مشکلات میں گھری پیپلز پارٹی کو ایک اور جھٹکا

کراچی (خصوصی رپورٹ) سیاسی مشکلات میں گھری پیپلزپارٹی کیلئے بدعنوانی کی زد میں آنے والی سیاسی اور کاروباری شخصیات کا دفاع کرنا مشکل معاملہ بن گیا ہے۔ ایک جانب پیپلزپارٹی وفاقی حکومت کو اپنے ماضی کے احسانات یاد دلا کر دباﺅ ڈال رہی ہے کہ وہ سندھ میں پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والی تین اہم شخصیات کی بحفاظت بازیابی کیلئے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی میں اس بارے میں اختلاف رائے کی بھی اطلاعات ہیں کہ کرپٹ لوگوں کی بار بار سیاسی حمایت کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کیخلاف الزام تراشی کیلئے استعمال کررہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے بعض قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ پی پی چیئرمین بلاول بھٹو اور کئی دوسرے اہم رہنما اس خیال کے حامی ہیں کہ خراب شہرت کے حامل لوگوں کو بچانے کے لئے پیپلزپارٹی کی جانب سےفر اہم کی جانے والی سیاسی حمایت سے نہ صرف عوامی اور سیاسی حلقوں میں پیپلزپارٹی کی ساکھ متاثر ہورہی ہے بلکہ موجودہ صورتحال میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی اس کے تعلقات سے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ وہ دہشت گردی اور کرپشن کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ک حق میں ہے لیکن پیپلزپارٹی اسے سیاسی انتقامی کارروائی کا رنگ دینے کی کوشش کررہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق صدر آصف زرداری کے تین قریبی ساتھیوں نواب لغاری‘ اشفاق لغاری اور غلام قادر مری کی پراسرار گمشدگی نے پیپلزپارٹی کی صفوں میں سخت کھلبلی مچا دی ہے اور اس کا خیال ہے کہ آصف زرداری کے تین قریبی دوستوں کو جو ان کے کاروباری مفادات کی بھی دیکھ بھال کرتے ہیں انہیں شاید کسی تحقیقاتی ادرے نے تفتیش کی غرض سے اٹھایا ہے۔ اس حوالے سے پیپلزپارٹی کے بعض رہنماﺅں نے وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان پر بھی شبہ ظاہر کیا ہے کہ شاید ان کے ایما پر یہ تینوں افراد نیب نے اٹھائے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ پیپلزپارٹی کی فکر مندی بڑھتی جارہی ہے کہ نیب سمیت کسی بھی ادارے نے ابھی تک تینوں میں سے کسی بھی لاپتہ شخص کی ابھی تک سرکاری طور پر گرفتاری ظاہر نہیں کی اور نہ ہی عدالت میں پیش کیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سابق صدر جو کئی روز سے اسلا م آباد میں ہیں اس وقت وفاقی حکومت کی اہم شخصیات سے رابطوں میں مصروف ہیں اور ان سے کہا جارہا ہے کہ وفاقی حکومت ان تینوں افراد کی بحفاظت بازیابی کے حوالے سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت نے وفاقی حکومت کو یہ یاد دلایا ہے کہ ماضی میں جب عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری نے اسلام آباد پر یلغار کی تھی اور نواز حکومت کا خاتمہ یقینی نظر آرہا تھا تو پیپلزپارٹی ہی تھی جس نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو گرنے سے بچایا تھا۔ اس وقت بھی نواز حکومت پانامہ کیس کے باعث خطرات میں گھری ہوئی ہے اگر اس نے اس مرحلہ پر تعاون نہ کیا تو آئندہ وہ پیپلزپارٹی سے کسی تعاون کی امید نہ رکھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے پیپلزپارٹی کو تسلی دی ہے لیکن وہ خوداس وقت جن مشکلات سے دوچار ہے اس کے لئے بھی پیپلزپارٹی کی کھل کر کوئی مدد کرنا آسان کام نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق صدر کی خواہش پر پیپلزپارٹی کے کئی مرکزی اور صوبائی رہنماﺅں کو نواب لغاری، اشفاق لغاری اور قادرمری کے معاملے پر چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے بھی مخالفانہ بیان بازی اور پریس کانفرنسز کا اہتمام کرنا پڑا جبکہ کچھ حلقوں کا دعویٰ ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے حامی ہیں کہ کرپشن کی زد میں آنے والے لوگوں کی آئے دن پارٹی کی جانب سے سیاسی حمایت کے سبب پیپلزپارٹی کی سیاسی ساکھ پر منفی اثر پڑرہا ہے اور مخالفین کو پیپلزپارٹی کیخلاف الزام تراشی کا بہترین موقع ہاتھ آگیا ہے۔ ادھر زرداری نے اپنی بیٹی آصفہ بھٹو کو اہم عہدہ دینے پر غور شروع کردیا ۔

