدہ پہنچاناہے ،زرداری صاحب پہلے چارسال کہاں تھے جواب آگئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ نوازشریف حکومت کرنے کااخلاقی جوازکھوچکے ہیں میں نہیں تمام سیاسی جماعتیں وزیراعظم سے استعفیٰ مانگ رہی ہیں ،اگرجے آئی ٹی کے بعدبھی فیصلہ حق میں نہ آیاتومیں چپ نہیں بیٹھوں گا۔اداروں پردباو¿بڑھائیں گے تاکہ انصاف ہواگرنیابنچ بنایاگیاتووکلاءسے مشاورت کریںگے ،فیصلہ اسی بنچ کوسناناچاہئے۔ پانامہ کیس کے بینچ نے قطری خط کو مسترد کیا ہے ،وزیراعظم کو استعفیٰ دینا چاہیے ،جے آئی ٹی کے معاملے پر ہمیں اعتماد نہیں ملا ،پانامہ لیکس کے معاملے پر نیا بینچ تشکیل نہ دیا جائے ،پرانا بینچ ہی کیس کی شنوائی کرے ۔ پاناماکیس ساکھ اورصادق وامین ہونے کاہے جس پروزیراعظم پورے نہیں اترتے۔انہوں نے کہا کہ پانامالیکس کیس بینچ کے پانچوں ججز نے قطری خط کو جھوٹ کہا ہے جس پر وزیراعظم کو مستعفی ہونا چاہیے، ہم وزیراعظم کے استعفے کےلئے پورا زور لگائیں گے ،عدالت کے سامنے جھوٹ بولنے کی الگ سے سزاہے، اب بارثبوت شریف فیملی پرہے عمران خان نے کہا کہ میں شریف خاندان کی طرف سے 10ارب روپے کی پیشکش کے بیان پر قائم ہوں ، یہ پیشکش کرنے والا حمزہ شہباز کا دوست ہے ، حمزہ شہباز نے میرے ایک دوست سے دبئی میں رابطہ کیا ،میرا دبئی والے دوست کا تعلق لاہور سے ہے جو کاروبار کرتا ہے،اگر میں نے اس کا نام بتایا تویہ شریف خاندان والے اس کا کاروبار تباہ کر دیں گے۔ بیان میں کہا ہے کہ نواز شریف کو تب سے جانتا ہوں جب وہ بیوروکریٹس کے گھروں میں مٹھائی کے ٹوکرے بھیجتا تھا۔ عمران خان بولے بتایا جائے نواز شریف نے رشوت کس کو نہیں دی؟ نواز شریف نے لفافہ جرنلزم شروع کیا، آصف نواز کو مری میں بی ایم ڈبلیو کی چابی بھجوائی۔عمران خان نے واضح کیا کہ مجھے حکمرانوں نے خود فون کر کے تو نہیں کہا تھا کسی کے ذریعے آفر کی گئی تھی۔ آفر لگانے والا نواز شریف نہیں شہباز شریف کا قریبی ہے، نام نہیں لے سکتا بیچارہ پھنس جائے گا۔

رمیزکے داڑھی کے سوال پرمصباح کا دلچسپ جواب

جمیکا (آئی این پی )ویسٹ انڈیز کے خلاف سات وکٹوں سے شاندار کامیابی کے بعد رمیز راجہ نے مصباح الحق سے داڑھی کے بال کالے ہونے کے حوالے سے سوال کیا تو کپتان نے ایسا جواب دے دیا کہ رمیز راجہ بھی بے اختیار ہنس پڑے۔ میچ کے بعد بات کرتے ہوئے رمیز راجہ نے مصباح الحق سے سوال کیا کہ آپ کی داڑھی میں کالے بال ہی ہیں ،ایک بھی بال سفید نظر نہیں آرہا ،اس سوال پر مصباح الحق نے کہا کہ مارکیٹ میں بہت سے کلر دستیاب ہیں ،میں داڑھی کے سفید بالوں پر کلر لگاتا ہوں۔انہوں نے رمیز راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اور میں دونوں بالوں کو رنگ لگاتے ہیں لیکن ہم دونوں کے رنگ مختلف ہیں اور ہم دونوں ہی اس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

