نواز شریف کا ”نیا ٹارگٹ “

لاہور(خصوصی رپورٹ) مسلم لیگ ن کے سربراہ اور وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے پارٹی رہنماﺅں سے مشاورت کے بعد قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں اتحادی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ پارٹی کی سینئر قیادت سے مشاورت کے دوران نواز شریف کو عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کی تجویز دی گئی، جسے انہوں نے قبول کرلیا اور پارٹی ذمہ داروں کو ملک بھر میں جلسوں کا شیڈول تیار کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ مشاورت کے دوران اتفاق رائے پایا گیا کہ قانونی جنگ عدالتوں میں اور سیاسی جنگ سیاسی میدانوں میں لڑی جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف کے ساتھیوں نے ملک بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا اور مشورہ دیا کہ مکمل ہونے والے منصوبوں کا مزید تیز رفتاری سے افتتاح کیا جائے۔ وزیراعظم کی سیاسی ٹیم نے پنجاب اور بلوچستان کے علاوہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں بھی رابطہ مہم شروع کرنے کی تجویز دی ہے۔ مسلم لیگ ن کی صوبائی تنظیموں کی جانب سے اپنی اضلاعی تنظیموں کو تیاریاں شروع کرنے کی ہدایات بھی جاری کی جارہی ہےں۔

650 اسرائیلی کمانڈوز مقبوضہ کشمیر میں تعینات ، بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ

لاہور (خصوصی رپورٹ) مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی احتجاج نے جہاں بھارتی حکومت اور سکیورٹی اداروں کی نیندیں حرام کی ہیں اور اس سے دنیا بھر میں بھارتی حکومت کی سبکی ہو رہی ہے وہاں مسلمانوں کے ازلی دشمن اسرائیل نے بھارت کے ساتھ عسکری اور انٹیلی جنس سطح پر جاری تعاون کے حجم میں اضافہ کردیا ہے۔ اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس سے متعلق تحقیقات رپورٹیں شائع کرنے والے عرب میگزین نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک میں اضافے کی حالیہ لہرا اٹھنے کے بعد اسرائیل سے مزید تعاون مانگا ہے جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے اسرائیل سے مزید تعاون مانگا ہے جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے اسرائیلی خفیہ انٹیلی جنس ایجنسی موساد اور ملٹری انٹیلی جنس شاباک اور امان نے مزید اڑھائی سوکمانڈوز اور پروفیشنلز مقبوضہ کشمیر بھیج دیئے ہیں۔ اس سے قبل مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے حق میں حالات کنٹرول کرنے اور حریت پسند مزاحمت کار تنظیموں کی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لئے اسرائیل نے انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے سینکڑوں جاسوسوں کے علاوہ 350 کمانڈوز مقبوضہ کشمیر میں بھیجے تھے۔2000ءکے بعد اسرائیل نے اس میں اضافہ کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نئی اطلاعات کے مطابق 2016ءمیں تحریک آزادی میں اٹھنے والی نئی لہر کے بعد اسرائیل نے مزید کمانڈوز مقبوضہ کشمیر بھیج دیئے ہیں جس کے بعد کشمیر میں صیہونی کمانڈوز اور تربیتی ماہرین کی تعداد 650 سے متجاوز کر گئی ہے۔ بھارت کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ساڑھے تین سو اسرائیلی کمپنیاں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں، جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی معاونت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی فوجی تنصیبات کی جاسوسی میں ملوث ہیں۔ عرب میگزین نے انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی کمانڈوز کی موجودگی پرانی بات ہے، تاہم اس کے پہلی مرتبہ شواہد 2000ءمیں اس وقت سامنے آئے جب عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید نے کشمیر میں مجاہدین کے ہاتھوں چار اسرائیلی کمانڈوز مارے جانے کی تصدیق کی تھی۔ عرب ،خبررساں ادارے القدس پریس کے عرب صحافیوں نے بعدازاں القدس پریس کے عرب صحافیوں نے بعدازاں اس حوالے سے حافظ سعید کا ایک خصوصی انٹرویو بھی شائع کیا تھا جسے عرب ذرائع ابلاغ میں غیر معمولی اہمیت دی گئی تھی۔ اسرائیلی کمانڈوز کی کشمیری علاقے سوپور اور بڈگام میں موجودگی کے شواہد سامنے آئے تھے۔ اسرائیل نے موساد کو کشمیر میں سرگرمیوں اور افرادی قوت بڑھانے کی اجازت مئی 1993ءمیں اس وقت دی تھی جب نائب اسرائیلی وزیراعظم شمعون پیریز نے بھارت کے سرکاری دورے کے دوران بھارت کے ساتھ عسکری معاہدہ کیا۔ اس سے پہلے معاہدے کے وقت موساد کے سینکڑوں جاسوسوں کے علاوہ 350 صیہونی کمانڈوز مقبوضہ کشمیر پہنچائے گئے تھے۔ 1997ءمیں اسرائیلی صدر عیزر ویزمین نے بھارت کا سرکاری دورہ کیا۔ اس موقع پر اسرائیل نے بھارت کو آندرا پردیش میں قائم ہونے والے اسرائیلی جنگی طیارے بنانے والی فیکٹری کے لئے ٹیکنالوجی کی فراہمی کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کی سرگرمیوں اور نقل و حرکت کی جاسوسی کے لئے جاسوسی آلات سے لیس بغیر پائلٹ چھوٹے طیارے فراہم کئے۔ بدلے میں اسرائیل نے بھارت سے پاکستانی حدود کے قریب عسکری بیس مانگا تھا تاکہ اسے پاکستان کی خفیہ نگرانی کے لئے استعمال کیا جاسکے۔ عسکری بیس کے علاوہ اسرائیل نے بھارت سے ایک خطرناک زہریلا مادہ Pennekolvan کیا تھا جسے اسرائیل نے فلسطینی مزاحمت کارواں کے خلاف مہلک گیس بنانے کے لئے استعمال کرنا تھا۔ بھارت نے اسرائیل کے دونوں مطالبے مان لئے اور 18 فن مادے سے بھرے ہوئے چار کنٹینرز ممبئی سے روانہ کردے تاہم بدقسمتی سے انتہائی خفیہ طریقے سے بھیجے جانے والے یہ کنیٹنرز سری لنکا کے کوسٹ گارڈز کے قبضے میں آگئے اور یوں بھارت کا اسرائیل کو ممنوعہ مادہ فراہم کرنے کا خفیہ راز بے نقاب ہوگیا۔ رپورٹ کے مطابق کشمیر میں تحریک آزادی کچلنے کے لئے بھارت نے اسرائیل کے تعاون سے جعلی داعش بنانے کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے لئے خفیہ اسرائیل ایجنسی موساد کے ماہرین کشمیر میں موجود ہیں۔ خیال رہے کہ بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ سے مقبوضہ کشمیر میں جعلی داعش بنانے کے شرانگیز منصوبے کی تصدیق عرب ذرائع ابلاغ کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نواز جماعت نیشنل کانفرنس کے رہنما آغا روح اللہ نے بھی کی ہے۔ کشمیری رہنما کے گزشتہ دنوں جاری کردہ بیان کے مطابق بھارت بدنام زمانہ اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کی مشاورت سے مقبوضہ علاقے میں ایک جعلی دولت اسلامی (داعش) گروپ بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس کے زیراہتمام جموں و کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آغا روح اللہ نے کہا کہ موساد کے تعاون سے مقبوضہ کشمیر میں ایک ایسے نظریئے کو فروغ ینے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ اسے بے دردی سے کچلنے کا جواز مل سکے۔ ایک جعلی دولت اسلامیہ کردہ قائم کرکے کشمیریوں کے خلاف مزید طاقت آزمائی کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے انہی پتہ چلا ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے موساد کے سربراہ سے نئی دہلی میں ملاقات کی ہے۔

