Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • برائن لارا بھی عمران خان کے لیے بول پڑے
    • بلوچستان کا امن، خوشحالی اور عوامی بہبود ریاستی کوششوں کا مرکز : عاصم منیر
    • ایرانی حملے کا جواب، امریکی سینٹ کام نے 3 آئل ٹینکرز پر حملہ کر دیا
    • لوئس اینریکے 2030 تک پی ایس جی کلب کے کوچ مقرر
    • گلیات روڈ پر لینڈ سلائیڈنگ مسافرمشکلات کا شکار
    • ہسپتال بھی محفوظ نہ رہے، PIMSکے بعد شیخ زاید میں آتشزدگی
    • لیون میں جھگڑا، فینرباہچے کے گرین ووڈ گینڈوز ی کو جرمانہ، پابندی عائد
    • پیڑول کے بعد بجلی بھی مہنگی 2’6 روپے فی یونٹ کا عوام پر بم گرا دیا گیا
    • مشرقی چین میں شدید بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ، 1 ہلاک، 11 لاپتا
    • ایرانی آئل ٹینکر پر امریکی میزائل حملہ خَرگ جزیرے کے قریب واقعہ
    • لندن میں ایما بیگ اور صبا قمر کی ملاقات تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر چھا گئیں
    • ویمنز ایشیا کپ: پاکستان اور بھارت آج آمنے سامنے ہوں گے
    • چرس کی بو نے عالمی نمبر ایک کو بھی روک دیا سبالینکا کی میچ کے دوران شکایت
    • ’لوگ اپنی کہانیاں بنا رہے ہیں‘، سلمان علی آغا کی غیرحاضری پر مائیک ہیسن کا دوٹوک جواب
    • ٹیسلا کی بغیر ڈرائیور والی سائبر کیب متعارف اسٹیئرنگ وہیل اور پیڈلز بھی نہیں
    • امریکا جلد ایران کے پِک ایکس ماؤنٹین پر حملہ کرسکتا ہے: ٹرمپ
    • بھارت اور جاپان کے درمیان تاریخی ٹی20 میچ 22 ستمبر کو ہوگا
    • امریکا کا سعودی عرب کو 5 ارب ڈالر کا بڑا دفاعی پیکج منظور
    • نظام مفلوج ہو چکا، 12 سے 15 صوبے بنا دیے جائیں: احسن اقبال
    • میجر جنرل فیصل نصیر کو نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا مقرر کردیا گیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    نواز شریف اور مریم نواز کا سیاسی مستقبل بظاہر ختم ہو چکا :ضیا شاہد

