پاکستان میں ایڈ کے مریضوں کی تعداد جان کر آپ حیران رہ جائینگے

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) وفاقی وزارت قومی خدمات نے گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قومی اسمبلی میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے سروے کے مطابق پاکستان میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ کے قریب افراد میں ایڈز کا مرض پایا گیا ہے جن میں 30فیصد خواتین ہیں۔ مجموعی طور پر ان مریضوں میں سے صرف 18ہزار کا علاج قومی ادارہ صحت میں ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں وزارت صحت نے بتایا ہے کہ ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ طبی شعبوں میں احتیاطی تدابیر کا نہ ہونا بھی ہے‘ جبکہ خدشہ یہ ہے کہ مریضوں کی تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے‘ کیونکہ ملک میں ایڈز کے مرض کی تشخیص کی سہولیات بہت کم ہیں۔ وزارت صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے ایڈز کے علاج کیلئے امدادی رقم فراہم کرنے والے ادارے بھی تشویش میں مبتلا ہیں کہ مریضوں کی اتنی بڑی تعداد میں سے محض چند ہزار کا ہی علاج ہو رہا ہے۔ اگر باقی مریضوں کا علاج نہیں ہوا تو ایڈز کا مرض بڑی تیزی کے ساتھ پھیل بھی سکتا ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت اپنے طور پر کوئی حکمت عملی نہیں بنا سکتی‘ کیونکہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صحت کا شعبہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور بدقسمتی سے صوبے اس جانب سنجیدگی سے توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ وزارت صحت کے ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال چانڈکا میڈیکل کالج ہسپتال لاڑکانہ میں ایڈز کے 1329کیسز رجسٹرڈ ہوئے تھے۔ ان میں سے بیشتر کو یہ مرض استعمال شدہ سرنجوں اور ایڈززدہ خون لگانے کی وجہ سے لاحق ہوا ہے۔ سندھ میں ایڈز کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ صوبے میں جگہ جگہ غیرقانونی بلڈ بینک موجود ہیں جہاں سے مریضوں کو غیرمحفوظ خون فراہم کیا جاتا ہے۔ سندھ ایڈز کنٹرول کے اعدادوشمار ے مطابق 2015ءتک سندھ میں ایڈز کے 45ہزار سے زائد مریض رجسٹرڈ کئے گئے تھے۔ علاج کیلئے لائے جانے والے سب سے زیادہ مریض لاڑکانہ سے آئے تھے جن کی تعداد 656تھی۔ اس کے علاوہ قمبر‘ شہدادکوٹ میں 189‘ دادو میں 130اور خیرپور میرس میں 120مریض پائے گئے۔ ان مریضوں کو یہ علم ہی نہیں تھا کہ وہ کس خوفناک مرض کا شکار ہو گئے ہیں۔ اسی طرح کراچی میں بھی خواجہ سراﺅں کے ساتھ تعلقات اور نشے کیلئے ایک ہی سرنج کے بار بار استعمال کی وجہ سے ایڈز کا مرض عام ہو رہا ہے۔ ریلیف ویب کی رپورٹ کے مطابق 2016ءمیں پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد 18سے 30سال کی عمر کے لوگوں کی تھی۔ اس کے بعد 31سے 40سال کے لوگ ہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق 2005ءاور 2015ءکے درمیان پاکستان بھر میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں 17.6فیصد اضافہ ہوا جبکہ 2005ءکی نسبت ایڈز سے مرنے والوں کی شرح میں 14.41فیصد اضافہ ہوا۔ سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے اعدادوشمار کے مطابق کراچی میں ایڈز کے 42ہزار مریضوں کے علاج کیلئے فنڈز ہی نہیں ہیں۔ ان مریضوں کو دوسرے شہروں سے علاج کیلئے کراچی لایا گیا ہے۔ ایڈز کے پھیلاﺅ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک خاتون ماہر نفسیات کا کہنا تھا کہ ”ہمارے ہاں آج کل دینی تعلیم کو انتہاپسندی کہہ کر اس کی راہ روکی جا رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنسی بے راہ روی پر اسلامی تعلیم ہی قدغن لگاتی ہے‘ جبکہ ٹی وی چینلز اور انٹرنیٹ پر فحش مواد نوجوانوں کو ہی نہیں‘ بڑی عمر کے لوگوں کو بھی بے راہ روی کی ترغیب دیتے ہیں۔ اس کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں۔“ پاکستان گلوبل ایڈز رسپانس پروگریس رپورٹ کے مطابق ملک میں یہ مرض 1980ءکی دہائی میں بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کے ذریعے داخل ہوا تھا۔ دو دہائیوں تک اس کے بڑھنے کی شرح بہت کم تھی لیکن اب نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کراچی میں سرنجوں کے ذریعے نشہ کرنےوالوں میں اس مرض کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ ملک بھر میں استعمال شدہ سرنجوں کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا ہونے والے 27.2فیصد ہیں۔ طوائفوں کے ساتھ تعلق کی وجہ سے مریض ہونے والے 5.2اور ہم جنس پرستی کی وجہ سے ایڈز میں مبتلا افراد 1.6فیصد ہیں۔ مریضوں میں 70فیصد مرد اور 30فیصد عورتیں ہیں۔

