ماہا وارثی کا فلم میں کامیڈی رول کرنے سے انکار

لاہور(کلچرل رپورٹر) اداکارہ ماہا وارثی نے فلم میں کامیڈی رول کرنے سے انکار کردیا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ماہا وارثی کو حال ہی مین کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک پروڈیوسرنے اپنی کامیڈی فلم میںکام کے لئے رابطہ کیا لیکن انہوں نے سکرپٹ اور اپنا کردار پڑھنے کے بعد انکار کردیاکیونکہ ان کا کہناتھا کہ وہ ابھی اس طرح کا کردار نہیں کرنا چاہتیں کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ انہیں ابھی سنجیدہ کردار کرنے کی ضرروت ہے اور ویسے بھی کامیڈی کرنا بہت مشکل ہے ۔ماہارواثی کو نجی ٹی وی کی ڈرامہ سیریل”دوسری بیوی“سے شہرے ملی تھی جس کے بعد انہوںنے بہت سے ڈراموں میں کام کیا تاہم تعلیمی سرگرمیوں کی وجہ سے انہوں نے عارضی طور پر کنارہ کشی اختیار کی ہوئی ہے۔اس بارے میں ماہا وارثی کا کہنا ہے کہ مجھے کافی فلموں میں کام کی آفرز ہیں ۔
لیکن ابھی کئی وجوہات کی بناپر میں کام نہیں کررہی۔

اپنے پرستاروں کو نئے انداز میں نظر آوں گا

کراچی (شوبز ڈ یسک) ملک کے معروف گلوکار عاطف اسلم لکس اسٹائل ایوارڈز 2017 کی میزبانی کریں گے، عاطف اسلم پہلی بار کسی بھی ایوارڈ کی میزبانی کریں گے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے عاطف اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بڑے ایوارڈز کی میزبانی کرنے پر بے حد پرجوش اور خوش ہوں، اپنے پرستاروں کو نئے انداز میں نظر آوں گا جو کہ امید ہے انہیں پسند آئے گا، لکس ایوارڈز کے ساتھ دیرینہ وابستگی رہی ہے،کوشش کروں گا کہ اس بار کچھ نیا کریں جو کہ ایوارڈز میں تازگی کا احساس لائے۔

سوشل نیٹ ورکنگ سے دور رہتی ہوں

ممبئی (شوبز ڈیسک) بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت نے کہا ہے کہ میں بہت حساس ہوں اور تنقید کو بیحد سنجیدگی سے لیتی ہوں۔ گزشتہ روز یہاں ایک تقر یب میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عام زندگی میں بہت شرمیلی اور ڈرپوک لڑکی ہوں۔ کنگنا نے کہا کہ میں بہت حساس ہوں اور تنقید کو بیحد سنجیدگی سے لیتی ہوں۔ اداکارہ نے کہا کہ بلاوجہ کی تنقید سے بچنے کے لیے میں ٹوئٹر جیسی سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ سے بھی دور رہتی ہوں۔۔
کنگنا کا کہنا تھا کہ جب میں اتنی کامیاب نہیں تھی تب کوئی میرا انٹرویو بھی لینے نہیں آتا تھا اور اکثر مجھ سے ایک ہی سوال پوچھا جاتا تھا کہ سونم یا دیپکا میں سے کون نیکسٹ جنریشن کی سپر سٹار اداکارہ بنے گی۔ کنگنا نے بتایا کہ اس کا جواب وہ کچھ یوں دیتی تھیں کہ نہ دیپکا نہ سونم نیکسٹ جنریشن سٹار میں خود ہوں۔