    By Daily Khabrainنومبر 8, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگوکرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ تفصیلی فیصلہ آنے سے محسوس ہوتا ہے کہ میاں نواز شریف کا سیاسی مستقبل مکمل طور پر تاریک ہو گیا ہے۔ اگرچہ وہ پارٹی کے صدر بن گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ریمارکس سے اظہار ہوتا ہے کہ نظرثانی کا باب اب بالکل بند ہو گیا میں نے ماہرین قانون سے مشورہ کیا ان کی رائے کے مطابق بھی اب کوئی چانس نہیں ان کی نااہلی پر سپریم کورٹ نے مہر لگا دی ہے۔ ہم نے شریف فیملی کے ذرائع سے لندن میں معلوم کیا تھا تو پتا چلا تھا کہ مسلم لیگ ن کے وزیراعظم شہباز شریف ہوں گے جبکہ مریم نواز پنجاب کی وزارت اعلیٰ سنبھالیں گی۔ اس طرح خاندان کو پاور تقسیم کر کے بیلنس قائم رکھا جائے گا۔ تفصیلی فیصلے کے الفاظ ہیں کہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ لندن فلیٹس کی بینفشری آنر مریم نواز ہیں۔ فلیٹس سے انہیں فائدہ پہنچا ہے۔ اس سے مریم نواز کے سیاسی کردار پر بھی سوال اٹھ گیا ہے۔ ان ریمارکس کے خلاف کوئی اپیل بھی نہیں ہو سکتی۔ اب مریم نواز کا سیاسی مستقبل ہی دکھائی نہیں دیتا۔ میرا خیال ہے کہ اب وہ پنجاب کی وزیراعلیٰ بھی نہیں بن سکیں گی۔ لندن میں صلح صفائی کی ایک کوشش ہو چکی ہے۔ جس میں مریم نواز کو وزارت اعلیٰ دی جانی تھی۔ تفصیلی فیصلے سے ایک تو ان کی وزارت اعلیٰ جاتی رہی۔ شہباز شریف ابھی تک منظر عام پر ہیں۔ شیخ رشید کی درخواست کے باوجود ابھی تک ان کے خلاف حدیبیہ پیپرملز نہیں کھلا ہے۔ ماڈل ٹاﺅن سانحہ بھی کوئی ان پر ثابت ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ شریف فیملی کے ایک ہی سپوت دکھائی دے رہے ہیں جن کا نام شہباز شریف ہے وہ ابھی منظر پر موجود ہیں۔ اسحاق ڈار جو کہ نوازشریف کی غیر موجودگی میں تمام معاملات دیکھا کرتے تھے۔ کوئی خفیہ مفاہمت ہو، کسی سیاسی پارٹی سے رابطے کرنے ہوں۔ وہی کیا کرتے تھے۔ امتنان شاہد نے حتمی خبر دے دی ہے کہ ان سے استعفیٰ کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے اس کی جگہ مفتاح اسماعیل صاحب لے لیں گے۔ اسحاق ڈار بڑے طریقے سے طبیعت کے بہانے بہر نکل گئے اور استعفیٰ کا بہانہ ہی گیا اس طرح ان کی ”فیس سیونگ“ بھی رہے گی اور وہ علیحدہ بھی ہو جائیں گے۔ سیاستدان گرفتار ہونے کے بعد سب سے پہلے بیمار ہوتا ہے۔ کیونکہ ہسپتال میں اے سی والے کمرے موجود ہوتے ہیں۔ جو جیل میں نہیں ہوتے۔ اسی طرح کان، ناک اور دانت کے ماہر ڈاکٹر بھی جیلوں میں موجود نہیں ہوتے جو سیاستدان یہ تکلیف بتاتا ہے سمجھیں وہ توگیا جیل سے باہر۔ بینظیر بھٹو جب پاکستان سے باہر جانا چاہتی تھیں۔ شاید ضیاءالحق ان سے اکتا گئے تھے۔ انہیں کان کی تکلیف ہو گئی۔ پوری دنیا کے کسی ہسپتال سے ایک بھی خبر نہیں آئی کہ بینظیر کے کان کے درد کا کیا بنا۔ کسی سیاستدان نے کوئی بیان تک نہیں دیا۔ وزارت عظمیٰ کے چار امیدوار ہیں۔ نمبر ایک شہباز شریف، ملک میں ابھی تک مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہے اور کوئی گروپ علیحدہ بھی نہیں ہوا۔ لہٰذا اکثریتی پارٹی ابھی تک مسلم لیگ (ن) ہی ہے۔ دوسرے نمبر پر پی پی پی آتی ہے جس کی سندھ میں اکثریت ہے۔ اوباڑہ میں عمران خان نے جلسہ کیا جبکہ کچھ فاصلے پر گھوٹکی میں چند روز قبل بلاول بھٹو نے جلسہ کیا۔ وہاں کے نمائندگان کی رائے میں عمران خان کا جلسہ بلاول سے دو گنا تھا۔خبر چھپ چکی ہے کہ پی پی پی کے لئے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ ہو سکتا ہے عدالتی مراحل میں کسی جگہ عمران خان کو نااہل کر دیا جائے اور 2018ءکے الیکشن میں حصہ لینے سے روک دیا جائے۔ اگر پی ٹی آئی زیادہ سیٹیں لے جانے میں کامیاب ہو جاتی ہے جیسا کہ این اے 120 میں پی ٹی آئی کی امیدوار نے 43 ہزار ووٹ نکال لئے۔ لہٰذا عمران خان کا اسٹپنی شاہ محمود قریشی ہو سکتا ہے۔ وہ پارلیمانی پارٹی کا لیڈر بھی ہے۔ تیسرا نمبر بلاول بھٹو کا آتا ہے۔ وہ سندھ سے اچھی پوزیشن حاصل کر لیں گے اور کچھ پنجاب سے بھی سیٹیں نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔چوتھا اور آخری وزارت عظمیٰ کا امیدوار ایک متفقہ شخص ہو سکتا ہے۔ اگر تینوں سیاسی پارٹیاں برابر پوزیشن پر آ گئیں تو ایک یتیم سا متفقہ امیدوار بھی وزیراعظم بن سکتا ہے۔ اس سلسلے میں فضل الرحمن کا نام بھی نکل سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا ”سٹف“ موڈرن خواتین ہر گز نہیں ہیں وہ سب کو درست کر دیں گے۔ مولانا فضل الرحمن کی پالیسی یہ ہے کہ ان کی کوئی پالیسی نہیں۔ انہیں جس طرف سے مفاد نظر آتا ہے وہ ادھر چل پڑتے ہیں۔ وہ ایک ذہین انسان ہیں۔ ان کی صلاحیتیں کمال کی ہیں وہ جسے چاہیں موم کر لیں۔ فاروق ستار اور مصطفی کمال دونوں ہی سے میری گپ شپ ہے۔ مصطفی کمال اور فاروق ستار کا کردار ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ یہ دونوں مل نہ جائیں اور مہاجر ووٹ کو ایک جگہ جمع نہ کر لیں۔ پانامہ لیکس کے بعد اب پیرا ڈائز لیکس ایک شدید قسم کا ہوا کا دوسرا جھکڑ ہے اس جھکڑ میں فاختہ اور چڑیوں کے گھونسلے اڑ جائیں گے۔ یہ تاریخ کی بہت بڑی کروٹ ہے کہ ملکہ برطانیہ کو اپوزیشن لیڈرنے قوم سے معافی مانگنے کو کہہ دیا۔ حالانکہ ملکہ برطانیہ پر ٹیکس بھی لاگو نہیں ہے۔ ٹرمپ اپنے وزیروں اور ساتھیوں کو جتنی بھی بچانے کی کوشش کرے۔ کہیں نہ کہیں ان پر ڈینٹ ضرور پڑے گا۔ آسٹریلیا کی وزیراعظم گو گئیں۔ باقی چار وزیراعظم جن میں شوکت عزیز کا نام بھی ہے۔ ان پر اتنا پریشر ہے کہ وہ متاثر ہوئے بغیر رہ نہیں پائیں گے۔ سعودی عرب والا واقعہ بہت بڑا ہے تمام سوشل میڈیا بھرا ہوا ہے کہ سعودیوں نے اپنے مخالفوں کو پکڑا ہے۔ وہ شہزادے ان کے مخالف تھے۔ مقرن کا ہیلی کاپٹر سازش کے تحت اڑایا گیا۔ ٹرمپ نے سعودی شاہ کی حمایت کی ہے۔ جن کا اپنا نام کرپشن میں آ گیا ہو ایسے شہزادے کا کیا ”کرائی ٹیریا“ ہو سکتا ہے۔ شاہ سلمان جو سب کو پکڑنے کا نعرہ مار رہا ہے اس کا اپنا نام آ گیا ہے۔ لوگ باتیں بنا رہے ہیں کہ ”اپنے بارے میں کیا خیال ہے“ پچھلے دنوں نوازشریف صاحب سعودی عرب گئے تھے۔ کہا جا رہا تھا کہ اگر سعودی عرب پاکستان فوج، عدلیہ اور اداروں پر دباﺅڈالیں کہ این آر او کر کے انہیں رہا کریں۔ دو اہم واقعات جو رونما ہوئے ایک پیراڈائز لیکس جس کے بعد پاکستان میں کئی لوگوں کو نوٹ بھیج دیئے گئے ہیں۔ اس لیکس کے ذریعے پوری دنیا میں ”چھٹہ“ پھر گیا ہے۔ 99.99 فیصد کوئی سعودی حکومت اب اس پوزیشن میں نہیں کہ اداروں پر دباﺅ ڈال کر کہیں کہ ”نوازشریف نوں چھڈو“ شہزادے خود پھنسے ہوئے ہوں تو کون نوازشریف کی سفارش کرے گا۔ دوسرا واقعہ سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ ہے۔ جس نے نوازشریف کے خلاف فیصلے کو حتمی قرار دے دیا ہے اور مریم نواز کو بینفشری آنر قرار دیا گیا ہے۔ اب وہ کس قانون کے تحت الیکشن لڑ سکیں گی۔ بین الاقوامی سنیریو کے تحت یہ سب ایک دفعہ ”رگڑے“ میں ضرور آئیں گے۔ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ تین مہینوںمیں جھاڑوں پھرنے والا ہے۔ اتنے مقدمات آئیں گے کہ لوگ گنتے گنتے تھک جائیں۔ ڈاکٹر محبوب الحق جب وزیر خزانہ ہوتے تھے ایک ”ٹرپیکل ڈاﺅن تھیوری“ دی تھی جس کے تحت اوپر سے ڈوری پھرے گی کسی نہ کسی طرح نیچے آحر تک ضرور جائے گی۔ بڑے بڑے لوگ تو پکڑ میں آ گئے اس کے بعد وزیروں، مشیروں کی باری آئے گی اس کے بعد دیگر لوگ بھی پکڑ میں آ جائیں گے۔ لوگ بھولیں گے نہیں۔ سلیم سیف اللہ پارٹی کو کیسے رد کر دیں گے جس کی بیسویوں آف شور کمپنیاں ہیں۔ غزالی بٹ صاحب کے پاس ڈینگی ورکرز بھرتی کرنے کا ٹھیکہ ہے۔ میں نے دو غریب بتیوں کی سفارش کی تو وزارت ہیلتھ نے معذرت کر لی۔ وہ ایم پی اے ضرور ہیں 300 لیڈی ورکر رکھنے کا انہیں اختیار کس نے دیا ہے۔ پچھلے دس بارہ سال میں خالی اسامیوں کا ایک بھی اشتہارنہیں چھپا۔ ایم اے پلیس بچے، بچیاں بیٹھے ہوتے ہیں سفارش نہ ہونے کی وجہ سے وہ نوکری حاصل نہیں کر سکتے۔ کرپشن نے میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔

     

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      بلوچستان کا امن، خوشحالی اور عوامی بہبود ریاستی کوششوں کا مرکز : عاصم منیر

      گلیات روڈ پر لینڈ سلائیڈنگ مسافرمشکلات کا شکار

      ہسپتال بھی محفوظ نہ رہے، PIMSکے بعد شیخ زاید میں آتشزدگی

      تازہ ترین

      ڈرے ہوئے امام الحق سن گلاسز اور ماسک پہنے لاہور واپس پہنچ گئے امام الحق کوانگلینڈ کیخلاف کھیلنے سے FAKE INJURY ظاہر کر کے انکار پرتحقیقات کا سامنا

      مصباح الحق نے سلیکشن کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا

      راول ڈیم کے اسپِل ویز کھل گئے ڈیم اوور فلو کے قریب

      راولپنڈی میں فلیش فلڈنگ بارش سے نالہ لئی میں 27 فٹ پانی

      پمز میں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق ای ڈی کی تصدیق

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.