عوام کی آنکھو ں میں دھول ۔۔قیمتوں میں حیران کن اضافہ

لاہور (خصوصی رپورٹ) لاہور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن نے سفید چنا 45روپے اور سرخ لوبیا 8روپے مہنگا کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جبکہ چینی بھی اوپن مارکیٹ سے 4روپے کلو مہنگی فروخت کی جا رہی ہے۔ یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن نے ابھی چند روز قبل 700آئٹمز کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا تھا تاہم ذرائع کے مطابق نجی کمپنیوں نے ان اشیاءکی قیمتوں میں کمی کی ہے جن کی سیل سب سے کم ہے جبکہ ملک بھر کے سٹوروں پر سب سے زیادہ فروخت ہونے والی چینی اوپن مارکیٹ کے مقابلے میں 4روپے مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ یوٹیلیٹی سٹورز انتظامیہ نے سفید چنا 45روپے جبکہ سرخ لوبیا اول کی قیمت 8روپے اور سرخ لوبیا درجہ دوم کی قیمت میں چار روپے فی کلو تک اضافے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ماضی میں یوٹیلیٹی سٹورز غریب عوام کی سہولت کیلئے بنائے گئے لیکن اب یہ زحمت بن گئے ہیں۔ عوام کو ریلیف برائے نام رہ گیا ہے۔ یوٹیلیٹی سٹورز پر فروخت ہونے والی اشیاءاوپن مارکیٹ سے بھی مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ کوالٹی بھی بدترین ہو گئی ہے۔

مفت انٹرنیٹ سروس کا آغاز

لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) پنجاب حکومت نے صوبے کے 5بڑے شہروں لاہو ر،راولپنڈی ، فیصل آباد ، ملتان اور بہاولپور کے 200سے زائد مقامات پر فری انٹرنیٹ (وائی فائی ہاٹ سپاٹس )سروس کا آغاز کردیا ہے جکہ مری کے 16مقامات پر بھی انٹرنیٹ کی مفت سہولت فراہم کی گئی ہے -حکومت پنجاب کے اس شاندار پروگرام سے لاکھوں شہری مستفید ہوں گے اور انہیں رابطوں میں آسانی آئے گی- وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف نے ارفع کریم سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک میں مفت انٹرنیٹ سروس کا باقاعدہ افتتاح کیااس ضمن میں کمپیوٹرکابٹن دبا کر پروگرام کا آغاز کیا-وزیراعلی شہبازشریف نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صوبے کے پانچ بڑے شہروں میں مفت انٹرنیٹ سروس کا اجراءحکومت پنجاب کا شاندار پروگرام ہے اور صوبے کو ڈیجیٹل نظام کی جانب منتقل کرنے کے حوالے سے ایک اہم اقدام ہے-مری کے 16مقامات پر فری انٹرنیٹ سروس سے یہاں آنے والے سیاحوں کو فائدہ ہوگا-انہوںنے کہاکہ پنجاب حکومت نے صوبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں اور مختلف اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کارلا کران اداروں کی استعداد کار بڑھائی گئی ہے-انہوں نے کہاکہ لینڈ ریکارڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم حکومت پنجاب کا ایک ایسا اقدام ہے جس سے عوام کو پرانے اور فرسودہ نظام او رپٹواری کلچر سے نجات ملی ہے اوراس نئے نظام سے زمین کے معاملات کو آسان بنادیا گیا ہے اور پنجاب کی 5کروڑ 60لاکھ دیہی آبادی کو اس نئے نظام سے فائدہ پہنچا ہے-پرانے نظام میں غریب کسان کو رشوت اور وقت کے ضیاع کے بعداپنی زمین کی فرد ملکیت ملتی تھی جبکہ نئے نظام میں اسے 30منٹ میں فرد ملکیت بغیر رشوت دئےے مل رہی ہے جبکہ زمین کے انتقال کے معاملات صرف 45منٹ میں طے ہوتے ہیں-اراضی کے معاملات میں رشوت کا سایہ ختم ہوچکا ہے اور دیہی آبادی کو بے پناہ سہولت میسر آئی ہے-کسانوں کو پٹواری کلچر سے نجات ملی ہے ، کرپشن ختم ہوئی ہے اور وقت کی بچت ہوئی ہے-انہوں نے کہاکہ عالمی بینک نے بھی حکومت پنجاب کے اس اقدام کو شاندار قرار دیا ہے- عالمی بینک کے تعاون سے اس نئے نظام کے اجراءکا کریڈ ٹ حکومت پنجاب اور اس کی پوری ٹیم کو جاتاہے اور اس نئے نظام سے پنجاب جدید دور میں داخل ہواہے-انہوںنے کہاکہ پنجاب کے تمام تھانوں کو کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیاہے اور اب ایف آئی آر کا اندراج کاغذ پر نہیں بلکہ کمپیوٹر کے ذریعے ہوتا ہے جس سے اس میں کسی بھی قسم کے ردوبدل کے امکانات ختم ہوگئے ہیں- انہوںنے کہاکہ صوبے کے تمام تھانوں میں آئی ٹی ٹیکنالوجی کو فروغ دینا حکومت پنجاب کا ایک بڑا کارنامہ ہے اور اس حوالے سے سابق انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق سکھیرا کی کاوشیں لائق تحسین ہیں،جن کے پختہ عزم کی بدولت ہی یہ کارنامہ سرانجام دیا گیاہے اور مجھے یقین ہے کہ موجودہ انسپکٹر جنرل پولیس اس شاندار کام کو مزید آگے بڑھائیں گے- انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے پولیس افسر شاہی سے آگے نکل گئی ہے -انہوںنے کہاکہ پنجاب حکومت نے صوبے کے تمام سرکاری سکولو ںمیں آئی ٹی لیبز قائم کی ہےں اور اب سکولوں میں 50ہزار ٹیبلٹس دئےے جا رہے ہیں جو کہ جدید نظام سے مستفید ہونے کی جانب ایک اور اقدام ہے۔ انہوںنے کہاکہ ڈینگی کی وباءکے دوران بھی جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا گیااور دن رات بے پناہ محنت کی گئی اور ایک ٹیم ورک کے طور پر دکھی انسانیت کی خدمت کی گئی-ڈینگی کا ماڈل ایک سبق ہے اوراگر اس ماڈل کو زندگی کے تمام شعبوں میں اپنا لیا جائے تو انقلاب برپا ہوگا اور پاکستان مشکلات سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا اور عالمی برادری میں باوقار مقام حاصل کر لے گا- انہوںنے کہاکہ پاکستان کا مستقبل انفارمیشن ٹیکنالوجی سے جڑا ہے ،جدید علوم کو فروغ دے کر ہی ہم تیز رفتاری سے آگے بڑھ سکتے ہیں- انہوںنے کہاکہ ارفع کریم سافٹ ویئر پارک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کام کررہی ہے تاہم بیدیا ں روڈ پر اربوں روپے کی اراضی پر انفارمیشن ٹیکنالوجی یو نیورسٹی کے نئے کیمپس قیام عمل میں لایا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لئے زمین وائس چانسلر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر عمر سیف کے حوالے کر دی گئی ہے او ر انہوںنے ایک سال کے اندر اس