ون ڈے رینکنگ :حسن ترقی پاکرچھٹے نمبر پرفائز

دبئی (اے پی پی) جنوبی افریقن ٹیم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی تازہ ترین ون ڈے رینکنگ میں بدستور پہلے نمبر پر براجمان ہے، پاکستانی ٹیم کا چھٹا نمبر برقرار ہے، چیمپنز ٹرافی میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے پاکستان کے بولر حسن علی نئی آئی سی سی رینکنگ میں مزید ترقی کرتے ہوئے چھٹی پوزیشن پر پہنچ گئے ہیں جب کہ ویسٹ انڈیز کے سنیل نارائن دو درجے تنزلی کے بعد پانچویں سے ساتویں پوزیشن پر چلے گئے ہیں۔اسی طرح بیٹسمنیوں کی رینکنگ میں پاکستان کے بابر اعظم بدستور پانچویں نمبر موجود ہیں جب کہ آل راو¿نڈرز کی رینکنگ میں محمد حفیظ بدستور دوسرے نمبر براجمان ہیں۔بلے بازوں میں ویرات کوہلی، پاکستان کے بابراعظم پانچویں نمبر پر موجود ہیں۔، باﺅلرز میں جوش ہیزلووڈ اور آل راﺅنڈرز میں شکیب الحسن سرفہرست ہیں، زمبابوے کے سکندر رضا سری لنکا کے خلاف سیریز میں گیند اور بلے کے ساتھ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد ترقی پا کر ٹاپ ٹین آل راﺅنڈرز میں شامل ہو گئے۔ آئی سی سی نے سری لنکا اور زمبابوے کے درمیان آخری ون ڈے کے بعد تازہ ترین رینکنگ جاری کر دی ہے جس کے تحت جنوبی افریقہ سرفہرست ہے، آسٹریلیا دوسرے، بھارت تیسرے، انگلینڈ چوتھے، نیوزی لینڈ پانچویں، پاکستان چھٹے، بنگلہ دیش ساتویں، سری لنکا آٹھویں، ویسٹ انڈیز نویں نمبر پر موجود ہے، بلے بازوں میں کوہلی پہلے، وارنر دوسرے، ویلیئرز تیسرے، جوروٹ چوتھے اور بابراعظم پانچویں نمبر پر موجود ہیں، زمبابوے کے ہملٹن مساکڈزا ترقی پا کر 57 ویں نمبر پر آ گئے، باﺅلرز میں ہیزلووڈ پہلے، عمران طاہر دوسرے، سٹارک تیسرے، ربادا چوتھے، بولٹ پانچویں اور پاکستان کے حسن علی چھٹے نمبر پر برقرار ہیں۔ آل راﺅنڈرز میں شکیب الحسن پہلے، محمد حفیظ دوسرے اور محمد نبی تیسرے نمبر پر موجود ہیں، زمبابوے کے سکندر رضا ترقی پا کر ٹاپ ٹین میں شامل ہو گئے۔

امریکہ،برطانیہ سمیت عرب ممالک جے آئی ٹی رپورٹ کے پیچھے!!! سفارتخانوں کا اہم اقدام سامنے آگیا

اسلام آباد (آئی این پی) پانامہ کیس کی تحقیقات کے لئے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی ) کی رپورٹ میں امریکہ ، برطانیہ ، یورپی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کی خصوصی دلچسپی ،پاکستان میںموجود کئی سفارتخانوں نے رپورٹ کی کاپیاں حاصل کر لیں ،مجموعی طور پر10جلدوں اور ہزاروں صفحات پرمشتمل رپورٹ اوپن مارکیٹ میں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو رہی ہے اس کی ایک جلد کی قیمت 5 سو روپے ہے ۔ منگل کو ذرائع کے مطابق پانامہ کیس میں جے آئی ٹی کی طرف سے مرتب کردہ تحقیقاتی رپورٹ میں امریکہ ، برطانیہ ، یورپی ممالک ، سعودی عرب ، قطر اور یو اے ای سمیت کئی ممالک کے سفارتخانوں نے خصوصی دلچسپی لی ہے اور مذکورہ ممالک کے سفارتخانوں نے تحقیقاتی رپورٹ کی کاپیاں اوپن مارکیٹ سے خریدی ہیں جو اس کا مطالعہ کرینگے اور بعض سفارتخانے یہ رپورٹ اپنے ممالک کو بھجوائیں گے ۔ مجموعی طور پر10جلدوں اور ہزاروں صفحات پرمشتمل جے آئی ٹی کی رپورٹ کی فوٹو سٹیٹ کاپیاں اوپن مارکیٹ میں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو رہی ہے جس کی ایک جلد کی قیمت کم ازکم 5 سو روپے ہے ۔ ذرائع کا کہناہے کہ پاکستان کی تاریخ میں شاید اکا دکا مرتبہ ہے کہ کوئی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آئی ہوورنہ اس سے قبل کئی بڑے بڑے واقعات اور کیسز کی تحقیقات تو کی گئیں مگر ان کی رپورٹس کو منظر عام پر نہ لایا گیا ۔ اس لئے ہر طبقہ اس رپورٹ کے حصول ،اسے پڑھنے اور اس میں سامنے آنے والے انکشافات کے بارے میں جاننا چاہ رہے ہیں ، ذرائع کا کہناہے کہ اس رپورٹ نے اپنی مقبولیت کی حدوں کو چھولیا ہے اور ایسے فروخت ہورہی ہے کہ جیسے یہ کسی مشہور ومعروف کی لکھی ہوئی کتاب یا افسانہ ہو۔

