کراچی (خصوصی رپورٹ) سیاسی مشکلات میں گھری پیپلزپارٹی کیلئے بدعنوانی کی زد میں آنے والی سیاسی اور کاروباری شخصیات کا دفاع کرنا مشکل معاملہ بن گیا ہے۔ ایک جانب پیپلزپارٹی وفاقی حکومت کو اپنے ماضی کے احسانات یاد دلا کر دباﺅ ڈال رہی ہے کہ وہ سندھ میں پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والی تین اہم شخصیات کی بحفاظت بازیابی کیلئے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی میں اس بارے میں اختلاف رائے کی بھی اطلاعات ہیں کہ کرپٹ لوگوں کی بار بار سیاسی حمایت کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کیخلاف الزام تراشی کیلئے استعمال کررہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے بعض قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ پی پی چیئرمین بلاول بھٹو اور کئی دوسرے اہم رہنما اس خیال کے حامی ہیں کہ خراب شہرت کے حامل لوگوں کو بچانے کے لئے پیپلزپارٹی کی جانب سےفر اہم کی جانے والی سیاسی حمایت سے نہ صرف عوامی اور سیاسی حلقوں میں پیپلزپارٹی کی ساکھ متاثر ہورہی ہے بلکہ موجودہ صورتحال میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی اس کے تعلقات سے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ وہ دہشت گردی اور کرپشن کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ک حق میں ہے لیکن پیپلزپارٹی اسے سیاسی انتقامی کارروائی کا رنگ دینے کی کوشش کررہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق صدر آصف زرداری کے تین قریبی ساتھیوں نواب لغاری‘ اشفاق لغاری اور غلام قادر مری کی پراسرار گمشدگی نے پیپلزپارٹی کی صفوں میں سخت کھلبلی مچا دی ہے اور اس کا خیال ہے کہ آصف زرداری کے تین قریبی دوستوں کو جو ان کے کاروباری مفادات کی بھی دیکھ بھال کرتے ہیں انہیں شاید کسی تحقیقاتی ادرے نے تفتیش کی غرض سے اٹھایا ہے۔ اس حوالے سے پیپلزپارٹی کے بعض رہنماﺅں نے وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان پر بھی شبہ ظاہر کیا ہے کہ شاید ان کے ایما پر یہ تینوں افراد نیب نے اٹھائے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ پیپلزپارٹی کی فکر مندی بڑھتی جارہی ہے کہ نیب سمیت کسی بھی ادارے نے ابھی تک تینوں میں سے کسی بھی لاپتہ شخص کی ابھی تک سرکاری طور پر گرفتاری ظاہر نہیں کی اور نہ ہی عدالت میں پیش کیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سابق صدر جو کئی روز سے اسلا م آباد میں ہیں اس وقت وفاقی حکومت کی اہم شخصیات سے رابطوں میں مصروف ہیں اور ان سے کہا جارہا ہے کہ وفاقی حکومت ان تینوں افراد کی بحفاظت بازیابی کے حوالے سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت نے وفاقی حکومت کو یہ یاد دلایا ہے کہ ماضی میں جب عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری نے اسلام آباد پر یلغار کی تھی اور نواز حکومت کا خاتمہ یقینی نظر آرہا تھا تو پیپلزپارٹی ہی تھی جس نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو گرنے سے بچایا تھا۔ اس وقت بھی نواز حکومت پانامہ کیس کے باعث خطرات میں گھری ہوئی ہے اگر اس نے اس مرحلہ پر تعاون نہ کیا تو آئندہ وہ پیپلزپارٹی سے کسی تعاون کی امید نہ رکھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے پیپلزپارٹی کو تسلی دی ہے لیکن وہ خوداس وقت جن مشکلات سے دوچار ہے اس کے لئے بھی پیپلزپارٹی کی کھل کر کوئی مدد کرنا آسان کام نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق صدر کی خواہش پر پیپلزپارٹی کے کئی مرکزی اور صوبائی رہنماﺅں کو نواب لغاری، اشفاق لغاری اور قادرمری کے معاملے پر چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے بھی مخالفانہ بیان بازی اور پریس کانفرنسز کا اہتمام کرنا پڑا جبکہ کچھ حلقوں کا دعویٰ ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے حامی ہیں کہ کرپشن کی زد میں آنے والے لوگوں کی آئے دن پارٹی کی جانب سے سیاسی حمایت کے سبب پیپلزپارٹی کی سیاسی ساکھ پر منفی اثر پڑرہا ہے اور مخالفین کو پیپلزپارٹی کیخلاف الزام تراشی کا بہترین موقع ہاتھ آگیا ہے۔ ادھر زرداری نے اپنی بیٹی آصفہ بھٹو کو اہم عہدہ دینے پر غور شروع کردیا ۔

