فخر امام انسانی سمگلنگ کیس میں ملوث نہیں

لاہور(کلچرل رپورٹر)گلوکارہ عاشیہ خان انسانی سمگلنگ کیس میں ملوث اپنے شوہرکی رہائی کے لئے کوشاں ہیں جس کے لئے انہوں نے اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل کی ہے۔ عاشیہ خان نے ”خبریں“کوبتایا کہ میرا خاوند سیدفخرامام رضوی ملکہ ترنم نورجہاں کا پوتاہے جن کی پراپرٹی دیکھ کر حناامین نامی عورت نے ان سے دوسال قبل شادی کی جس نے یہ بھی ظاہرکیا کہ اس کا تعلق ایک مذہبی فیملی سے ہے لیکن درحقیقت حناامین دبئی میں مختلف قسم کے دھندوں میں ملوث تھی جس کی حقیقت واضح ہونے پر فخرامام نے حناامین کو گزشتہ سال فروری میں طلاق دے دی ۔ گزشتہ سال میری اور فخرامام کی شادی ہوگئی جس پر حناامین نے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنالیا اور انے سابقہ شوہر کو سبق سکھانے کے لئے ان کے خلاف جھوٹے پرچے کرانا شروع کردیئے۔
کیونکہ اس نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ وہ فخرامام اوراس کی فیملی کا جینا حرام کردے گی جس کے لئے اس نے جاویدخان نامی شخص کو اپناآلہ کار بنالیا۔ اور اس کی پشت پناہی کی وجہ سے میرے شوہر پر کئی جھوٹے مقدمات درج کرائے ۔ایک پرچے میں ان پر انسانی سمگلنگ کا الزام بھی لگایا گیا جس پر ایف آئی اے نے میرے شوہرکوگرفتارکرلیا۔عاشیہ خان نے مزیدبتایا کہ حناامین نے فخرامام کے خلاف28لاکھ روپے کی امانت رقم کا زبانی جھوٹا الزام لگاکر تھانہ اقبال ٹاﺅن میں بھی ایک مقدمہ درج کرایا۔ اس کے علاوہ بھی اس عورت نے دوکروڑ روپے خیانت کاایک اور جھوٹا پرچہ درج کرایا۔عاشیہ خان نے میرے شوہر کے خلاف چھ سے زائد جھوٹے پرچے کرائے گئے ہیں جو مختلف تھانوں میں درج ہین لیکن ان پر جتنے بھی الزام لگائے گئے ان میں صداقت نہیں ہے ،میرے شوہر نہ تو کبھی انسانی سمگلنگ میں اور نہ ہی کسی اور جرم میں ملوث رہے ہیں۔عاشیہ خان نے کہا کہ حناامین برے کردارکی حامل عورت ہے جو دبئی کے کلبوں میں ڈانس بار کے ساتھ ساتھ بہت سی غیراخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہے ،اس کا ساتھی جاویدخان ایک سابقہ ریکارڈ یافتی اورسزایافتہ ملزم ہے جو پاکستان سے لڑکیاں جسم فروشی کے لئے دبئی لے کرجاتاہے جس کے ثبوت بھی موجود ہیں جبکہ ان دونوں کو دبئی اور پاکستان کی کئی بااثرشخصیات کی سرپرستی حاصل ہے۔عاشیہ خان نے کہا میری چیف جسٹس آف پاکستان،وزیراعظم پاکستان،چیف آف آرمی سٹاف اور اعلیٰ پولیس افسران سے اپیل ہے میرے شوہر کے خلاف درج کرائے گئے تمام جھوٹے مقدمات کی فوری طورپراعلی سطح پرا نکوائری کرائی جائے تاکہ میرے شوہرکو رہائی مل سکے اور ان لوگوں کو بے نقاب کیا جاسکے جواس سازش میں ملوث ہیں۔