”نریندر مودی کی بیٹی ہوں “بھارتی معروف اداکارہ کا انکشاف

لاہور (خصوصی رپورٹ)ایوانی مودی نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اس کے والد ہیں، ہدایتکار مدھورکھنڈار کرتی فلم کلینڈرگرل میں جلوہ گر ہونیوالی ایوانی مودی نے انکشاف کرکے سب کو حیران کردیا ۔ ٹائمزآف انڈیا میں شائع ہونیوالی رپورٹ کے مطابق ایک انٹرویوکے دوران جب ایوانی سے پوچھاگیا کہ ان کے والد کون ہیں تو انہوں نے بتایا کہ مودی میرے والد ہیں اداکارہ نے کہا کہ وہ اپنے والدین کی وجہ سے اب ایک برینڈ بن گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایوانی کو پہلی تامل فلم ملی تھی تو اس پر موضع پر مودی نے اس خطے لکھ کر مبارکباد دی تھی اداکارہ کو بہت زیادہ تنقید کا سامنا ایک مصنف نے کہا کہ ایوانی کو ایکٹنگ کی اے بی سی کا بھی نہیں پتا ہے۔

ن لیگ کا اصولی فیصلہ سامنے آ گیا

لاہور ( خصوصی رپورٹ) پنجاب حکومت نے کچی آبادیوں کے مکینوں کو مالکانہ حقوق دینے کا اصولی فیصلہ کرلیاہے جس کیلئے حکمت عملی کی تیاری کیلئے ایم پی اے وحید گل کی سربراہی میں 7 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جو ایک ہفتے میں سفارشات پیش کرے گی بتایاگیا ہے کہ نوے شاہراہ قائد اعظم ایوان وزیر اعلیٰ میں مشیر وزیر اعلیٰ خواجہ احمد حسان کی زیر صدارت شہر کی کچی آبادیوں کے مکینوں کو مالکانہ حقوق دینے کے حوالے سے اجلاس ہوا، اجلاس میں کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دینے سے متعلق مسائل پر غور کیا گیا۔ مشیر وزیر اعلیٰ نے ایم پی اے وحید گل کی سربراہی میں سات رکنی کمیٹی تشکیل دے دی خواجہ احمد حسان کا کہنا تھاکہ مالکانہ حقوق کا مسئلہ حل نہ ہونے کی وجہ اداروں میں کو آرڈینیشن کی کمی تھی، جس کے لئے متعلقہ محکموں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جو 7 روز میں سفارشات مرتب کر کے پیش کرے گی اجلاس میں ڈی جی کچی آبادی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک 70 میں سے 67 کچی آبادیوں کا سروے مکمل کیا جا چکا ہے ڈپٹی ڈائریکٹر ریلوے کے مطابق ریلوے کی 14 کنال 12 مرلے پر قائم کچی آبادی کی اراضی کو این او سی جاری کر دیا گیا۔ آئندہ دو روز کے دوران این او سی جاری کر کے سات روز میں مالکانہ حقوق دیئے جائیں گے کمیٹی میں ایم پی اے وحیدگل، ڈپٹی میئر وسیم قادر، رابعہ فاروقی، سیٹلمنٹ کمشنر کا نمائندہ، ریلوے سے ڈپٹی ڈائریکٹر حفیظ اللہ، کچی آبادی پنجاب سے محمد ریاض، متروکہ وقف املاک بورڈ سے ایک ایک نمائندہ شامل ہو گااجلاس میں صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق، ایم پی اے وحید گل، ڈپٹی میئر وسیم قادر، سید توصیف شاہ، ڈی جی کچی آبادی اعظم خان، ڈائریکٹر کچی آبادی، ڈپٹی ڈائریکٹر ریلوے سمیت مختلف یونین کونسلز کے چیئرمین شریک ہوئے۔

