مچھروں کو دور رکھنے کا آسان گھریلوطریقہ

لاہور (نیوزڈیسک) آج کل کے موسم میں مچھروں نے ہم سب کو پریشان کررکھا ہے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لئے ہم مہنگے سپرے اور ادویات کا استعمال کرتے ہیں لیکن آج ہم آپ کو ایک ایسا سستا نسخہ بتائیں گے کہ جس پر عمل کرکے آپ بآسانی مچھروں سے بچ سکیں گے۔اگر آپ لیموں اور لونگ کا ملاکر کسی جگہ رکھ دیں تو وہاں مچھرنہیں آتے۔آپ کو بس یہ کرنا ہے کہ لیموں کاٹ کر کچھ لونگ کے ساتھ اسے کمرے میں کہیں بھی رکھ دیناہے۔اس کی وجہ سے مچھر کبھی بھی کمرے میں نہیں آئیں گے۔

تھری ڈی جوتوں کی فروخت کا اعلان

لاہور (نیٹ نیوز) سپورٹس کٹس تیار کرنے والی جرمن کمپنی ایڈیڈاز نے تھری ڈی پرنٹڈ سول کے حامل جوتوں کی فروخت کا اعلان کیا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تھری ڈی پرنٹڈ سول کے حامل جوتوں کی فروخت شروع کی جارہی ہے ۔ابتدائی طور پر رواں سال کے اختتام تک اس طرح کے پانچ ہزار سنیکرز فروخت کیلئے پیش کئے جائیں گے جبکہ اگلے سال یہ تعداد ایک لاکھ تک بڑھائی جائیگی۔کمپنی کے مطابق نئے جوتے کسی بھی کھلاڑی کے وزن اور حرکت کے مطابق ایڈجسٹ ہو سکیں گے ۔

بھارت ہوش کے ناخن لے ورنہ مقبوضہ کشمیر بھی۔۔

سری نگر/نئی دہلی (ویب ڈیسک) مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلی اور سربراہ نیشنل کانفرنس فاروق عبداللہ نے بھارتی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لے ورنہ رہا سہا مقبوضہ کشمیر بھی پاکستان میں شامل ہوجائے گا۔ایک بھارتی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے سری نگر میں جاری ضمنی انتخابات کے دوران تشدد اور قتل و غارت گری پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس کا ذمہ دار مودی سرکار کو ٹھہرایا ۔ان کا کہنا تھا کہ مودی سرکار آگ سے کھیل رہی ہے کیونکہ پتھرا کرنے والے کشمیری نوجوان کسی عہدے یا وزارت کے طلبگارنہیں بلکہ وہ بھارتی مظالم کے خلاف لڑ رہے ہیں کیونکہ بھارتی حکومت نے ان سے ہر طرح کی آزادی چھین لی ہے اور وہ آزادی کےلیے ہی لڑ رہے ہیں۔انہوں نے مودی کو خبردار کرتے ہوئے کہا، دلی سرکار ہوش کے ناخن لے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے اور بچا کچھا کشمیر بھی پاکستان کے ساتھ شامل ہوجائے۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیرکے حل کیلئے بھارتی حکومت کو پاکستان سے بھی بات کرنی ہوگی،اس سے قبل کے بہت دیرہوجائے ہمیں جاگ جاناچاہیے،بھارتی حکومت کونوجوانوں ،حریت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرزسے بات کرنی چاہیے،ہمیں فوجی نہیں سیاسی حل کی ضرورت ہے۔