یونیورسٹی کے قیام کا وعدہ کیا ہے- انہوںنے کہاکہ بیدیا ں روڈ پر قائم ہونے والی انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی ہر لحاظ سے ایک شاہکار ہوگی جس سے ہمارے نوجوان مزید با اختیار ہوںگے او راس یونیورسٹی کے قیام کے لئے مالی سال کے بجٹ میں فنڈ مختص کئے جائیں گے- وزیراعلی نے توانائی بحران کے خاتمے کے لئے کاوشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھکی میں گیس کی بنیاد پر بڑا منصوبہ لگایا گیا ہے- 1180میگا واٹ کے اس منصوبے کا سنگ بنیاد 9اکتوبر 2015ءکو رکھا گیا اور 19اپریل 2017ءکو اس منصوبے کا افتتاح کیا گیا او راس منصوبے میں 50ارب روپے کی بچت کی گئی اور یہ بچت حقیقی طو رپر کی گئی ہے – بھکی گیس پاور پلانٹ کی ٹربائن کی کارکردگی آج دنیا میں سب سے زیادہ ہے- ماضی میں گدو پاور پلانٹ میں لگنے والی ٹربائن کی کارکردگی 54فیصد ،جبکہ نیپرا کا بنچ مارک 57فیصد ہے -اس کے برعکس بھکی میں لگنے والی ٹربائن کی کارکردگی 61.9فیصدہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے- انہوںنے کہاکہ ایک طرف 985میگا واٹ کا نیلم جہلم پاور پراجیکٹ ہے جو 18سال گزرنے کے بعد بھی نا مکمل ہے جبکہ دوسری جانب 1180میگا واٹ کا بھکی پاور پلانٹ ہے جو 18ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہواہے اوراس کے پہلے مرحلے میں 717میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہورہی ہے- بھکی پاور پلانٹ کو 18ماہ کی مدت میں مکمل کرنا ایک عالمی ریکارڈ ہے- انہو ںنے کہاکہ بھکی پاور پلانٹ اور توانائی کے دوسرے منصوبے جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں عزم،ہمت اور تڑپ کی داستان سنا رہے ہیں او ریہ طریقہ پاکستان کو آگے لے جانے کا ہے-محنت، عزم او رہمت کے سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہو کر پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کریں گے-چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ،مشیر ڈاکٹر عمر سیف نے صوبے میں ای گورننس کے فروغ اور تعلیم ، صحت ،پولیس اوردیگر اداروں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی-انہو ںنے فری انٹرنیٹ سروس کے اجراءکے اعراض و مقاصد بھی بیان کئے- انہوںنے کہاکہ وزیراعلی شہبازشریف محنت او رغیر معمولی رفتار سے کام کرنے کے عادی ہیںاورانہوںنے اپنے کام سے اپنا نام بنایا ہے اور دنیامیں آج ”پنجاب سپیڈ“ کی اصطلاح عام ہوچکی ہے جس کا کریڈ ٹ وزیراعلی شہبازشریف کو جاتاہے جنہوںنے ہر موقع پر محنت ،دیانت او ررفتار کے جھنڈے گاڑے ہیں-انہوںنے کہاکہ ڈینگی کے دوران جس دیوانہ وار انداز میں شہبازشریف نے کام نے وہ ایک مثال ہے ،یہی وجہ ہے کہ آج پنجاب میں ڈینگی ختم ہوچکاہے او رسنگا پو رجیسے ملک میں ڈینگی آج بھی موجود ہے- انہوںنے کہاکہ پنجاب نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے کئی محکموں میں انقلابی تبدیلی کی ہیں جبکہ کے پی کے او رسندھ حکومت نے بھی پنجاب حکومت سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے حکومتی امور میں بہتری لانے کے حوالے سے تعاون مانگا ہے اور وزیراعلی شہبازشریف نے اس ضمن میں ہر طرح سے سندھ او رکے پی کے کے مدد کرنے کے حوالے سے ہدایات جاری کی ہیں- صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹرعائشہ غوث پاشا نے اپنے خطاب میں مفت انٹرنیٹ سروس کے پروگرام کو ای گورننس کے فر وغ اور معیشت کی ترقی کے حوالے سے اہم اقدام قرار دیا -صوبائی وزرائ، اراکین اسمبلی ، پنجاب کے اعلی حکام او رآئی ٹی ماہرین نے تقریب میں شرکت کی- تقریب کے اختتام پر وائس چانسلر انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی ڈاکٹر عمر سیف نے وزیر اعلی کو یادگاری شیلڈ پیش کی جبکہ وزیراعلی نے مفت انٹرنیٹ سروس پروگرام کے پراجیکٹ مینجر سجاد غنی، ماہرین اور افسران کو یاد گاری شیلڈز دیں۔ وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف کی زےر صدارت اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس مےںپنجاب حکومت اورانڈس ہسپتال ٹرسٹ کے مابےن ہےلتھ کےئر سسٹم کو بہتر بنانے کے حوالے سے تےزرفتاری سے اقدامات پر اتفاق کےاگےا۔وزےراعلیٰ شہبازشرےف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت اورانڈس ہسپتال ٹرسٹ ملکر 500بستروں پر مشتمل جدےد ہسپتال بنائےں گے اورےہ ہسپتال دکھی انسانےت کی خدمت کے حوالے سے اےک مثال بنے گا۔اس ہسپتال مےں غرےب مرےضوں کا سو فےصد علاج مفت ہوگا۔انہوںنے کہا کہ ےہی وہ ماڈل ہے جس کے ذرےعے دکھی انسانےت کے زخموں پر مرہم رکھا جاسکتا ہے۔ہمےں اسی ماڈل کو آگے بڑھانا ہے ۔وزےراعلیٰ نے ہداےت کی کہ ہسپتال کے منصوبے کے حوالے سے تمام ضروری امور جلد طے کےے جائےں ۔انہوںنے کہا کہ لاہور کے گردونواں مےں بننے والے ہسپتالوں کی تکمےل سے بڑے ہسپتالوں پر مرےضوں کا بوجھ کم ہوگااوران ہسپتالوں کے فنکشنل ہونے سے قرےبی آبادےوں کو ان کے گھروں کے قرےب علاج معالجہ ملے گا۔انہوںنے کہا کہ بےدےاں روڈ ہسپتال کے بعد مناواں،سبزہ زار ، رائےونڈ اور کاہنہ کے ہسپتالوں کو بھی انڈس ہسپتال ٹرسٹ چلائے گا۔بےدےاں روڈ ہسپتال مےں بستروں کی تعداد بڑھائی جائے گی جبکہ سبزہ زار ہسپتال مےںبستروں کی تعداد 60سے بڑھا کر100کی جائے گی۔انہوںنے کہا کہ دکھی انسانےت کی خدمت کےلئے رواےتی اورفرسودہ نظام کے خلاف جنگ کررہا ہوںاوراس جنگ مےں مےرے ساتھ انڈس ہسپتال ٹرسٹ بھی شامل ہوچکا ہے ۔انہوںنے کہا کہ فرسودہ نظام کے خاتمے کےلئے آخری حد تک جائےں گے اورہم نے مل کر عام آدمی کو وہ طبی سہولتےں فراہم کرنا ہے جو اس کا حق ہے اورےہ حق لوٹانے کےلئے جذبے، محنت اورعزم کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔صوبائی وزراءخواجہ سلمان رفےق، خواجہ عمران نذےر، انڈس ہسپتال رےجنل بورڈکے محمد احسن، سی ای اوانڈس ہسپتال ٹرسٹ ڈاکٹر عبدالباری، مشےر ڈاکٹر عمر سےف، چےئرمےن منصوبہ بندی و ترقےات اورمتعلقہ حکام نے اجلاس مےں شرکت کی۔