حکمران خاندان کے اثاثوں کی آسمان سے باتیں, لیکن!!! دیکھئے اہم خبر

لاہور (وقائع نگار)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ نے دو ججوں کے فیصلوں کی توثیق کر دی ہے کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے ، حکمران خاندان کے اثاثے آسمان سے باتیں کر رہے ہیں مگر وہ آمدنی کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے ،سپریم کورٹ جلد از جلد فیصلہ سنائے تاکہ ملک سے کرپشن کا ہمیشہ خاتمہ ہوسکے ، وزیراعظم کے خلاف فیصلہ آنے سے جمہوریت کو کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ کرپٹ قیادت کے جانے سے جمہوریت کا پہیہ زیادہ تیزی سے آگے کو چلے گا ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے منصورہ میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی لیاقت بلوچ ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد اصغر ،اظہر اقبال حسن اور سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم، امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہداور ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف بھی موجود تھے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جے آئی ٹی نے حکمران خاندان کے خلاف تحقیقات کر کے دیگ کا ایک چاول عوام کے سامنے پیش کیاہے ۔ ابھی پوری دیگ ایسے چاولوں سے بھری پڑی ہے۔انھوں نے کہاکہ جے آئی ٹی رپورٹ ملک میں کرپشن کے پروردہ ان مگر مچھوں کے خلاف ہے ، جنہوں نے قومی دولت لوٹ کر بیرون ملک محل بنائے اور ناجائز دولت کو ایک سے دوسرے اور پھر تیسرے ملک میں منتقل کرتے رہے ۔ یہ مسلم لیگ یا کسی سیاسی پارٹی کا مسئلہ نہیں۔ ملک میں قانون اور عدلیہ کی بالادستی اور آئینی اداروں کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ وزیراعظم استعفیٰ دیں اور جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے نہیں آتا، اپنے منصب سے الگ ہو جائیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے پہلے بھی وزیراعظم کی خدمت میں درخواست کی تھی کہ وزارت عظمیٰ کے منصب اور ملک کے وقار کی خاطر اپنے منصب سے الگ ہو جائیں لیکن انہوں نے اس پر کان دھرنے کی بجائے اسے انا کامسئلہ بنالیا ۔ انہوں نے کہاکہ جے آئی ٹی رپورٹ پر محاذ آرائی یا ایک دوسرے کے گریبان پکڑنے کی ضرورت نہیں ، جو لوگ اس پر ہنگامہ آرائی کر رہے ہیں ، وہ اس اہم ترین قومی مسئلے کو گرد و غبار کی نذرکر کے اصل ایشو سے قوم کی نظریں ہٹانا چاہتے ہیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جے آئی ٹی رپورٹ کو ردی قرار دینے والے چند دن صبر کریں ۔ سپریم کور ٹ کا فیصلہ آئے گا تو پتہ چلے گا کہ یہ رپورٹ ردی کی ٹوکری میں پھینکنے والی ہے یا وہ لوگ ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے قابل ہیں جو حقائق کو چھپانے کے لیے واویلا مچارہے ہیں ۔ وزراءرونے دھونے کی بجائے وقت کا انتظار کریں ۔ انہوںنے کہاکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ نے قوم کو بہت حوصلہ دیاہے ۔ قوم سپریم کورٹ کے ساتھ ہے۔ہم جے آئی ٹی ارکان کے شکر گزار اور ان کی محنت اور لگن کو سراہتے ہیں ۔ جے آئی ٹی نے ہر قسم کے دباﺅ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنا فرض پورا کیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن کےخلاف جماعت اسلامی نے مارچ 2016 ءمیں جس قومی تحریک کا آغاز کیا تھا ، آج وہ ملک بھر کے گلی کوچوں ، اقتدار کے ایوانوں اور عدالت عظمیٰ تک میں موجود ہے اور وہ وقت دور نہیں جب کرپٹ مافیا اور کرپشن سے عوام کو نجات مل جائے گی اور پاکستان دنیا میں ایک کرپشن فری ملک کے طور پر اپنی پہچان بنائے گا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہمارا اصل ہدف معاشی دہشتگردی سے نجات تھا جن کی وجہ سے قوم کو غربت اور جہالت جیسی دہشتگردی کا سامنا کرنا پڑا ۔ انہوں نے کہاکہ انتخابی کرپشن کا راستہ روکنا اور بااعتماد اور غیر جانبدار انتخابات کی راہ ہموار کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ استحصال اور ظلم کا نام جمہوریت نہیں ، اصل جمہوریت عوام کو ان بیماریوں سے نجات دلانا اور آئین و قانون کی بالادستی قائم کرناہے جن کی وجہ سے پورے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہواہے ۔ انہوںنے کہاکہ نیب زدہ ڈرگ مافیا اور ناجائز اسلحہ بیچنے والے انتخابی نظام کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں ۔ قوم کے ہاتھ تاریخی موقع آیاہے کہ وہ ایسے لوگوں کو ہمیشہ کے لیے مسترد کر کے دیانتدار اور اہل قیادت کا انتخاب کریں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم انتخابی اصلاحات کے لیے عوامی اور عدالتی جنگ لڑیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہاکہ اب تو ہمارے شریف وزیر خزانہ کے بارے میں بھی بہت کچھ سامنے آچکاہے اور ان کا کردار بھی مشکوک ہوگیاہے ۔