نئی فلم کی تیاری ،روزانہ ایک خوفناک فلم دیکھتی ہوں

ممبئی (شوبز ڈیسک) بھارتی اداکارہ زرین خان نے کہا ہے کہ وہ اپنے آنے والی ہارر فلم کی تیاری کے لیے ہر رات ایک خوفناک فلم دیکھتی ہیں۔فلم ”ویر“ سے اپنے کیریئر کی شروعات کرنے والی زرین خان کی آنے والی فلم’1921’ ایک ہارر مووی ہے۔زرین خان نے بتایا کہ انہوں نے پہلے کبھی ہارر فلموں میں کام نہیں کیا، اس لیے انہیں اندازہ نہیں کہ خوفناک فلموں میں کس طرح اداکاری کی جاتی ہے۔
، وہ اپنے کردار کو بخوبی نبھانے کی غرض سے ہارر موویز دیکھ رہی ہیں۔زرین خان نے آنے والی فلم میں اپنے کردار سے متعلق کچھ نہیں بتایا، تاہم انہوں نے کہا کہ 1921 ایک بہت اچھی ہارر مووی ہوگی۔ہدایت کار وکرم بھٹی کی فلم 1921 کی شوٹنگ آئندہ ماہ سے شروع ہونے کا امکان ہے

اشناشاہ جانوروں کے تحفظ کی مہم چلائیں گی

لاہور(کلچرل رپورٹر) اداکار اشناشاہ جانوروں کے تحفظ کی مہم چلائیں گی جس کا آغازانہوںنے سوشل میڈیا سے کردیا ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ اشنا شاہ نے یہ کام اپنی مددآپ کے تحت کچھ عرصہ پہلے کراچی میں اپنے چنددوستوں کی مددسے کیا تھا جسے اب انہوں نے سوشل میڈیا تک پھیلادیا ہے ۔اس بارے میں اشنا شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جانوروں کو کسی طرح کے بھی حقوق نہیں ہیں حالانکہ مذہب نے اس بارے میں خصوصی ہدایات جاری ہیں لیکن مسلمان ہونے کے باوجود ہم لوگ ان چیزوں کا خیال نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ویسے تو تمام جانوروں کاہی خیال نہیں رکھا جاتا لیکن سب سے زیادہ براحال کتوں کاہے۔خاص طور شہروں میں پھرنے والے آوارہ کتوں کو بے دردی سے ماردیا جاتا ہے جس کی مثال کچھ عرصہ پہلے کراچی میں دیکھی جاسکتی ہے ۔
جہاں سینکڑوں کتوں کو ماردیاگیا تھا۔اشنا شاہ کا مزیدکہنا ہے کہ اس بارے میں شعوراجاگرکرنے کی ضرورت ہے کہ لوگ جانوروں اور بالخصوص کتوں کو بے دردی سے نقصان نہ پہنچائیں۔

