اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اقتدار کی نہیں اقدار کی سیاست کرتی ہے، آج کا پاکستان زیادہ مضبوط اور مستحکم ہے، سخت محنت سے ترقیاتی منصوبے تیزرفتاری سے مکمل ہورہے ہیں، ترقیاتی من©صوبوں میں شفافیت کو یقینی بنایا ہے، عوام جانتے ہیںکس نے کام کیا اور کس نے نہیں کیا،سی پیک کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے‘ 3600میگاواٹ بجلی آئندہ چند ماہ میں نظام میں شامل ہوجائے گی، مستقبل کی توانائی ضروریات پورا کرنے کیلئے پائیدار بنیادوں پر کام کررہے ہیں ‘ ماضی کے کھٹائی میں پڑے منصوبوں کو بھی مکمل کیا جارہا ہیں،ہمارا مقصد پاکستان کی عوام کی ترقی ہے ،ہم عوام کے سامنے جوابدہ ہیں،عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ کس نے کارکردگی دکھائی اور کون ناکام ہوا۔ جمعہ کو مسلم لیگ (ن)کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ آج کا پاکستان زیادہ مضبوط اور مستحکم ہے۔ 2013ءمیں حکومت سنبھالی تو ورثے میں گھمبیر مسائل ملے۔ نواز شریف نے کہا سخت منصوبوں میں شفافیت کی یقینی بنایا گیاہے ماضی میں ترقیاتی منصوبے التوا کا شکار ہوئے ۔انہوں نے کہا ماضی میں ترقیاتی منصوبوں کی لاگت میں اضافہ معمول تھا آج ہم ترقیاتی منصوبوں میں بچت کررہے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے اقتدار کی نہیں اقدار کی سیاست کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام جانتی ہےکس نے کام کیا اور کس نے کچھ نہیں کیا۔حکومت توانائی منصوبوں کام کررہی ہے۔ہمارا مقصد صارفین کو ارزاں نرخوں پر بجلی کی فراہمی ہے ۔انہوں نے کہا حکومت نیک نیتی سے کام کررہی ہے۔سی پیک کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔3600میگاواٹ بجلی آئندہ چندہ ماہ میں نظام میں شامل ہوجائیگی ۔مستقبل کی توانائی ضروریات پورا کرنے کیلئے پائیدار بنیادوں پر کام کررہے ہیں ۔نواز شریف نے کہا ایک کھرب کا ترقیاتی بجٹ ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔گورننس کے شعبے میں اصلاحات پر کام کررہے ہیں،ماضی کے کٹھائی میں پڑے منصوبوں کو بھی مکمل کررہے ہیں۔ ہمارا مقصد پاکستا ن اور اس کے عوام کی ترقی ہے۔ انہوں نے کہا پورا ملک شاہراہوں اور موٹرویز کے زریعے باہم منسلک ہورہاہے۔مربوط رابطوں سے کاروبار، صنعت اور برآمدات کو فروغ ملے گا۔ ہمارے دور حکومت میں سلامتی کی صورتحال میں بحتری آئی ہے۔نواز شریف نے کہا دوسرے صوبوں کی طرح آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹاپر بھی یکساں توجہ دے رہے ہیں۔ اب لوگ دیکھ سکتے ہیں کہ ترقیاتی منصوبے شفاف انداز میں تیزی سے مکمل کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہوتے تھے جس سے عموماً لاگت بڑھ جاتی تھی۔ لیکن اب منصوبہ جات پر بچت کی جا رہی ہے۔






