آرمی چیف سے ملائیشین ہم منصب کی ملاقات, اہم معاملات سامنے آگئے

راولپنڈی (آئی این پی) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملائیشین آرمی چیف جنرل داتو سری ذوالکفل بن حاجی قاسم نے ملاقاتمیں دوطرفہ باہمی دلچسپی کے امور اور دفاعی تربیت سمیت سیکیورٹی تعاون کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملائیشین آرمی چیف جنرل داتو سری ذوالکفل بن حاجی قاسم نے جی ایچ کیو میں ملاقات کی جس میں دوطرفہ باہمی دلچسپی کے امور سمیت سیکیورٹی تعاون اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بعد ازاں ملائیشین وفد کو پاکستان آرمی کی آپریشنل تربیتی سرگرمیوں پر بریفنگ دی گئی جس پر آرمی چیف جنرل داتو سری ذوالکفل بن حاجی قاسم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی کوششوں کو سراہا،جی ایچ کیو آنے پر ملائیشین آرمی کے چیف نے یادگار شہداءپر حاضری دی،جس کے دوران پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔

وزیراعظم کے مشاورتی اجلاس میں کس اہم شخصیت کی آمد, اہم خبر سامنے آگئی

اسلام آباد (صباح نیوز) وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت اجلاس میں پاناما جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد کی صورتحال کاجائزہ لیا گیا۔وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت مشاورتی اجلاس میں وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف، احسن اقبال، اسحاق ڈار، اٹارنی جنرل اشتراوصاف کے علاوہ مشیروں، قانونی اور آئینی ماہرین نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں پاناماکیس کے حوالے سے جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت اعلی سطح کے غیر رسمی مشاورتی اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال، جے آئی ٹی رپورٹ پر مشاورت اور سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔غیر رسمی مشاورتی اجلاس میں وفاقی وزرا، مشیروں، اٹارنی جنرل،قانونی اور آئینی ماہرین نے شرکت کی۔ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ذرائع کے مطابق وزیرا عظم نواز شریف کو جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مختلف پہلووں پر بریفنگ دی گئی۔