شوخ چنچل گلوکاراحمد رشدی نے پاکستان فلم انڈسٹری کو گیتوں کی مالا سے سجا دیا

(شوبز ڈیسک)پاکستانی میوزک شروع ہی سے ایک سے بڑھ کر ایک ہیرے سے مالا مال رہا ہے۔ لیکن، کچھ گلوکار ایسے ہیں جو آندھی طوفان کی طرح آئے اور اپنی کامیابی کے ایسے جھنڈے گاڑے کہ سب کو پیچھے چھوڑ گئے۔ پاکستان فلم انڈسٹری کی ’گولڈن وائس‘ احمد رشدی ایسی ہی ایک روشن مثال ہیں۔احمد رشدی پاکستان کی فلمی تاریخ کا اتنا بڑا نام ہے کہ جس کے ذکر کے بغیر فلمی گائیکی کی تاریخ کبھی مکمل نہیں ہوسکتی۔
حیدر آباد دکن کے سید گھرانے سے تعلق رکھنے والے احمد رشدی کی پیدائش24اپریل 1934 ء میں ہوئی تھی اور بچپن ہی سے گائیکی کا شوق رکھتے تھے۔ کلاسیکل موسیقی سے عدم واقفیت کے باوجود اتنے خوش گلو تھے کہ ان کی آواز کو موسیقار ہر رنگ میں ڈھال لیتے تھے اور وہ مشکل سے مشکل ترین گیت بھی بڑی آسانی سے گالیتے تھے۔ 1954ءمیں ریڈیو پاکستان کراچی سے منسلک ہوئے اور خاص طور پر بچوں کے پروگرام میں ان کے گیت بڑے مقبول ہوئے۔اپنے پہلے مشہور زمانہ ریڈیو گیت ”بند روڈ سے کیماڑی، میری چلی ری گھوڑا گاڑی ، بابو ہوجانافٹ پر “ سے بے پناہ شہرت حاصل کی جو انھیں فلموں میں بھی لے آئی۔ فلم ”کارنامہ“ میں پہلی بار گایا لیکن فلم ”انوکھی“ پہلے ریلیز ہوگئی تھی جس میں ایک کامیڈی گیت ”ماری لیلی نے ایسی کٹار“ جو لہری پر فلمایا گیا تھا۔احمد رشدی صرف پوپ یا ہلا گلا والے گانے ہی مہارت سے نہیں گاتے تھے۔ جب جب انہوں نے ٹریجڈی گانے گائے، سننے والوں کی آنکھوں میں نمی ضرور آئی۔ سال 1966میں فلم ارمان کا گانا ’اکیلے نہ جانا، ہمیں چھوڑ کر تم، تمارے بنا ہم بھلا کیا جئیں گے‘ ہو یا فلم دوراہا کا نغمہ ’بھولی ہوئی ہوں داستاں‘ رشدی کی آواز کی گھمبیرتا اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔بارش کا موسم ہو اور فضاﺅں میں س±ر نہ بکھریں، ایسا ہو نہیں سکتا۔ فلم ’نصیب اپنا اپنا‘ کا گانا ’اے ابر کرم آج اتنا برس، اتنا برس کہ وہ جا نہ سکیں‘ اچھی موسیقی سننے والوں کے لئے برسات کے موسم میں پہلی چوائس ہوتا ہے۔اس کے علاوہ، شوخی کا انگ لئے ’کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ہیں کتنے پیارے‘ میں رشدی کی آواز ایک نئے انگ میں سنائی دیتی ہے۔احمد رشدی نے نورجہاں سمیت پاکستان کی صف اول کی تمام گلوکاراﺅں کے ساتھ ڈوئٹ گائے۔ احمد رشدی کو فلمی گلوکار بننے کے لیے خاصی جدوجہد کرنا پڑی جس کی ایک وجہ ابتدائی دور میں کراچی کی فلموں میں گانا تھا، لیکن جب 1961ءمیں لاہور کی فلم ”سپیرن“ میں منظور اشرف کی دھن پر ”چاند سا مکھڑا گورا بدن “ ان کی ملک گیر پہچان بن گیا تو اگلے سال فلم ”مہتاب“ کا سدابہار شوخ وچنچل گیت ”گول گپے والا آیا ، گول گپے والا “ نے انھیں صف اول کا گلوکار بنادیا۔ پھر انھوں نے اگلے سولہ سال تک پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
60ء کے عشرے میں ہر دوسری یا تیسری فلم میں ان کے گیت لازمی ہوتے تھے۔اس دور میں وہ نوجوان فلم بینوں کے سب سے مقبول ترین گلوکار تھے اور تقریبا ہر قسم کے گیت گانے میں ماہر تھے ، لیکن شوخ وچنچل، چھیڑ چھار کرنیوالے کامیڈی اور پیروڈی گیت گانے میں لاثانی تھے۔ آج بھی شادی بیاہ ہو یا کوئی اور خوشی کا تہوار، ایک فاسٹ ٹریک ’کوکورینا‘ لازمی گایا، بجایا جاتا ہے اور یہ گانا جسے پاکستان فلم انڈسٹری کا پہلا ’پوپ سانگ‘ کہا جاتا ہے ساﺅتھ ایشیا کے پہلے پوپ سنگر احمد رشدی نے گایا تھا۔ایک ایسے وقت میں جب گلوکار سیدھے کھڑے ہوکر سپاٹ تاثرات کے ساتھ گانا ریکارڈ کرواتے تھے، احمد رشدی ہلکے پھلکے، ہپ ہوپ قسم کے گانے اتنے مزے لے لے کر گاتے تھے کہ دیکھنے اورسننے والے بھی جھوم جھوم اٹھتے تھے۔ انھیں اردو فلموں میں سب سے زیادہ گیت گانے کااعزاز بھی حاصل ہے، احمد رشدی کی آواز سب سے زیادہ جس ہیرو پر سوٹ کرتی تھی وہ تھے وحید مراد اور شاید یہی وجہ ہے کہ رشدی وحید مراد کے گانے زیادہ ڈوب کر گایا کرتے۔احمد رشدی نے 583 فلموں میں 5 ہزار سے زائد گانے گائے، جن میں ا±ردو کے علاوہ انگریزی، پنجابی، بنگالی، سندھی اور گجراتی زبانوں کے گانے بھی شامل ہیں۔رشدی کے گائے 150گانے وحید مراد پر پکچرائز کئے گئے جو ایک منفرد ریکارڈ ہے۔ ایک کیلنڈر ائیر میں سب سے زیادہ گیت گانے، موسیقار ایم اشرف کی دھنوں میں سو سے زائد گیت گانے اور گلوکارہ مالا کے ساتھ سینچری پارٹنر شپ کے اعزازات بھی رکھتے ہیں۔احمد رشدی نے پہلی ہی بار کسی پاکستانی فلم کے لیے ایک انگریزی گیت بھی گایا تھا۔ بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہوگا کہ پاکستان کے قومی ترانہ گانے والے دس گلوکاروں میں ایک نام احمد رشدی کا بھی تھا جو ان دنوں نئے نئے پاکستان ہجرت کرکے آئے تھے۔ ان کی آخری فلم 1985ء میں ”ہیرو“ تھی۔ احمد رشدی کے طویل اور تابناک فلمی کیرئیر میں ایک کمزور پہلو پنجابی فلموں میں کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ احمد رشدی کو اداکاری کا بھی شوق تھا اور انھوں نے ایک درجن کے قریب فلموں میں ثانوی کرداروں میں بھی کام کیا مگر اس میں انھیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔پاکستانی فلمی گائیکی پرانمٹ نقوش چھوڑنے والے احمد رشدی اپنی آخری عمر میں خرابی صحت کی بناءپر گانا نہیں گاسکتے تھے لیکن گزر اوقات کے لیے میوزک کمپوز کرنے لگے اور11پریل 1983ءکو کسمپرسی کی حالت میں انتقال گرگئے۔

