ملالہ یوسفزئی کیلئے اقوام متحدہ کا بڑا اعلان….

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) ملالہ یوسفزئی کو اقوام متحدہ نے امن کی سفیر مقرر کر دیا۔ ملالہ یہ عہدہ حاصل کرنے والی پاکستانی پہلی کم عمر ترین خاتون بن گئیں غیرملکی میڈیا کے مطابق سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے ملالہ یوسفزئی کو امن کا سفیر مقررکردیا ہے۔ ملالہ یوسفزئی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں کوئی دہشتگرد یا انتہا پسند نہیں ہوں پاکستان کی نمائندہ ہوں کسی بھی معاشرے کی ترقی کیلئے خواتین کی تعلیم بہت ضروری ہے پاکستان میں تبدیلی کیلئے تمام لڑکیاں اپنا کردار ادا کریں۔ ملالہ نے کہا کہ تبدیلی کیلئے کسی مدد کا انتظار کئے بغیر فوری کام شروع کرنا ہوگا۔ خواتین کو ترقی سے اب کسی صورت روکا نہیں جاسکتا۔

آج کی معیشت میں سود پر پابندی کا نظام, شرعی عدالتیں سر پکڑ کر بیٹھ گئیں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، صباح نیوز) وفاقی شرعی عدالت نے ملک بھر سے سودی نظام کے خاتمے کے لئے دائر درخواستوں کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دی ہے جبکہ چیف جسٹس شرعی عدالت جسٹس ریاض احمد خان نے دوران سماعت آبزرویشن دی ہے کہ جس وقت سود کی ممانعت کا حکم ہوا اس وقت کی معیشت آج کی معیشت سے مختلف ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت کے نظام کو آج کے دور میں کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ چیف جسٹس ریاض احمد خان کی سربراہی میں جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خان، جسٹس شیخ نجم الحسن اور جسٹس ظہور احمد پر مشتمل چار رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو عدالتی معاون ڈاکٹر محمد انور شاہ نے قرآنی آیات اور مفسرین کی طرف سے رباہ، انٹرسٹ اور سود کے الفاظ کی تعریفوں کے حوالے دیئے۔ انہوں نے کہا کہ بائبل میں بھی حکم ہے کہ عیسائی اپنے عیسائی بھائی کو سود نہ دے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ رباہ، انٹرسٹ اور سود ایک ہی لفظ کے مختلف معانی ہیں تو عدالتی معاون نے جواب دیا کہ تینوں الفاظ کے لفظی معنی ایک ہی لیکن اصطلاحی معانی الگ الگ ہیں عدالت نے استفسار کیا کہ سود کا لفظ کہاں سے آیا۔ معاون کا کہنا تھا کہ سود فارسی لفظ ہے جبکہ رباہ عربی لفظ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فارسی میں سود کے لفظی معنی کیا ہیں؟ عدالتی معاون کا کہنا تھا کہ اسلامی تاریخ کے مختلف مسالک کے علمائ کی طرف سے ان الفاظ کے مختلف معانی دیئے گئے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب سود کی ممانعت کا حکم ہوا تو اس وقت کی معیشت آج کی معیشت سے مختلف تھی۔سوال یہ ہے کہ اس وقت کے نظام کو آج کے وقت میں کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ پہلے رباہ، سود اور انٹرسٹ کی تعریف کا تعین ہونا چاہئے۔ عدالتی معاون نے کہا کہ موجودہ بینکنگ نظام اس زمانے میں تو موجود نہیں تھا لیکن کیا تجارت اور لین دین کی تعریف موجودہ دور میں تبدیل ہو گئی ہے۔ غبن، دھوکہ اور تجارت کی آج بھی تعریف وہی ہے جو صدیوں پہلے تھی۔ پہلے اونٹ پر تجارت ہوتی تھی آج کل جہازوں پر ہوتی ہے۔ چیف جسٹس نے اسفسار کیا کہ اس وقت افراط زر کی شرح شاید 6 فیصد ہے لیکن اگر آج ایک شخص 100 روپے لیتا ہے تو کیا وہ ایک سال کے بعد 100 روپے دے گا یا 106 روپے ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں انٹرسٹ کی تعریف سود نہیں بلکہ نقصان کا ازالہ سمجھی جاتی ہے۔ عدالتی معاون نے اپنے ایک نقطے پر دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے نقطے پر دلائل وہ آئندہ سماعت پر دیں گے جس پر عدالت نے مقدمے کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