پرائیویٹ یونیورسٹیز کے طلباءکیلئے اہم خبر

لاہور (خصوصی رپورٹ) پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے لاہور سمیت صوبے بھر کی 24پرائیویٹ یونیورسٹیز کو وارننگ دی ہے کہ وہ غیرمنظورشدہ ڈگری پروگرامز کو رجسٹرڈ کروائیں۔ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق غیرمنظور شدہ ڈگریوں میں داخلوں پر یونیورسٹیز کے خلاف کارروائی ہو گی۔ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے فی ڈگری پروگرام کی منظوری کیلئے پراسیسنگ فیس 40ہزار روپے مقرر کردی۔ ڈگری پروگرام کی منظوری ماہرین کی کمیٹی دے گی جس میں وائس چانسلرز‘ ڈینز اور سابق وائس چانسلر شامل ہوں گے۔ ماہرین کی ٹیم ڈگری پروگرامز کی حتمی منظوری کیلئے متعلقہ یونیورسٹیز کا دورہ بھی کرے گی۔ چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نظام الدین کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ یونیورسٹیز کے غیرمنظور شدہ ڈگری پروگرامز کی سخت مانیٹرنگ بھی کی جائے گی۔ پی ایچ ای سی ایک ماہ میں ان یونیورسٹیز کی رپورٹ کو حتمی شکل دے گا۔ کمیشن نے یونیورسٹیز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ صرف ان پروگرامز میں داخلے کئے جائیں جو کمیشن کی جانب سے منظورشدہ ہوں۔ خلاف ورزی پر کارروائی ہو گی۔

لاہور کو تقسیم کرنیکا کا فیصلہ

لاہور (خصوصی رپورٹ) تیزی سے پھیلتے ہوئے شہر لاہور کو حکومت نے 4 اضلاع میں تقسیم کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا۔ لاہور شہر کی آبادی دو کروڑ سے تجاوز کرنے کے بعد انتظامیہ طور پر شہر کو چار حصوں میں تقسیم کئے جانے کا امکان قومی ہوتا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں وزارت داخلہ نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس کے حکام اس سکیم کو عملی جامہ پہنانے کی سفارشات پیش کریں گے۔ اس سلسلے میں بننے والی کمیٹی کے کنوینر کمشنر لاہور جبکہ ڈپٹی کنوینر میئر لاہور ہوں گے جبکہ دیگر ممبران میں کیپٹل سٹی پولیس افسران‘ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اور لوکل گورنمنٹ کے ایڈیشنل سیکرٹری ہوں گے۔ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ایک میگا بورڈ بنایا جائے گا اور معاملے کو حتمی شکل دے گا۔ اس سلسلے میں ہونے والے اجلاس میں ڈی آئی جی چودھری سلطان نے اس سکیم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تاحال شہر کو 6 ڈویژن کو صدر‘ سٹی کینٹ‘ سول لائن‘ اقبال ٹاﺅن‘ ماڈل ٹاﺅن اور کینٹ سٹی میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تیزی سے پھیلتے ہوئے شہر کو مربوط منصوبہ بندی سے ہی بہتر کیا جاسکتا ہے۔ میئر لاہور کے مطابق لاہور کو تقسیم کرنے سے قبل تمام تحفظات کو باہم مل کر دور کیا جائے گا۔ لاہور کو چار اضلاع میں تقسیم کرنے کیلئے کیمٹی کی حتمی سفارشات کابینہ کمیٹی کے سامنے منظوری کے لئے پیش کی جائیں گیں۔
چار اضلاع

”جھوٹا“

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے عمران خان کو 10ارب والی بات کے الزام پر ایک لفظ میں جواب دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق مریم نوازنے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عمران خان کے 10ارب کے بیان ردعمل کااظہار کرتے ہوئے ان کے بیان کی تردید کر دی اور عمران خان کے متعلق ایک لفظ جھوٹا لکھ دیا ۔واضح رہے کہ عمران خان نے الزام عائد کیا تھاکہ انہیں پانامہ کیس پر خاموش رہنے کیلئے حکومت نے10ارب کی پیش کش کی تھی۔

سوشل میڈیا کو 4ماہ کی مہلت۔۔۔

لاہور(خصوصی رپورٹ)لاہور ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا سے توہین آمیز مواد ہٹانے کے لئے متعلقہ حکام کو 4 ماہ کی مہلت دے دی،عدالت نے وزارت اطلاعات، وزارت خارجہ اور آئی ٹی حکام سے رپورٹ بھی طلب کر لی۔منگل کولاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عاطر محمود نے سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کے خلاف درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کے وکیل نے بتایاکہ عدالتی احکامات کے باوجود سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد نہیں ہٹایا گیا،عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سوشل میڈیا پر موجود توہین آمیز مواد ہٹانے کا حکم دیا جائے جس پر عدالت نے 4 ماہ میں توہین آمیز مواد ہٹانے کا حکم جاری کر دیا۔لاہور ہائیکورٹ نے فیس بک اور ٹوئٹر سمیت دیگر سوشل میڈیا پر جعلی اکاو¿نٹس بنانے کیخلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے کے بارے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے ایڈووکیٹ اشتیاق چوہدری کی درخواست پر سماعت کی جس میں سوشل میڈیا پر جعلی اکاو¿نٹس بنانے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے۔ جسٹس عاطر محمود نے پلاسٹک کی بوتلوں کے استعمال کے خلاف درخواست پروفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔ مقامی شہری طارق خان کی درخواست میں پلاسٹک کی بوتلوں کے استعمال کو چیلنج کیا گیا۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے عدالت میں جواب داخل کرایا گیا جس میں اس بات کی تروید کی گئی ہے کہ پلاسٹک کی بوتلوں کا استعمال مضر صحت ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق برطانوی لیبارٹری نے پلاسٹک کی بوتلوں کو قابل استعمال قرار دیا ہے۔

بھارت کا گھناﺅنا چہرہ بے نقاب، احسان اﷲ احسان کے چونکا دینے والے انکشافات

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک)ہتھیار ڈالنے والے کالعدم تنظیم کے احسان اللہ احسان کا اعترافی بیان جاری کردیا گیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) نے احسان اللہ احسان کا اعترافی بیان جاری کیا جس میں اس نے اعتراف کیا کہ تحریک طالبان نے اسلام کے نام پر لوگوں کو گمراہ کیا اور بے گناہوں کا قتل عام کیا،ایسے شخص کو امیر بنایا گیا جس نے اپنے استاد کی بیٹی سے شادی کی۔2008 ء میں تحریک طالبان میں شمولیت اختیار کی،کالعدم ٹی ٹی پی کا مرکزی ترجمان رہا،میرا تعلق مہمند ایجنسی سے ہے اورکالج کا طالبعلم تھا جبکہ کالعدم تنظیم جماعت الاحرار کا بھی ترجمان رہا۔تحریک طالبان نے اسلام کے نام پر لوگوں کو گمراہ کیا،آپریشن کے دوران تنظیم میں قیادت کی دوڑ شروع ہوگئی اور ٹی ٹی پی نے معصوم لوگوں کو مارا،خود اسلام کا نعرہ لگاتے تھے مگر اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔اصل نام لیاقت علی ہے ۔احسان اللہ احسان نے اعتراف کیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور ’این ڈی ایس‘ کا طالبان کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے جبکہ افغانستان میں نقل و حرکت کیلئے این ڈی ایس اور افغان فوج مدد کرتی تھی،تحریک طالبان پاکستان میں ذاتی مقاصد کیلئے تخریب کاری کررہی ہے،سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے پراپیگنڈہ کیا گیا۔شمالی وزیرستان میں جب آپریشن ہوا تو افغانستان چلے گئے ۔وہاں تذکرہ جاری کر دیا جاتا ہے ۔

 

پانامہ کیس میں نیا موڑ, حکومتی ٹیم میں سرگوشیاں

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پاناما لیکس کیس کے فیصلے کے خلاف شریف فیملی کی جانب سے نظرثانی کی اپیل دائرکرنے پرغور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بعض حکومتی ماہرین قانون نے حکام کو رائے دی ہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے فیصلے میں جو آبزرویشنز دی ہیں ان کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر ہونی چاہیے کیونکہ اس فیصلے کی موجودگی میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم آزادانہ کام نہیں کر سکے گی اور شریف فیملی کے لیے مشکلات ہو سکتی ہیں تاہم شریف فیملی کی لیگل ٹیم نے ابھی تک پاناما لیکس کے فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل داخل کرنے سے اتفاق نہیں کیا۔

بزرگوں کیلئے حکومت کا نیا حج ریلیف پیکج, بڑی خوشخبری

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) وزارت مذہبی امور نے رواں برس 90سال سے زائد عمر کے شہریوں کو بغیر قرعہ اندازی کے حج پر بھجوانے پر غور شروع کر دیا ہے‘ اب تک 90سال سے زائد 180مرد اور خواتین نے حج درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ وزارت مذہبی امور کے حکام نے تجویز وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کو بھجوا دی ہے۔ رواں سال حج کیلئے ملکی تاریخ میں پہلی بار 3لاکھ سے زائد عازمین نے سرکاری سکیم کے تحت درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ ان میں ایک لاکھ 69ہزار مرد اور ایک لاکھ 31ہزار سے زائد خواتین شامل ہیں۔ ان حج درخواستوں کی مد میں 9روز میں دس بینکوں میں 84ارب روپے سے زائد رقم جمع ہوئی ہے۔ درخواستیں جمع کرانے کا سلسلہ آج بدھ کو بھی جاری رہے گا۔ تفصیلات کے مطابق ایک لاکھ 69ہزار 606مرد اور ایک لاکھ 31ہزار 277خواتین نے درخواستیں جمع کرائی ہیں جن میں دو سال تک کے 310بچے بھی شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت مذہبی امور نے سردار محمد یوسف کو تجویز دی ہے کہ 90سال سے زائد عمر کے شہریوں کو قرعہ اندازی کے بغیر حج پر بھجوایا جائے۔ وزارت مذہبی امور درخواستوں پر قرعہ اندازی 28اپریل کو کرے گی جس میں ایک لاکھ 7ہزار 526خوش نصیب عازمین حج کا انتخاب کیا جائے گا۔
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت پاکستان نے 20 ہزار حجاج کا مزید کوٹہ حاصل کرنے کے لئے سعودی حکام سے مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف آئندہ چند روز میں سعودی عرب جائیں گے۔ اس وقت پورے ملک میں مردم شماری ہو رہی ہے لیکن جب تک مردم شماری کے بارے میں اقوام متحدہ کی جانب سے باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں ہوتا پاکستان کو اس کی مردم شماری کے مطابق حج کا اضافی کوٹہ نہیں مل سکتا۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف پاکستان اور سعودی عرب کے خصوصی تعلقات کے پیش نظر اضافی حج کوٹہ پر سعودی حکام سے مذاکرات کریں گے۔ حج درخواستوں کی وصولی میں 3 روز رہ گئے ہیں لیکن اب تک 2 لاکھ 83 ہزار 400 درخواستیں بینکوں میں وصول ہو چکی ہیں جبکہ یہ تعداد گزشتہ سال کی وصول ہونے والی درخواستوں سے تجاوز کر گئی ہے اس سال مجموعی طورپر ایک لاکھ 79 ہزار 210 پاکستانی فریضہ ادا کریں گے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف سعودی عرب میں عازمین حج کے لئے عمارات کا جائزہ بھی لیں گے اور حج ڈائریکٹوریٹ کو عمارات کے حصول کے لئے گائیڈ لائن دیں گے۔ دریں اثنا رواں برس فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے جانے والے عازمین حج کیلئے ایمرجنسی مینجمنٹ سسٹم کے تحت حجاز مقدس میں سہولیات فراہم کی جائیں گی جبکہ حجاج محافظ سکیم بھی جاری رہے گی ۔نجی ٹی وی کے مطابق ایمرجنسی مینجمنٹ سسٹم ڈی جی حج کی نگرانی میں قائم کیا جائیگا جس میں وزارت مذہبی امور کے سیکرٹری سمیت دیگر حکام ممبران ہونگے جس کے تحت حجاج کی بروقت مدد کے بارے میں لائحہ عمل مرتب کیا جا رہا ہے ۔ اس سال تمام حجاج کی مدینہ منورہ اور جدہ ائیرپورٹس پر ایکسپریس کلیئرنس کرائی جائے گی۔ سرکاری سکیم کیساتھ پرائیویٹ حج ٹور آپریٹرز کی کارکردگی کو بھی سختی سے مانیٹر کیا جائیگا، شکایت کی صورت میں متعلقہ پرائیویٹ حج ٹور آپریٹرز کو بھاری جرمانہ سمیت بلیک لسٹ کر دیا جائے گا ۔ دوسری طرف وزارت مذہبی امور حجاج محافظ سکیم کے تحت حجاز مقدس میں طبعی یا حادثے میں وفات پانے والے حجاج کے لواحقین کو پانچ لاکھ، حادثے میں ایک عضو ضائع ہونے پر ڈیڑھ لاکھ، مستقل معذوری کی صورت میں اڑھائی لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔

اراکین پارلیمنٹ کیلئے بڑی خوشخبری, ذاتی مفاد پر تمام جماعتیں متحد

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 146 فیصد ریکارڈ اضافے کے بعد ارکان کی تاحیات پنشن‘ انشورنس اور ہیلتھ کارڈ کے اجراءکی تیاری شروع کردی ہے۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ارکان پارلیمنٹ کی مراعات میں اضافے کی یقین دہانی کروا دی۔ انشورنش‘ ہیلتھ کارڈ اور پنشن مقرر ہونے سے قومی خزانے پر سالانہ 3 ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا۔ ارکان پارلیمنٹ ملک کے کسی بھی نجی ہسپتال سے علاج کروائیں گے جبکہ بل قومی اسمبلی یا سینٹ سیکرٹریٹ ادا کرے گا۔ پانچ سال پورے کرنے والے رکن کو تاحیات پنشن دی جائے گی۔ غریب عوام کے منتخب نمائندوں کی تنخواہوں میں وفاقی حکومت نے اکتوبر 2016ءسے 146 فیصد ریکارڈ اضافہ کیا تھا۔ وزارت پارلیمانی امور کی دستاویز کے مطابق پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی نے قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور مراعات میں اضافے کا بل جمع کروایا جس کی پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام جماعتوں کے اراکین نے حمایت کی۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور میاں عبدالمنان کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار ارکان پارلیمنٹ کے وفد کو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پنشن‘ ہیلتھ کارڈ اور انشورنس پالیسی منظور کروانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے مطلوبہ فنڈز جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کرچکے ہیں۔ ارکان کی مراعات میں اضافہ کا معاملہ جلد تین وزارتوں کی مشترکہ قائمہ کمیٹی میں پیش کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ یکم اکتوبر 2016ءسے اضافہ سے بعض ارکان پارلیمنٹ ایک لاکھ 50 ہزار روپے جبکہ سپیکر قومی اسمبلی 2 لاکھ 5 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لے رہے ہیں۔