وزیر اعظم سے تفتیش،جے آئی ٹی حقائق سامنے لے آئی

 اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف نے دوران تفتیش عدم تعاون کا مظاہرہ کیا۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے دوران تفتیش عدم تعاون کا مظاہرہ کیا اور نواز شریف کے بیان کا زیادہ تر حصہ سنی سنائی باتوں پر مشتمل تھا، وزیراعظم نے جے آئی ٹی کے سامنے ٹال مٹول والا رویہ اختیار کیا اور زیادہ تر سوالات کے اطمینان بخش جواب نہیں دیئے، نواز شریف اپنی انکم اور ویلتھ ٹیکس سے متعلق تحفظات کی وضاحت نہ کرسکے اور جے آئی ٹی ارکان کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیراعظم کے بیانات کے چند حصے حقائق پر مبنی نہیں تھے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ نواز شریف کسی نہ کسی طور اپنے خاندانی کاروبار سے منسلک ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کا پورا خاندان بلواسطہ یا بلاواسطہ لندن فلیٹس کا بینی فیشری (فائدہ اٹھانے والا) ہے، نوازشریف نے بیان میں کہا وہ گلف اسٹیل کے پارٹنر محمد حسین کو نہیں جانتے، لیکن ان کا یہ کہنا بعد میں غلط ثابت ہوا۔جے آئی ٹی نے وزیراعظم سے 14 سوالات پوچھے۔ جے آئی ٹی نے وزیراعظم سے پوچھا کہ انہوں نے اپنے خاندان کے افراد کیلئے کوئی رقم باہر بھیجی ہے تو وزیراعظم نے جواب دیا کہ انہوں نے اپنے خاندان کے افراد کیلئے کوئی رقم بیرون ملک نہیں بھیجی۔ جے آئی ٹی نے پوچھا کہ آپ کی نیب سے چودھری اور رمضان شوگر ملز کے قرض سے متعلق سیٹلمنٹ ہوئی؟، اس کی تفصیلات سے آگاہ کریں۔ وزیراعظم نے جواب میں چودھری اوررمضان شوگر ملز قرض سیٹلمنٹ سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔ جے آئی ٹی نے وزیراعظم سے پوچھا کہ کیا انہوں نے ہل میٹل سے موصول ہونے والی رقم سیاسی فنڈنگ کیلئے استعمال کی؟ تو نواز شریف  نے جواب دیا کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا لیکن کیا اگر وہ ایسا کریں تو یہ جرم ہے؟۔ اس پر جے آئی ٹی نے کہا کہ کیا ہل میٹل کی رقم فارن فنڈنگ کے تحت نہیں آتی جس پروزیراعظم نے اس سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔

قطری شہزادہ کیوں پیش نہیں ہوا ؟ اندرونی کہانی سامنے آ گئی

لاہور(ازہرمنیر سے)قطر کے شہزادہ شیخ حامد بن جاسم الثانی نے اپنے 5نومبر 2016ءاور پھر 22دسمبر 2016ءکے خطوط میں میاں شریف اور اپنے والد کے کاروباری مراسم اور بالآخر لندن فلیٹس کی سٹیل منٹ کا معاملہ بیان کرنے کے ساتھ یہ لکھا تھا کہ وہ اس بات کی گواہی دینے کی خاطر پاکستان آنے کو تیار ہیں، یہی بات جب جے آئی ٹی بنی تو انہوں نے دوہرائی تھی، جے آئی ٹی نے انہیں تین آپشن دیئے تھے، (۱) وہ پاکستان آجائیں (۲) ویڈیو لنک کے ذریعے انٹرویو دیں (۳) جے آئی ٹی قطر آکر ان کا انٹرویو کرلے، شہزادے نے اب ان میں سے آخری آپشن پر رضا مندی کا اظہار کیاہے، ابتداءمیں پاکستان آنے کی پیش کش کرنے کے بعد اب وہ پاکستان آئے یا قطر میں پاکستانی سفارخانے کے بجائے اپنے دفتر یا محل میں انٹرویو دینے پر اصرار کیوں کررہے ہیں؟ ، اس کی وجہ بہت سادہ ہے ، ایک تصویر ، یہ تصویر وزیراعظم کے بیٹے حسین نواز کی ہے جس میں وہ جے آئی ٹی کے سامنے کسی ملزم کی طرح بے چارگی سے بیٹھا ہے، ہم پاکستانیوں کیلئے تو یہ ایک عام سا منظر ہے اور ہماری سوچ بھی یہی ہے کہ کیا ہوا اگر وزیراعظم کا بیٹا ایک عام ملزم کی طرح بیٹھا ہے ، لیکن عرب شہزادے کیلئے یہ ایک بالکل مختلف بات ہے ، اس کی وجہ اس کا جائنڈ سیٹ ہے ، پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ شہزادہ زندگی میں کبھی کسی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوا، نہ ان کے ملک میں عدالتیں اس طرح صاحبان اقتدار کو بلاتی ہیں یا بلا سکتی ہیں ، دوسرے وہ پاکستانیوں کو اپنے برابر کا انسان ہی خیال نہیں کرتے، اور کوئی بھی عرب ملک ہو وہاں پاکستانیوں کو ”رفیق پاکستانی “ کہہ کر بلایاجاتا ہے ، رفیق یعنی نائب ، معاون، ”تو ان ”رفیق پاکستانیوں“ کے سامنے مجھے کسی ملزم کی طرح بیٹھنا اور پھر ان کے سوالوں کا جواب دینا پڑے گا“، یہ تصور ہی تو ان کیلئے ناقابل برداشت ہے، شہزادے نے جب عدالت آنے پر رضا مندی ظاہر کی تھی تو اس کا خیال تھا کہ وہ ایک ملک کے شہزادے اور سابق وزیراعظم کی طرح پورے پروٹوکول کے ساتھ وہاں جائیگا، خط اور اس کے مندرجات کی تصدیق کریگا، اور واپس آ جائیگا، اللہ اللہ خیر سلا، لیکن جب اس نے یہ تصویر دیکھی جو دنیا میں ہر جگہ ہر شخص انٹرنیٹ پہ دیکھ سکتا ہے اور سوچا کہ اسے اس حالت میں پیش ہونا پڑیگا تو اس نے پاکستان آنے سے انکار کرتے ہوئے جے آئی ٹی کے پیش کردہ آپشنز میں سے تیسرے آپشن کا انتخاب کیا، یعنی ٹیم دوحہ آکر اس کے دفتر یا محل میں اس سے تصدیق کرلے، پاکستانی سفارت کانے آنے سے انکار کی وجہ بھی یہی ہے کہ کسی بھی ملک میں کسی ملک کا سفارت خانہ حقیقتاً اس ملک کا حصہ وہتا ہے جس کے اندر میزبان ملک کے قوانین اور قواعد کا اطلاق نہیں ہوتا ، اور یہاں بھی اس سے وہی سلوک ہوسکتا ہے جو پاکستان میں حسین نواز کے ساتھ ہوا، لہٰذا اس نے سفارتخانے آنے سے بھی انکار کردیا ، اس لئے کہ وہاں جانے کا مطلب تھا پاکستان جانا، اس کے ساتھ اس نے صرف خطوط اور انکے مندرجات کی تصدیق کرنے اور متعلقہ دستاویزات دکھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور انوسٹی گیشن کرانے سے انکار کردیا ہے ، اس لئے کہ ٹیم کے سوالات کا سامنا کرنے کا مطلب ہے وہی ملزم کا ٹیم کے سامنے پیش ہونا جو ایک عرب شہزادے کیلئے کسی طور قابل برداشت نہیں، مختصراً یہ وہ وجہ ہے جس کی بناءپر شہزادہ حامد نے پاکستان یا پاکستانی سفارت خانے آنے سے انکار کردیا ہے اور اس کے بجائے جے آئی ٹی کے پیش کردہ تین آپشنز میں سے تیسرے آپشن کا انتخاب کیا ہے، لیکن شہزادے کے پاکستان آنے سے انکار کی وجہ تو یہ ے ، جے آئی ٹی کے اس کے دفتر یا محل جاکر اس سے اس کے خطوط اور انکے مندرجات کی تصدیق کرنے سے انکار کی وجہ کیا ہے ؟ ، یہ بات ابھی تک پردہ ¾ راز میں ہے ۔