مدھو بالا کی آدھی خوبصورتی اس کا پردہ

مدھوبالا
فلمی دنیا کو رنگ و نور کی محفل سمجھا جاتا ہے، ایک جادو نگری جہاں کے باسی انسانی جذبات و احساسات سے ماورا فرشتے ہیں، جہاں دکھوں ، ناکامیوں ، تلخیوں اور مایوسیوں کا کوئی گزر نہیں غالباً اسی لیے منوج کمار نے فلم ”شبنم“ میں دلیپ کمار کی اداکاری دیکھ کر کہا تھا کہ بڑا ہوکر میں بھی ان کی طرح”فرشتہ“بنوں گا۔
فلمی دنیا کی یہ رنگینی محض ایک سراب ہے بقول شاعر”دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا۔۔۔“ور اسٹائل اداکار دیوآنند نے ایک بار اپنے پرستاروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ”دیویو اور سجنو،ہماری فلمیں دیکھیں، ہماری زندگی میں تانک جھانک نہ کریں آپ کے خواب حقیقت کی چٹانوں سے ٹکرا کر ٹوٹ جائیں گے۔“
اس بے رحم دنیا میں جسے فلم نگری کہتے ہیں کبھی ایک لڑکی ہوا کرتی تھی ، کوہ قاف کی پریوں جیسی ، پھولوں سا بدن ، نشہ آور ہواو¿ں جیسی ۔۔۔ مسکراہٹ دلآویز ، ادائیں قاتلانہ ، انداز دلربانہ اور رقص ساحرانہ ، نہ وہ میر کی غزل تھی نہ خیام کی رباعی وہ تو بس ایک عورت تھی۔ایک فنکار عورت ، عشقِ ناتمام کی مورت۔
اس لڑکینے ممتاز جہاں سے مدھوبالا بن کر عرصے تک فن کی عبادت کی۔ کروڑوں پرستاروں کے دلوں پر راج کیا بلکہ کرتی ہے۔۔۔ فن کو وقت کی قید میں بھلا کون رکھ پایا ہے۔۔ گئے وقتوں کے بزرگوں سے لے کر کترینہ کیف کی لچکتی کمر پر عش عش کرتے آج کے نوجوانوں تک ان کے چاہنے والے بے شمار رہے اور ہیں۔۔۔ ان کا جادو آج بھی قائم ہے ، انہی کے نقش قدم پر چل کر مادھوری ڈکشت ہندی سینما کی ملکہ کہلائیں اور دیپکا پڈکون ان کے نقش پا پر چل رہی ہیں۔
ملکوتی حسن کی مالکہ ، 14 جنوری 1932 کو خان عطا اللہ خان کے گھر دہلی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد پشاور کے پختون تھے البتہ بعض فلمی تاریخ دان ان کا آبائی علاقہ صوابی کو قرار دیتے ہیں۔ ایک تو غربت اوپر سے کام چور باپ ، وہ حصول علم کیلئے کبھی سکول نہ جاسکی۔ رسم دنیا نبھانے کیلئے اسے مسجد میں قائم مدرسے کے حوالے کردیا گیا جہاں اسے قرآن پڑھنا سکھایا گیا۔ قرآن کی تلاوت سیکھنے کے بعد وہ نو سال کی عمر میں ریڈیو سٹیشن سے منسلک ہوگئی تاکہ گھر چلانے میں ہاتھ بٹاسکے۔
ریڈیو کی زندگی گوکہ مختصر رہی کیونکہ اس کے والد جلد ہی بہتر مستقبل کی تلاش میں ممبئی ہجرت کرگئے مگر اس مختصر سی ملازمت نے ان کے اندر فنکار بننے کی ناقابل شکست خواہش پیدا کردی۔۔۔ عطااللہ خان کی گھاگ نظروں نے کمسن ممتاز کے دل کے چور کو پکڑلیا ، وہ جان گئے کہ بیٹی کی خواہش دولت کا مڑدہ ہے۔۔۔ عطااللہ خان نے ہمیشہ بیٹی کے دل کے راستے پر پہرے بٹھائے رکھے۔ انہوں نے سونے کی اس چڑیا کو کبھی آزاد فضاو¿ں میں اڑنے نہ دیا اور یہی بندش ایک دن جان لیوا ثابت ہوئی۔