” کلبھوشن کی سزائے موت “ مودی سرکار آگ بگولہ ،انتقامی کاروائی شروع

اسلام آباد، نئی دہلی (نیٹ نیوز) مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو جس نے پاکستان کو غیرمستحکم اور بالخصوص بلوچستان میں شرپسندوں کو فنڈز کی فراہمی سمیت دیگر تخریبی سرگرمیوں کا اعتراف کرلیا تھا، پاکستان کی جانب سے اسے سزائے موت دیئے جانے کے فیصلے کو منصفانہ اور قانون کے مطابق قرار دیئے جانے کے مو¿قف کو بین الاقوامی سطح پر اُجاگر کرنے کے لیے گزشتہ روز وزارت خارجہ میں اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ اُمور سرتاج عزیز اور معاون خصوصی طارق فاطمی، سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سمیت دیگر اداروں کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں کلبھوشن یادیو کو سزائے موت دیئے جانے کے حوالے سے ردّعمل کے بارے میں حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے اہم سفارتخانوں کو اس سلسلے میں ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو فوجی عدالت سے سزائے موت کے فیصلہ کے بعد سندھ اور حساس علاقوں کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے ہائی الرٹ کردیا گیا۔ حساس اداروں کے مطابق اس کے بعد ری ایکشن کے طور پر مخصوص علاقوں میں دہشت گردی، تخریب کاری کی وارداتیں ہوسکتی ہیں جس پر وفاقی حکومت نے ریلوے لائنوں، بلوچستان، سندھ اور فاٹا کے علاقوں میں ہائی الرٹ کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کو بھارتی حکام کی جانب سے کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے بعد سخت بیانات سامنے آرہے ہیں جس پر احتیاطی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ بھارت کی جانب سے (آج منگل) کے روز 12 پاکستانی ماہی گیروں کو چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔ بھارتی وزارت داخلہ نے سزائے موت کے فیصلے کے بعد ان کی رہائی روک دی ہے جبکہ سزا پوری کرنے والے پاکستانی قیدیوں کو ھی رہا کرنے سے انکار کردیا ہے۔ مودی سرکار کے اہم رہنما آپے سے باہر ہوگئے اور پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کا سلسلہ ایک بار پھر شروع کردیا گیا ہے۔ سابق بھارتی فوجی افسران کی جانب سے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کلبھوشن کی پھانسی کا بدلہ لینے کیلئے پاکستان پر سرجیکل سٹرائیکس کی جائیں۔کلبھوشن یادیو کو سزائے موت کی خبرہندوستانی میڈیا نے بریکنگ نیوز کے طور پر جاری کی ،مختلف ٹی و ی چینلز اور سیاسی جماعتوں نے واویلا مچانا شروع کر دیا ۔بھارتی میڈیا اپنے جاسوس کے حق میں سامنے آگیا اور اسے بچانے کیلئے پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپگینڈے شروع کردیئے ۔وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ کلبھوشن یادیو کے پاس ابھی اپیل کی گنجائش ہے،اس کی پھانسی میں ابھی دو سے تین ماہ کا وقت ہے،فیصلے کے خلاف 7روز میں اپیل کی جا سکتی ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کے پاکستان کی ثا لمیت کے خلاف جرائم ثابت ہوگئے ہیں،پاکستان کی سا لمیت کے خلاف کام سے بڑا جرم اورکیا ہوسکتاہے۔بھارت کا رد عمل فطری ہے ،اس کو دیکھ کر کچھ کہنا ہوگا،یہ معاملہ اگر یک طرفہ ہوتا تو کب کا ختم ہوگیا ہوتا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی کی جنگ لڑ رہا ہے۔ آئین پاکستان کے تحت قائم ہونے والی فوجی عدالتوں نے انڈین جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت دے کر بین الاقوامی اہمیت حاصل کرلی ہے۔ فوجی عدالتوں نے القاعدہ، داعش اور طالبان کے بعد پہلی بار انڈین آرمی آفیسر کو ٹرائل کے بعد سزا سنادی ہے۔ فوجی عدالتوں میں کلبھوشن یادیو کو سزا دینے سے قبل وکلاءکی سہولت بھی دی گئی۔ ملزم نے ضابطہ فوجداری کے قاعدہ کے تحت مجسٹریٹ کے وبرو پاکستان میں فتنہ و فساد پھیلانے، انڈیا کی طرف سے پاکستان کو کمزور کرنے، ایران و افغانستان کے راستہ دہشت گرد داخل کرانے اور بلوچستان میں بعض گروپوں کی فنڈنگ کے ذریعے فورسز پر حملے کرانے کا اعتراف کرلیا۔ وکلاءکے ذریعے ملزم بطور آرمی آفیسر رعایت حاصل ہونے اور مقدمہ قابل سماعت نہ ہونے کے دلائل دیتا رہا۔ فوجی عدالتوں سے سزا کے بعد اب عملدرآمد کی گیند حکومت کے کورٹ میں آ جائے گی۔ ملزم نے اپنا نام حسین مبارک پاٹیل رکھ لیا تھا۔ ملزم نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ اس نے پاکستان آنے سے قبل اسلام کا بھی گہرائی سے مطالعہ کیا تھا۔ اسے پاکستان کے تمام اہم فقہوں کا تمام علم حاصل تھا جس کے بعداس نے پاکستان میں ایسے عناصر کی سرپرستی کی جو فرقہ وارانہ فسادات برپا کراسکتے تھے۔ ملزم نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس کے بلوچ لبریشن آرمی کے علاوہ کئی دیگر افراد سے رابطے تھے۔ دوران سماعت ملزم نے خود مجسٹریٹ کے سامنے اپنے مکروہ اور خوفناک جرائم کا اعتراف کرلیا تاہم ملزم نے اپنی لیگل ٹیم کے ذریعے دلائل دیئے کہ چونکہ وہ انڈین نیول آفیسر ہے اس لیے اسے ٹرائل سے استثناءحاصل ہے جبکہ فوجی آفیسر ہونے کے حوالے سے اسے مراعات دیئے جانے کا بھی حق حاصل ہے۔ ایک سال تک فوجی عدالت میں جاری رہنے والے اس ٹرائل کے بعد بالآخر فوجی عدالت نے ملزم کو گزشتہ روز سزائے موت سنادی ہے۔ ذرائع کے مطابق 2003ءمیں 14سالہ سروس کے بعد کلبھوشن باقاعدہ طور پر بھارتی جاسوس ایجنسی ”را“ میںشامل کر لیا گیا جہاں اسے ایران کے علاقہ چاہ بہار میں ایک فرضی کاروبار کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔ اس دوران پاکستان میں انتشار اور دہشتگردانہ کارروائیوں کیلئے ایک مضبوط نیٹ ورک بنایا جس میں بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کر نے والے علیحدگی پسند اور کراچی سے تعلق رکھنے والے قوم پرست افراد سے تعلقات بنائے جن کے ذریعے اس نے بلوچستان اور کراچی میں بہت سی دہشتگردی کی وارداتیں سرانجام دیں ۔ کلبھوشن یادیو نے خود پاکستانی حکام کے سامنے اس بات کا اعتراف کیا کہ اسے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں کے حوالے سے بھارت سے ”را“کے افسران کی جانب سے ہدایات ملتی تھیں اور وہ ہی اس بارے میں فنڈنگ بھی مہیا کرتے تھے جبکہ اس نے 2003ءاور 2004ءمیں کراچی میں دہشتگردانہ کارروائیاں کروانے کا بھی از خود اعتراف کیا تاکہ کراچی کے امن کو سبوتاژ کیا جاسکے اور اس بار ے میں اپنی سرگرمیوں کا تفصیلی حال بھی اس نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ اس کا اصل ہدف پاکستانی بندر گاہ گوادر ،پسنی جیوانی اور دیگر حساس تنصیبات کی معلومات بھارتی ایجنسی تک پہنچانا تھا اور ان کارروائیوں کا مقصدعلیحدگی پسندافراد کے اذہان کو مجرمانہ سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا تھا تاکہ پاکستان میں بے امنی پھیلائی جاسکے۔بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کا اعلان ہوتے ہی سوشل میڈیا پر طوفان آگیا۔ پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے فیصلے کو سراہتے ہوئے پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا جبکہ بھارت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ ٹویٹس نے دلچسپ صورتحال پیدا کردی ہے۔ٹویٹر پر چند افراد نے کلبھوشن کی سزائے موت فیصلے کی مخالفت کی تو صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیاٹویٹر صارفین نے کلبھوشن کی پھانسی براہ راست نشر کرنے کا بھی مطالبہ کر دیا ہے۔ ایک ٹویٹر صارف کا کہنا ہے کہ ”کلبھوشن کی پھانسی براہ راست نشر ہونی چاہیے تاکہ ہمارے دشمنوں کو یہ پتہ چل جائے کہ جاسوسی کا انجام کیاہوتا ہے۔ایک اور صارف نے نہایت دلچسپ ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”بھائی کہا بھی ہے، بالی وڈ کی فلم سمجھ کر مت آیا کرو پاکستان میں۔“جبکہ ایک ٹویٹر صارف نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ”بھارت! کل بھوشن یادیو کی سزائے موت کی صورت میں ملنے والا پیغام بہت واضح اور صاف ہے کہ یہ 1971ءنہیں۔“ ایک نجی ٹی وی کے مطابق کل بھوشن یادیو بھارت کا پہلا جاسوس نہیں جو پاکستان سے پکڑا گیا، اس سے پہلے سربجیت سنگھ 1981ءمیں پاکستان میں گھسا لیکن پکڑا گیا۔بدنامی سے بچنے کیلئے بھارت حکومت نے سربجیت سنگھ سے لاتعلقی ظاہر کر دی، سرجیت سنگھ نے بھارتی قومی ٹی وی پر اعتراف کیا کہ وہ ”را“ کا ایجنٹ تھا۔بھارتی جاسوس کشمیر سنگھ35 برس پاکستان میں قید رہنے کے بعد 2008ءمیں بھارت واپس پہنچا، دوران قید تو اس نے سچ اگل دیا، نعرہ لگا کر بتایا کہ وہ بھارتی جاسوس تھا۔ 1975ءمیں ”را“ میں شمولیت اختیار کرنے والے روندرا کوشک کو بھی بارڈر پار جاسوسی کیلئے بھیجا گیا، اس خطر ناک جاسوس نے کراچی میں گریجویشن کی، اردوسیکھی اور پھر پاکستان آرمی میں بھی شامل ہوگیا، 1983ءمیں راز فاش ہونے پر روندرا کو گرفتار کر لیا گیا، جو 16سال جیل میں رہا۔مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ کل بھوشن کی پھانسی کا فیصلہ قانون کے عین مطابق ہوا ہے۔سینٹ کے اجلاس میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ کل بھوشن کی پھانسی پر عمل درآمد کب ہو گا اور اس پر بھارتی رد عمل کیا ہو گا اس بارے میں بھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
کلبھوشن پھانسی