مسئلہ کشمیر سرفہرست،بھارت پر دباﺅ بڑھائینگے, او آئی سی کی اہم شخصیت کا اعلان

اسلام آباد(صباح نیوز)سیکرٹری جنرل او آئی سی کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کمیشن کے دورہ مقبوضہ کشمیرکے لئے بھارت پر دباو بڑھایا جائے گا کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری بند کریں ۔ تمام بڑے مسائل پر پاکستان کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے ،اسلام آباد میں مشترکہ پریس مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے او آئی سی کے نئے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف احمد نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتے ہیں اور او آئی سی کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حامی ہے بھارت نے انسانی حقوق مشن کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت نہیں دی اس حوالے سے بھارت پر دباو بڑھایا جائے گا ،ڈاکٹر یوسف احمد کا کہنا تھا کہ کشمیر اور دیگرمسلم ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہیں۔سیکریٹری جنرل او آئی سی نے کہا کہ اسلامی تعاون کی تنظیم بھارت سے مقبوضہ کشمیر تک رسائی فراہم کرنے کا مطالبہ کرچکی ہے لیکن بدقسمتی سے بھارت نے یہ مطالبہ مسترد کردیا۔ڈاکٹر یوسف احمد کا کہنا تھا کہ بھارت او آئی سی کے انسانی حقوق کے کمیشن کی جانب سے دورے کی درخواست بھی مسترد کرچکا ہے، تاہم ہم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل تک نئی دہلی پر دباو ڈالتے رہیں گے۔ڈاکٹر یوسف احمد کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سے ہم نے کشمیر، فلسطین اور مسلمانوں کو یورپی ممالک میں درپیش مسائل پر بات کی انہوں نے شام کے معاملے کا سیاسی طریقے سے حل کرنے کی ضرورت پر بھی زوردیا ۔ سیکرٹری جنرل او آئی سی یوسف احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان او آئی سی کا اہم رکن ملک اور ہمارا دوسرا گھر ہے یہاں کی عوام سے محبت ہے ہم او آئی سی کی حمایت پر پاکستان کے شکر گزار ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ امت مسلمہ کواو آئی سی سے بہت توقعات وابستہ ہیں ہم تمام بڑے مسائل پر پاکستان کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے۔ڈاکٹر یوسف احمد نے کہا ہے کہ اسلام امن کا دین ہے جو ہمیں روا داری کا درس دنیا کے تمام مذاہب کا احترام سکھاتا ہے دنیا بھر میں انتہا پسندی کی مذمت کرتے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف اسلاموفوبیا اور دوسری جانب دہشت گردی کا سامنا ہے، شام کے 50 لاکھ افراد پناہ گزین ہیں، شام کے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں او آئی سی کی سائنس و ٹیکنالوجی پرکانفرنس کے انعقاد پر بات ہوئی جس کی صدارت پاکستانی صدر کریں گے،اس موقع پر مشیرخارجہ سرتاج عزیز نےڈاکٹر یوسف احمد کے دورہ پاکستان کا خیر مقدم کرتے کہا کہ سیکرٹری جنرل سے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کا نوٹس لیا جائے، سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ جنرل سیکرٹری او آئی سی سے ملاقات میں امت مسلمہ کے مسائل و علاقائی امور سمیت دنیا بھر میں بسنے والی مسلم اقلیتوں کے مسائل پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ سرتاج عزیزکا کہنا تھا کہ ڈاکٹر یوسف احمد کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا اور درخواست کی کہ او آئی سی مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم کے خلاف آوازاٹھائے۔ ان کاکہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کے خلاف او آئی سی سے مل کر کام کررہے ہیں۔ اور اسلامی تعاون کی تنظیم گستاخانہ مواد کے خلاف مشترکہ طور پر ایکشن لے گی۔مسئلہ فلسطین کے حوالے سے سرتاج عزیزکا کہنا تھا کہ پاکستان دوریاستی حل کی غیر مشروط حمایت کرتا ہے۔