کالعدم تنظیموں کے ”بھارتی اور افغان“خفیہ ایجنسیوں سے روابط احسان اﷲ احسان کا اعترافی بیان سامنے آگیا

راولپنڈی (بیورو رپورٹ) پاک فوج نے تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کا اعترافی ویڈیو بیان جاری کر دیا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ افغان اور بھارتی خفیہ ایجنسیاں پاکستان میں دہشتگردی کےلئے ٹی ٹی پی کی معاونت اور مدد کر رہی ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان کے دونوں خفیہ ایجنسیوں کےساتھ قریبی روابط ہیں۔ خالد خراسانی نے کہا کہ اسرائیل بھی مدد کریگا تو لے لونگا ¾ افغانستان میں نقل وحرکت کےلئے این ڈی ایس اور افغان فوج مدد کرتی ہے ¾مولوی فضل اللہ نے اپنے استاد کی بیٹی کے ساتھ زبردستی شادی کی اور افغانستان ساتھ لے گیا۔ کالعدم تحریک طالبان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ¾ دشمن لوگوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ¾ سوشل میڈیا کے ذریعے پراپیگنڈا پھیلا رہے ہیں نو جوان بہکاوے میں نہ آئیں۔ ٹی ٹی پی کا ساتھ دینے والے جنگجو پر امن زندگی پر واپس آ جائیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں احسان اللہ احسان نے کہا کہ میرا اصل نام لیاقت علی عرف احسان علی احسان اور تعلق مہمند ایجنسی سے ہے۔ انہوں نے بیان میں اعتراف کیا کہ 2008کے اوائل میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت اختیار کی اس وقت میں کالج کا طالب علم تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں کالعدم تحریک طالبان مہمند ایجنسی کا ترجمان بھی رہا ہوں جس کے بعد ٹی ٹی پی کا مرکزی ترجمان اور جماعت الاحرار کا ترجمان رہا۔ احسان اللہ احسان نے کہاکہ نو سالوں میں میں نے تحریک طالبان کے اندر بہت سی چیزوں کو دیکھا۔ انہوں نے اسلام کے نام پر لوگوں کو گمراہ کر کے اپنے ساتھ بھرتی کیا خصوصاً نو جوان طلبہ شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ جو یہ نعرہ لگاتے تھے یہ خود بھی اس پر پورا نہیں اترتے تھے چند مخصوص ٹولہ جو امراءبنے بیٹھے ہیں ¾بے گناہ مسلمانوں سے بھتے لیتے ہیں ان کا قتل عام کرتے ہیں ¾ پبلک مقامات پر دھماکے کر تے ہیں ¾سکولوں ¾ کالجوں اور یونیورسٹیوں پر حملے کرتے ہیں ¾ اسلام ہمیں اس چیز کا درس نہیں دیتا۔ انہوںنے کہاکہ جب قبائلی علاقوں میں آپریشن شروع ہوئے تو ان لوگوں کے اندر قیادت کی دوڑ اور بھی تیز ہوگئی ہر کوئی چاہتا تھا کہ وہ تنظیم کا لیڈر بنے۔ انہوں نے کہاکہ حکیم اللہ کی ہلاکت کے بعد نئے امیر کا سلسلہ شروع ہوا تو انتخابات کی طرح انتخابی مہم چلائی گئی اس دوڑ میں عمر خالد خراسانی، خان سعیدسجنا، مولوی فضل اللہ شامل تھے ہر کوئی اقتدار حاصل کر نا چاہ رہا تھا پھر شوریٰ نے قرعہ اندازی کا فیصلہ کیا۔ اس قرعہ اندازی کے ذریعے مولوی فضل اللہ امیر مقرر ہوئے۔ انہوںنے کہاکہ ایسی تنظیموں سے کیا توقع رکھ سکتے ہیں جس کا امیر قرعہ اندازی کے ذریعے مقرر کیا گیا ہو پھر امیر بھی ایسے شخص کو بنایاگیا جن کا کر دار ایسا ہے کہ انہوںنے اپنے استاد کی بیٹی کے ساتھ زبردستی شادی کی اور ان کو ساتھ لے گیا ایسی شخصیات اور ایسے لوگ اسلام کی خدمت نہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی اسلام کی خدمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع ہوا تو ہم سب افغانستان میں چلے گئے وہاں دیکھا گیا کہ افغانستان ان لوگوں کے بھارت ¾بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اورافغان خفیہ ایجنسی کے ساتھ تعلقات بڑھے جس کے بعد بھارتی اور افغان خفیہ ایجنسیوں نے ان کی حمایت کی ¾بھارت اور افغانستان کی ایجنسیوں نے ان کی مالی معاونت کی اور ان کو اہداف بھی دیئے ان سے ہر کارروائی کی قیمت وصول کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جنگجوﺅں کو لڑنے کے چھوڑ دیا اور خود محفوظ پناہ گاہوں میں چلے گئے جب این ڈی ایس اور را سے مدد لینی شروع کی گئی تو میں نے خالد خراسانی سے کہاکہ ہم کفار کی مدد کر رہے ہیں ملک میں کارروائیاں کر کے اپنے لوگوں کو مار کر دشمن کی خدمت کررہے ہیں جس پر انہوں نے مجھے کہاکہ پاکستان میں تخریب کاری پھیلانے کےلئے اگر اسرائیل بھی مدد کریگا تو میں ان سے مدد لے لونگا جس کے بعد میں سمجھ گیا تھا کہ خاص ایجنڈے کے تحت اپنے ذاتی مقاصد کےلئے سب کچھ کیا جارہاہے ان تنظیموں نے افغانستان کے اندر کمیٹیاں بنائی ہوئی ہیں جو افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے ذریعے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے روابط رکھتی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ افغان خفیہ ایجنسی نے باقاعدہ ان کو تذکرے دیئے گئے تھے تاکہ وہ آسانی کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکیں یہ تذکرہ افغانستان کی نیشلٹی ہے جس طر ح پاکستان میں شناختی کارڈ ہوتاہے اس طرح یہ تذکرہ افغانستان میں شناختی کارڈ کے طورپر استعمال کیا جاتا ہے اگر یہ نہ ہو تو کسی کےلئے بھی افغانستان کی سکیورٹی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے حرکت کر نامشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جاتے تھے تو اس کےلئے باقاعدہ این ڈی ایس اور افغان فورسز سے رابطہ ہوتا تھا وہ ان کو راستہ فراہم کرتے تھے اوران کی مرضی سے ان لوگوں کی نقل وحرکت ہوتی تھی جن میں پاکستان کے علاقے بھی شامل تھے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان میں آپریشن کے بعد افغانستان کے علاقے لال پورہ میں جماعت الااحرام کے کیمپ تباہ ہوئے اس میں کچھ کمانڈرز بھی مارے گئے وہ علاقہ ان کو چھوڑنا پڑاجو ان کامرکز تھا اس کے بعد جماعت کے اندر کمانڈوز اور نچلے طبقے کے جنگجوﺅں میں خاص قسم کی مایوسی پھیل گئی جو وہاں پر پھنسے ہوئے ہیں وہ نکلنا چاہتے ہیں ان کا پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ بس کریں ¾ امن کا راستہ اختیار کریں اور پرامن زندگی میں واپس آجائیں۔ انہوں نے کہاکہ آپریشن کے بعد جب میڈیا میں ان لوگوں کوکوریج ملنا کم ہوگئی تو ان لوگوں نے سوشل میڈیا کا سہارا لیکر کم عمر اور معصوم نو جوانوں کو گمراہ کر نے کی کوشش کی ¾ان کو ورغلایا ¾ اسلام کے نام پر اسلام کی غلط تشریح کر کے ایسے پیغامات سوشل میڈیا پر شیئر کئے اور پرپیگنڈا پھیلایا جس کے بعد نوجوان آسانی کے ساتھ ان کے جال میں پھنستے گئے۔ انہوںنے کہاکہ جو سوشل میڈیا استعمال کر تے ہیں ان نو جوانوں کےلئے کہنا چاہتا ہوںکہ یہ ان لوگوں کے غلط پراپیگنڈ ے میں قطعی طورپر نہ آئیں یہ لوگ اپنے ذاتی مقاصد کےلئے غیروں کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں یہ وہ تمام مذکورہ وجوہات تھیں جس کی بنا پر میں نے رضا کارانہ طورپر خود کو پاک فوج کے حوالے کر دیا ہے۔ پاکستان میں موجود کالعدم تنظیمیں بھی بھتہ لیتی ہیں۔ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ طالبان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ امن کا راستہ اختیار کریں۔ 9 سالوں میں میں نے تحریک طالبان اور جماعت الاحرار کو دیکھا ان لوگوں نے اسلام کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کر کے اپنے ساتھ شامل کیا یہ لوگ جو نعرہ لگاتے تھے خود بھی اس پر پورا نہیں اترتے تھے۔ چند مخصوص ٹولہ حکمران بنے بیٹھے ہیں۔ لوگوں سے بھتہ لیتے ہیں لوگوں کا قتل عام کرتے ہیں عوامی مقامات پر دھماکے کرتے ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان و جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے انکشاف کیا ہے کہ کالعدم جماعت الاحرار کے امیر عمر خالد خراسانی کو افغانستان میں افغان حکام کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے اس کا کابل میں ایک گھر ہے جہاں اس کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ نیٹو فورسز کی کارروائیوں کے دوران خراسانی زخمی ہوا تو اس کا علاج بھارت میں کیا گیا۔ احسان اللہ احسان نے کہا کہ کالعدم تنظیموں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کو بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان ایجنسی این ڈی ایس کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ جب سرحد کراس کی جاتی تو افغان حکام کو باقاعدہ خبر دی جاتی تھی کہ ہم یہاں سے گزر کر جا رہے ہیں اس لیے ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ کالعدم جماعتوں نے کمیٹیاں بنائی ہوئی ہیں جو را این ڈی ایس اور افغان حکام سے رابطے میں رہتی ہیں، جب بھی کوئی دہشتگرد سرحد پار کرنا چاہتا ہے تو وہ ان کمیٹیوں کو اطلاع کرتا ہے جس کے بعد افغان حکام کو انتظامات کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ کالعدم جماعت الاحرار کا سربراہ عمر خالد خراسانی افغانستان کے مختلف شہروں میں رہتا ہے۔ وہ کبھی جلال آباد میں ہوتا ہے تو کبھی کابل اور کبھی خوست میں رہتا ہے۔ احرار کے امیر کا ایک گھر افغان دارالحکومت کابل میں بھی ہے۔ کالعدم جماعت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 2015 میں جب جماعت الاحرار کا قیام عمل میں آیا تو اس کے پانچ سے چھ ماہ بعد نیٹو فورسز نے افغانستان میں ایک کارروائی کی جس کے نتیجے میں عمر خالد خراسانی زخمی ہو گیا جس کے بعد وہ افغان پاسپورٹ پر بھارت گیا اور علاج کرایا، اب دہشتگرد خراسانی مکمل صحتیابی کی زندگی گزار رہا ہے۔ احسان اللہ احسان نے اپنے اعترافی بیان میں واہگہ بارڈر، ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے، گلگت بلتستان میں 9 غیر ملکی سیاحوں کے قتل اور کرنل شجاع خانزادہ پر حملے سمیت دہشت گردی کی 10 سے زائد وارداتوں کی ذمہ داری قبول کی۔ سابق طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے حالیہ آپریشن سے افغانستان میں جماعت الاحرار کے کیمپس تباہ ہوئے اور کچھ کمانڈرز بھی مارے گئے۔ آپریشن کے باعث ہمیں علاقہ چھوڑنا پڑا جس سے کمانڈروں اور نچلی سطح پر مایوسی پھیلی ہوئی ہے، وہاں سے نکلنے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے پیغام ہے کہ واپس آجائیں، امن کا راستہ اختیار کریں اور پرامن زندگی گزاریں۔

