تازہ تر ین

کسان اتحاد مظاہرے پر پولیس کا دھاوا, شیلنگ کے جواب میں پتھراﺅ

اسلام آباد (رپورٹنگ ٹیم) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑ پ کے بعد کسان اتحاد کے 180مظاہرین گرفتار کر لئے گئے جنہیں مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا گیا ، ڈی چوک پر ایک جانب سے پتھراﺅ اور دوسری جانب سے آنسو گیس کے شیل ،واٹر کینن اور لاٹھیوں کااستعمال کیا گیا ، ڈی ایس پی سمیت 6اہل کار اور متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق کسان اتحاد کی جانب سے اسلام آباد کے ڈی چوک پر بلوں اور کھادوں میں سبسڈی سمیت دیگر مطالبات کی مد میں ڈی چوک پر مظاہرہ کیا جارہا تھا ، ڈی چوک پر مظاہرہ ختم نہ کرنے کے نتیجے میں پولیس اور کسانوں میں جھڑپ سے چھ اہلکاروں سمیت بیسوں کسان زخمی ہوگئے‘ جبکہ 180 کسانوں کو گرفتار کرکے مختلف تھانوں میں منتقل کردیا گیا۔ پیپلزپارٹی ،تحریک انصاف اور عوامی مسلم لیگ سمیت دیگر جماعتوں کا کسانوں پر تشدد کی شدید مذمت پولیس اور ایف سی کی اضافی نفری کو مظاہروں کے پیش نظر بڑھا دیا گیا ۔ کسانوں کا کہنا تھا کہ ہم خون پسینہ ایک کرکے محنت کرتے ہیں لیکن ہمیں کچھ فائدہ بھی نہیں ہورہا حکمران سبسڈی دینے کا جھوٹے وعدے کرکے ان کو پورا نہیں کرتے۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ بھی کسانوں سے اظہار یکجہتی کرنے کیلئے ڈی چوک پر پہنچے تو انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب پیپلزپارٹی بھی کسانوں کے ساتھ سر پر کفن باندھ کر نکلے گی تو یہ حکمران نظر نہیں آئیں گے۔ آج کسانوں کے گھر میں چولھے ٹھنڈے ہوگئے ہیں لیکن حکمرانون کو کچھ بھی نظر نہیں آرہا۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی بند آنکھوں کو کھولیں ۔ خورشید جذبات میں آکر کہا کہ حکمران تو چلے جائیں گے لیکن ملک اندھیروں میں ڈوب جائے گا۔ غریب محنت کرتا ہے اور ہم ایوانوں میں بیٹھ کر مزے لوٹتے ہیں حکمران دولت کما کر سعودی عرب اور یورپ میں لگانا چاہتے ہیں۔ تمام سرمایہ کاری باہر کی جارہی ہے حکومت نہیں چاہتی کہ پاکستان کا کسان خوشحال ہو حالانکہ ملک کے ستر فیصد لوگوں کا انحصار زراعت پر ہے اور زراعت واحد ذریعہ ہے جس سے پاکستان کی معیشت مستحکم ہوسکتی ہے۔ جونہی خورشید شاہ خطاب کرکے گئے تو وہاں پر موجود پولیس نے نہتے کسانوں کو منتشر کرنے کیلئے ان پر آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج شروع کردیا۔ جبکہ کسانوں کی جانب سے بھی پولیس پر جوابی کارروائی میں پتھراﺅ کیا گیا۔ لاٹھی چارج اور پتھراﺅ کے نتیجے میں پولیس کے چھ اہلکاروں سمیت بیس کسان زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد دینے کیلئے پولی کلینک اور پمز ہسپتالوں میں منتقل کیاگیا پولیس نے 180 سے زائد کسانوں کو گرفتار کرکے اسلام آباد میں مختلف تھانوں میں بند کردیا ہے۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے بھی کسانوں پر حکومتی تشدد کی مذمت کی گئی انہوں نے کہا کہ حکومت کی نظر میں کسانوں مزدوروں اور محنت کشوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر نکلنے والے کسانوں پر تشدد آمرانہ سوچ کا مظاہرہ ہے۔ طاقت آزمانے کی بجائے حکومت کسانوں کو ان کے حقوق فوری طور پر فراہم کرے پیپلزپارٹی کے کوہ چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی کسانوں پر تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو سبسڈی دینے سے ملک خوراک میں خود کفیل ہوگا کسان حق مانگ رہے ہیں رعایت نہیں۔ کسانون پر تشدد کے خلاف تمام پارٹیوں کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں احتجاج کرنا چاہیے تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پنجاب سمیت ملک بھر کے کسان آج حکومت کی آمرانہ پالیسیوں کی وجہ سے سڑکوں پر ہیں ہر کسی سے بجٹ میں رائے لی جاتی ہے لیکن کسان واحد طبقہ ہے جن سے رائے کی بجائے ان پر لاٹھیاں برسائی جارہی ہیں۔ حکومت کاغذی پیکج منظور کرتی ہے جو کہ صرف طوطا مینا کی کہانیاں ہوتی ہیں ان پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔ پر امن لوگوں پر پولیس کی شیلنگ قابل مذمت ہے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے گندم تیرہ سو روپے فی من مقرر کی گئی تھی لیکن آج گیارہ سو روپے فی من میں بیچی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے جھوٹے وعدے کرکے پورے نہیں کئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا کہ ملک سے کوئی گندم امپورٹ نہیں ہورہی آج اسلام آباد میں ملک بھر کے کسان آئے ہیں یہ کوئی سیاسی ورکر نہیں ہیں بلکہ ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت نے ظلم کی انتہا کردی ہے اور معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ ن لیگ نے بجٹ میں کسانوں کیلئے کچھ بھی نہیں رکھا آج کا بجٹ صرف ایک جھوٹی داستان ہوگی بعد ازاں تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس میں کسانوں پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ یہ لاٹھیاں کسانوں پر نہیں بلکہ مجھ پر چلائی گئی ہیں غریب کسانوں مزدوروں پر ظلم نہیں ہونے دیں گے ہمارے پانچ سالہ دور میں نہ لاٹھی چلی اور نہ ہی کوئی گرفتاری کی گئی یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں غریبوں پر تشدد اور امیروں پر کرم نوازیاں ہورہی ہیں اگر کسانوں کے دکھوں کا فوری طور پر ازالہ نہ کیا گیا تو پیپلزپارٹی اس کارروائی پر ردعمل کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ انتظامیہ کی کسانوں پر تشدد کی شرمناک کارروائی ناقابل معافی جرم ہے پی پی پی کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کسان دشمن بجٹ ہمیں کسی صورت قبول نہیں۔اسحاق ڈار ہمیں مارنا چاہتے ہیں تو سڑکوں پر ماردیں۔انہوں نے کہا کہ باردانے کے معاملے پر ہمیں پٹواریوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا، ہمارا خون پسینہ ضائع ہورہاہے، بچت نہیں ہوتی ۔کسانوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ بجٹ میں تجویزیں پیش کردی جاتی ہیں ، مگر عمل نہیں ہوتا۔کسانوں کے لیے پالیسیاں وہ بنارہے ہیں جنہیں زراعت کاکچھ پتا نہیں۔انہوں نے حکومت سے زراعت پر ٹیکسز ختم کرنے اور اجناس کی قیمتیں مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔کسان اتحاد کے مظاہرے کی وجہ سے میٹرو بس سروس بھی معطل ہو گئی ہے۔میٹرو بس سروس کو صدر سے بند کر دیا گیا ہے جبکہ بسوں کو اسٹیشنز پر ہی روک لیا گیا ہےج س سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے ذہنوں سے اب تک آمریت نہیں گئی، ن لیگ سے حقوق مانگنا ضیا الحق سے حق مانگنے کے مترادف ہے، لاٹھیاں کسانوں کو نہیں مجھے پڑی ہیں،کسانوں کا درد اپنے بدن پر محسوس کر رہا ہوں۔اسلام آباد کے ڈی چوک پراپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والے کسانوں پر پولیس کے لاٹھی چارج اور شیلنگ کی مذمت کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ موجودہ حکومت کے ذہنوں سے اب تک آمریت نہیں گئی، ن لیگ سے حقوق مانگنا ضیا الحق سے حق مانگنے کے مترادف ہے، مظاہرین پر لاٹھی چارج کسی کی ناک کے نیچے ہوا ہے۔قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دورمیں لوگوں کواکسا کر احتجاج کروائے گئے لیکن ہم نے کبھی ایسا نہیں کیا کیونکہ ہم دوہرا معیار نہیں رکھتے۔ کسانوں پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی شدید مذمت کرتے ہیں، کسانوں کا اسلام آباد میں گرنے والا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ کسانوں کے ساتھ جو ہوا قابل مذمت ہے ‘ کسان حقوق کیلئے اسمبلی میں آواز اٹھائیں گے ‘ کسانوں کے مسائل حل ہونے چاہئیں ‘ جانتے ہیں بجٹ اعداد و شمار کاگورکھ دھندہ ہے۔ جمعہ کو سربراہ ایم کیو ایم ڈاکٹر فاروق ستار نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے ساتھ جو ہوا قابل مذمت ہے ۔ کسان حقوق کے لئے اسمبلی میں آواز اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے مسائل حل ہونے چاہئیں۔ جانتے ہیں بجٹ اعداد و شمار کا گورکھ دھندا ہے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain