پولیس کا پنجاب یونیورسٹی میں سرچ آپریشن….بڑی کاروائی

لاہور (خصوصی رپورٹ) پولیس کی بھاری نفری نے گزشتہ رات پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس ہاسٹلز میں سرچ اینڈ سویپ آپریشن کیا۔ ایس پی اقبال ٹاﺅن، ڈی ایس پی مسلم ٹاﺅن، 4 تھانوں کے ایس ایچ اوز سمیت ڈیڑھ سو پولیس افسران و اہلکاروں نے آپریشن میں حصہ لیا۔ اس موقع پر پولیس کے ہمراہ یونیورسٹی انتظامیہ بھی موجود تھی۔ ان ٹیموں نے ہاسٹلز میں 4 سو 50 کمروں کی تلاشی لی۔ وہاں مقیم طلبہ کی بائیومیٹرک مشینوں کے ذریعے کوائف چیک کئے گئے۔ پولیس نے 10 طلبہ کو اپنی حراست میں لے لیا۔ بعدازاں ان کی شناخت ہونے پر انہیں چھوڑ دیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ آپریشن کرنے کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ یونیورسٹی ہاسٹلز میں کوئی غیرطلبہ عناصر موجود نہ ہوں۔

کالے دھن کو سفید کرنیکا فارمولا مسترد, ایف بی آر کا بڑا اعلان

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 15فیصد ٹیکس ادا کر کے بیرون ملک خفیہ اثاثوں کو قانونی قرار دلوانے سے متعلق ٹیکس ریفارمز کمیشن کی مجوزہ ایمنسٹی سکیم سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ ایف بی آر کے اس تازہ ترین مو¿قف کے بعد بجٹ میں غیر ملکی اثاثہ جات اور آف شور کمپنیوں کو قانونی قرار دلوانے سے متعلق ایسی کسی نئی ایمنسٹی سکیم کے آنے کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں۔ بجٹ سازی میں مصروف ایف بی آر کے ایک سینئر افسر نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ایف بی آر نے غیرملکی اثاثہ جات کو15فیصد ٹیکس ادا کر کے قانونی قرار دلوانے سے متعلق جو تجویز پیش کی تھی کیا اس کے تحت پاناما لیکس اور بہاماس لیکس کے تحت سامنے آنیوالے غیر ملکی اثاثہ جات اور آف شور کمپنیوں کو بھی اس سکیم کے تحت قانونی قرار دلوایا جاسکے گا یا نہیں تو بجٹ سازی میں مصروف سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پہلے تو یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ تجویز ایف بی آر کی نہیں بلکہ ٹیکس ریفارمز کمیشن کی ہے اور دوسری اہم بات یہ ہے ایف بی آر اس تجویز کو بالکل سپورٹ نہیں کرتا لہٰذا اس سکیم کے تحت کیا کور ہوگا اور کیا نہیں وہ بے معنی ہے۔

فضائیہ کے 100سے زائد پائلٹس سمیت فورسز کے 4ہزار اہلکار برطرف

انقرہ(ویب ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اردوان نے فضائیہ کے 100 سے زائد پائلٹس اور آرمی کے ایک ہزار اسٹاف ممبران سمیت 4 ہزار اہلکاروں کو برطرف کردیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی میں گزشتہ برس ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے مختلف اداروں سے ملازمین کو برطرف کئے جانے کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور حکومت کی جانب سے فوجی بغاوت کا حصہ بننے کے شبے میں اب تک ترک آرمی، ائیرفورس، پولیس، عدالتوں اور دیگرمتعدد اداروں سے لاکھوں افراد کو نوکریوں سے برطرف کیا جا چکا ہے۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے دہشت گرد تنظیموں سے روابط کے شبے میں مزید 4 ہزار اہلکاروں کو برطرف کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ حکام کے مطابق برطرف کئے گئے افراد میں وزارت انصاف کے ایک ہزار، آرمی اسٹاف کے ایک ہزار جب کہ ائیرفورس کے 100 سے زائد پائلٹس بھی شامل ہیں۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں سے روابط رکھنے والے افراد قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں اس لئے قومی اداروں میں ایسے افراد کا عہدوں پر برقرار رہنا زہر قاتل ہے۔

”مینار پاکستان “,جلسے کی اجازت نہ دینے پر پیپلزپارٹی کا بڑا جواب

لاہور(خصوصی رپورٹ) ضلعی انتظامیہ نے پیپلزپارٹی کو 4مئی کو لوڈشیڈنگ کے خلاف مینار پاکستان پر احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے دو روز قبل چیف سیکرٹری پنجاب کو ملک میں ہونیوالی لوڈشیڈنگ کے خلاف مینار پاکستان پر احتجاجی کیمپ لگانے اور کیمپ کے ارکان کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لئے ایک تحریری درخواست دی تھی جس کی روشنی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وکلاءجن میں سردار لطیف کھوسہ، میاں افتخار شاہد اور دیگر شامل تھے نے ڈپٹی کمشنر لاہور سے ملاقات کی جنہوں نے پیپلز پارٹی کو یہ کہہ کر کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے، کیمپ لگانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے تاہم پیپلز پارٹی کے وکلاءوفد جس کی قیادت پارٹی رہنما نوید چوہدری کر رہے تھے کا کہنا تھا کہ پر امن احتجاج جمہوریت کا حصہ ہے۔ اور وہ اجازت ملے یا نہ ملے مینار پاکستان میں ہر صورت میں احتجاجی کیمپ لگائیں گے اور لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کریں گے۔ کائرہ نے کہا کہ حکومتی ہتھکنڈے احتجاج کو نہیں روک سکتے، ہر صورت چار مئی کو مینار پاکستان پر احتجاج کرینگے،ادھر خرم لطیف کھوسہ نے کہا کہ پی پی احتجاج کرے گی، ہماری پارٹی طے شدہ جگہ سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ پی پی پی نے ضیاءالحق کی آمریت کا مقابلہ خوب کیا اب ضیاءالحق کی باقیات کو نمٹنا بھی خوب جانتی ہے۔

گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کرنیوالا گروہ پکڑا گیا, اہم انکشافات

لاہور (کرائم رپورٹر،اپنے سٹاف رپورٹر سے) ایف آئی اے کاوزات داخلہ سے فری ہینڈ ملنے کے بعد گردوں کی خرید فروخت کرنے والوں کے خلاف پہلا کامیاب چھاپہ، ای ایم ای سوسائیٹی میں واقع ایک گھر سے گردوں کی غیر قانونی خرید فروخت کر نےوالا گروہ گرفتار ، مزید تفتیش کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیاگیا ۔بتایا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے ایف آئی اے کو فری ہینڈ دیا گیا کہ گردوں کی غیر قانونی خرید و فروخت کی روک تھام اور گھناﺅنے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت ایکشن لیا جائے جس کے بعد ایف آئی اے کی ٹیم نے خفیہ انفارمیشن پر لاہور کے علاقہ ای ایم ای سوسائٹی میں واقع ایک گھر پر چھاپہ مار کر 2گردے فروخت کر نے والے اور 2گردے خریدنے والے افراد کو موقع سے گرفتار کر لیا گیا ۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق جب ٹیم موقع پر پہنچی تو ایک شخص کا گردہ پیٹ سے باہر نکال کر رکھا گیا تھا جوکہ خریدار کے پیٹ میں فٹ کرنا تھا جبکہ دوسرے فروخت کندہ کا ابھی گردہ باہر نکالنا تھا کہ ایف آئی اے نے چھاپہ مار کر ڈاکٹروں سمیت تمام افراد کو موقع سے گرفتار کر لیا۔ ملزمان کے خلاف ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ ایک کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ یاد رہے کہ ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ کے تحت ایف آئی اے کی یہ پہلی کاروائی ہے جس کے تحت ملزمان کو 10سال قید اور 10لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جاتی ہے ۔ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی مزید کاروئیاں عمل میں لائی جائیں گی تاکہ اس ناسور کا ملک سے مکمل اور ہمیشہ کیلئے خاتمہ کیا جاسکے ۔ گرفتار ڈاکٹر التمش ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا جنرل سیکر ٹری ہے۔

پاکستان میں نیا سیاسی بحران شروع, 2018ءسے پہلے الیکشن

اسلام آباد، لندن (مانیٹرنگ ڈیسک، بی بی سی) ذرائع کے مطابق ڈان لیکس پر حکومت کی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کرنے کے بعد پاک فوج نے معاملے کی خود تحقیقات کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنا شروع کردیا۔ پاک فوج ڈان لیکس کی خود تحقیقات کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے کیونکہ پاک فوج کے خیال میں رپورٹ میں پوری حقیقت سامنے نہیں آئی اور فوج معاملے کی مکمل تحقیقات کروانا ضروری سمجھتی ہے جبکہ بی بی سی کے مطابق حکومت کی جانب سے سنیچر کو ڈان لیکس کی انکوائری رپورٹ کے حوالے سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن اور اس کے بعد فوج کی جانب سے اس کی تردید کے بارے میں ٹویٹ کے بعد تجزیہ نگاروں نے کہا کہ فوج کا بیان غیر معمولی اور نامناسب تھا۔پاکستان مسلم لیگ کے سابق رکن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کی ٹویٹ کے بارے میں کہا کہ ‘یہ بہت ہی غیر معمولی بات ہے اور یہ اس چیز کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان تناو¿ بڑھ جائے گا اور اس کا نتیجہ شاید پاناما پیپرز کی تفتیش میں نکلے گا جہاں وزیر اعظم کا فوج کے نمائندوں سے سامنا ہو سکتا ہے۔ ‘ایاز امیر نے مزید کہا کہ شاید سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے نواز حکومت کو بہت اختلافات تھے لیکن نئے سربراہ جنرل قمر باجوہ تو بالکل غیر سیاسی شخصیت ہیں اور حکومت سے فوج کے تناو¿ کی کوئی کیفیت نہیں تھی۔انھوں نے کہا کہ حکومت کو اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ ڈان لیکس کا معاملہ فوج کے لیے کتنا ضروری ہے لیکن حکومت نے اس معاملے کو اتنا ضروری نہیں سمجھا کہ جلد حل کیا جائے۔ایاز امیر نے کہا کہ ’لگتا یہی ہے کہ حالات مستقبل میں شاید مزید گھمبیر ہو جائیں۔ فوج کی طرف سے دیا جانے والا یہ بیان بہت غیر معمولی ہے اور مجھے نہیں یاد پڑتا کہ پہلے ایسا کوئی بیان دیا ہو۔ فوج نے حکومتیں الٹائیں ہیں لیکن ایسے بیانات نہیں دیے ہیں۔ دفاعی تجزیہ نگارنے بی بی سی بات کرتے ہوئے فوج کے رد عمل کے بارے میں کہا کہ ‘یہ نا مناسب تھا۔ آئی ایس پی آر کو ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی اور اس سے ایک بار پھر دونوں جانب تعلقات کشیدہ ہو جایئں گے۔‘آئی ایس پی آر کی ٹویٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نئے ہیں اور شاید اتنے تجربہ کار نہیں ہیں لیکن بات یہ ہے کہ اختلاف ضرور ہے دونوں فریقین کے درمیان اور فوج کی شکایت جائز ہے۔ فوج کی تنبیہ کرنا ٹھیک ہے لیکن ڈھکی چھپی بات نہیں کرنی چاہیے۔