عدالت نے فیصل آباد دھماکے میں ملوث ملزم بارے بڑا فیصلہ سُنادیا

لاہور(خبریں رپورٹر)جسٹس صداقت اللہ خان اور جسٹس شہرام سرور پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے بینچ نے فیصل آباد میںدھماکے کے ملزم عثمان غنی کی اپیل پرفیصلہ سناتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت فیصل آباد کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ محکمہ پراسیکیوشن کے ترجمان کے مطابق 8مارچ 2011کو ملزم عثمان غنی نے فیصل آباد کے کلب چوک میں ریمورٹ کنٹرول بم سے دھماکہ کیا جس کے نتیجے میں 24افراد جان کی بازی ہار گئے۔ واقعہ کے فورا بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزم کو جائے حادثہ کے قریب سے ریمورٹ کنٹرول ڈیوائس سمیت گرفتار کر لیا تھا۔واقع کا مقدمہ سول لائینز پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا اور ملزم سے تفتیش کے ساتھ ساتھ ملنے والی ڈیوائس کا فورنزک جائزہ لیا گیا۔ ترجمان محکمہ پراسیکیوشن کے مطابق 17جنوری2013کو انسداد دہشت گردی عدالت فیصل آباد نے ملزم عثمان غنی کو 7ATA اور دفعہ 302کے تحت 24,24بار سزائے موت اور جرمانے کا حکم سنایا تھا ۔ ملزم نے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جہاں آج ملزمان کی اپیل خارج کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت کی سزا کو برقرار رکھا گیا ہے۔ ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل خرم خان نے مقدمے میں ریاست کی نمائندگی کی۔مشیر وزیراعلیٰ پنجاب رانا مقبول احمد نے مقدمے کی بھرپور پیروی کرنے اور مجرم کو سزا دلوانے پرپبلک پراسیکیوٹر کیلئے تعریفی اسناد کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ محکمہ پراسیکیوشن معاشرے میں انصاف کی عملداری قائم کرنے کیلئے مستقل کوشاں ہے۔ رانا مقبول احمد نے پبلک پراسیکیوٹرز کو ہدایت کی کہ مظلوم کو انصاف کی فراہمی اور ظالم کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے پوری مستعدی سے کام جاری رکھیں۔