پانامہ کیس, ن لیگ کا ثبوتوں کیساتھ جے آئی ٹی میں جانے کا فیصلہ

لاہور(حسنین اخلاق)مسلم لیگ ن کا پانامہ لیکس جے آئی ٹی میں قطری سرمایہ کاری کے مکمل ثبوتوں کے ساتھ جانے کا فیصلہ،حسن نواز اور حسین نوازخود پیش ہوکر خاندان کی نمائندگی کریں گے۔آف شور کمپنی میں براہ راست نام نہ ہونے کے باعث وزیراعظم کو جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی جانب سے طلب نہیں کیا جائے گا۔پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف دورغ گوئی اور ہتک عزت کا دعویٰ بھی دائر کیا جائے،مقدمہ جیتنے یا کمیشن بننے کی صورت میں حکومت کو فائدہ ہوگا،قانونی ٹیم کا ن لیگ کو مشورہ۔تفصیلات کے مطابق پانامہ لیکس پر سپریم کورٹ کی جانب سے جے آئی ٹی تشکیل دئیے جانے کے بعدشریف خاندان کا اپنے کیس کو نئی ترتیب اور مکمل ثبوتوں کے ساتھ ازسرنو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں مکمل” لین دین کے ثبوتوں“قطری سرمایہ کاری کے بھی نئے ثبوت دئیے جائیں گے جس میں کاروبار کے حوالے سے دونوں خاندانوں کے درمیان ہونے والی ”کارسپونڈنس “ شامل ہیں۔ن لیگی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پاکستان کے دونوں صاحبزادے حسن نواز ،حسین نواز یا کوئی ایک خود جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے روبرو پیش ہوکر اپنے خاندان کی نمائندگی کریں گے جبکہ وزیراعظم کا نام پانامہ لیکس میں نہ ہونے کے باعث انہیں جے آئی ٹی میں طلب نہیں کیا جائیگا۔اسی طرح کیپٹن(ر) صفدر ،مریم نواز اور اسحاق ڈار کو صرف ضرورت پڑنے پر جے آئی ٹی میں بھیجا جائے گا ورنہ ان کی قانونی ٹیم ہی انکی جانب سے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے ساتھ کارسپونڈنس کرے گی۔وزیراعظم پاکستان کو ان کے قانونی ماہرین نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ عمران خان کے خلاف دروغ گوئی اور ہتک عزت کے الزامات کے تحت عدالت سے رجوع کیا جائے جس میں انکی 2014ءسے 2017ءتک کے دوران کی گئی تقاریر اور پریس کانفرنسوںکو بطور ثبوت پیش کیا جائے گا اور اگر اس پر عدالت انکے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو وہ آئین کے آرٹیکل 62اور63 کی براہ راست زد میں آکر ازخود نااہل ہوجائیں گے جبکہ اس امید کا اظہار بھی کیا جارہا ہے کہ اگر عدالت اس پر کوئی کمیشن بھی تشکیل دےدے تو بھی مسلم لیگ ن کو سیاسی فائدہ ہوگا۔

افغانستان سے داخل ہونے والے دہشتگردوں پر بمباری, درجنوں ہلاک

خیبر ایجنسی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج نے افغانستان سے پاکستانی علاقے خیبر ایجنسی میں داخل ہونے والے دہشت گردوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد ہلاک اور کئی فرار ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق افغان صوبہ ننگرہار سے پاکستانی حدود خیبرایجنسی میں داخل ہونے والے دہشت گردوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے جب کہ کارروائی کے دوران متعدد دہشت گرد واپس افغان صوبے ننگرہار فرار ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی گئی جس میں دہشت گردوں کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بناکر تباہ کردیا گیا۔ دوسری جانب پاک فوج نے شمالی وزیرستان کی تحصیل میران شاہ میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے غاروں میں چھپایا گیا اسلحہ کا ذخیرہ پکڑ لیا۔ پولیٹیکل ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے اسلحہ وادی زنگوٹئی میں 2 غاروں کے اندر چھپایا تھا جس میں 275 راکٹ اور بھاری اسلحہ کے سینکڑوں راو¿نڈ شامل ہیں جب کہ ایک غار کے اندر مخصوص حالات میں چھپنے کا خاص انتظام اور مہارت سے محفوظ ٹھکانہ بھی بنایا گیا تھا۔

ایک اور بنچ کی سفارش، جے آئی ٹی بنانا غیر مناسب،پانامہ گھنٹی بجتی رہے گی

اسلام آباد،لاہور(وقائع نگار)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ڈان لیکس کی رپورٹ کا سب کوپہلے سے پتہ تھا ‘ رپورٹ کے مطابق کسی کمزور کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا ‘ سب کو چھوڑ کر چھوٹے سرکاری ملاز م کو گھسیٹیں گے ‘ ریاست کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا ‘ دشمن کو انفارمیشن دے کر مدد دی گئی ‘ حکمران کسان دشمن ہیں‘ عمران خان ا یک سمجھدار سیاستدان ہیں ‘ اپوزیشن کو تقسیم نہیں ہونے دیا جائے گا ‘ ملک میں گورننس نام کی کوئی چیز نہی۔ گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید خورشید شاہ نے کہا کہ خورشید شاہ نے کہا کہہ عمرا ن خان ایک سمجھدار سیاستدان ہیں۔ حکمران کسان دشمن ہیں۔ کسانوں پر کل بھی لاٹھی چارج کیا گیا۔ اسلام آباد کی سیکیورٹی کے لئے 7 ارب روپے خرچ کئے گئے۔ کل اسلام آباد میں کینیڈین شہری کو لوٹ لیا گیا۔ ملک میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے راہنمااعتزازاحسن نے کہاہے کہ پانامہ کیس میں 2ججزکافیصلہ ہی پانچوں کاہوناچاہئیے تھا،ایک اوربنچ کی سفارش کرنااورجے آئی ٹی بنانامناسب نہیں ،پانامہ کی گھنٹی بجتی رہے گی ،عدلیہ بحالی تحریک کے اصل مقاصدحاصل نہیں ہوئے ،تحریک سے متکبرججزاورمتشددوکلاءکے عناصرسامنے آئے ۔نجی ٹی وی کودیئے گئے انٹرویومیں انہوںنے کہاکہ آج بھی کہتاہوں کہ پانامہ کیس 4دن کامعاملہ تھا،جسے ایک سال تک لے جایاگیا،پانامہ کیس میں شریف خاندان نے مے فیئرفلیٹس کی ملکیت تسلیم کی پانامہ کیس سے پہلے کے بیانات شریف خاندان کے گلے پڑگئے ،نوازشریف نے مقدمہ میں عدالت کے سامنے کوئی مو¿قف نہیں رکھااورکوہی بھی معتبرثبوت پیش نہیں کیا۔پانامہ کیس میں نوازشریف سے فاش غلطیاں ہوئی ہیں ،یہ گھنٹی بجتی رہے گی ۔انہوںنے کہاکہ ماڈل ٹاو¿ن کی جے آئی ٹی رپورٹ سے شہبازشریف کانام نکال دیاگیاتھا،پانامہ کیس میں گارڈفادرکاجملہ آغازمیں نہیں اختتام تک لکھناچاہئے تھا،پانامہ کیس سے قبل مریم نوازنے جوکہاوہ جھوٹ ہے یاحسین نوازنے جھوٹ بولا،نوازشریف نے اپنی تقریر میں جھوٹ بولایاپھرسپریم کورٹ میں ان کے وکلاءنے جھوٹ بولاہے ،پانامہ کیس میں حقائق نے دلائل اورمفروضے واضح ہوگئے ۔انہوںنے کہاکہ عدلیہ بحالی تحریک کے مقاصدقانون کی بالادستی تھی ،تحریک کے اصل مقاصدنہیں ملے ،بحالی تحریک سے متکبرججزاورمتشددوکلاءکے عناصرسامنے آئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان میں مستقبل کی نہیں ماضی کی پیش گوئی کرسکتے ہیں ۔ رہنما پیپلزپارٹی قمرزمان کائرہ نے نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب ! آپ رنگے ہاتھوں پکڑے جاچکے ہیں جبکہ پوری قوم جانتی ہے اربوں کی جائیداد کہاں سے آئی ہے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم نے حکومت کے جھوٹے دعووں کے خلاف تحریک کا آغاز کیا ہےاور چار سال بعد ا ن کے خلاف میدان عمل میں نکلے ہیں۔ہم پیغام دینے نکلے ہیں کہ یہ الیکشن میں کیے وعدوں میں ناکام ہوئے ہیں اور اگریہ حکمران قبل از وقت چلے جاتے تو رونا روتے کہ مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔سٹیل مل،پی آئی اے اور ریلوے گھاٹے میں جارہے ہیں ہم اسے گھاٹے سے نکالیں گے اور مزید بہتر کریںگے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے قمرزمان کائرہ نے کہاکہ پانامہ فیصلے کے بعدوزیراعظم اپنے عہدے پررہنے کے قابل نہیں رہے اگروہ عہدے پررہے توتحقیقات کے لئے بنائی جانے والی جے آئی ٹی پراثراندازہوں گے ۔انہوں نے کہاکہ پانامہ کیس کی سماعت کرنے والے 2ججزنے نوازشریف کوچارج شیٹ کردیا،ججزنے کہاکہ وزیراعظم نے جھوٹ بولاہے اورکسی جج نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا ہے کہ پانامہ کے معاملے پر عمران خان کا 10 ارب روپے کی پیشکش کا الزام بہت سنگین ہے،عمران خان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اہم الزام کی وضاحت کریں،دس ارب کی آفر کون لے کر آیا کس نے پیغام بھیجا سب سامنے آنا چاہیے،عمران خان (ن) لیگ کے ساتھ پیپلزپارٹی کو بھی نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ عمران خان (ن) لیگ کے ساتھ پیپلزپارٹی کو بھی نشانہ بنانا چاہتے ہیں،دس ارب کی آفر کون لے کر آیا کس نے پیغام بھیجا سب سامنے آنا چاہیے،اگر کوئی ایسا پیغام آیا تو اس پر بھی وزیراعظم کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات چوہدری منظور نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی 4 مئی کو لوڈ شیڈنگ کے خلاف مینار پاکستان پر کیمپ لگائے گی، پانامہ لیکس کے فیصلے کے بعد وفاقی وزراءبوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں ان کے پاس کوئی راستہ نہیںکہہ اپنی پوزیشن کلیئر کرسکیں اس لئے دوسروں پر الزام تراشی کررہے ہیں۔ عمران خان کو واضح کرنا چاہئیے کہ پانامہ لیکس کے ایشو پر ان کو دس ارب روپے کی آفر کب اور کس نے کی تھی۔ پیپلزپارٹی پنجاب میں بھی بہت جلد جلسوں کا آغاز کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے خصوصی گفتگو میںکیا انہوںنے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ مینار پاکستان پر کیمپ لگاکر احتجاج کرتے تھے لیکن اب ہمارے دور سے زیادہ لوڈ شڈنگ ہورہی ہے پاکستان پیپلزپارٹی موجودہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف چار مئی کو مینار پاکستان پر احتجاجی کیمپ لگا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کے فیصلے کے بعد وفاقی وزراءپاگل ہوگئے ہیں اور بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ان کو پتہ نہیں چل رہا کہ وہ کون سا راستہ اختیار کریں۔ ایک انٹرویومیں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما شازیہ مری نے کہا کہ ‘پاناما کیس کے فیصلے میں ججز کے ریمارکس بہت ہی واضح ہیں اور اگر 2 ججز نے وزیراعظم نواز شریف کو مجرم قرار دیا تو باقی 3 بھی انہیں ملزم تو تصور کررہے ہیں لہذا اس صورتحال میں مسلم لیگ (ن) کا جشن سمجھ سے بالاتر ہے۔انہوںنے کہاکہ کچھ لوگ باتیں کررہے ہیں کہ ن لیگ کو کلین چٹ مل گئی تاہم فیصلے سے تو صاف لگتا ہے کہ یہ ابھی اس کیس سے بری نہیں ہوئے۔ سابق وزےر مملکت انصاف و پارلےمانی امور مہرےن انور راجہ نے کہا ہے کہ عمران خا ن اور نوازشرےف کا اےجنڈا اےک ہے ، دونوں کو صرف اقتدار سے محبت ہے ، عمران خان نے دھرنادے کر اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہےں نوازشرےف اقتدار میں رہنے کے لئے ہر حربہ استعمال کررہے ہےں ۔ ملک بھر کی جمہوری قوتوں نے آصف علی زرداری کے موقف کی تائید کی ہے ، عوام مسلم لےگ ن کے غےر سنجےدہ روئےے پر حےران ہیں۔