ممبئی پہنچ کر عطااللہ سٹوڈیوز کی خاک چھاننے نکلے۔ آدمی سمجھدار اور بولنے کے فن میں یکتا تھے سو تھوڑی سی بھاگ دوڑ کے بعد وہ رنجیت سٹوڈیو میں ممتاز کو نوکری دلوانے میں کامیاب ہوگئے۔ نوکری تو مل گئی مگر کوئی فلم نہ ملی۔ گھر کا چولہا کبھی جلتا کبھی بجھتا اور بالآخر ایک دن بھڑک کر بجھ گیا۔والد پھر چکر چلانے میں جت گئے۔ ادھر ادھر سرپٹول کرنے کے بعد ایک بھلے مانس نے انہیں بمبئے ٹاکیز تک پہنچا دیا۔1942ءکو بمبئے ٹاکیز کے بینر تلے امیہ چکروتی کی ہدایت میں فلم”بسنت“ریلیز کی گئی۔یہ دس سالہ ممتاز کی پہلی فلم تھی جس میں اس نے بطور چائلڈ آرٹسٹ معصومانہ اداکاری کا پہلا جلوہ دکھایا۔اس جلوے نے سب سے زیادہ فلم انڈسٹری کے جوہر شناس ہدایت کار کیدار شرما کو گھائل کیا۔کیدار شرما نے آناًفاناً انہیں اپنی فلم”ممتاز محل“میں کاسٹ کرلیا۔ممتاز کو ہندی سینما کی سپر سٹار مدھو بالا بنانے میں جہاں ان کی دلآویز و متاثر کن اداکاری کا عمل دخل ہے وہاں کیدار شرما کی قدر شناسی بھی اہمیت رکھتی ہے۔
ممتاز محل کے بعد وہ ایک مصروف چائلڈ اداکارہ بن گئیں اس دوران انہوں نے ”بیماری، پھلواری، راجپوتانیاور دیگر فلموں میں بطور چائلڈ اداکارہ اپنے فن کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ معصوم چہرہ ، دل میں اترتی مسکراہٹ ،بے ساختگی جیسے اوصاف نے ان میں چھپی ہیروئن کوتراش خراش کر نکھار دیا البتہ اس ہیروئن کو بھی صرف کیدار شرما ہی دیکھ پائے۔
1947ءکو جہاں ہندوستان تقسیم ، مہاجرت اور تاریخ کے بدترین فسادات کے باعث لہورنگ تھا وہاں 15 سالہ ممتاز کا لڑکپن بھی نوجوانی سے آمادہ جنگ تھا۔کیدار شرما نے نوخیز جوانی کو ہیروئن کے روپ میں پیش کرنے کا ارادہ باندھا۔ وہ فلم”نیل کمل“ کاسکرپٹ لے کر رنجیت سٹوڈیو پہنچے۔ سٹوڈیو نے معصوم چہرے کو بچّی قرار دے کر سرمایہ لگانے سے انکار کردیا۔ باہمت شرما اورینٹ پکچرز کو قائل کرنے دوڑے۔اورینٹ کو کمسن ممتاز سے زیادہ کیدار شرما پر یقین تھا سو انہوں نے ہامی بھرلی۔
(جاری ہے)
ہندی سینما کے باصلاحیت ترین ہدایت کاروں میں شمار ہونے والے اور کپور خاندان کی عظمت کو اوج ثریا تک پہنچانے والے”رنبیر راج کپور“اس زمانے میں کیدار شرما کے شاگرد تھے ، جن سے وہ ہدایت کاری کے رموز سیکھ رہے تھے۔ شرما نے اپنے ہونہار شاگرد کو ممتاز کے مقابل ہیرو کا رول دے دیا۔یہ ایک رسک تھا ، بلاشبہ رسک تھا مگر کیدار شرما پر عزم تھے۔انہوں نے 1947ءکو فلم”نیل کمل“کے ذریعے ممتاز جہاں کو”مدھو بالا“کے نام سے پیش کردیا۔
(جاری ہے)