اسلامی فوجی اتحاد, ایران کا حیران کُن اعلان جاری

اسلام آباد ( ملک منظور احمد ) اسلام آباد میں تعینات ایران کے سفیر مہدی ہنر دوست نے کہا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان باہمی تعلقات میں بہتری آ رہی ہے جو امت مسلمہ کے لیے اچھی بات ہے ایران اور پاکستان کے درمیان بہت ہی دیرنہ تعلقات ہیں دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ وزارتی کمیشن کا جلد اجلاس ہونے والا ہے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور چئیر مین سینٹ میاں رضا ربانی رواں ماہ ایران کا اہم دورہ کریں گے سعودی عرب کی طرف سے قائم کردہ اسلامی فوجی اتحاد میں ایران کی شمولیت کا کوئی امکان نہیں ہے ان کا خیالات کا اظہار انہوں نے یوم دستور کے موقع پر منعقدہ اسقبالیہ کے موقع پر خبریں سے خصوصی گفتگو کرتے ہو ئے کیاایرانی سفیر سے جب پوچھا گیا کہ کیا ایران کو جنرل (ر) راحیل شریف کے اس فوجی اتحاد کے تقرر پر کوئی اعتراض ہے تو انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے اپنا نقطہ نظر پاکستان تک پہنچا دیا ہے ایران اور پاکستان کے درمیان پہلے سے زیادہ بہتر ہو رہے ہیں اور آنے والوں ہفتوں میں بہت ساری چیزیں مثبت ہو نے والی ہیں ۔

پاکستان کا بڑا اقدام, بھارتی ٹی وی چینلز اور سیاسی جماعتوں نے واویلا مچاناشروع کردیا

نئی دہلی(آئی این پی)بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت کی خبرہندوستانی میڈیا نے بریکنگ نیوز کے طور پر جاری کی ،مختلف ٹی و ی چینلز اور سیاسی جماعتوں نے واویلا مچانا شروع کر دیا ۔پیر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کی جانب سے پاکستانی میڈیامیں جاسوسی، کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائے جانی کی خبر جاری ہونے کے بعد بھارتی ٹی وی چینلز نے اس خبر کو بریکنگ نیوز کے طور پر جاری کیا جبکہ میڈ یا اور سیاسی جماعتوں نے واویلا بھی مچانا شروع کردیا۔بھارتی میڈیا اپنے جاسوس کے حق میں سامنے آگیا اور اسے بچانے کیلئے پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپگینڈے شروع کردیئے ۔واضح رہے کہ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کو یہ سزا پاکستان میں جاسوسی اور تخریب کاری کی کارروائیوں پر سنائی گئی۔