مسلح غنڈوں کا خبریں،چینل ۵ بیورو پر حملہ, صحافی تنظیموں کا احتجاج

گوجرانوالہ (بیورورپورٹ)روزنامہ خبریں اور چینل 5 کے بیورو آفس پر غنڈہ عناصر کا حملہ مسلح افراد نے دفتر کے شیشے اور فرنیچر توڑ دیا حملے میں بیورو چیف خبریں گروپ سابق صدر گوجرانوالہ یونین آف جرنلسٹس اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس چوہدری یاسر علی جٹ آفس بوائے جہانگیر رپوٹر حارث ظفر اور ساجد علی شدید زخمی ہو گئے گوجرانوالہ یونین آف جرنلسٹس کے صدر راجہ حبیب جنرل سیکرٹری عادل اکرم ایف ای سی ممبران رانا نوید گلزار عہداروں ایگزیکٹو ممبران سمیت تمام صحافی تنظیموں پریس کلب گوجرانوالہ الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن کیمرہ مین ویڈیو جرنلسٹس ایسوسی ایشن فوٹو گرافر ایسوسی ایشن پرنٹ میڈیا ایسوسی ایشن ایڈیٹر کونسل سینیر جونیئر صحافی بھائیوں نے اس غنڈہ گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پولیس حکام سے سیاسی دبا¶ میں آکر درج خبریں گروپ کے عملے کے خلاف ہونے والے مقدمے کو فوری طور پر خارج کر نے کا اور مسلح ہوکر میڈیا ہاوس پر غنڈہ گردی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے گوجرانوالہ یونین آف جرنلسٹس کے صدر راجہ حبیب جنرل سیکرٹری عادل اکرم نے کہا کہ میڈیا ہا¶سز پر غنڈہ گردی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے اگر حملہ آور قبضہ گروپ کے خلاف فوری کارروائی نہ ہوئی اور جھوٹا مقدمہ خارج نہ کیا گیا تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا دوسری طرف گوجرانوالہ یونین آف جرنلسٹس کے وفد نے ایس ایس پی آپریشن جناب ندیم کھو کھر صاحب سے ملاقات کی جہاں ایس ایس پی آپریشن نے مکمل تعاون اور میرٹ کی یقین دہانی کرائی ہے