مولانا طاہر اشرفی کا گھناﺅنا چہرہ بے نقاب

کراچی، اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) غیر ملکی ادارون سے فنڈنگ اور دیگر الزامات کے بعد طاہر اشرفی نہ صرف پاکستان علما کونسل کے جنرل سیکرتری نہیں رہے، بلکہ کونسل سے ان کی بینادی رکنیت بھی ختم کر دی گئی ہے ۔ علما کونسل کے چیئرمین علامہ ذاہر قاسمی کا کہنا ہے کہ طاہر اشرفی نے مذہب اور جماعت کو اپنے ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کیا۔ لاہور کے علاوہ دبئی اور برطانیہ میں بھی ان کی جائیداد ہیں۔ لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ طاہر اشرفی مستقلاً پاکستان میں ہی مقیم رہے ہیں۔ ان کو برطانیہ جانا چاہیں تو انہیں ویزے دینے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ دوسری جانب علامہ طاہر اشرفی نے تسلیم کیا ہے کہ وہ ہریت شہریت کے حامل ہیں۔تا ہم انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ انکے اکاونٹس میں موجود رقم انہیں گیر ملکی اداروں نے خاص مقاصد کیلئے دیں۔ پاکستان علما کونسل کے چیئرمین علامہ زاہد قاسمی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ”طاہر اشرفی نے مذہب اور جماعت کو اپنے ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کیا۔ لاہور کے علاوہ دبئی اور برطانیہ میں بھی ان کی جائیداد ہیں ، جس کا کھوج لگانے کیلئے ہم کام کر رہے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ طاہر اشرفی مستقل طور پر پاکستان میں ہی مقیم رہے ہیں۔ انکو برطانیہ کا ویزہ اور بعد میں شہریت بھی کن خدمات کے عوض دی گئی ، جبکہ ہمارے کئی جید علمائے کرام تبلیغی مشن پر بھی چند دنوں یا ہفتون کیلئے برطانیہ جانا چاہیں تو انہیں ویزہ دینے سے انکار کر دیا جاتا ہے“۔ ایک سوال پر علامہ زاہد محمود قاسمی نے بتایا کہ ”ماضی میں یہ جماعت الیکشن کمیشن میں انتخابات میں حصہ لینے کیلئے رجسٹرڈ کرائی گئی تھی۔ میں اس کا سیکریٹری جنرل تھا۔ لیکن سابق چیئرمین کے ھوالے سے قانونی امور طے کرنے کے لئے فائل تیار ہو ہے۔ اگلے ہفتے الیکشن کمیشن میں پیش کریں گے۔ اسی طرھ ایف آئی اے اور نیب کو بھی طاہر اشرفی کے بنک اکاﺅنٹس اور دیگر امور کی تحقیقات کیلئے اگلے دو تین دونوں میں خط لکھ رہے ہیں کہ ان کے ذرائع آمدن اور اثاثہ جات کی تحقیقات کی جائیں۔“واٹس اپ پیغام کی صورت میں ہمارے پاس طاہر اشرفی کا اعتراف موجود ہے کہ وہ برطانوی شہری بھی ہیں، اس لئے اب وہ اس سے انکار نہیں کر سکتے۔ زاہد قاسمی نے کہا کہ برطانیہ ، جرمنی اور ناروے کے اسلام آباد میں سفارت خانوں کو بھی یہ خط لکھ رہے ہیں اور رابطہ کر رہے ہیں کہ انہوں نے یہ رقم کن مقاصد کیلئے طہر اشرفی کو دی تھی۔ علامہ طاہر اشرفی نے سے اپنی زیادہ تر گفتگو کو آف دی ریکارڈ قرار دیا لیکن دہری شہریت اور اکاﺅنٹس کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے کاروبار کا جواز پیش کیا اور کہا کہ جب رقم دینے والے انکار کر رہے ہیں تو پھر مسلسل الزام تراشی کا کوئی جواز نہیں۔ ان کے مطابق معاملہ کورٹ میں ہے۔ الزام لگانے والوں کو اب عدالت میں ثابت کرنا ہو گا۔ انہوں نے یہ بتانے سے بھی گریز کیا کہ جب وہ مسلسل کبھی برطانیہ میں موجود نہیں رہے تو ان کو برطانوی شہریت کن خدمات کےعوض اور کب ملی۔علامہ طاہر اشرفی اب پاکستان علما کونسل کے اپنے دھڑلے اور گروپ کا چیئرمین ہونے کے دعویدار ہیں۔ ان کے قریبی ذرائع کے مطابق اشرفی پر لگائے گئے الزامات میں ممکن ہے کسی حد تک یا کافی صداقت بھی ہو، لیکن اب معاملہ عدالت میں ہے۔ جو دو بڑے الزامات برطانوی شہریت اور اکاﺅنٹ میں رقم کے بارے میں تھے ، وہ طاہر اشرفی نے قبول کر لئے ہیں اور اس کا جواب بھی دیا ہے، جس کی معقولیت پر بات ہو سکتی ہے۔ علامہ طاہر اشرفی ستے بات کی جائے گی۔ سوچ اور فکر اجتماعی مذہبی سوچ اور فکر سے الگ ہوتی ہے اور اس پر ہمیں بھی تحفظات ہیں۔ لیکن رمشا مسیح اور دیگر جن معاملات کا ان پر الزام ہے تو یہ بہت پرانے ہیں ۔ جبکہ علامہ زاہد قاسمی تو کچھ عرصہ پہلے تک ان کی سربراہی میں جماعت کے سیکریٹری جنرل تھے۔ ادھر دیگر معتبر ذرائع کے مطابق علامہ زاہد قاسمی اور ان کے ساتھیوں کی پریس کانفرنس اور اس سے پہلے علامہ طاہر اشرفی کے اکاﺅنٹس وغیرہ کے انکشافات کے بعد طاہر اشرفی نے متعدد بار اپنے ان پرانے ساتھیوں سے براہ راست اور بولواسطہ رابطہ کر ے اس سارے معاملے پر مٹی ڈالنے کی کوشش کی ، لیکن مثبت جواب نہیں ملا۔ اس کی تصدیق کرتے ہوئے زاہد محمود قاسمی نے بتایا کہ طاہر اشرفی نے بہت رابطے کئے ہیں، لیکن اب ان کا اتنا جھوٹ سامنے آچکا ہے کہ اب ان کے ساتھ چلنے یا ان کا ساتھ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اب یہ تمام مذہبی جماعتوں اور شخصیات کا اعتماد کھو چکے ہیں اپنی صفائی میں کہنے کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔ پاکستان علماءکونسل نے سابق چےئرمےن حافظ طاہر محمود اشرفی کو برطرفی کے باوجود چےئرمےن کا نام استعمال کرنے اور علماءکرام کو بدنام کرنے پر 75کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوا دےا ہے،پاکستان علماءکونسل پنجاب کے صدر حافظ محمد امجد کی جانب سے مےاں محمد طےب اےڈووکےٹ نے کونسل کے سابق چےئرمےن حافظ طاہر محمد اشرفی کو بھجوائے جانے والے لےگل نوٹس مےں کہا گےا ہے کہ پاکستان علماءکونسل کی مرکزی شوریٰ نے دھوکہ دہی اور غےر ممالک کے ساتھ معاہدوں کے بارے مےں شوریٰ کو اعتماد مےں نہ لےنے پر تمہےں چےئرمےن کے عہدے سے برطرف کےا ہے تاہم اس کے باوجود تمہاری جانب سے چےئرمےن پاکستان علماءکونسل کا نام استعمال کےا جارہا ہے اور اس حےثےت سے سعودی عرب کا دورہ بھی کےا ہے،نوٹس مےں کہاگےا ہے کہ 7دنوں کے اندر اندر اپنی پوزےشن واضح کرےں بصورت دےگر مےرے م¶کل کو اپنے حق کےلئے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے گا اور پاکستان کے علماءکے تشخص کو پامال کرنے اور مےرے م¶کل کے خلاف الزامات پر75کروڑ روپے کا ہرجانہ بمع اخراجات ادا کرنے کےلئے عدالتوں سے رجوع کےا جائے گا۔