آگے کیا ہونے جا رہا ہے ؟ شیخ رشید کا حیران کن دعویٰ

راولپنڈی (خصوصی رپورٹ) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور رُکن قومی اسمبلی شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ملک میں قانون کی جیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم یگ (ن) کے 188 میں سے 59 ممبران مشرف حکومت کے ایم این ایز تھے۔ اب جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد مسلم لیگ (ن) کے 44 ایم این ایز نیا گروپ بنانے کیلئے تیار ہیں۔اسلام آباد (ملک منظور احمد سے) پانامہ کےس کی تحقےقات کےلئے قائم کردہ مشترکہ تحقےقاتی ٹےم کی تحقےقاتی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد پہلی مرتبہ اپوزےشن سے تعلق رکھنے والی سےاسی جماعتوں نے بےک وقت وزےر اعظم نواز شرےف سے استعفیٰ کا مطالبہ کرکے سےاسی درجہ رارت مےں اضافہ کردےا ہے یہ پہلا موقع ہے کہ اس مشکل سےاسی صورتحال مےں پاکستان پیپلز پارٹی کی قےادت نے وزےر اعظم نواز شرےف کی سےاسی مدد کرنے سے صاف انکار کردےا ہے جس کی وجہ سے حکمران جماعت مسلم لےگ (ن) کو خاصہ دھچکا لگا ہے بلکہ پیپلزپارٹی نے پاناما کیس کی رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد وزیراعظم کیخلاف دباو¿ بڑھانے کے لیے احتجاج کی حکمت عملی ترتیب دے دی۔ اس حوالے سے گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے باقاعدہ ہدایات جاری کردی گئی ہیں جس کے تحت ملتان سمیت ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا اور پارٹی عہدیداروں کو ضلعی ہیڈکوارٹرز اور شہروں میں پریس کانفرنس کرکے ملکی صورتحال اور حکومتی کرپشن سے آگاہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے وزیراعظم نوازشریف سے استعفیٰ کے سلسلے میں دباو¿ بڑھا کر پارٹی کو انتخابات سے قبل متحرک کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کھوئی ہوئی پارٹی ساکھ کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی حمایت حاصل کی جاسکے۔ علاوہ ازیں جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے بعد حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کو ایک جانب اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے غیر معمولی دباﺅ کا سامنا ہے تو دوسری جانب (ن) لیگ کی اتحادی جماعتیں جمعیت علماءاسلام (ف)، مسلم لیگ (فنکشنل)، نیشنل پیپلز پارٹی اور نیشنل پارٹی اس پورے کھیل میں خاموشی اختیار کرکے بیٹھ گئی ہے جو اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) ملکی سیاست میں مکمل طور پر سیاسی تنہائی کا شکار ہوگئی ہے اور یہی سیاسی تنہائی وزیراعظم نواز شریف کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرسکتی ہے جبکہ لاہور ہائی کورٹ بار نے وزیراعظم کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کردیا ہے۔گزشتہ روز عدالت عظمیٰ میں پاناما پیپرز لیکس کیس کی سماعت کے دوران مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی حتمی رپورٹ پیش کردی جس کے مطابق شریف فیملی کے اثاثے آمدن سے زیادہ ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے لندن کی خسارے میں چلنے والی 6 آف شور کمپنیوں کو مہنگی جائیدادیں خریدنے اور رقوم منتقل کرنے کیلئے استعمال کیا گیا اور یہ کمپنیاں 80-90 کی دہائی میں بنیں جب نواز شریف کے پاس عوامی عہدہ تھا۔رپورٹ کے مطابق ان کمپنیوں کے قیام میں اپنا سرمایہ بہت کم تھا، ملکی اور غیر ملکی اداروں سے رقم حاصل کی گئی، کمپنیاں یا تو بند پڑی تھیں یا خسارے میں تھیں، گزشتہ 20 برسوں میں ان کمپنیوں کا کوئی منافع نہیں ہے۔ صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق بیانات اور تحقیقات سے یہ بات سامنے ائی ہے کہ مدعا علیہان کا رہن سہن ان کی آمدن سے زائد ہے جب کہ بڑی رقوم کی قرض اور تحفے کی شکل میں بے قاعدگی سے ترسیل کی گئی ہے۔لاہور ہائی کورٹ بار نے نیشنل ایکشن کمیٹی کا اجلاس 15 جولائی کوطلب کر لیا ہے۔ سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار عامر سعیدراں کا کہنا ہے کہ 13 سوالات پر نواز شریف اور ان کا خاندان تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔انہوں نے کہا کہ ثابت ہوگیا کہ وزیراعظم آف شورکمپنی کےمالک ہیں جبکہ وہ آئین کے آرٹیکل 62،63 پرپورا نہیں اترتے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے جے آئی ٹی میں بوگس تفصیلات جمع کرائیں،پاناما لیکس کیس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد وکلاءتنظےموں نے وزےر اعظم سے استعفیٰ کی تحر ےک کو مزےد تےز کر نے کا اعلان کر دےا جبکہ لاہور ہائی کورٹ بار ،پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بارنے وزیراعظم نواز شریف سے فوری استعفیٰ کا بھی مطالبہ کر دےا ہے ۔تفصےلات کے مطابق لاہور ہائےکورٹ بار کی قےادت مےں وزےر اعظم نوازشر ےف سے استعفیٰ کی شروع ہونےوالی تحر ےک کو اب وکلاءتنظےموں نے مزےد تےز کر نے کا اعلان کر دےا ہے جسکے لےے وکلاءتنظےموں نے احتجاج ‘جلسے ‘جلسوس اور رےلےوں کے حوالے سے حکمت عملی کی تےاری بھی شروع کر دی ہے اور جے آئی ٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائے جانے کے بعد وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے اور اب لاہور ہائی کورٹ بار نے بھی وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے ۔ادھر وائس چیئر مین پاکستان بار کونسل احسن بھون نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اب وزیر اعظم کے پاس اخلاقی جواز باقی نہیں رہا۔ لہٰذا انہیں وزارت عظمی کے عہدے سے ہٹ جانا چاہیے ۔سیکریٹری سپریم کورٹ بار نے کہا کہ وزیراعظم کے تمام احکامات اب غیر قانونی ہیں۔