”بھارت اور افغانستان کی سازشوں کا ثبوت مل گیا“ نامورتجزیہ کار ضیاشاہد کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ احسان اللہ احسان نے کوئی نئی بات نہیں کی ماسوائے اس کے کہ ملک میں اب تک جو دہشتگردی ہو چکی ہے اس میں جو ہمارے خدشات تھے کہ اس میں افغانستان کا بھی ہاتھ ہے لیکن سب سے زیادہ بھارت اور اس کی ایجنسی ”را“ ملوث ہے جبکہ مشرف و زرداری دور میں متعدد بار یہ ثابت بھی ہو چکا ہے۔ رحمان ملک نے بار بار کہا تھا کہ بلوچستان میں بھارت براہ راست مداخلت کر رہا ہے۔ وہاں پر بھارت دہشتگردوں کو اسلحہ اور پیسوں سے امداد کرتا ہے۔ اس وقت رحمان ملک سے سوال کیا تھا کہ اگر اتنے ثبوت موجود ہیں تو یو این او میں کیوں نہیں جاتے؟ انہوں نے جواب دیا کہ وزارت داخلہ کا کام پکڑنا ہے، بھارت کے خلاف احتجاج سمیت دیگر معاملات اب وزارت خارجہ کا کام ہے۔ تجزیہ کار نے کہا کہ عمران خان کا 10 ارب روپے کی پیش کش کا الزام سمجھ سے بالاتر ہے۔ بہتر ہوتا کہ وہ کوئی ثبوت بھی پیش کرتے۔ جب ان کی طویل جدوجہد کے بعد سپریم کورٹ نے پانامہ پر جے آئی ٹی بھی بنا دی ہے تو ایسے حالات میں اب شہباز شریف ہوں یا کوئی اور وہ 10 ارب روپے دے کر کیا حاصل کر سکتے ہیں۔ عمران خان مان بھی جائے تو بھی فیصلہ ابھی آنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیوز لیکس پر جب تک حکومتی رپورٹ نہیں آ جاتی، کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔ میڈیا نے شور مچا رکھا ہے کہ پرویز رشید بے قصور جبکہ راﺅ تحسین و طارق فاطمی قصوروار ہیں۔ پرویز رشید کے بارے تو میں نے بھی بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ وہ بے قصور ٹھہرائے جائیں گے اور دوبارہ وزارت اطلاعات کا قلمدان سنبھالیں گے لیکن میڈیا پر طارق فاطمی کے استعفیٰ نہ دینے کی خبریں سمجھ سے بالاتر ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ انہیں استعفیٰ دینے کا کہا گیا اور انہوں نے انکار کر دیا ہو حالانکہ انہیں ایک نوٹی فکیشن سے بھی فارغ کیا جا سکتا ہے۔ آئین کے مطابق وزیراعظم کا استحقاق ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں سے جس کو چاہے وفاقی وزیر، مشیر یا وزیر مملکت بنا دے، اسی طرح ان کو عہدوں سے ہٹایا بھی جا سکتا ہے۔ سابق وزیرداخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ بھارت کا مائنڈ سیٹ ہمارے خلاف ہے۔ جس احسان اللہ احسان نے انکشافات کئے ہیں، میں ہمیشہ اپنی تقاریر و بیانات میں اس کا نام لیتا تھا کہ یہ دو ٹکے کے بکنے والے ظالمان کا نمائندہ ہے، جتنا نقصان اس نے ملک کو پہنچایا کسی نے نہیں پہنچایا۔ یہ وہی احسان اللہ احسان ہے جو دہشتگردی کے واقعات کے بعد ذمہ داری قبول کرتا تھا۔ سابق افغان صدر کرزئی سے کہا تھا کہ ہمارے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بھارت نے افغانستان میں کیمپ لگائے ہوئے ہیں، جہاں بلوچستان کے لوگوں کو تربیت دے کر واپس بھیجا جاتا ہے، پھر جو دہشتگردی ہوتی ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ ان سے کہا تھا کہ چمن بارڈر پر چیک پوسٹ بنا کر سیٹلائٹ مانیٹرنگ کرتے ہیں، ان کے وزیرداخلہ نے آنے کی حامی بھی بھری لیکن جب چیک پوسٹ تیار کر لی گئی تو ان کے وزیرداخلہ نہیں آئے بلکہ 4 سے 5 دنوں میں اس کو تباہ کر دیا گیا جو ریکارڈ کا حصہ ہے۔ کرزئی سے کہا تھا کہ آپ پاکستان کے نہیں بلکہ بھارت کی فیور میں ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نیوز لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ نہیں دیکھی اس لئے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا البتہ ایک پیشگوئی کرتا ہوں کہ اس میں کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔البتہ چھوٹی موٹی کارروائی ہو سکتی ہے۔ پانامہ کیس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بطور انویسٹی گیٹر کنفیوژ ہوں 60 دنوں میں جے آئی ٹی کیسے رپورٹ پیش کرے گی کیونکہ جائیداد باہر، آف شور کمپنی کا ریکارڈ حاصل کرنا ناممکن، فلیٹس جن کے نام ہیں وہ بھی بیرون ملک اور جس نے فون کیا وہ ڈپلومیٹ ہے، رائل فیملی سے تعلق رکھتا ہے اس کو انویسٹی گیٹ نہیں کر سکتے۔ دیکھنا ہے کہ عدالت جے آئی ٹی کی کس طرح نگرانی کرتی ہے۔ بظاہر تو یہ حکومت ککی نگرانی میں ہی دکھائی دیتی ہے۔ کوئی بھی بڑی سے بڑی جے آئی ٹی 60 دنوں میں اتنی بڑی تحقیقات نہیں کر سکتی۔ تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے کہا ہے کہ عمران خان کو 10 ارب روپے کی پیش کش سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے آئی تھی۔ کہا گیا تھا کہ اپنا رویہ نرم کر لیں اور پانامہ کے حوالے سے جو بھی فیصلہ آئے اسے تسلیم کر لیںاور احتجاج نہ کریں۔ یہ پیش کش کوئی حیران کن بات نہیں، نون لیگ نے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے ہمیشہ پیسہ استعمال کیا۔ وہ برسوں سے ایسی ہی سیاست کرتے آ رہے ہیں۔ انتخابات کے قریب آتے ہی ہر حلقے میں اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں، حکومتی اعداد و شمار کے مطابق روزانہ 7 ارب روپے کا قرضہ لیا جا رہا ہے۔ عمران خان نے مجھے اس پیش کش بارے 15 دن پہلے بتایا تھا اورخوب ہنسے تھے لیکن اب پانامہ کا ماحول بہت گرم ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ یقین ہے کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں جے آئی ٹی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کر سکے گی۔ امید ہے کہ اس کی روزانہ کی کارروائی میڈیا سے چھپ نہیں سکے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ رمضان سے پہلے 6,5 جلسے کریں گے، بنیادی مطالبہ وزیراعظم کا استعفیٰ ہے کیونکہ وہ اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر کے جے آئی ٹی کی کارروائی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ایف آئی آر میں ردوبدل ناممکن, وزیراعلیٰ کا انقلابی اقدام

لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) پنجاب حکومت نے صوبے کے 5بڑے شہروں لاہو ر،راولپنڈی ، فیصل آباد ، ملتان اور بہاولپور کے 200سے زائد مقامات پر فری انٹرنیٹ (وائی فائی ہاٹ سپاٹس )سروس کا آغاز کردیا ہے جبکہ مری کے 16مقامات پر بھی انٹرنیٹ کی مفت سہولت فراہم کی گئی ہے -حکومت پنجاب کے اس شاندار پروگرام سے لاکھوں شہری مستفید ہوں گے اور انہیں رابطوں میں آسانی آئے گی- وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف نے ارفع کریم سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک میں مفت انٹرنیٹ سروس کا باقاعدہ افتتاح کیااس ضمن میں کمپیوٹرکابٹن دبا کر پروگرام کا آغاز کیا-وزیراعلی شہبازشریف نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صوبے کے پانچ بڑے شہروں میں مفت انٹرنیٹ سروس کا اجراءحکومت پنجاب کا شاندار پروگرام ہے اور صوبے کو ڈیجیٹل نظام کی جانب منتقل کرنے کے حوالے سے ایک اہم اقدام ہے-مری کے 16مقامات پر فری انٹرنیٹ سروس سے یہاں آنے والے سیاحوں کو فائدہ ہوگا-انہوںنے کہاکہ پنجاب حکومت نے صوبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں اور مختلف اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کارلا کران اداروں کی استعداد کار بڑھائی گئی ہے-انہوں نے کہاکہ لینڈ ریکارڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم حکومت پنجاب کا ایک ایسا اقدام ہے جس سے عوام کو پرانے اور فرسودہ نظام او رپٹواری کلچر سے نجات ملی ہے اوراس نئے نظام سے زمین کے معاملات کو آسان بنادیا گیا ہے اور پنجاب کی 5کروڑ 60لاکھ دیہی آبادی کو اس نئے نظام سے فائدہ پہنچا ہے-پرانے نظام میں غریب کسان کو رشوت اور وقت کے ضیاع کے بعداپنی زمین کی فرد ملکیت ملتی تھی جبکہ نئے نظام میں اسے 30منٹ میں فرد ملکیت بغیر رشوت دئےے مل رہی ہے جبکہ زمین کے انتقال کے معاملات صرف 45منٹ میں طے ہوتے ہیں-اراضی کے معاملات میں رشوت کا سایہ ختم ہوچکا ہے اور دیہی آبادی کو بے پناہ سہولت میسر آئی ہے-کسانوں کو پٹواری کلچر سے نجات ملی ہے ، کرپشن ختم ہوئی ہے اور وقت کی بچت ہوئی ہے-انہوں نے کہاکہ عالمی بینک نے بھی حکومت پنجاب کے اس اقدام کو شاندار قرار دیا ہے- عالمی بینک کے تعاون سے اس نئے نظام کے اجراءکا کریڈ ٹ حکومت پنجاب اور اس کی پوری ٹیم کو جاتاہے اور اس نئے نظام سے پنجاب جدید دور میں داخل ہواہے-انہوںنے کہاکہ پنجاب کے تمام تھانوں کو کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیاہے اور اب ایف آئی آر کا اندراج کاغذ پر نہیں بلکہ کمپیوٹر کے ذریعے ہوتا ہے جس سے اس میں کسی بھی قسم کے ردوبدل کے امکانات ختم ہوگئے ہیں- انہوںنے کہاکہ صوبے کے تمام تھانوں میں آئی ٹی ٹیکنالوجی کو فروغ دینا حکومت پنجاب کا ایک بڑا کارنامہ ہے اور اس حوالے سے سابق انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق سکھیرا کی کاوشیں لائق تحسین ہیں،جن کے پختہ عزم کی بدولت ہی یہ کارنامہ سرانجام دیا گیاہے اور مجھے یقین ہے کہ موجودہ انسپکٹر جنرل پولیس اس شاندار کام کو مزید آگے بڑھائیں گے- انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے پولیس افسر شاہی سے آگے نکل گئی ہے -انہوںنے کہاکہ پنجاب حکومت نے صوبے کے تمام سرکاری سکولو ںمیں آئی ٹی لیبز قائم کی ہےں اور اب سکولوں میں 50ہزار ٹیبلٹس دئےے جا رہے ہیں جو کہ جدید نظام سے مستفید ہونے کی جانب ایک اور اقدام ہے۔ انہوںنے کہاکہ ڈینگی کی وباءکے دوران بھی جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا گیااور دن رات بے پناہ محنت کی گئی اور ایک ٹیم ورک کے طور پر دکھی انسانیت کی خدمت کی گئی-ڈینگی کا ماڈل ایک سبق ہے اوراگر اس ماڈل کو زندگی کے تمام شعبوں میں اپنا لیا جائے تو انقلاب برپا ہوگا اور پاکستان مشکلات سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا اور عالمی برادری میں باوقار مقام حاصل کر لے گا- انہوںنے کہاکہ پاکستان کا مستقبل انفارمیشن ٹیکنالوجی سے جڑا ہے ،جدید علوم کو فروغ دے کر ہی ہم تیز رفتاری سے آگے بڑھ سکتے ہیں- انہوںنے کہاکہ ارفع کریم سافٹ ویئر پارک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کام کررہی ہے تاہم بیدیا ں روڈ پر اربوں روپے کی اراضی پر انفارمیشن ٹیکنالوجی یو نیورسٹی کے نئے کیمپس قیام عمل میں لایا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لئے زمین وائس چانسلر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر عمر سیف کے حوالے کر دی گئی ہے او ر انہوںنے ایک سال کے اندر اس یونیورسٹی کے قیام کا وعدہ کیا ہے- انہوںنے کہاکہ بیدیا ں روڈ پر قائم ہونے والی انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی ہر لحاظ سے ایک شاہکار ہوگی جس سے ہمارے نوجوان مزید با اختیار ہوںگے او راس یونیورسٹی کے قیام کے لئے مالی سال کے بجٹ میں فنڈ مختص کئے جائیں گے- وزیراعلی نے توانائی بحران کے خاتمے کے لئے کاوشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھکی میں گیس کی بنیاد پر بڑا منصوبہ لگایا گیا ہے- 1180میگا واٹ کے اس منصوبے کا سنگ بنیاد 9اکتوبر 2015ءکو رکھا گیا اور 19اپریل 2017ءکو اس منصوبے کا افتتاح کیا گیا او راس منصوبے میں 50ارب روپے کی بچت کی گئی اور یہ بچت حقیقی طو رپر کی گئی ہے – بھکی گیس پاور پلانٹ کی ٹربائن کی کارکردگی آج دنیا میں سب سے زیادہ ہے- ماضی میں گدو پاور پلانٹ میں لگنے والی ٹربائن کی کارکردگی 54فیصد ،جبکہ نیپرا کا بنچ مارک 57فیصد ہے -اس کے برعکس بھکی میں لگنے والی ٹربائن کی کارکردگی 61.9فیصدہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے- انہوںنے کہاکہ ایک طرف 985میگا واٹ کا نیلم جہلم پاور پراجیکٹ ہے جو 18سال گزرنے کے بعد بھی نا مکمل ہے جبکہ دوسری جانب 1180میگا واٹ کا بھکی پاور پلانٹ ہے جو 18ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہواہے اوراس کے پہلے مرحلے میں 717میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہورہی ہے- بھکی پاور پلانٹ کو 18ماہ کی مدت میں مکمل کرنا ایک عالمی ریکارڈ ہے- انہو ںنے کہاکہ بھکی پاور پلانٹ اور توانائی کے دوسرے منصوبے جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں عزم،ہمت اور تڑپ کی داستان سنا رہے ہیں او ریہ طریقہ پاکستان کو آگے لے جانے کا ہے-محنت، عزم او رہمت کے سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہو کر پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کریں گے-چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ،مشیر ڈاکٹر عمر سیف نے صوبے میں ای گورننس کے فروغ اور تعلیم ، صحت ،پولیس اوردیگر اداروں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی-انہو ںنے فری انٹرنیٹ سروس کے اجراءکے اعراض و مقاصد بھی بیان کئے- انہوںنے کہاکہ وزیراعلی شہبازشریف محنت او رغیر معمولی رفتار سے کام کرنے کے عادی ہیںاورانہوںنے اپنے کام سے اپنا نام بنایا ہے اور دنیامیں آج ”پنجاب سپیڈ“ کی اصطلاح عام ہوچکی ہے جس کا کریڈ ٹ وزیراعلی شہبازشریف کو جاتاہے جنہوںنے ہر موقع پر محنت ،دیانت او ررفتار کے جھنڈے گاڑے ہیں-انہوںنے کہاکہ ڈینگی کے دوران جس دیوانہ وار انداز میں شہبازشریف نے کام نے وہ ایک مثال ہے ،یہی وجہ ہے کہ آج پنجاب میں ڈینگی ختم ہوچکاہے او رسنگا پو رجیسے ملک میں ڈینگی آج بھی موجود ہے- انہوںنے کہاکہ پنجاب نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے کئی محکموں میں انقلابی تبدیلی کی ہیں جبکہ کے پی کے او رسندھ حکومت نے بھی پنجاب حکومت سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے حکومتی امور میں بہتری لانے کے حوالے سے تعاون مانگا ہے اور وزیراعلی شہبازشریف نے اس ضمن میں ہر طرح سے سندھ او رکے پی کے کے مدد کرنے کے حوالے سے ہدایات جاری کی ہیں- صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹرعائشہ غوث پاشا نے اپنے خطاب میں مفت انٹرنیٹ سروس کے پروگرام کو ای گورننس کے فر وغ اور معیشت کی ترقی کے حوالے سے اہم اقدام قرار دیا -صوبائی وزرائ، اراکین اسمبلی ، پنجاب کے اعلی حکام او رآئی ٹی ماہرین نے تقریب میں شرکت کی- تقریب کے اختتام پر وائس چانسلر انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی ڈاکٹر عمر سیف نے وزیر اعلی کو یادگاری شیلڈ پیش کی جبکہ وزیراعلی نے مفت انٹرنیٹ سروس پروگرام کے پراجیکٹ مینجر سجاد غنی، ماہرین اور افسران کو یاد گاری شیلڈز دیں۔ وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف کی زےر صدارت اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس مےںپنجاب حکومت اورانڈس ہسپتال ٹرسٹ کے مابےن ہےلتھ کےئر سسٹم کو بہتر بنانے کے حوالے سے تےزرفتاری سے اقدامات پر اتفاق کےاگےا۔وزےراعلیٰ شہبازشرےف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت اورانڈس ہسپتال ٹرسٹ ملکر 500بستروں پر مشتمل جدےد ہسپتال بنائےں گے اورےہ ہسپتال دکھی انسانےت کی خدمت کے حوالے سے اےک مثال بنے گا۔اس ہسپتال مےں غرےب مرےضوں کا سو فےصد علاج مفت ہوگا۔انہوںنے کہا کہ ےہی وہ ماڈل ہے جس کے ذرےعے دکھی انسانےت کے زخموں پر مرہم رکھا جاسکتا ہے۔ہمےں اسی ماڈل کو آگے بڑھانا ہے ۔وزےراعلیٰ نے ہداےت کی کہ ہسپتال کے منصوبے کے حوالے سے تمام ضروری امور جلد طے کےے جائےں ۔انہوںنے کہا کہ لاہور کے گردونواں مےں بننے والے ہسپتالوں کی تکمےل سے بڑے ہسپتالوں پر مرےضوں کا بوجھ کم ہوگااوران ہسپتالوں کے فنکشنل ہونے سے قرےبی آبادےوں کو ان کے گھروں کے قرےب علاج معالجہ ملے گا۔انہوںنے کہا کہ بےدےاں روڈ ہسپتال کے بعد مناواں،سبزہ زار ، رائےونڈ اور کاہنہ کے ہسپتالوں کو بھی انڈس ہسپتال ٹرسٹ چلائے گا۔بےدےاں روڈ ہسپتال مےں بستروں کی تعداد بڑھائی جائے گی جبکہ سبزہ زار ہسپتال مےںبستروں کی تعداد 60سے بڑھا کر100کی جائے گی۔انہوںنے کہا کہ دکھی انسانےت کی خدمت کےلئے رواےتی اورفرسودہ نظام کے خلاف جنگ کررہا ہوںاوراس جنگ مےں مےرے ساتھ انڈس ہسپتال ٹرسٹ بھی شامل ہوچکا ہے ۔انہوںنے کہا کہ فرسودہ نظام کے خاتمے کےلئے آخری حد تک جائےں گے اورہم نے مل کر عام آدمی کو وہ طبی سہولتےں فراہم کرنا ہے جو اس کا حق ہے اورےہ حق لوٹانے کےلئے جذبے، محنت اورعزم کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔صوبائی وزراءخواجہ سلمان رفےق، خواجہ عمران نذےر، انڈس ہسپتال رےجنل بورڈکے محمد احسن، سی ای اوانڈس ہسپتال ٹرسٹ ڈاکٹر عبدالباری، مشےر ڈاکٹر عمر سےف، چےئرمےن منصوبہ بندی و ترقےات اورمتعلقہ حکام نے اجلاس مےں شرکت کی۔