ارکان اسمبلی …. گھر بیٹھے تنخواہیں ، مراعات لینے کا انکشاف

کراچی (خصوصی رپورٹ)سندھ اسمبلی کے 9ارکان اجلاس میں شریک ہوئے بغیر سرکاری مراعات حاصل کررہے ہیں، 4ارکان کی بغیر اطلاع غیر حاضری کے 40دن کا کوٹہ بھی پورا ہوچکا ہے، 5ارکان پارٹی تبدیل کرنے کے باوجود مستعفی ہوئے اور نہ ہی اجلاس میں شریک ہوتے ہیں تاہم ماہانہ معاوضہ ان کے اکاﺅنٹ میں جارہا ہے۔ یہ ارکان میڈیکل الاﺅنس کے علاوہ 6لاکھ سے 27لاکھ روپے تک گھر بیٹھے معاوضہ حاصل کرچکے ہیں۔ اسمبلی ذرائع کے مطابق 9ارکان کئی ماہ سے اجلاس میں شریک ہوئے بغیر مراعات سے مستفید ہورہے ہیں جن میں سیداویس مظفر، سابق وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹرارباب غلا رحیم، عادل صدیقی، محمد دلاور، شیخ عبداللہ ، سید حفیظ الدین، احتزاخلیل فاروقی، بلقیس مختیار اور ارم عظیم فاروقی شامل ہیں۔ پیپلزپارٹی کے سید اویس مظفر(جو آصف علی زرداری کے منہ بولے بھائی بھی ہیں) سوا دوسال سے ملک سے باہر ہیں اور انکی چھٹی کی درخواستیں مسلسل منظور ہورہی ہیں اور 28ماہ سے اجلاس میں شریک ہوئے بغیر قومی خزانے سے 27لاکھ روپے حاصل کرچکے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم تقریباً ایک سال سے اسمبلی میں نہیں آئے، اسمبلی سیکرٹریٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ چار سال میں وہ 6سے 7بار اجلاس میں شریک ہوئے ہیں۔ایم کیو ایم پاکستان کے عادل صدیقی تقریباً ایک سال سے ملک سے باہر ہیں علالت کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہوتے ہیں ان کی چھٹی کی درخواست ضرور آتی ہے۔ ذرائع کے مطابق پاک سرزمین پارٹی میںشامل ہونیوالے ایم کیو ایم پاکستان کے 4منحرف ارکان بلقیس مختیار ، محمد دلاور شیخ، عبداللہ، ارم عظیم فاروق اورتحریک انصاف کے سید حفیظ الدین کے مصدقہ استعفے اسمبلی سیکرٹریٹ کو موصول نہیں ہوئے اور ان کے بغیر اطلاع کے اجلاس سے غیر حاضر رہنے کی زیادہ سے زیادہ 40دن کی مدت بھی گزرچکی ہے۔ مذکورہ تمام ارکان ماہانہ 83ہزار روپے اور میڈیکل الاﺅنس و دیگر سہولیات حاصل کررہے ہیں۔

وینا ملک کی ویڈیومنظر عام پر …. سوشل میڈیا پر دھوم مچادی

لاہور(ویب ڈیسک) وینا ملک کے کیرئیر کے پہلے گیت کی ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اداکارہ وینا ملک کی جانب سے شوبز کی دنیا میں دوبارہ واپسی ہوئی ہے۔وینا ملک کے کیرئیر کے پہلے گیت کی ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے۔ وینا ملک کی جانب سے خصوصی طور پر پاک افواج کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ملی نغمہ ریلیز کیا گیا ہے

عمران خان بڑی مصیبت میں پھنس گئے

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)تحریک انصاف نے پارٹی سربراہ عمران خان پر الزام عائد کیا ہے کہ پی ٹی آئی میں جعلی پارٹی انتخابات کرانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں تاکہ کاغذی خانہ پوری کرکے انتخابی نشان کے حصول کے لئے الیکشن کمشن کے قانونی تقاضے کو پورا کیا جاسکے۔ فانڈرگروپ جعلی پارٹی انتخابات کو الیکشن کمشن سمیت تمام متعلقہ قانونی فورمز پر چیلنج کرے گا۔ یہ اعلان پی ٹی آئی کے بانی ، سابق مرکزی سیکریٹری اطلاعات اورفانڈر گروپ کے سرکردہ راہنما اکبر ایس بابر نے اتوار کو بیان میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ جس ٹولے کیخلاف جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے فیصلہ دیا تھا اور ان سے پارٹی کو پاک کرنے کا حکم دیا تھا، وہی عناصر پارٹی میں شفاف، ایماندارانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کیسے کراسکتے ہیں؟ عمران خان پارٹی آئین کا احترام کرتے ہوئے اسکے سیکشن (XV)کے تحت مرکزی اور صوبائی سطح پر آزاد الیکشن کمشن قائم کریں جو انتخابات کرانے کا آئینی طریقہ ہے۔ اس طریقہ کار میں تبدیلی کا واحد راستہ پارٹی آئین میں آئینی ترمیم ہے جس کیلئے مجاز فورم پی ٹی آئی نیشنل کونسل ہے۔ عمران خان کےاے ٹی ایم جعلی انتخابی عمل کے ذریعے اپنے حواریوں کو منتخب کرانے کا ڈھونگ رچانے کیلئے حکمت عملی مرتب کررہے ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے اندر انتخابات کے عمل کو جعلسازی قرار دیکر اسکے خلاف حقیقی پارٹی کارکنوں کی جانب سے نیا قانونی محاذ کھولنے کی دھمکی دی ہے۔

کلبھوشن یادیو کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے نام اپنے ہاتھ سے لکھی درخواست