حرمین شریفین کیلئے پاکستانیوں کا عزم مثالی, امام کعبہ کا اہم خطاب

لاہور( وقائع نگار)امام کعبہ الشیخ صالح بن محمد آل طالب نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان دونوںممالک اور انکی عوام اسلام کی سربلندی چاہتی ہیں، دونوں کے تعلقات مضبوط اور مستحکم ہیں، یہ ریاستیں اسلام کے غلبہ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینا جانتی ہیں اس لیے دونوں کو دہشت گردی کا سامنا ہے، دونوں کا دشمن ایک ہے، دونوں کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ہمیں متحد ہو کر ایسے عناصر کا مقابلہ کرنا ہو گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے مرکز106 راوی روڈ کے ابراہیم میر ہال میں علما ءکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جسکی صدارت امیر مرکزی جمعیت سینیٹر پروفیسر ساجد میرنے کی ۔ کنونشن میں ملک بھر سے جید علما ءاور شیوخ الحدیث سینکڑوں کی تعداد میں شریک ہوئے ۔ قبل ازیں جب امام کعبہ دفتر پہنچے تو ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ پروفیسر ساجد میر نے انہیں گلدستہ پیش کیا۔ جب وہ کنونشن میں خطاب کے لیے پہنچے تو علماءنے مرحبا مرحبا یاامام مرحبا کے استقبالی نعرے لگائے ۔اسی طرح حرمت حرمین پر جان بھی قربان کے نعرے لگائے جاتے رہے ۔امام کعبہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ حرمین شریفین کے دفاع کے لیے حکومت اور پاکستانی عوام کا عزم اور محبت مثالی ہے۔ ہم حرمین شریفین اور دین اسلام کی حفاظت کے لیے جان کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی سازش کی جارہی ہے مگر اسلام سراپا رحمت اور پرامن دین ہے ۔ الشیخ صالح بن محمد آل طالب نے کہا کہ طاغوت سن لے! دین اسلام کو دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتیں اس لیے کہ دین کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالی نے اٹھارکھا ہے۔ شیطان مسلمانوں میں انتشار، فتنہ اورباہمی عداوت پیدا کررہا ہے مگر ہم سب مسلمان قرآن وحدیث کے پرچم تلے متحدہو کر ان سازشوں اور شیطانی حربوں کا مقابلہ کریں گے اور انہیں ناکام بنائیں گے ۔ عراق، شام فلسطین اور کشمیر میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جن کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ اسلام سے محبت کرتے ہیں اور قران وحدیث کے ماننے والے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم قران اور حدیث والے ہیں ، جس کی حفاظت اللہ کے ذمہ ہے اللہ اپنا دین اور ہمیں سب کو محفوظ رکھے گا۔ان کا کہناتھا کہ ہمارا رشتہ قرآن سے ہے ،قران وحی ہے اور حدیث بھی وحی ہے ۔ یہ دین کی اصل بنیاد ہے۔ ہمیں اپنا تعلق ان دو چیزوں کے ساتھ مضبوط کرنا ہو گا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے بھی خطبہ حجة الوداع میں ارشاد فرمایا تھاکہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کے جارہا ہوں ،ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میر ی سنت جو ان دو چیزوں کو مضبوطی سے تھامے رکھے گا وہ کبھی گمراہ نہیں ہو گا۔ اور یہی کامیاب لو گ ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ میری دعا ہے کہ جس طرح ہم یہاں اکٹھے ہیں جنت میں بھی اللہ ہمیں اکٹھے رکھے ۔امام کعبہ نے پاکستان میں امن اور اسکی سلامتی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں اتحاد و یکجہتی کے فروغ کے لیے بھی دعائیں مانگیں۔ اور اس خواہش کا بھی دعا میں اظہار کیا کہ یااللہ جلد وہ وقت لاکہ ہم سب بیت المقدس میں نماز پڑھ سکیں ۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ حرمین شریفین کی حفاظت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔ اس لیے ہم اسکی حرمت پر اپنی جان قربان کرنا سعادت سمجھتے ہیں۔