انھوں نے مزید کہا کہ اگر معاملے کی تہہ میں جائیں تو جب یہ واقعہ ہوا تھا تو فوج نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔کی تنبیہ کرنی تھی تو کھل کر کرتے او ر وہ کوئی ایسی بات نہیں ہوتی لیکن یہ چھپ کر کام کرنا اچھی بات نہیں تھی اور کیونکہ ہمارے ملک میں رواج نہیں ہے کہ فوج کو اس طرح بولا جائے جس پر وہ برا مان گئے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت جو پاناما پیپرز کے مقدمے پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد پہلے ہی شدید دباو¿ اور سیاسی بحران کا شکار نظر آتی ہے اس کے لیے سنیچر کو وزیر اعظم کی طرف سے ڈان لیکس کی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن سے سیاسی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔وزیر اعظم کےنوٹیفیکیشن، فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا ٹویٹر پر جاری ہونے والا بیان اور پھر وزیر داخلہ کی وضاحتی پریس کانفرنس نے نہ صرف فوج اور حکومت کے درمیان ڈان لیکس کے معاملے پر شدید اختلافات کو طشت از بام کر دیا ہے بلکہ اس تاثر کو بھی تقویت بخشی کہ ڈان لیکس کے پیچھے اصل عناصر وہ نہیں جنہیں حکومت بلی چڑھا رہی ہے۔اس ساری صورت حال میں یہ بات اور واضح نظر آتی ہے کہ وزیر اعظم ہاو¿س میں ملکی سکیورٹی سے متعلق انتہائی اہم اجلاس کی کارروائی کی خبر ڈان اخبار کے رپورٹ سرل المائڈہ کو لیک کرنے والے عناصر اتنے اہم ہیں جن کو بچانے کے لیے حکومت کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔موجودہ صورت حال جس میں حکومت پاناما مقدمے کے فیصلے کے بعد شدید دباو¿ میں ہے اور وزیر اعظم سے مستفعی ہونے کے مطالبوں کا شور شدت اختیار کرتا جا رہا ہے حکومت ڈان لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ پر پوری طرح عملدرآمد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔بعض مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت اپنے پانچ سالہ دور کے آخری سال میں کوئی ایسا کام کرنا چاہتی ہے جسے وہ آئندہ انتخابات میں عوام کے سامنے اپنے آپ کو ایک سیاسی شہید اور مظلوم بن کر پیش کر سکے۔ اس کے علاوہ تجزیہ نگاروں نے پیشین گوئی کی ہے کہ ڈان لیکس کی رپورٹ آنے کے بعد حکومت، پاک فوج میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور 2018ءسے پہلے الیکشن ہوسکتے ہیں کیونکہ محاذ آرائی کا بگل بج چکا ہے۔ اس حوالے سے حکومتی کیمپ میں یہ مشورے کیے جارہے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں میں سے کچھ کو ساتھ ملا کر آنے والے سیاسی طوفان کا مقابلہ کیا جائے تاہم حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ کیا حکومت سرنڈر کرے یا بات بڑھے گی؟ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔

عوام پر پٹرول بم گرانے کی تیاریاں, نئی قیمتیں سامنے آگئیں

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے یکم مئی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کی سمری وزارت خزانہ کو ارسال کر دی جس میں مٹی کے تیل کی قیمت میں 15روپے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے فی لٹر اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزارت خزانہ آج 30اپریل کو وزیراعظم کی منظوری کے بعد نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی۔ تفصیلات کے مطابق اوگرا نے مٹی کے تیل کی قیمت میں 15 روپے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے اضافے کی سمری بھجوا دی۔ پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے کمی کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ وزارت خزانہ 30 اپریل کو وزیراعظم کی منظوری کے بعد نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی۔

ڈان لیکس پر دونوں اطراف سے غلط طریقہ اختیار کیا گیا, دیکھئے اہم خبر

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ) چینل فائیو سے گفتگو کرتے ہوئے لندن سے تجزیہ کار شمع جونیجو نے کہا ہے کہ نیوز لیکس نوٹی فکیشن پر دونوں طرف سے غلط طریقہ کار اختیار کیا جارہا ہے جو پاکستان کو ایک بری صورتحال کی طرف لے جائے گا جبکہ موجود صورتحال میں ہم کسی قسم کے انارکی برداشت نہیں کرسکتے، مخالفت برائے مخالفت کی جارہی ہے۔وزیر داخلہ نے بھی کہا کہ یہ رپورٹ وزرات داخلہ جاری کرنا تھی، پرنسپل سیکرٹری نے کیسے کردی، اسحاق ڈار بڑے سیاستدان ہیں، معاملے کو دبانے کی کوشش کررہے ہیں، انکایہ کہنا کہ نوٹی فکیشن کا ایک حصہ ہے ابھی دوسرا حصہ آنا ہے، پھر کہنا یہ کہ پرویز رشید بھی ذمہ دار تھے لیکن انہیں بتا چکے ہیں اس لئے نوٹی فکیشن میں انکا نام نہیں تو ہر جگہ غلطیاں ہورہی ہیں، وزیراعظم پانامہ کیس کو تو ہینڈل کرگئے، لیکن جس طرح انہوںنے نیوز لیکس رپورٹ کو میس ہینڈل کیا ہے وہ سوتے شیر کو جگانے کے مترادف ہے، وزیر داخلہ کے بیانات ثابت کرتے ہیں کہ حکومت ایک پیج پر نہیں، یہ معاملہ جلدی انتخابات کے بجائے عدالت میں جاتا دکھائی دے رہاہے، حکومت بری صورتحال سے دوچار ہے، پہلے ہی پانامہ کیوجہ سے دباو¿ میں ہے، ایسے میں خود اپنے پاو¿ں پر کلہاڑی مارنے کی کیا ضرورت تھی، جب وہ خود ہی ایک پیج پر نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت و آرمی دونوں پھنس چکے ہیں، نکلنے کا کوئی قانونی راستہ نہیں ہے،6 ہزار ٹویٹس ہوچکے ہیں جو اب واپس نہیں ہوسکتے، وزیراعظم کو آرمی چیف سے ملاقات کرکے مشاورت کرنی چاہئے، انہیں تھوڑا جھکنا پڑے گا، اگر وہ فوج ودیگر اداروں کے سربراہان کو منانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو بہتری آسکتی ہے لیکن لگتا نہیں کہ یہ معاملہ اب بہتری کی طرف جائے گا، اب یہ خراب ہی ہونے جارہا ہے، آرمی جس شخص کو ذمہ دار دیکھنا چاہتی ہے، وزیراعظم ہاو¿س اسے ذمہ دار قرار نہیں دے گا، جس سے تصادم بڑھے گا۔

ثنا فیملی کے ہمراہ چھٹیاں منانے ملائیشیا پہنچ گئیں

لاہور(کلچرل رپورٹر)اداکارہ ثنا اپنی فیملی کے ہمراہ چھٹیاں منانے ملائیشیا پہنچ گئی ہیں جہاں وہ دوہفتے مقیم رہیں گی۔اس بارے میں ثنا نے کہا کہ میں ساراسال کام کرتی ہوں جس کے بعد سیروتفریح کے لئے کسی ملک میں ضرورجاتی ہوں کیونکہ اس طرح فیملی کے ساتھ اچھاوقت گزارنے کا موقع ملتا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ میں وطن واپسی پر اپنے زیرتکمیل پراجیکٹ مکمل کراﺅں گی جن میں فلمیں اور ڈرامے شامل ہیں۔ انہوں نے مزیدبتایا کہ نجی ٹی وی سے آن ایئر ڈائریکٹراحسن طالش کی سیریل”الف اللہ اور انسان“میں ناظرین مجھے ایک نئے کردارمیں دیکھ سکیں گے۔

بینش چوہان، جویریہ عباسی سیریل میں اکٹھے کام کرینگی

لاہور(کلچرل رپورٹر)اداکارہ بینش چوہان اور جویریہ عباسی نئی سیریل میں ایک ساتھ کام کریں گی۔ذرائع نے بتایا ہے کہ دونوں اداکاراﺅں کو کراچی کے ایک پروڈکشن ہاﺅس کی نئی ڈرامہ سیریل میں کاسٹ کیا گیا ہے جس کی ریکارڈنگ شروع ہوگئی ہیں تاہم اس کی تمام تفصیلات پوشیدہ رکھی جارہی ہیں۔ ڈرامے میں بہت سے نئے فنکاروں سینئرزبھی کام کررہے ہیں۔اس بارے میں بینش چوہان نے بتایا کہ ہم کافی عرصے بعد کسی ڈرامے میں اکٹھے کام کررہی ہیں۔ انہوں نے مزیدبتایا کہ میں جلد ہی ذاتی سیریل شروع کرنے جارہی ہوں۔