محمد عامر ون ڈے میں 50 وکٹوں کے قریب

گیانا(اے پی پی) فاسٹ باﺅلر محمد عامر کو ون ڈے میں وکٹوں کی نصف سنچری مکمل کرنے کےلئے دو وکٹیں درکار ہیں، توقع ہے کہ وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرے ون ڈے میچ میں یہ اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ وہ اب تک 31 میچوں میں 48 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں، ان کی بہترین باﺅلنگ 28 رنز کے عوض 4 وکٹیں ہیں۔

شابق وکٹ کیپر کے کامران،کوچ وقار یونس اور دیگر کھلاڑیوں بارے اہم انکشاف

لاہور (نیوزایجنسیاں) سابق وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر نے انکشاف کیا کہ کامران اکمل پرفکسنگ کاشبہ ہواتومجھے موقع ملا۔ 2010 میں بھارتی فکسرزنے دھمکی دی تھی کہ ہماری بات مانو،ورنہ ماردیں گے۔ اسی لیے لندن چلا گیا تھا۔ذوالقرنین حیدرنے انکشاف کیاکہ2010 میں عامر،سلمان بٹ،آصف بکیزکیلئے کام کرتے تھے۔ سابق کپتان اور کوچ وقاریونس اورانتخاب عالم کے مشکوک لوگوں سے رابطے تھے۔انوبھٹ بورڈکے ایک موجودہ آفیشل کا دوست ہے۔انوبھٹ کوبورڈ کے موجودہ آفیشل نے دانش کنیریاسے ملوایا۔ الیاس بکی کے پاس سلیم ملک کا پیسہ ہوتاتھا۔