جال اب وزیر اعظم کے گرد پھیل گیا ہے ،اسد عمر

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد عمرکا کہنا ہے کہ نوازشریف کوگھرتوجانا ہے اپنی مرضی سے چلے جائیں تو بہتر ہے اور 15 ماہ قبل ہی عہدہ چھوڑ دیتے تو آج ان کے خاندان کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا پریس کانفرنس کے دوران کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کو ٹھوس ثبوت فراہم کیے، دفاع میں پیش کردہ دستاویزات جعلی نکلیں، نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے، ڈار صاحب کے حدیبیہ پیپرملز کیس میں دیا گیا حلفیہ بیان جے آئی ٹی میں سچا ثابت ہوا، جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق ڈارصاحب نے اپنے بیان میں سچ بولا تھا اور جے آئی ٹی میں پیشی والے دن انہوں نے کہا کہ میں نے وکیلوں کے مشورے کے بعد بیان ریکارڈ کرایا ہے۔اسد عمرنے مزید کہا کہ ڈارصاحب نے جے آئی ٹی رپورٹ کے شواہد پر بات کیوں نہیں کی، جے آئی ٹی رپورٹ کے ٹھوس ثبوتوں پر انہوں نے اپنے سمدھی کے لئے ایک بات بھی نہیں کہی، انہوں نے جے آئی ٹی میں ثبوتوں کا جواب کیوں نہیں دیا۔  اسد عمر نے اسحق ڈار کا شکریہ بھی ادا کیا کہ انہوں نے عمران خان کی باتیں کرکرکے قوم کے سامنے ان کی عزت بڑھا دی، اسحاق ڈارنے بتایا غریبوں کےعلاج کیلیےعمران خان ان کے دروازے پر بیٹھے رہے جب کہ عمران خان اپنے لیے نہیں غریب پاکستانیوں کیلیے آپ کے دفترمیں بیٹھتےتھے۔