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) صدر پاکستان کے پاس کلبھوشن یادیو کو اپیل کا حق باقی ہے پاکستان میں جاسوسی اور دہشتگردی پھیلانے کے الزام میں کوئٹہ سے گرفتار بھارتی حاضر سروس لیفٹینٹ کرنل (بھارتی نیول کمانڈر) جو پاکستان میں حسین مبارک کے نام سے را کیلئے جاسوسی کرتا تھا 3 مارچ 2016ء کو گرفتار کیا گیا تھا کلبھوشن کا ملٹری ایکٹ کے تحت جاسوسی کے الزام میں ٹرائل کیا گیا کلبھوشن کو پہلے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں تمام افراد کو عدالت سے نکال کر مجسٹریٹ نے بیان ریکارڈ کیا جس میں کلبھوشن نے رضا کا رانہ طور پر مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف جرم کیا پھر اسکا مقدمہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں پیش کیا گیا جہاں اسے پھانسی کی سزا سنادی گئی کلبھوشن کو دفاع کیلئے جیک برانچ سے وکیل بھی دیا گیا جس نے اسکا بھر پور دفاع کیا۔ کلبھوشن کو ذاتی طور پر بھی وفاع کا موقع دیا گیا۔ مقدمے کے دوران کلبھوشن ملٹری ایکٹ کی کتابوں کا بھی مطالعہ کرتا اور دلائل تیار کرتا رہا۔ کلبھوشن نے اپنی سزا کیخلاف اپنے ہاتھ سے درخواست لکھکر چیف آف آرمی سٹاف جنرل جاوید قمر باجوہ سے رحم کی اپیل کی جسے مسترد کر دیا گیا۔

کلبھوشن یادیو کی اصل کہانی ” بے نقاب “

لاہور (وقائع نگار) پاکستان کے علاقہ چمن سے گرفتار ہونے والا بھارتی بحریہ کا جاسوس افسر کلبھوشن یادیو نے 1987ءمیں انڈین نیوی کی انجینئرنگ برانچ سے کمیشن حاصل کیاجس کے بعد 2001ءتک وہ بھارتی بحریہ میں باقاعدہ طور پر کام کرتا رہا ۔بھارتی شہر ممبئی کے رہائشی کا پہلا مشن اپنے ہی ملک میں ہونے والے پارلیمنٹ حملے کے بعد اس حوالے سے معلومات اکھٹی کرنا تھا جبکہ 2003ءمیں 14سالہ سروس کے بعد اسے باقاعدہ طور پر بھارتی جاسوس ایجنسی “را”میںشامل کر لیا گیا جہاں اسے ایران کے علاقہ چاہ بہار میں ایک فرضی کاروبار کرنے کا ٹاسک دیا گیا جسے بعد یہ مختلف اوقات میں پاک ایران سرحدی علاقوں اور بلوچستان میں دہشتگردوں کے ذریعے مختلف کاروائیوں میں ملوث رہا ۔اس دوران پاکستان میں انتشار اور دہشتگردانہ کاروائیوں کیلئے ایک مضبوط نیٹ ورک بنایا جس میں بلوچستان میں دہشتگردی کی کاروائیاں کر نے والے علحدگی پسند اور کراچی سے تعلق رکھنے والے قوم پرست افراد سے تعلقات بنائے جن کے ذریعے اس نے بلوچستان اور کراچی میں بہت سی دہشتگردی کی وارداتیں سرانجام دیں ۔ کلبھوشن یادیو نے خود پاکستانی حکام کے سامنے اس بات کا اعتراف کیا کہ اسے پاکستان میں دہشتگردی کی کاروائیوں کے حوالے سے بھارت سے “را”کے افسران کی جانب سے ہدایات ملتی تھیں اور وہ ہی اس بارے میں فنڈنگ بھی مہیا کرتے تھے ۔ اس نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اب بھی انڈین نیوی کا حاضر سروس افسر ہے اور اسکی ریٹائر منٹ 2022ءمیں ہونی ہے جبکہ اس نے 2003اور 2004ءمیں کراچی میں دہشتگردانہ کاروائیاں کروانے کا بھی از خود اعتراف کیا تاکہ کراچی کے امن کو سبوتاژ کیا جاسکے اور اس بار ے میں اپنی سرگرمیوں کا تفصیلی حال بھی اس نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ اس کا اصل حدف پاکستانی بندر گاہ گوادر ،پسنی جیوانی اور دیگر حساس تنصیبات کی معلومات بھارتی ایجنسی تک پہنچانا تھا اور ان کاروائیوں کا مقصدعلیحدگی پسندافراد کے اذہان کو مجرمانہ سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا تھا تاکہ پاکستان میں بے امنی پھیلائی جاسکے ۔میں اپنی کاروائیوں کیلئے سراوان بارڈر کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوتا رہا ہوں اور اسی طرح کی ایک کاروائی کیلئے بلوچستان میں داخل ہوتے ہوئے 3مارچ 2016ءکو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروںنے گرفتار کیا ۔ اس بار بھی میرا مقصد علیحدگی پسندوں سے ملاقاتیں کرنا تھا جو کہ ایک طویل عرصے سے ہمارے رابطے میں تھے۔