چیمپئنز ٹرافی ،ڈیڈ لائن ختم، بھارتی سکواڈ کا اعلان نہ ہوا

ممبئی (آن لائن) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل( آئی سی سی) کے زیر اہتمام ہونے والی چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کرنے والے اسکواڈ کے اعلان کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے باوجود بھارت نے اپنی ٹیم کا اعلان نہیں کیا۔یمپئنز ٹرافی کے لیے اسکواڈ کا اعلان کرنے کی ڈیڈلائن 25 اپریل رات 12 بجے تک تھی تاہم بھارت نے ٹیم کا اعلان نہیں کیا۔بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی ا آئی) کا آمدنی میں معقول حصہ لینے کے لیے آئی سی سی سے جھگڑا بھی چل رہا ہے اور بھارت نے چیمپئنز ٹرافی کا بائیکاٹ کرنے کا امکان بھی رد نہیں کیا ہے۔ آئی سی سی کے چیئرمین ششناک منوہر خود بھی بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا پر مشتمل بگ تھری ماڈل کے سخت خلاف ہیں۔بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا نے 2014 میں آئی سی سی میں ’بگ تھری ماڈل‘ نافذ کردیا تھا جس کے تحت تینوں ملکوں کو کرکٹ کا مالی اور انتظامی کنٹرول مل گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق اس ماڈل کے مطابق آئندہ 8 برس تک آئی سی سی کی ہونے والی کل آمدنی کا 27.4 فیصد حصہ بھارت، آسٹریلیااور انگلینڈ میں تقسیم ہونا تھا جس میں سب سے زیادہ حصہ (20.3 فیصد) بھارت کو، 4.4 فیصد انگلینڈ اور 2.7 فیصد آسٹریلیا کو ملنا تھا۔تاہم رواں برس فروری میں آئی سی سی نے اپنے 2014 کے فیصلے کو واپس لے لیا تھا اور نیا گورننس اور ریوینیو کی تقسیم کا ماڈل پیش کیا تھا لیکن بھارت اس پر سخت ناراض ہے اور اس نئے ماڈل کو تسلیم نہیں کرتا۔اب بھارت کی جانب سے چیمپئنز ٹرافی کے لیے اسکواڈ کا اعلان نہ کرنے کو بعض حلقے آئی سی سی پر دباو¿ بڑھانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں تاکہ وہ بھارت کے ساتھ سمجھوتہ کرلے۔تاہم مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو بھی بھارت کی جانب سے چیمپئنز ٹرافی کا بائیکاٹ ایک خطرناک فیصلہ ہوا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کردہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے معاملات دیکھنے والی کمیٹی کے سربراہ ونود رائے کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مذاکرات جاری ہیں۔

آئی سی سی اجلاس میں بگ تھری کاقصہ تمام

دبئی(نیوزایجنسیاں) آئی سی سی کے اجلاس میں بگ تھری کا قصہ ختم کردیا گیا ہے۔آئی سی سی اجلاس میں2کے مقابلے میں 8 ووٹوں سے بگ تھری کے خلاف فیصلہ کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق آئی سی سی کے دبئی میں ہونے والے اجلاس کے دوران آئی سی سی بورڈ میں پیسوں کی تقسیم کا مقدمہ بھارت ہار گیا ہے۔آئی سی سی کے نئے گورنرننس اور فنانشل ماڈل کو 2کے مقابلے میں8 ووٹ ملے ہیں۔نئے نظام کی ووٹنگ میں صرف سری لنکا نے بھارتی بورڈ کا ساتھ دیا۔ آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ سمیت 7 ممالک نے پاکستان کا ساتھ دیا۔ ششانک منوہر کی اضافی حصے کا معاملہ حل کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔ بگ تھری کے تحت بھارت 570 ملین ڈالر کا حصہ لینا چاہتا تھا جس کا خاتمہ بنیوں کی نیندیں اڑائے ہوئے ہے۔ بگ تھری کا حتمی خاتمہ آئی سی سی کے آئندہ اجلاس میں ہو گا۔ آج کے اجلاس میں پاکستان کی کامیاب لابنگ کے نتیجے میں بگ تھری کی مخالفت میں آٹھ جبکہ اس کے حق میں صرف دو ووٹ آئے۔