سپریم کورٹ رپورٹ پر فیصلہ نہیں کرسکتی, اہم شخصیت کے بیان سے ہلچل مچ گئی

لاہور(آئی اےن پی) سپر ےم کورٹ بار اےسوسی اےشن کی رکن عاصمہ جہانگیرنے کہاہے کہ پانامہ لیکس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ پرسپریم کورٹ فیصلہ نہیں کرسکتی کیونکہ سپریم کورٹ اپنی عقل وفہم سے ہی فیصلہ سنائے گی اور معاملے کامزیدٹرائل کیاجائے یارپورٹ کی بنیادپرہی فیصلہ سنایاجائے‘پانامہ کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کی ٹیم پہلے روز سے ہی متنازعہ تھی اور آج بھی ہے۔مےڈےا سے گفتگو کرتے ہوئے عاصمہ جہا نگےر نے کہا کہ پانامہ لیکس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ پرسپریم کورٹ فیصلہ نہیں کرسکتی کیونکہ سپریم کورٹ اپنی عقل وفہم سے ہی فیصلہ سنائے گی اور معاملے کامزیدٹرائل کیاجائے یارپورٹ کی بنیادپرہی فیصلہ سنایاجائے اورسب کو چاہےے وہ سپر ےم کورٹ کے فےصلے کا ہی انتظار کر ےں کےونکہ جب سپر ےم کورٹ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد اب اپنا فےصلہ سنائے گی وہی اصل فےصلہ ہوگا ۔

سانحہ ماڈل ٹاﺅن, عوامی تحریک نے حکومت کو مشکل میں ڈال دیا

لاہور ( آن لائن) پاکستان عوامی تحریک کی سنٹرل کور کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ 15 جولائی بروز ہفتہ پنجاب اسمبلی سے ایوان وزیراعلیٰ تک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی اور سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے ذمہ دار شریف برادران ،رانا ثناءاللہ اور ان کے حواریوں کو شامل تفتیش کرنے اور آئندہ کے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان جائیگا،بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ احتجاج میں تمام جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی جائیگی۔ 3 وزراءنے ماڈل ٹاﺅن کیس پر مصالحت کیلئے پیسوں کی پیشکش کی یہ حکمران ہر ایک کو پیسوں کو پیشکش کرتے ہیں،حکمران اس سے انکار کریں وزراءکے نام بتا دوں گا۔ رانا ثناءاللہ جس طرح فوج کو ٹارگٹ کرتا ہے ایسا کوئی را یا موساد کا ایجنٹ ہی کر سکتا ہے۔ کور کمیٹی کے اجلاس سے سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری نے ٹیلیفون پر خطاب کیا اور کور کمیٹی کو ضروری ہدایات دیں ۔کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے عہدیداروں کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 17 جون 2014 ءکے دن ماڈل ٹاﺅن میں شریف برادران کے حکم پر خون کی ہولی کھیلی گئی جس کا سب سے بڑا ثبوت جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ کو تین سال گزر جانے کے بعد بھی پبلک نہ کرنا ہے ،باقرنجفی کمیشن کی رپورٹ میں قاتلوں کے نام اور پتے درج ہیں، اس عدالتی انکوائری کی کاپی حاصل کرنے کیلئے ہم تین سال سے لاہور ہائیکورٹ کے دروازے پر بیٹھے ہیں، خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ شہدائے ماڈل ٹاﺅن کے ورثاءیتیم بچے اور ان کے لواحقین پوچھ رہے ہیں کہ ان کے والدین ،بہن بھائیوں اور عزیز واقارب کو جس جرم کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتارا گیااور تین سال کے بعد بھی انصاف کیوں نہیں ملا؟ اس موقع پر عوامی تحریک کے رہنماﺅں جی ایم ملک ،فیاض وڑائچ، نوراللہ صدیقی، ساجد بھٹی نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ، مظہر علوی و دیگر رہنما موجود تھے۔ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ ہماری جماعت کا یہ باضابطہ مطالبہ ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد وزیراعظم نواز شریف فوری طور پر مستعفی ہو کر اپنے اوپر عائد چارجز کا سامنا کریں ،انہوں نے کہا کہ پورا خاندان دو نمبر ثابت ہواجو عرصہ 35 سال سے قومی دولت کو لوٹ رہا تھا اور اب اس لوٹ مار کے جملہ ثبوت سامنے آچکے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانیں گے۔

دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام, بھاری اسلحہ بارے اہم انکشاف