سرکاری رقوم کی ادائیگی نہ کرنیوالوں بارے بُری خبر

اسلام آباد (اے پی پی) قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ جو لوگ سرکاری رقوم کی ادائیگی کرنے سے گریزاں ہیں ان کے شناختی کارڈ بلاک کردیئے جائیں اور اس معاملے پر وزارت داخلہ سے بات کرکے پیش رفت کا آغاز کیا جائے فیڈرل بورڈآف ریونیو ( ایف بی آر) نے پی اے سی کو بتایاکہ ریکوری کے حوالے سے عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کے سلسلہ میں انہیں سب سے زیادہ مشکلات مقدمات کے 6 ماہ سے زائد حکم امتناعی سے پیش آرہی ہیں۔ پارلیمنٹ اس معاملے کی تشریح کے ساتھ ساتھ قانون سازی کرکے ہماری مدد کرے ۔پی اے سی کا اجلاس بدھ کو قائمقام چیئرمین سردار عاشق حسین گوپانگ کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں پی اے سی کے ارکان سینیٹر چوہدری تنویر خان ، سینیٹر کاظم علی شاہ ، ڈاکٹر عذرا افضل ،شاہد ہ اختر علی ، پرویز ملک ،محمود خان اچکزئی ،راجہ جاوید اخلاص، جنید انوار چوہدری، شیخ روحیل اصغر ، ڈاکٹر درشن ،رانا افضال حسین ، ارشد خان لغاری کے علاوہ متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایف بی آر کی 2013-14 ءکی آڈٹ رپورٹ کاجائزہ لیا گیا ، ایف بی آر کے چیئرمین ڈاکٹر ارشاد نے پی اے سی کو بتایاکہ ریکوریوںکے حوالے سے بہت تیزی سے کام ہو رہاہے۔ اس حوالے سے عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی پیر وی کے لئے پی اے سی کی ہدایات کی روشنی میں اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔ ہائی کورٹ سمیت دیگر عدالتوں سے باقاعدہ درخواست کی گئی ہے کہ مقدمات کی سماعت کے لئے بینچ تشکیل دیئے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ٹیکسوں کی مانیٹرنگ کے لئے ایک سافٹ ویئر تیار کیا گیاہے ، کمیٹی کے چیئرمین نے ہدایت کی کہ پی اے سی کے اجلاس کے بروقت انعقاد کو یقینی بنایاجائے ، ٹیکسوں کی محکمے کے کسی ملازم کی وجہ سے عدم ریکوری کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہاکہ پی اے سی کی ہدایت سے پہلے لیگل ونگ نہیں تھا۔ میں نے خود وکلاءکے پاس جا کر تمام تفصیلات اکٹھی کی ہیں جن وکلاء نے مو¿ثر پیروی نہیں کی انہیں نکال دیا گیاہے ، نئے وکلاءکی خدمات میرٹ پر حاصل کی گئی ہیں ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا ایف بی آر نے پانچ سالوں میں ریکوریاں نہیں کیں۔ چیئرمین ایف بی آر نے کسی کو سزا دی نہ کسی کے خلاف کوئی کارروائی کی ہے ۔ یہ ساری صورتحال آڈٹ رپورٹ میں واضح ہے ۔ چیئرمین ایف بی آر نے پی اے سی کو بتایاکہ گزشتہ دو ماہ میں 25 ارب روپے کی ریکوری کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 94 فیصد تک ریکوری ہوچکی ہے۔ ایک آڈٹ اعتراض کے جائزے کے دوران پی اے سی کے سوالوں کے جواب میں چیئرمین ایف بی آر نے کہاکہ ریکوری کے حوالے سے پیش رفت جاری ہے ، جب یہ معاملہ حتمی مرحلے میں پہنچا تو پتہ چلے گا کہ قصور وار کون ہے۔ جو بھی کسی غلطی میں ملوث ہوتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ سینیٹر چوہدری تنویر خان نے بھی ایف بی آر کی کارکردگی کے حوالے سے سوال اٹھایا کہ کوتاہی میں ملوث حکومت کے کسی کارندے کے خلاف کوئی کارروائی نظر نہیں آرہی ۔چیئرمین نیب نے پی اے سی کو بتایاکہ حکم امتناعی کے بعض مقدمات ایسے ہیں جن کی مدت 6 ماہ سے بھی زیادہ ہے اس حوالے سے قانون سازی میں پارلیمنٹ کی مدد درکار ہے اور پارلیمنٹ کو اس کی تشریح کرنی چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں چیئرمین ایف بی آر نے کہاکہ ریکوریوں کے حوالے سے نادرا ، ایس ای سی پی اور دیگر اداروں سے مدد لی جاتی ہے تاہم ہمارے ہاں کسی کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا اختیار نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں چیئرمین ایف بی آر نے کہاکہ عدالتوں میں ریکوریوں کے 300ارب روپے کے مقدمات زیر التوا ہیں۔چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ ریکوری کے حوالے سے نادرا شناختی کارڈ بلاک کرنے سے مدد ملے گی۔چیئرمین ایف بی آر نے اس تجویز کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ سازی کا عمل جاری ہے، ہم قانون میں یہ تجویز ڈال دیں گے ۔ آڈیٹر جنرل نے تجویز دی کہ ریکوریوں کے فوجداری مقدمات کے حوالے سے چیئرمین ایف بی آر ، نادرا کو لکھیں پھر فنانس بل کے ذریعے قانون سازی کی جائے۔ پی اے سی نے ہدایت کی کہ اس معاملے پر وزارت داخلہ سے رابطہ کیاجائے اور جو لوگ پیسے نہیں دے رہے ان کا شناختی کارڈ بلاک کئے جائیں تو لوگ خود آکر رقم ادا کردیں گے۔