کلبھوشن کو سزائے موت, پرویز مشرف کا اہم بیان سامنے آگیا

اسلام آباد(کرائم رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو کا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں سپیشل ٹرائل رہا، کلبھوشن کو لیگل ٹیم بھی فراہم کی گئی، دفاع کیلئے سول وکیل بھی دیا گیا، رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے کلبھوشن کے پاس دفاع کیلئے کچھ نہیں ہے، نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے وہئے پرویز مشرف نے مزید کہا کہ کلبھوشن کا معاملہ ہائی پروفائل کیس ہے، بھارت سزائے موت پر واویلا مچائے گا، بلکہ اس نے واویلا شروع کردیا ہے، سزائے موت پر بلاول بھٹو کے اعتراض میں دلیل کا فقدان ہے، بھارتی فوج جاسوسی کیخلاف یہی قانون استعمال کرتی ہے، بھارت کا کلبھوشن کی پھانسی کو قتل کہنا سچائی کو مسخ کرنے کے مترادف ہے، کلبھوشن کی فیملی کو پہلے غائب کردیا گیا، اب ہمدردی حاصل کرنے کیلئے سامنے لایا جاسکتا ہے، کلبھوشن کو سزاءدینے کے بعد ہوشیار رہنا ہوگا، بھارت پاکستان میں دہشتگردی کرسکتا ہے، مودی حکومت کلبھوشن معاملے پر سودے بازی کی کوشش کرسکتی ہے، اس کیس کا پاک بھارت تعلقات سے نہیں ملانا چاہئے، حکومت اور فوج سزائے موت کے مسئلے پر ایک پیج پر ہیں، سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پاکستان سے مذاکرات نہیں کرناچاہتے،ہم پاکستانی قانون کے مطابق کلبھوشن یادیو کو پھانسی دے سکتے ہیں جبکہ کئی پاکستانی ابھی بھی بغیرٹرائل کے بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو پاکستانی سرزمین پرپکڑاگیا ہے اورپاکستان میں ہرجاسوس کے کیس کاٹرائل فوجی عدالت میں ہی ہوتاہے ،یہ ہمارے ملک کاقانون ہے۔کلبھوشن کافیلڈجنرل کورٹ مارشل ہوا ہے اور اس میں کوئی بھی مسئلہ نہیں ہے۔ سینئر تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو کی سزا قانونی لحاظ سے بالکل صحیح ہے لیکن سفارتی اور سیاسی پہلو کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا،پاکستان اور بھارت کے تعلقات پہلے ہی کافی کشیدہ ہیں،تعلقات میں اور کشیدگی آئے گی،بھارت اس پر بہت شور مچائے گا۔ طلعت مسعود نے کہا کہ قانونی لحاظ سے تو بالکل صحیح ہے کیونکہ اس نے خود مان لیا تھا لیکن سا تھ ساتھ سفارتی اور سیاسی پہلو کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا،بھارت بہت شور مچائے گا اور اس پر عمل ہوا تو پاک بھارت تعلقات کشیدہ ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے سیاسی اور سفارتی پہلو کافی پیچیدہ ہیں،پاکستان اور بھارت کے تعلقات پہلے ہی کافی کشیدہ ہیں،تعلقات میں اور کشیدگی آئے گی۔ بھارتی ایجنسی را کے ایجنٹ کلبھوشن یا دیو کو فوجی عدالت نے سزائے موت سنادی ہے، جس سے بھارت میں صف ماتم بچھ گیا جبکہ پاکستان میں عوام خوش رہیں کہ ایک جاسوس کو عبرت ناک سزا دی گی تاکہ آئندہ دشمن کو پاکستان میں جاسوسی کر نے کی جرات نہ ہو دفاعی تجزیہ نگار میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان نے خبریں کو بتا یا کہ عدالت نے انصاف کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر سزائے موت دی چالیس دن تک اپیل کا حا صل ہے لیکن امید ہے کہ فیصلہ برقرار رہے گا پاکستانی اجمل قصاب کو پھانسی دی گی تھی اسکا کیا اثر پڑے گا یہ جاسوس تھا اس سے بھی کو ئی فرق نہیں پڑے گا۔

کلبھو شن کو سزائے موت کے اعلان کے بعد وزیر اعظم کا دبنگ اعلان

رسالپور (ویب خبریں )وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے کے تمام ممالک سمیت دنیا سے دوستانہ تعلقات چاہتا ہے بالخصوص ہمسایوں سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہیں تاہم ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔پاکستان ائیرفورس اکیڈمی رسالپورمیں کیڈٹس کی پاسنگ آو¿ٹ پریڈ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ رسالپور اکیڈمی کیڈٹس کو اعلیٰ معیار کی تربیت فراہم کررہی ہے جب کہ کامیابی کے لیے کوئی مختصر راستہ نہیں اور آپ پر ملک کے دفاع کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر امن اور ذمہ دار ملک ہونے کے ساتھ ساتھ امن پالیسی پر عمل پیرا ہے، پاکستان خطے کے تمام ممالک سمیت دنیا سے دوستانہ تعلقات چاہتا ہے بالخصوص ہمسایوں سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہیں تاہم ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور مسلح افواج بھی ہر قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جب کہ آپریشن ضرب عضب میں پاک فضائیہ کا کلیدی کردار ہے۔