راولپنڈی(بیورو رپورٹ)پاک فوج نے آپریشن ردالفساد میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرکے دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنادیا ہے ۔سیکیورٹی فورسز نے کوہاٹ ٹنل کے قریب آپریشن کے دوران بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کیا ہے ۔جس میں بڑی تعداد میں پستول،ایس ایم جیز،رائفلز اور ایمونیشن سے بھرے بکسز شامل ہیں، آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات پر آپریشن ردالفساد کے تحت کوہاٹ ٹنل کے قریب آپریشن کیا ۔ اس دوران سیکیورٹی فورسز نے وہاں بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کیا ہے یہ اسلحہ ایک سول ٹرک میں درہ آدم خیل سے وانا کی طرف لے جایا جارہا تھا ۔ اسلحہ ٹرک کے نچلے حصے بیسمنٹ اور ٹرک کی باڈی میں چھپایا گیا تھا آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دو دہشتگردوں کو بھی حراست میںلیالیا ۔ سیکیورٹی فورسز نے جو اسلحہ برآمد کیا ہے اس کی تفصیل اس طرح سے ہے(۱)۔ 30بور پستول تعداد300 (۲)، 30بور پستول ایم ایس بی ایس پی تعداد 5 ،(۳)، 30بور موزیرتعداد6(۴)،ذیگانہ پسٹل 197(سیاہ)تعداد 5،(۵) ذیگانہ کیموفلیچ تعداد 16(۶) بریٹابلیک تعداد 30 ، نمب(۷)پیٹروبریٹاگولڈن تعداد 4، (۸)، سمتھ اورویسن تعداد 20 (۹) والتھرتعداد10 (سات ایکس بلیک اورتین ایکس گرے)نمب(۱۰)میکاروتعداد 26، اس طرح سے برآمد کئے گئے پستولوں کی تعداد 614جبکہ پسٹل میگزین کی تعداد 579ہے دیگر خود کار اسلحہ میں(۱)A 5.56mmرائفل ایک ،(۲)ایس ایم جیز تعداد106،(۳)شارٹ گن کالہ کوف تعداد2،۴،ایل ایم جی تعداد6،اس طرح برآمد کئے گئے خود کار اسلحہ کی تعداد 115ہے سیکیورٹی فورسز نے مختلف ہتھیاروں کے 7ہزار گو لیوں کو روند بھی وہاں سے برآمد کئے ہیں ۔

جے آئی ٹی فیصلہ, اربوں ڈوب گئے, معیشت خطرے میں !!!

کراچی( آن لائن )پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کے باعث 1541پوائنٹس کی کمی کے ساتھ ہی ہنڈریڈ انڈیکس 44732 پوائنٹ کی سطح پر گیا ،،ٹریڈنگ کے آغاز پر پی ایس ایکس 100 انڈیکس بھی بڑی تیزی سے کمی کا شکار ہوا اور صرف چار منٹ کے دوران 1300 پوائنٹس سے محروم ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق جے آئی ٹی کی جانب سے پاناما کیس کی حتمی رپورٹ کے اثرات آج اسٹاک مارکیٹ پر بھی دیکھے جارہے ہے جہاں کاروبار کا آغاز مندی سے ہوا اور 100 انڈیکس میں 1541 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی اور ،ٹریڈنگ کی ابتدا ہی میں پی ایس ایکس انڈیکس 45000 کی نفسیاتی حد سے گر گیا پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پی ایس ایکس انڈیکس 44721.89 پر تھا جس میں تبدیلی منفی 1551.92 یعنی منفی 3.35 فیصد ریکارڈ کی گئی۔اپنے پہلے ایک گھنٹے کے دوران پی ایس ایکس انڈیکس زیادہ سے زیادہ 46273.81 اور کم سے کم 44714.72 پر رہا۔زرائعکے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پہلے ایک گھنٹے کے دوران 24 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے بیشتر کی ٹریڈنگ کم قیمت پر ہوئی۔ پی ایس ایکس پہلے ہی ڈالر کی قیمت میں کمی کے معاملے پر مندی کا شکار ہے جبکہ اس کیفیت کو گزشتہ روز جے آئی ٹی رپورٹ نے مزید سنگین بنادیا ہے جس کے نتیجے میں اکثر سرمایہ کار پریشانی کا شکار ہوگئے ہیں۔اسٹاک مارکیٹ میں آج صبح 10 بجے تک حصص کے کاروبار کا حجم 19,822,990 رہا جس کی مجموعی مالیت 1 ارب 60 کروڑ 86 لاکھ 20 ہزار 191 روپے تھی۔

ملالہ اپنی 20ویں سالگرہ کہاں منائے گی؟, جان کر آپ بھی فخر کرینگے

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی اپنے والد کے ہمراہ مشرق وسطی روانہ ہو گئیں جہاں وہ آج اپنی 20ویں سالگرہ پناہ گزین لڑکیوں کے ساتھ منائیں گی اور ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کر کے حقوق نسواں کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائیں گی۔ملالہ یوسفزئی لڑکیوں کو با اختیار بنانے کے لئے افریقہ اور لاطینی امریکا کا بھی دورہ کریں گی۔