لندن: مائیکروسافٹ اور میٹا ایک بڑی تبدیلی کی تیاری میں مصروف ہیں، جس کا اثر ہزاروں ملازمین کی ملازمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ اے آئی پر بڑھتے خرچ اور آپریشنز کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے دونوں کمپنیاں اخراجات کم کرنے کی سمت بڑھ رہی ہیں، ان فیصلوں سے تقریباً 23 ہزار افراد کی ملازمتیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک طرف میٹا بڑے پیمانے پر چھانٹی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، وہیں مائیکروسافٹ اپنے ملازمین کو رضاکارانہ ’بائی آؤٹ‘ کی پیشکش کر رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ خبر سامنے آنے کے بعد مائیکروسافٹ اور میٹا میں کام کرنے والے ملازمین پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں، ٹیک سیکٹر میں ایک بار پھر چھانٹی کی سرگوشی باعث فکر ہے۔
میٹا پلیٹ فارمز اور مائیکروسافٹ نے اپنے اخراجات کو قابو میں رکھنے اور اے آئی پر بڑی سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے بڑے فیصلے لینے شروع کر دیے ہیں۔
میٹا نے اپنے ملازمین کو بھیجے گئے ایک انٹرنل میمو میں بتایا ہے کہ کمپنی اپنی تقریباً 10 فیصد ورک فورس، یعنی تقریباً 8,000 ملازمین کو فارغ کرے گی، یہ عمل 20 مئی سے شروع ہوگا۔
اس کے علاوہ کمپنی تقریباً 6,000 خالی عہدوں کو بھی پُر نہیں کرے گی، جس سے مجموعی اثر مزید بڑھ سکتا ہے۔ میٹا کا کہنا ہے کہ یہ قدم کمپنی کو زیادہ مؤثر اور تیز رفتار بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔
دوسری طرف مائیکروسافٹ نے اپنے امریکی ملازمین کے لیے بڑے پیمانے پر رضاکارانہ ’بائی آؤٹ‘ پروگرام شروع کیا ہے۔ رضاکارانہ بائی آؤٹ کو ’والنٹری ایگزٹ پیکیج‘ بھی کہتے ہیں، جس کا مطلب ہے کسی کمپنی کا اپنے ملازمین کو رضامندی سے ملازمت چھوڑنے کے بدلے ایک پُرکشش مالیاتی پیکیج (سیورینس پیکیج) فراہم کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ میں مائیکروسافٹ کے تقریباً 1.25 لاکھ ملازمین میں سے 7 فیصد، یعنی 8,750 افراد اس پیشکش کے اہل ہو سکتے ہیں۔ یہ مائیکروسافٹ کی تاریخ میں اس نوعیت کا سب سے بڑا بائی آؤٹ اقدام مانا جا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی تربیت : کیا میٹا ملازمین کی جاسوسی کرے گا؟
درحقیقت دونوں کمپنیاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے بڑھتے دباؤ کے درمیان بھاری سرمایہ کاری میں مصروف ہیں۔





