آرمی چیف سے اطالوی ہم منصب کی ملاقات….اہم معاملات سامنے آگئے

واشنگٹن (آن لائن) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاناما لیکس کے معاملے پر جے آئی ٹی قانون کے مطابق بنے گی اور اس میں وزارت خزانہ کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔ واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس پر جے آئی ٹی کی تشکیل قانون کے مطابق ہو گی اور اس میں وزارت خزانہ کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔ جے آئی ٹی میں 6 اداروں کے افسران شامل ہوں گے جبکہ اسٹیٹ بینک اور ایس ای ایس پی وزارت خزانہ کے ماتحت ادارے نہیں ہیں۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ امریکا کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائز مک ماسٹر سے ملاقات مفید رہی اور مک ماسٹر نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہا۔ مک ماسٹر کے ساتھ دفاع، مسئلہ کشمیر، بھارت اور افغانستان کے ساتھ مسائل پر بھی بات ہوئی۔ پاکستان کی سالمیت کے خلاف کام کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا، سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج نے کارروائیاں کی ہیں، چاہتے ہیں کہ پاکستانی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، ضرب عضب کی کامیابی کے بعد آپریشن ردالفساد کامیابی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا، جنرل (ر) راحیل شریف کی مسلم ممالک کے فوجی اتحادکے سربراہ کی حیثیت سے تعیناتی میں کوئی ابہام نہیں، وہ ریٹائر ہو چکے ہیں اور اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ 4 سالوں میں پاکستان کی کرنسی مستحکم رہی اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں صرف 5 فیصد گراوٹ آئی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے کنٹری ڈائریکٹر سے بات چیت مفید رہی، اب آئی ایم ایف کے مزید پروگرام کی ضرورت نہیں جبکہ بڑی امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہشمند ہیں۔ آئندہ بجٹ میں کوئی نئے ٹیکس نہیں لگانے جا رہے، بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کریں گے۔ ڈان لیکس کے حوالے سے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ڈان لیکس پر تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم نواز شریف کو پیش کی جا چکی، رپورٹ کی سفارشات پرعمل درآمد کیا جائے گا، رپورٹ کیسے لیک ہوئی اس پر انکوائری ہونی چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں طارق فاطمی کو ہٹانے کی سفارش نہیں کی گئی بلکہ طارق فاطمی کے عہدے میں تبدیلی پر بات ہو رہی ہے۔ تاہم ان کی تبدیلی کا فیصلہ انتظامی ہو گا۔ امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے کے معاشی فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ چینی کمپنیاں پاک-چین اقتصادی راہداری میں سرمایہ کاری کررہی ہیں جن میں ٹیکس میں بڑی مراعات ہوں گی لیکن انھوں نے دعویٰ کیا کہ ‘اس مخصوص فیصلے’ سے ملک کی معیشت کو نقصان نہیں ہوگا۔اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ’میں نے ورلڈ بینک کے صدر جم یانگ کم سے پورے بلوچستان کو روشن کرنے کے منصوبے پر بات چیت کی اور ان کا جواب مثبت تھا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے انھیں صوبے کے دورے کی دعوت دی تھی جس کو انھوں نے قبول کیا’۔وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ ‘میں نے انھیں یہ بھی کہا ہے کہ جب یہ تیار ہوگا تو ہم اس سلسلے کے پہلے منصوبے کا افتتاح ان سے کروانا چاہیں گے اور میرا خیال ہے کہ چیزیں مثبت ہوں گی’۔اسحٰق ڈار نے کثیر تعداد میں پاکستان نڑاد امریکی شرکا کو بتایا کہ جب 1999 میں ملک میں فوجی مداخلت ہوئی تو پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت ‘گوادر کو دبئی میں تبدیل’ کرنے کے قریب تھی لیکن پورے منصوبے کو پٹڑی سے اتار دیا گیا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم کراچی سے گوادر تک متوازی مشرق وسطیٰ تعمیر کرنا چاہتے تھے لیکن مداخلت نے ہمیں ایسا کرنے سے روکا’۔وفاقی وزیر نے وہاں پر موجود بلوچ شرکا سے اتفاق کیا کہ اگر بلوچوں کو ان کے حقوق دیے جاتے توصوبہ اپنی صلاحیتوں کو پا لیتا اور وہاں پر موجود شورش بھی نہیں ہوسکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کے دوسرے حصوں کی طرح بلوچستان کی معاشی خومختاری کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے اور امید ظاہر کی کہ سی پیک صوبے کے لیے نیا آغاز ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ چینی کمپنیوں کو ٹیکس میں چھوٹ دینے کے خاص فیصے سے قبل حکومت نے ‘لاگت اور منافع’ کا جائزہ لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہم اس طرح کے منفی باتیں سن رہے ہیں لیکن یہ دوطرفہ انتظامات ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘یورپین یونین نے اپنے اراکین کے لیے ٹیرف میں کمی کررکھی ہے، امریکا اپنے پڑوسیوں کو اسی طرح کی چھوٹ دیتا ہے اور اگر ہم اسی طرح کی آسانیاں چین کو دے رہے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفت کا کھانا نہیں ملتا’وہ 56 ارب ڈالر سرمایہ کاری کر رہے ہیں جس کے جواب میں ہم نے کچھ چھوٹ کی پیش کش کی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ چین عظیم دوست ہے اور منفی باتوں کا مقصد ‘سی پیک کے منصوبے کو کمتر’ ثابت کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘سی پیک نہ صرف دو طرفہ منصوبہ ہے بلکہ بنیادی طور پر پورے خطے کے لیے ایک وژن ہے اور جلد ہی تمام ہمسایہ ممالک تک پھیلا دیا جائے گا۔ اسحٰق ڈار نے چینی کمپنیوں کو سالانہ 150 ارب روپے کی چھوٹ دینے کے حوالے سے ایک سوال پر کہا کہ ‘یہ چھوٹ چینی کمپنیوں کو سی پیک میں 56 ارب ڈالر کی سرمایہ پر دی جارہی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘سی پیک کے حوالے سے غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ‘چین پیسہ حکومت کو نہیں دے رہا ہے اور اس کے مالی فوائد نجی شعبوں توانائی اور انفراسٹرکچر کے لیے مہیا کیے جارہے ہیں’۔انتخابات کے قریب آتے ہی مقبول پالیسیاں بنانے سے ملک کی معیشت کو نقصان پہنچنے کے حوالے سے ورلڈ بینک کے خدشات پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا ایسا کچھ کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے گزشتہ چند برسوں کے دوران جو حاصل کیا ہے اس کو صرف انتخابات میں جیت پر ضائع کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔ وضاحت کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘یہ حکومت کی پالیسی نہیں ہے،میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ صرف مقبولیت کے لیے ہم آنے والے بجٹ میں ایسے اقدامات نہیں کریں گے’۔اسحٰق ڈار کے مطابق ‘لوڈ شیڈنگ 2018 تک تاریخ کا حصہ بن جائے گی، جس کے لیے حکومت منصوبوں کو تیزی سے مکمل کررہی ہے۔ورلڈ بینک کی جانب سے مضبوط روپے سے پاکستان کی افزائش پر خدشات کے حوالے سے ایک اور سوال پر انھوں نے کہا کہ یہ اچھی معاشی پالیسی کی ایک علامت ہے جبکہ حکومت اور اسٹیٹ بینک اس میں تبدیلی کے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ پاکستان اوپن مارکیٹ پالیسی کو جاری رکھے گا۔ان کا کہنا تھا کہ’سرمایہ کار خوش ہیں کہ ہمارا ملک مستحکم ہے، مشرق وسطیٰ کی کرنسی کئی دہائیوں سے مستحکم ہے اور ان کی معیشتوں پر کوئی برعکس اثر نہیں پڑا تو پاکستان کی مستحکم کرنسی اس کی بڑھوتری کو نقصان کیوں پہنچائے گی۔ اسحٰق ڈار نے اعتراف کیا کہ روپے کی قدر میں استحکام اور تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث پاکستان کی برآمدات میں کمی آئی ہے لیکن حکومت اس کو درست کرنے کے لیے مراعات کی پیش کش کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ توانائی کے منصوبے چلتے رہیں گے، نئے بجٹ میں نئے ٹیکس لگانے کی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو از سرنومرتب کرنا چاہتاہے ، ہمیں دوستوں کی حیثیت سے آپس کے ابہام دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ نائن الیون کے بعد سے افغانستان میں جاری آپریشنز کو زیادہ کامیابی نہیں ملی، آپ ہر ایک طالبان کو تلاش کر کے مار نہیں سکتے اس کےلئے بہت طویل عرصہ چاہیے۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ پاکستان افغانستان کے مسئلہ کے افغانوں کی زیر قیادت سیاسی حل پر یقین رکھتا ہے۔ تاہم ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ نئی انتظامیہ کیا سوچ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں یقین ہے کہ نئی انتظامیہ اس معاملہ کو دیکھ رہی ہو گی ، ہمیں مل بیٹھ کر یہ دیکھنا ہوگا کہ کہاں کہاں خامیاں ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہاکہ حکومت پاکستان نے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو توڑنے اور دہشت گردوں کے صفایا کرنے کےلئے فوجی آپریشنز تیز کئے ہیںجبکہ بارڈر سکیورٹی کو بھی بڑھایا گیا ہے۔ افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ ہم امن کی کوششوں میں ہر ممکن طریقے سے کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم توقع کرتے ہیں کہ امریکہ ایک مشترکہ دوست کی حیثیت سے مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جلد از جلد خوش اسلوبی سے حل کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لئے ایک پرکشش مقام بن چکا ہے، عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی منفی سے مستحکم اور پھر مستحکم سے مثبت کر دی ہے، توقع ہے کہ پاکستان 2030ءتک جی 20 ممالک میں شامل ہو جائے گا، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کیا ہے اور عدالت کے فیصلے کی روشنی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے قیام کا خیرمقدم کرے گی۔