جمیکا میں عمدہ پرفارمنس, ٹیسٹ رینکنگ میں بڑی کامیابیاں

دبئی( نیوزایجنسیاں) آئی سی سی نے جمیکا ٹیسٹ کے بعد نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری کر دی ہے۔پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق 6 درجے بہتری کے ساتھ 20 ویں پوزیشن پر آ گئے ہیں۔ یونس خان بدستور 8 ویں پوزیشن پر موجود ہیں جبکہ اظہر علی 3 درجہ تنزلی کے ساتھ 10 ویں نمبر پر چلے گئے ہیں۔ سرفراز احمد ایک درجہ ترقی کےساتھ 24 ویں جبکہ بابر اعظم 14 درجے کی چھلانگ کے ساتھ 94 ویں نمبر پر آ گئے ہیں۔ ویسٹ انڈین کپتان جیسن ہولڈر کیریئر بیسٹ 60 ویں پوزیشن پر آ گئے ہیں۔بولرز میں لیگ اسپنر یاسر شاہ ایک قدم آگے آتے ہوئے 15 ویں نمبر پر براجمان ہو گئے ہیں۔ محمد عامر 13 درجے بہتری کےساتھ 42 ویں پوزیشن پر آ گئے ہیں۔ ویسٹ انڈین پیسر شینن گیبریل 33ویں جبکہ جوزف الزاری 73 ویں نمبر پر آ گئے ہیں۔انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے پاکستان اور ویسٹ انڈیزکے درمیان کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کے اختتام پر کھلاڑیوں کی تازہ رینکنگ جاری کردی جس میں دونوں اننگزمیں ناٹ آﺅٹ رہتے ہوئے *99اور*12رنزبنانے والے پاکستانی کپتان مصباح الحق 6 درجے ترقی پاکر ٹاپ20بلے بازوں کی فہرست میں واپس آگئے ہیں۔کنگسٹن ٹیسٹ میں 58اور6رنزکی اننگزکھیلنے والے ٹاپ رینکڈ پاکستانی بلے باز یونس خان اپنی آٹھویں پوزیشن محفوظ رکھنے میں کامیاب رہے ہیں ۔اظہر علی 3 درجہ تنزلی کے ساتھ 10 ویں نمبر پر چلے گئے ہیں۔ سرفراز احمد ایک درجہ ترقی کےساتھ 24 ویں جبکہ بابر اعظم 14 درجے کی چھلانگ کے ساتھ 94 ویں نمبر پر آ گئے ہیں۔ ویسٹ انڈین کپتان جیسن ہولڈرنے *57اور14رنزکی اننگزکا صلہ ٹیسٹ بیٹنگ رینکنگ میں پانچ درجے ترقی کی صورت میں پایاہے جس کی بدولت وہ کیریئربیسٹ60ویں پوزیشن پر براجمان ہوگئے ہیں۔پاکستا نی بولرزمیں مین آف دی میچ لیگ اسپنر یاسرشاہ نے ایک درجہ ترقی پاکر15ویں جبکہ 6/44کی کیرئیربیسٹ کارکردگی دکھانے والے فاسٹ بولرمحمدعامر نے 13درجے آگے بڑھ کر 42ویں پوزیشن پر قبضہ جمالیاہے۔ویسٹ انڈین پیسر شینن گیبریل 33ویں جبکہ جوزف الزاری 73 ویں نمبر پر آ گئے ہیں۔

”بگ تھری کا باب بند“

دبئی(ویب ڈیسک) آئی سی سی اجلاس میں بگ تھری سے متعلق ووٹنگ ہوئی جس میں بگ تھری کے حق میں صرف 2 اور مخالفت میں 8 ووٹ ڈالے گئے جس کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں بگ تھری کا باب بند ہوگیا۔بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا نے 2014 میں آئی سی سی میں ”بگ تھری ماڈل“ نافذ کردیا تھا جس کے تحت تینوں ملکوں کو کرکٹ کا مالی اور انتظامی کنٹرول مل گیا تھا۔ اس ماڈل کے مطابق آئندہ 8 برس تک آئی سی سی کی ہونے والی آمدنی کا 27.4 فیصد بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ میں تقسیم ہونا تھا جب کہ سب سے زیادہ حصہ 20.3 فیصد بھارت، 4.4 فیصد انگلینڈ اور 2.7 فیصد آسٹریلیا کو ملنا تھا لیکن اب بھارتی کرکٹ بورڈ آئی سی سی کی آمدنی سے 570 ملین ڈالر مانگ رہا تھا جب کہ آئی سی سی نے 400 ملین ڈالر کی پیش کش کی تھی۔رواں برس فروری میں آئی سی سی نے اپنے 2014 کے فیصلے کو واپس لے لیا تھا اور نیا گورننس اور ریونیو کی تقسیم کا ماڈل پیش کیا تھا لیکن بھارت نے اس پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے نئے ماڈل کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ آئی سی سی میں بگ تھری اور بھارت کے اس رویئے کے بعد بگ تھری کے معاملے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی بورڈ میٹنگ میں ووٹنگ ہوئی جس میں بگ تھری کے حق میں صرف 2 اور مخالفت میں 8 ووٹ آئے جس کے بعد کرکٹ سے بگ تھری کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ بگ تھری کے حوالے سے اس فیصلے کی توثیق جون میں ہونے والے سالانہ اجلاس میں کی جائےگی۔