چیئرمین ایس ای سی پی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ڈار صاحب آپ نے اپنے دوست کو ایس ای سی پی کا چیرمین لگایا، عدالت نے چیئرمین ایس ای سی پی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے، اب کیا ایسا شخص جس کے خلاف ایف آئی آرکٹی ہوئی ہے اس کو ایس ای سی پی کا چیئرمین ہونا چاہئے یا اسحاق ڈار کا بھی وزیرخزانہ بنے رہنے کا جواز ہے۔

مولانا فضل الرحمن ،وزیر اعظم کو بچانے میدان میں آگئے

پشاور: جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پاناما کیس کی درخواست کوعدالت نے پہلے فضول قراردیا آج وہ بلا بن گئی۔پشاورمیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ بھارت اورامریکا سی پیک کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان کا روشن مستقبل انہیں پسند نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاناما کیس کی جس درخواست کو عدالت نے پہلے فضول قرار دیا آج وہ بلا بن گئی ہے۔جے یوآئی(ف) کے سربراہ  نے کہا کہ آج کل پتہ بھی نہیں چلتا کہاں سے توہین کا پہلو نکال لیا جائے، جو کچھ ہو رہا ہے کیا یہ کرپشن کے خاتمے کے لیے ہے یا نواز شریف کو ہٹانے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ  بھاری پتھر پھینک کر بھونچال اٹھانا تحریک نہیں، ہمیں پاکستان کو عدم استحکام کی طرف نہیں لے جانا چاہئے جب کہ اب فیصلے فوج نہیں عوام کرتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں کتنی دوریاں تھیں اور آج دونوں سی پیک کے خلاف ایک دوسرے کے کتنے قریب آگئے ہیں، ان چیزوں کے پیچھے کچھ سیاسی مقاصد اور ایجنڈے ہیں جنہیں سمجھنا چاہئے، یہ سب کچھ سی پیک کو سبوتاز کرنے کی کوشش ہے، وزیراعظم نوازشریف کی دولت آج نظر آنے لگی کیا پہلے وہ دولت مند نہیں تھے۔

قومی سپنرشاداب خان کی نئی ویڈیو نے دھوم مچا دی

راولپنڈی(آئی این پی) قومی ٹیم کے نوجوان لیگ سپنر شاداب خا ن کے ٹیم میں آنے سے اس میں ایک نئی جان پڑ گئی ہے ، اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے پی ایس ایل کھیلنے والے شاداب خان ایک عمدہ لیگ سپنر ہونے کے ساتھ ساتھ کار آمد بلے باز اور بہترین فیلڈر ہیں۔ اور حا ل میں ان کی سامنے آنے والی ایک ویڈیو نے ان کی انکساری کا عالم بھی دنیا کو بتا دیا ہے۔ مذکورہ ویڈیو میں چیمپئنز ٹرافی جیتنے والی قومی ٹیم کے اہم رکن اپنے آبائی علاقے میں لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتے نظر آرہے ہیں اور پہلی نظر میں انہیں دیکھ کر شاید کوئی بھی یہ نہیں کہ سکتا ہے کہ یہ وہی با?لر ہے جس نے چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں یووراج سنگھ کو چکما دیکر پوویلین بھیجا تھا۔