مولانا سید عبد الخبیر آزاد(خطیب بادشاہی مسجد لاہور و چےئر مین مجلس علماءپاکستان ) کی طرف سے امام کعبہ الشیخ صالح بن محمد بن ابراہیم آل طالب حفظہ اللہ کے اعزاز مےں مقامی ہوٹل فلیٹیز مےں عشائیہ دیا گیا ،جس مےں گورنر پنجاب رفیق رجوانہ اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال سابق مدیر مکتب الدعوہ سعد دوسری ،الشیخ ابومحمد،امام قاسم ،ودیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے راہنماو¿ ں میں آرچ بشپ آف لاہور بشپ سبسٹین شا، سکھ لیڈر سردار جنم سنگھ ،وزیر اوقاف زعیم حسین قادری ،سیکرٹری اوقاف احسن اقبال ،ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور اوقاف ڈاکٹر طاہر رضا بخاری کے علاوہ علماءکرام مےں مولانا مفتی عبد المعید ،مولانا مسعو دقاسم قاسمی حافظ اسد عبید،مفتی سید عاشق حسین ‘خالد حسن‘ مفتی سیف اللہ خالد ،زبیر حسن ‘مولانا زاہد قاسمی ‘علامہ زبیر احمد ظہیر ‘سید عبد البصیر آزاد‘ سید عبد القدیر آزاد‘ عبد الغفار عزیز ، فیصل حیات ، ملک منیر ،عبد الوحید، میاں احتشام،ڈاکٹر فیا ض رانجھا کے علاوہ کثیر تعداد میں ملک کی مقتدر سیاسی سماجی اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی، مولانا سید عبد الخبیر آزاد نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب دو جسم ایک دل ہے،سعودی عرب سے ہمارا رشتہ لا الہ الا اللہ کا ہے، آج اہل لاہور اور اہل پاکستان اور ہمارے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ ہمارے درمیان بیت اللہ شریف کے امام تشریف لائیں ہیں ،اور ہمیشہ سعودی عرب کے ائمہ کرام شاہ فیصل شہید ہمارے گھر اور بادشاہی مسجد میں تشریف لاتے رہے ہیں ،امام کعبہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو کلمات آپ نے میرے لئے اور حرمین شریفین کیلئے ادا کئیے ہیں ، میں ان پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ،انہوں نے کہا کہ آج امت اسلامیہ کو جو درپیش چیلنجز ہیں اس مےں ضرورت اس امر کی ہے کہ بحیثیت امت مسلمہ اپنی صفوں مےں اتحاد پیدا کریں اور ایک ہو جائیں اسلام دین امن ہے اور سلامتی کا دین ہے ،انہوں نے کہاکہ مجھے جو محبت پاکستان مےں ملی ہے میں ا س پر حکومت پاکستان کا اور مولانا فضل الرحمن اور مولانا سید عبد الخبیر آزاد کاخاص طور پر مجلس علماءپاکستان‘ علماءکا اورپاکستانی عوام کا مشکور ہوں اور ہمیشہ اس محبت کو یاد رکھوں گا ۔ امام کعبہ شیخ صالح بن محمد ابراہم آل طالب نے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کی دعوت پر سوموار کی صبح مرکز جماعت اسلامی پاکستان منصورہ کا دورہ کیا اور جامع مسجد منصورہ میں نماز فجر کی امامت کی۔نماز کے بعد اپنے مختصر خطاب میں امام کعبہ نے منصورہ میں اپنے شاندار استقبال پر امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق اور دیگر قائدین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جس طرح آپ لوگ ہمارے ساتھ عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں اسی طرح ہمیں بھی آپ سے محبت ہے اور یہ محبت خالصتا اللہ کیلئے ہے۔انہوں نے کہا کہ نماز امت مسلمہ میں اتحاد اور یکجہتی کی علامت ہے ۔دنیا کے مشرق و مغرب اور شمال جنوب میں رہنے والے اہل ایمان اللہ کے گھر کی طرف رجوع کرتے ہیں اگر اللہ کے گھر کو خدانخواستہ کوئی خطرہ ہوتا ہے تو وہ امت کو خطرہ ہوگا۔دشمن امت کو نقصان پہنچانے اور ہمارے اتحاد اور یکجہتی کو ختم کرنے کیلئے مقامات مقدسہ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام عالمی امن کا علمبرداراور پوری انسانیت میں اخوت و محبت قائم کرنے کا دین ہے،حضرت محمد ﷺ کو پوری دنیا کیلئے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا گیااور اسلام پوری دنیا کیلئے رحمت کا پیغام ہے ،دنیا بھر میں مسلمان دہشت گردی کا شکار ہیں ، اسلام کادہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔

اب ایسا کیا تو جنگ ہوگی, روس اور ایران کی ”ٹرمپ“ کو بڑی دھمکی

لندن(این این آئی) روس اور ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دھمکی دی ہے کہ وہ حقیقی جنگ کےلئے تیار رہیں۔برطانوی میڈیا کے مطابق امریکا کی جانب سے شام کے فضائی اڈے پر کروز میزائلوں سے حملے کا ردعمل دیتے ہوئے لندن میں روسی سفارتخانے نے امریکا کی جانب سے شامی فضائی اڈے پر بمباری کو حقیقی جنگ سے تعبیر کیا ہے جب کہ ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ سرخ لکیر ”ریڈ لائن“ کو عبور نہ کرے، جوابی فوجی کاروائی کا حق رکھتے ہیں۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے روس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شام میں کیمیائی حملے کا ذمہ دار روس ہے جو شامی حکومت کو باغیوں کے علاقے پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے روکنے میں ناکام رہا۔ جبکہ امریکہ نے کہا ہے کہ مزید حملے کرسکتے ہیں۔

سی ٹی ڈی کی بڑی کاروائی, اہم گروپ کا کمانڈر ہلاک

سکھر(آن لائن)سی ٹی ڈی سکھر کی اہم کاروائی, لشکر جھنگوی نعیم بخاری گروپ سندھ کا امیر مقابلے میں مارا گیا۔مارا گیا دہشتگرد کراچی ایئرپورٹ حملہ, مہران بیس حملہ, چودھری اسلم, امجد صابری قتل جیسے دہشتگردی کے جرائم ملوث تھاسندھ میں بڑی دہشتگردی کے منصوبے کے لیے دہشتگرد سکھر میں داخل ہو رہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق ایس پی سی ٹی ڈی کراچی عمر شاہد اور ایس پی سی ٹی ڈی سکھر عرفان سمو ں نے مشترکہ طور پر پریس کانفرنس میں بتایا کہ دو روز قبل سی ٹی ڈی کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ بلوچستان سے کچھ دہشتگرد بڑی واردات کی نیت سے سندھ میں داخل ہو رہے ہیں جس پر سی ٹی ڈی سکھر اور لاڑکانہ کی ٹیموں کی جانب سے کومبنگ آپریشن جاری تھا گزشتہ رات بلوچستان سے ملنے والی سرحدی پٹی کو گھیرے میں لے لیا، اس دوران موٹر سائیکل پر سوار تین دہشتگردوں کو روکا گیا، تاہم انہوں نے پولیس پر فائرنگ کر دی ، فائرنگ کے تبادلے میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے نعیم بخاری گروپ کا امیر کامران بھٹی مارا گیا جبکہ دو دہشتگرد موقع سے فرار ہوگئے ، کامران بھٹی کراچی ائیرپورٹ، مہران بیس،نیوی ،آرمی ،امجد صابری قتل ،چوہدری اسلم کے گھر پر حملہ کیس سمیت دہشتگردی کی درجنوں وارداتوں میں ملوث انہوں نے کہا مرنے والے دہشتگرد کے قبضے سے بارودی مواد اور اسلحہ برآمد کیا گیا ہے جبکہ فرار ہونے والے دہشتگردوںکی گرفتاری کے لیئے ناکہ بندی کر دی گئی ہے، انہوں نے بتایا کہ سکھر ریجن میں 1300 مدارس ہیں جن میں 20 ایسے مدارس ہیں جہاں سے دہشتگردوں کو سہولت فراہم کی جارہی ہے اس لیئے 20 مدارس کو بند کرنے کے لیئے حکومت سے سفارش کی گئی ہے۔