پاکستان میں موجود 9 بھارتی جاسوس …. تہلکہ خیز انکشافات پر مبنی رپورٹ

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) پاک فوج کی ملٹری عدالت نے لگ بھگ ایک سال قبل بلوچستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کو سزائے موت سنادی ہے لیکن یہ کوئی پہلا بھارتی جاسوس نہیں جسے پاک سرزمین کے خلاف اس کے ناپاک عزائم کی سزا ملی ہو۔پاک فوج کے شعبہ نشرو اشاعت آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یاد یو کو سزائے موت سنا دی گئی ہے، کلبھوشن کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی جانب سے پاکستان میں جاسوسی، انتشار پھیلانے پر سزا سنائی گئی، مقدمہ آرمی ایکٹ کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں چلایا گیا۔کلبھوش یادو کو سزائے موت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں پاکستان آرمی ایکٹ 1952کے سیکشن 59 اور آفیشل سیکرٹ ایک 1923 کے سیکشن 3 کے تحت سزائے موت سنائی گئی ہے۔آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں بھارت سے پاکستان بھیجے جانے والے جاسوسوں کی فہرست پر جنہیں یہاں کے سیکیورٹی اداروں نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گرفتار کیا۔ کلبھوشن یادو بھارتی نیوی کے افسر کلبھوشن یادیو کو 3مارچ 2016 کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔ جس کے بعد بھارت نے تسلیم کیا تھا کہ بلوچستان سے پکڑا جانے والا جاسوس کلبھوشن یادیو بھارتی نیوی کاافسر تھا، بحریہ سے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لی تھی۔گرفتاری کے بعد کلبھوشن یادیو کے گناہوں کے اعتراف پر مبنی ایک ویڈیو بیان منظر عام پر لایا گیا تھا ، جس میں کلبھوشن نے انکشاف کیا تھا کہ وہ بلوچستان میں علیحدگی پسند بلوچوں سیملاقاتیں کرتا رہا ہے اوران ملاقاتوں میں اکثرافغانستان کی انٹلی جنس کے اہلکاربھی موجود ہوتے تھے۔کلبھوشن یادیو نے 1987میں بھارت کی نیشنل ڈیفنس اکیڈمی پونا جوائن کی، یکم جنوری 1991میں انجینئرنگ برانچ میں کمیشن حاصل کیا 2001میں بھارتی نیول انٹیلی جنس میں شامل ہوا اور 2013 سے راکے لئے کام کررہا تھا جبکہ 2022میں ریٹائر ہونا تھا لیکن قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ہ بھارتی جاسوس نے دوران تفتیش تمام الزامات کو تسلیم کیا تھا، کلبھوشن یادیو نے کراچی اور بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا اعتراف کیا تھا جبکہ یہ بھی اعتراف کیا تھا وہ بھارتی خفیہ ایجنسیراکے مشن پرتھا۔ رویندرا کوشک رویندرا کوشک نامی بھارتی خفیہ ایجنٹ سنہ 1975 میں 23 سال کی عمر میں پاکستان آیا۔ اسے اردو اور پنجابی زبان سکھا کر اور یہاں کے بود وباش کی بہت اعلی تربیت دے کر بھیجا گیا تھا جس کی بنا پریہاں اس نے کئی سال ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے گزارے۔نبی احمد شاکر کی خفیہ شناخت کے ساتھ رویندرا نے یہاں شادی بھی کرلی اور اس کے بچے بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ یہاں سے کافی خفیہ معلومات بھارت بھیجنے میں کامیاب رہا تھا تاہم 1983 میں یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں آیا۔رویندرا کو سزائے موت سنائی گئی تھی تاہم بعد میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔ وہ طویل عرصے مختلف جیلوں میں قید رہا اور بالاخر 1999 میں ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہوکر ملتان جیل میں اپنے انجام کو پہنچا۔ سربجیت سنگھ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے افسر سربجیت سنگھ عرف منجیت سنگھ کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور اور فیصل آباد میں سنہ 1990 میں ہونے والے بم دھماکوں میں 14 افراد کے جاں بحق ہونے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔سربجیت سنگھ لاہور کی جیل میں قید تھا جہاں 26 اپریل سنہ 2013 کو جیل میں اس کے ساتھیوں نے اس پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا اور چھ دن اسپتال میں زیرِ علاج رہ کر دم توڑ گیا سرجیت سنگھ سرجیت سنگھ کو اسی کی دہائی میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور سنہ 1985 میں آرمی عدالت نے اسے سنہ 1989 میں سزائے موت سنائی تھی۔ تاہم اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے اس کی رحم کی اپیل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔سربجیت سنگھ لگ بھگ تیس سال پاکستان کی جیل میں گزار کر 73 سال کی عمر میں واپس بھارت لوٹ گیا جہاں اس کے ملک میں آرمی اس کے اہلِ خانہ کو محض 150 روپے ماہانہ وظیفہ دے رہی تھی۔ رام راج رام راج نامی بھارتی جاسوس ایک پیشہ ور فوٹو گرافر تھا اور پاکستان بھیجے جانے سے قبل وہ 18 سال تک خفیہ ایجنسی را کے جاسوسوں کے لیے گائیڈ کا کام کرتا رہا۔ پاکستان میں 18 ستمبر2004 کوداخل ہونے والے رام راج کو پاکستان کی انٹلی جنس ایجنسیز نے اگلے ہی دن دھر لیا تھا یہاں کی عدالتوں نے اسے چھ سال کی سزا سنائی۔ پاکستان میں آٹھ سال اپنی سزا مکمل کرنے کے بعد جب وہ بھارت واپس گیا تو اسے پاکستان بجھوانے والے بھارتی خفیہ ایجنسی کے افسران نے اسے پہچاننے سے بھی انکارد کیا۔ بلویر سنگھ بلویر نامی بھارتی جاسوس سنہ 1971 میں پاکستان میں داخل ہوا اور 1974 میں گرفتار ہوا۔ بلویر کو 12 سال قید کی سزا سنائی گئی۔سنہ 1986 میں جب بلویر واپس بھارت گیا تو اس نے اپنی خفیہ ایجنسی پر قید کے دنوں میں کسی بھی قسم کی مدد نہ کرنے کے سبب بھارتی عدالت میں مقدمہ درج کرادیا۔ عدالت نے بھارتی ایجنسی کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے اسے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا جو کہ آج تک ادا نہیں کیا گیا۔ ست پال ست پال کو سنہ 1999 میں بھارتی خفیہ ایجنسی نے کارگل جنگ کے زمانے میں پاکستان بھیجا جہاں اسے خفیہ اداروں نے گرفتار کرلیا تھا۔ ست پال ایک سال پاکستان کی جیل میں قید رہنے کے بعد چل بسا۔ اس کی میت واپس بھارت بھیج دی گئی تھی۔ کشمیر سنگھ کشمیر سنگھ نامی جاسوس کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے گرفتار کیا تھا تاہم حکومتِ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کی نیت سے اسے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر رہا کرکے واپس بھارت روانہ کردیا تھا۔ کشمیر سنگھ کو اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کے حکم پر معافی دی گئی تھی۔ رام پرکاش انڈیا کی خفیہ ایجنسی را سے تعلق رکھنے والے رام پرکاش کو 1994 میں پاکستان بھیجا گیا وہ پیشے کے اعتبار سے فوٹو گرافر تھا۔ سنہ 1997 میں بھارت واپس جاتے وقت وہ گرفتار ہوا اور اسے 10 سال کی سزا سنائی گئی۔تفتیش کے دوران اس نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں جاسوسی کی نیت سے اس نے 75 بار پاک بھارت بارڈر کراس کیا تھا۔ جولائی 2008 میں رہا ہو کر رام پرکاش واپس بھارت چلا گیا۔ اس کے علاوہ بھی متعدد افراد کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے مختلف ادوار میں حراست میں لیا اور وہ یہاں سزائیں بھی کاٹتے رہے جبکہ بھارت کا سفارتی عملہ بھی جاسوسی کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔
9جاسوس

کیش