کلبھوشن تک قونصلر رسائی کی ایک اور بھارتی درخواست مسترد

اسلام آباد(ویب ڈیسک)پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی کی ایک اور بھارتی درخواست مسترد کر دی ، سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کا کہنا ہے کہ کلبھوشن بلوچستان میں را کیلئے جاسوسی کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا ، دونوں ملکوں میں قیدیوں تک رسائی کا معاہدہ ہے جاسوسوں تک نہیں۔بدھ کو اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنر گوتم بمباوالے نے سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے ملاقات کرکے اپنے سزا یافتہ جاسوس کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی کیلئے اپیل کی جس پر سیکرٹری خارجہ نے صاف انکار کر دیا ۔ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے گوتم بمبانوالے سے کہا کہ ان کا نیوی کمانڈر کلبھوشن یادیو بلوچستان میں را کیلئے جاسوسی کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ۔ اس نے دہشتگردی ، جاسوسی اور دہشتگردوں کی مالی معاونت کا اعتراف کیا ۔ ذرائع کے مطابق سیکرٹری خارجہ نے بھارتی ہائی کمشنر پر واضح کر دیا کہ دونوں ملکوں میں قیدیوں تک قونصلر رسائی کا معاہدہ ہے جاسوسوں کا نہیں ۔ بھارت نے کلبھوشن کیس میں قانونی معاونت کی پاکستانی درخواست کا مثبت جواب دیا نہ کلبھوشن نیٹ ورک کے بھارت میں موجود لوگوں تک رسائی دی ۔

بیٹھے بٹھائے فٹنس ٹھیک …. عمر اکمل پھر ٹیم میں واپس

لاہور(ویب ڈیسک )کرکٹ ٹیم میں گیارہ کھلاڑی ہوتے ہیں مگر قومی ٹیم میں دس،کیونکہ ایک پوزیشن اکمل برادران کیلئے مختص ہوچکی ہے،سلیکشن کمیٹی نے چیمپئنز ٹرافی کیلئے منتخب کردہ سکواڈ میں کامران اکمل کی جگہ اب عمر اکمل کو شامل کر لیا ہے،ایک ہفتہ پہلے چیف سلیکٹر نے کامران اکمل کو ڈراپ نہ کرنے کا اشارہ دیا تھا۔تفصیلات کے مطابق رواں سال آئی سی سی کے سب سے بڑے ایونٹ کے لیے پی سی بی کی اعلان کردہ ٹیم سے بڑے بھائی کامران اکمل کو ڈراپ کر کے چھوٹے بھائی عمر اکمل کو شامل کر لیا گیا ہے،ٹیم سے کھلاڑیوں کا ان ا?و¿ٹ ہونا عام سی بات ہے مگر اس بار کامران اکمل کا ڈراپ ہونا غیر فطری ہے۔بورڈ کے بقول کرکٹرز کا انتخاب انضمام الحق کے ہاتھوں میں ہے لیکن اسی چیف سلیکٹر نے چند روز پہلے کامران اکمل کو مزید موقع دینے کا عندیہ دیا تھا،عمر اکمل کو خراب فٹنس کی بنیاد پر دورہ ویسٹ انڈیز سے ڈراپ کیا گیا،ہوسکتا ہے عمر اکمل کی فٹنس اچانک بہت اچھی ہوگئی ہو مگر حالیہ قومی ون ڈے کپ میں باصلاحیت بلے باز تین میچز میں محض 77 رنز ہی سکور کر سکے ہیں،دوسرے متاثرہ کھلاڑی ا?صف ذاکر ہیں جنہیں بغیر کھلائے ہی سلیکشن کمیٹی کو لگا کہ وہ اچھے بلے باز نہیں اور انہیں چیمپئنز ٹرافی کیلئے زیر غور نہیں لایا گیا۔

صوفیا حیات کی شادی کی تصاویر نے تہلکہ مچا دیا

ممبئی (ویب ڈیسک )بھارتی ماڈل صوفیا حیات کی تصاویر نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا۔ شاہی طرز پر شادی اور اس کی شاندار تصاویر کو اپنے ٹویٹر اکا?نٹ پر اپلوڈ کیا تھا۔صوفیا حیات نے رومانیہ سے تعلق رکھنے والے دوست ولید سٹینسو کے ساتھ شادی رچا لی ہے۔واضح رہے صوفیا حیات نے دو ماہ پہلے اپنی منگنی کی خبر دی تھی۔پیر کے روز ہونے والی تقریب میں صوفیا حیات نے خوبصورت لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔جبکہ اس کے شوہر نے بھی بہترین لباس زیب تن کیا تھا۔