کلبھوشن ”را“ کا حاضر سروس افسر،اعتراف جرم بھی کرچکا،ہرصورت سزاملنی چاہیے نامور تجزیہ کار ضیاشاہد کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیاشاہد کے ساتھ“ میں گفتگوکرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار ضیاشاہد نے کہا ہے کہ کوٹ لکھپت جیل سے ایک بھارتی قیدی کو جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کیا گیا تو بارڈر پار کرتے ہی اس قیدی کا رویہ یکسر تبدیل ہوگیا اور وہ کہتا رہا کہ اس نے پاکستان میں کیا‘ کیا وارداتیں کیں۔ کلبھوشن یادیو ایک حاضر سروس افسر تھا جو پاکستان میں جاسوسی کرتے پکڑا گیا اور اس نے اپنے تمام جرائم کا اعتراف بھی کیا۔ پاکستان نے دنیا بھر میں عالمی اداروں کو اس جاسوس بارے ڈوزیئر بھجوائے جن پر یو این سمیت کسی نے اعتراض نہ کیا جس سے ظاہر ہوگیا کہ شواہد مضبوط تھے اور انہیں قبول کرلیا گیا۔ اس کے بعد بھارتی جاسوس کے ٹرائل نہ کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ پاکستان کے قانون کے تحت ہی بھارتی جاسوس کا ٹرائل ہوا۔ کلبھوشن اپنی سزا کیخلاف فوجی عدالت میں اپیل کا حق رکھتا ہے۔ صدر سے بھی رحم کی اپیل کرسکتا ہے۔ سینئر صحافی نے کہا کہ میڈیا پر کہا جارہا ہے کہ بھارت سے تعلقات خراب ہوجائیں گے تاہم میرے نزدیک بھارت سے تعلقات کا انحصار صرف کلبھوشن پر نہیں ہے مودی حکومت آنے کے بعد بھارت نے پاکستان اور مسلمانوں کے حوالے سے ایک مستقل رویہ اختیار کررکھا ہے۔ کلبھوشن کو عام ملزم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ وہ ایک حاضر سروس افسر تھا جس نے اعتراف جرم کیا اور ”را“ سے تعلق کو قبول کیا۔ اس کا ٹرائل ضروری تھا۔ نیپال میںپراسرار طور پر غائب ہونے والے پاکستانی ریٹائرڈ آرمی افسر کا کیس تو کسی صورت کلبھوشن کے کیس سے نہیں ملتا۔ نیپال ایک خالص ہندو سٹیٹ ہے جس کا سرکاری مذہب ہندومت ہے۔ میرے خیال میں کلبھوشن کو سزا ملے گی اور ملنی بھی چاہئے کیونکہ اگر اسے سزا نہیں ملتی تو پھر کسی کو بھی نہیں ملے گی۔ سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ماضی میں الیکشن ہوتے رہے جن کا حریت رہنماﺅں سمیت مختلف جماعتیں احتجاجی طور پر بائیکاٹ کرتی رہی ہیں۔ تاہم اس بار جس شدت سے بائیکاٹ کیا گیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ الیکشن کمیشن کو ناکامی تسلیم کرنا پڑی صرف 7 فیصد ٹرن آﺅٹ رہا۔ مقبوضہ کشمیر میں یہ ایک طرح سے عوامی ریفرنڈم ہوگیا ہے جس میں وہاں کے لوگوں نے واضح کردیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ کسی صورت نہیں رہ سکتے۔ بھارت کو مانتے ہیں نہ اس کے انتخابات کو تسلیم کرتے ہیں۔ کشمیریوں کا جذبہ حریت اس وقت اپنی بلندی پر ہے۔ سینئر صحافی نے کہا کہ میں کشمیر کی حمایت جذباتی طور پر نہیں بلکہ عقلی بنیادوں پر کرتا ہوں۔ سلامتی کونسل میں یہ مسئلہ پہلی بار بھارت لیکر گیا جس پر یہ قرارداد پاس ہوئی کہ فوج کو وادی سے نکال کر کشمیر کے دونوں حصوں میں رائے شماری کرائی جائے اور کشمیریوں کو حق حاصل ہو کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہیں یا بھارت کے ساتھ مستقبل وابستہ کرلیں اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر کو متنازعہ مسئلہ سمجھا۔ 1971ءکی جنگ کے بعد پاکستان اور بھارت میں براہ راست مذاکرات میں طے پایا کہ کسی تیسرے فریق کی مداخلت کے بغیر اس پر بات چیت کریں گے۔ ان مذاکرات میں بھی اسے متنازعہ مسئلہ ہی سمجھا گیا۔ آج دنیا کے ہر بڑے فورم پر کشمیر کو متنازعہ مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ اس متنازعہ مسئلہ پر اگر بھارت 70 سال سے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہا ہے اور مذاکرات کی جانب نہیں آتا تو کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو دہشت گردی کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔ کشمیری خود میدان میں اتر چکے ہیں اور اپنی جانوں کی قربانیاں دیکر آزادی کے چراغ کو روشن کردیا ہے۔ کشمیریوں کو اس موجودہ تحریک آزادی میں پاکستان یا آزاد کشمیر کی کوئی مدد حاصل نہیں ہے۔ سینئر دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کے بارے میں ڈوزیئر پیش کئے جاتے رہے لیکن دنیا نے کوئی پروا نہ کی اب ایک سخت پیغام گیا ہے۔ اب دنیا پاکستان سے اس بارے بات کرے گی اور پاکستان کو سچ دنیا کے سامنے لانے کا موقع میسر ہوگا۔ بھارت اور اس کے حواری واویلا کرتے رہیں گے۔ دنیا کے اہم ممالک کے بھارت کے ساتھ مفادات وابستہ ہیں اس لئے سب یہ جاننے کے باوجود کہ کشمیر میں کیا ظلم و ستم ہورہا ہے آنکھیں بند رکھتے ہیں۔ اب ان ممالک کو بھارت کی تکلیف کا پتہ چلے گا تو سفارتی سطح پر بات چیت شروع ہوجائے گی اور ہمیں موقع ہوگا کہ سچ کو دنیا کے سامنے لایا جائے۔ دنیا کو بتایا جائے کہ بھارت کیا کررہا ہے۔ کلبھوشن کیس کے علاوہ بھی بھارت پاکستان میں جو مذموم کارروائیاں کرتا رہا ہے سب کے ثبوت موجود ہیں۔ پاکستان میں ایسے عناصر موجود ہیں جو غیرملکوں سے پیسہ لیکر یہاں احتجاج کرتے ہیں کہ فوجی عدالتیں نہ بنائی جائیں۔ سزائے موت نہ دی جائے۔ اب کلبھوشن کیس کے بعد بعض مغربی ممالک کے چہرے بھی سامنے آئیں گے جو پہلے درپردہ تھے۔ اگر کوئی حاضر سروس جاسوس پکڑا جائے تو اس کے ٹرائل کے قوانین عام ملزم سے مختلف ہوتے ہیں۔ کلبھوشن چاہے تو فوج کے اپیلٹ کورٹ میں اپیل کرسکتا ہے۔ ثبوت موجود ہیں کہ صفورا گوٹھ واقعہ‘ کوئٹہ میں پولیس اکیڈمی پر حملہ اور وکلاءپر حملہ میں کلبھوشن اور اس کے بندے اور ان کی پشت پر ”را“ موجود تھی۔ معروف قانون دان ڈاکٹر خالد رانجھا نے کہا کہ کلبھوشن کا ٹرائل فوجی عدالت کرے گی تو اپیل بھی اسی عدالت میں کی جائے گی۔ تاہم فوجی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ کسی خاص کیس کے متعلق اگر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ انصاف ہوتا محسوس نہیں ہورہا تو پھر عام طور پر سپریم کورٹ اس کی اپیل سننے کی منظوری دے دیتی ہے۔ تاہم اس کا انحصار بھی اس بات پر ہے کہ ریاست اس حوالے سے کیا سوچ رہی ہے۔