آئی جی پنجاب مشتاق سکھیراریٹائر, نئے نام سامنے آگئے

لاہور(کرائم رپورٹر)انسپکٹر جنرل پنجاب مشتاق احمد سکھیرا اپنی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد گزشتہ روز ریٹائرڈ ہو گئے ، نئے آئی جی کی تعیناتی کیلئے کیپٹن(ر)عارف نواز، کیپٹن(ر)محمد امین وینس اور امجد جاوید سلیمی کے نام زیر غور ہیں ۔ذرائع کے مطابق انسپکٹر جنرل پنجاب مشتاق احمد سکھیرا اپنی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد گزشتہ روز ریٹائرڈ ہو گئے ۔مشتاق سکھیرا پنجاب پولیس کے40ویں سربراہ تھے ۔دوسری جانب نئے آئی جی کی تعیناتی کیلئے کیپٹن(ر)عارف نواز، کیپٹن(ر)محمد امین وینس اور امجد جاوید سلیمی کے نام زیر غور ہیں ۔

کلبھوشن کو پھانسی ….بھارت نے دھمکی دیدی

نئی دلی(ویب ڈیسک) بھارتی وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ اگر ہندوستانی جاسوس کلبھوشن یادیو کو پھانسی دی گئی تو پاکستان کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔گزشتہ روز بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو بلوچستان اور کراچی میں منظم دہشت گردی کی منصوبہ بندیوں کا اعتراف کرنے کے بعد فوجی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی تھی جس پر شدید ردِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی دہلی میں تعینات پاکستانی سفیر عبدالباسط کو بھارتی وزارتِ خارجہ میں بلوا کر احتجاجی مراسلہ ان کے سپرد کیا گیا جبکہ بھارت میں قید بے گناہ پاکستانی شہریوں کی رہائی بھی مو¿خر کردی گئی۔لوک سبھا میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے سشما سوراج کا کہنا تھا کہ کلبھوشن ”بھارت ماتا کا بیٹا“ ہے جس کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں،اس کے دفاع میں اچھا وکیل کھڑا کرنا بہت چھوٹی بات ہے اور اگر ضرورت پڑی تو وہ صدر تک سے بات کریں گی۔سشما سوراج نے پاکستان کو دھمکی دی کہ اگر کلبھوشن کو پھانسی ہوئی تو دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات شدید متاثر ہوں گے اور ایسے کسی بھی پاکستانی اقدام کا جواب دینے کےلیے بھارتی حکومت ”کسی بھی حد تک“ جائے گی۔لوک سبھا کے اجلاس میں دوسرے بھارتی رہنماو¿ں نے بھی پاکستان کے خلاف تقاریر کیں اور مطالبہ کیا کہ کلبھوشن یادیو کو دی جانے والی سزا پر مذمتی قرارداد منظور کی جائے جب کہ اس دوران نئی دہلی میں پاکستانی سفارت خانے کے باہر مظاہرہ بھی کیا گیا۔

نیپال میں لاپتہ (ر) کرنل کے اغواءمیں ملک دشمن ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا انکشاف

اسلام آباد (آن لائن) نیپال میں پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ کرنل کو ملازمت بہانے بلا کر لاپتہ کر دیا گیا ان کے بیٹے نے تھانہ روات میں مقدمہ درج کرا دیا ہے۔ پولیس نے اغوا دھوکہ دہی کی کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کا کہنا ہے اس معاملے پر نیپالی حکومت سے رابطہ کیا گیا ہے۔ نیپالی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے پاکستانی حکومت کے سابق افسر کے پاپتہ ہونے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔ پاکستانی سیکورٹی اداروں نے حبیب ظاہر کی ای میلز کی تحقیات کی ہیں جس کے تحت انہیں مارچ میں سٹارٹ سولوشز نامی ویب سائٹ سے مارک تھامسن نے ای میل کے ذریعے ساڑھے تین ہزار سے ساڑھے آٹھ ہزار ڈالر کی تنخواہ پر نائب صدر اور زونل دائریکٹر کی پیشکش کی تھی۔ انہیں ملازمت کنفرم کرنے کے لیے کھٹمنڈو آنے کا کہا گیا اور ساتھ عمان ائیر لائن کی بزنس کلاس کی ٹکٹ بھجوائی گئی تھی۔