مودی سرکار شور کرنے کی بجائے پاکستان میں دہشتگردی بند کرے….

اسلام آباد (آئی این پی )مسلم لیگ ن،پاکستان پیپلزپارٹی،جماعت اسلامی،پاکستان تحریک انصاف کے رہنماﺅں نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلبھوشن کو سزا سے عوام کا ریاست پر اعتماد بڑھے گا،پھانسی سے ریاست کو تقسیم کرنے والوں کو پیغام جائے گا،فیصلے سے دشمن عناصر کو سخت پیغام جائے گا،کلبھوشن پاکستان میں ہزاروں لوگوں کی موت کا سبب بنا،بھارت اس طرح کی حرکتیں نہ کرے،کلبھوشن ریاست کے خلاف جرم کرتے ہوئے پکڑا گیا،کلبھوشن کو قانون کے مطابق سزا سنائی گئی۔ دفاع پاکستان کونسل اور جماعةالدعوة سمیت ملک بھر کی مختلف مذہبی، سیاسی و کشمیری جماعتوں کے قائدین نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کوسزائے موت سنائے جانے کا خیر مقد م کیا اور کہا ہے کہ بی جے پی سرکار اس فیصلہ پر شور مچانے کی بجائے پاکستان میں دہشت گردی کا سلسلہ بند کرے۔ کلبھوشن کو پھانسی دینے سے پاکستان دشمنوں کو واضح پیغام جائے گا۔ حکومت پاکستان کو اس سلسلہ میں کسی قسم کے بیرونی دباﺅ کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ کلبھوشن کو فی الفور پھانسی دینی چاہیے اور انڈیا کے دہشت گردانہ کردار کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار دفاع پاکستان کونسل و جماعةالدعوة کے مرکزی رہنما حافظ عبدالرحمن مکی، سردار عتیق احمد خاں،اجمل خاں وزیر، پیر سید ہارون علی گیلانی،علامہ ابتسام الہٰی ظہیر، سید ضیاءاللہ شاہ بخاری اور مولانا امیر حمزہ نے کلبھوشن کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے فیصلہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کیا۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک و قوم کے مستقبل اور دفاع کے لئے پوری قوم کلبھوشن سے متعلق فیصلے پر ایک ہے۔ کلبھوشن ایک فرد نہیں ایک آرگنائزیشن ہے۔ کلبھوشن کے اعترافی بیان سے ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے،بھارتی جاسوس کو سزائے موت کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں امیر جماعت نے کہا کہ کلبھوشن کی سزائے موت بھارت اور ان تمام طاقتوں کےلئے واضح وارننگ ہے جو پاکستان کے اندر تخریب کاری کر رہی ہیں انہوں نے کہا کہ ملک کو محفوظ بنانے کے حوالے سے پوری قوم اس فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے۔ اپنے ملک کو محفوظ بنانا ہر ریاست کی ذمہ داری ہے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو بھارتی ایجنٹ اور پاکستان کا دشمن ہے۔ دشمن کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔ کلبھوشن کو سزائے موت کے فیصلے کے حق میں ہیں۔ کلبھوشن یادیو بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ایجنٹ ہے اسے پاکستان میں تخریبی کارروائیں کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ فوجی عدالت سے کلبھوشن کو سزائے موت کی سزا کا فیصلہ انتہائی احسن اقدام ہے جس کی ہم مکمل طور پر حق میں ہیں کیونکہ دشمن کسی رعایت اور معافی کے مستحق نہیں ہوتے بلکہ ان کو عبرت ناک انجام تک پہنچانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اپریل کا مہینہ انتہائی اہمیت کا ہامل ہے اس مہینے میں بھارتی جاسوس اور ملک دسمن کو سزائے موت کا فیصلہ سامنا آیا جس نے دشمن کا سر شرم سے جھکا دیا اور پاکستانیوں کے دل ٹھنڈے کر دیئے۔ شیخ رشید نے کہا دنیا میں یہ پہلا واقع نہیں ہے بلکہ تمام خود مختار ملک جاسوسوں کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں بھارت اور کلبھوشن بلوچستان کراچی اور ملک میں دہشتگردی کررہے تھے عسکری قوت نے اپنا کام کردیا لیکن حکومت خاموش ہے وہ شاید دکھی ہے مسلم لیگ ضیاءکے سربراہ اعجاز الحق نے کہا کہ حکومت کی طرف سے خاموشی معنی خیز ہے، غداری اور جاسوسی کا یہی انجام ہوتا ہے، انصاف کے سارے تقاضے پورے کئے گئے آئندہ کسی بھی جاسوس کو جرات نہیںہوگی کہ وہ پاکستان میں آکر ایسا کرے انجام کو یاد رکھے گا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما و سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ ملک کے خلاف سازش کرانے والے ”را“ کے ایجنٹس کسی رحم کے حقدار نہیں، کلبھوشن کو سزائے موت سے دشمن عناصر و دہشت گردوں کو سخت پیغام ملے گا۔ اپنے ردعمل میں انہوں نے کہا کہ کوئی ملک کسی کو قانون تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ مولوی فضل اللہ افغانستان میں بیٹھ کر کارروائیاں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمنٰ نے کہا ہے کہ پاکستان میں کبھی کسی بھارتی یاغیر ملکی کے خلاف انتقامی جذبے سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی، کلبھوشن یادیو ہندوستان فوج کا حاضر سروس افسر تھا جس کے خلاف فوجی قوانین کے تحت مقدمہ چلا اور فیصلہ ہوا، انہوںنے کہا کہ خطے میں تباہی مچانے کیلئے وہ آیا اور پکڑا گیا تو اسے قانون کے مطابق ہی سزا ہونا چاہئے، بھارت کو چاہئے کہ وہ آئندہ پاکستان کے اندر مداخلت نہ کرے، قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین اویس لغاری نے کہا کہ کلبھوشن بھارتی نیوی کا افسر اور را کا جاسوس تھا اور اس کی گرفتاری بھی انہیں الزامات کے تحت ہوئی اور مقدمہ چلایا گیا، بھارت اس سے کیسے انکار کرسکتا ہے، جب کلبھوشن خود اپنے جرائم کا اعتراف کرچکا ہے، عوامی نیشنل پارٹی کی سینیٹر ستارہ امتیاز نے کہا کہ پارلیمنٹ نے عدالتوں کو اختیار دیا ہے جس کے تحت کلبھوشن کو دہشتگردی کی سزا سنائی گئی ہے، انہوںنے کہا کہ دہشتگرد کوئی بھی ہواسے قانون کے تحت سزا ملنی چاہئے اور کلبھوشن یادیو اپنے جرائم کا اعتراف کرچکا ہے،سردار ذوالفقار کھوسہ نے کہا کہ پوری دنیا میں غیرملکی جاسوسوں کے پکڑے جانے پر انہیں سزائے موت دی جاتی ہے کلبھوشن کی سزا ایک احسن اقدام ہے، انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی بھارت ایسی حرکتیں کرتا رہا ہے، میاں عتیق الرحمنٰ نے کہا کہ یہ فیصلہ پوری دنیا کے سامنے مثال ہے کہ ایک حاضر سروس بھارتی فوجی افسر اور جاسوس رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے اور اسے سزا بھی دی جارہی ہے، ایم کیو ایم کی رہنما رکن قومی اسمبلی فوزیہ حمید نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو کو سزا ملنا خوش آئند ہے،ملکی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔

بھارتی جاسوس کلبھوشن کو سزائے موت, آرمی چیف نے توثیق کردی

راولپنڈی (این این آئی) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھارتی جاسوس کلبھوشن سدھیر یادیو کو پاکستان کیخلاف جاسوسی اور تخریب کاری کے الزامات ثابت ہونے پر سنائی گئی سزائے موت کی توثیق کردی ہے۔ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمے میں تمام الزامات ثابت ہونے پر بھارتی جاسوس کو موت کی سزا سنائی تھی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے پیر کو جاری بیان کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ نیول آفیسر 41558Z کمانڈر کلبھوشن سدھیر یادیو عرف حسین مبارک پاٹیل کو تین مارچ 2016ءکو ماشکیل بلوچستان سے کاﺅنٹر انٹلیجنس آپریشن کے دوران پاکستان کیخلاف جاسوسی اور تخریب کاری کی سرگرمیوں پر گرفتار کیا گیا۔ بھارتی جاسوس کیخلاف پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم)کی کارروائی میں موت کی سزا سنائی گئی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پیر کو سزائے موت کی توثیق کردی ہے۔ را کے ایجنٹ کمانڈر کلبھوشن سدھیر یادیو کیخلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی طرف سے پاکستان آرمی ایکٹ 1952ءکی دفعہ 59 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923ءکی دفعہ 3 کے تحت مقدمہ چلایا گیا ، فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے کلبھوشن سدھیر یادیو کو تمام الزامات کا مرتکب قرار دیا ۔ بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف کیا کہ اسے را کی جانب سے پاکستان کیخلاف سازش اور تخریب کارانہ سرگرمیوں کا ٹاسک سونپا گیا تھا تاکہ بلوچستان اور کراچی میں امن کی بحالی کیلئے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کوششوں کو روک کر پاکستان کو غیر مستحکم کیا جائے اور اس کیخلاف جنگ مسلط کی جائے۔ بھارتی جاسوس کو قانونی تقاضوں کے مطابق دفاع کیلئے آفیسر فراہم کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ کل بھوشن یادیو نے مجسٹریٹ کے سامنے بھی اعتراف کیا تھا کہ وہ پاکستان کو عدم استحکام اور دہشت گردانہ کارروائیوں کیلئے بھارت کی جانب سے تعینات کئے گئے ،کل بھوشن یادیو بھارتی نیوی رینک نمبر1558 کا حاضر سروس افسر ہے جسے تین مارچ 2016 میں حساس اداروں نے بلوچستان سے گرفتار کیا تھا۔”را“ایجنٹ کی گرفتاری کے چند روز بعد اس کی ویڈیو بھی سامنے لائی گئی تھی، جس میں کلبھوشن یادیو نے اعتراف کیا تھا کہ اسے 2013 میں خفیہ ایجنسی ”را“میں شامل کیا گیا اور وہ اس وقت بھی ہندوستانی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے۔

اعلیٰ سطحی اجلاس, آرمی چیف کی اہم ہدایات جاری

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اعلان کیاہے کہ ملک میں جاری مردم شماری کو ہرقیمت پر مکمل کیا جائے گا۔ پاک فوج کے ادارہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے مطابق آرمی چیف نے راولپنڈی میں مردم شماری سپورٹ سینٹر کا دورہ کیا ، سپورٹ سینٹرپہنچنے پر آرمی چیف کالیفٹیننٹ جنرل زاہدلطیف مرزانے استقبال کیا۔ اس موقع پر آرمی چیف کو ملک میں جاری مردم شماری سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مردم شماری کیلئے بہترین انداز میں کام جاری ہے، فوج مردم شماری کے عمل کی مثبت اندازمیں تکمیل کو قومی فریضہ سمجھتی ہے اور ملک میں مردم شماری کو ہر قیمت پر مکمل کیا جائے گا۔ ان کا کہناتھا کہ مردم شماری بہتر اندازمیں آگے بڑھنے کا عمل حکومت ،فوج کی مشترکہ کامیابی ہے۔ آرمی چیف نے اس موقع پر مہم کے دوران شہید جوانوں اور مردم شماری کے عملے کو خراج عقید ت بھی پیش کیا۔