ملتان(خصوصی رپورٹ) سیشن جج ملتان امیر محمد خان نے قندیل قتل کیس میں ملوث ملزم مفتی عبدالقوی کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے پر 27 روز بعد رہاکرنے کاحکم دیاہے۔فاضل عدالت میں مفتی عبدالقوی کی جانب سے درخواست ضمانت بعدازگرفتاری دائر کی گئی تھی کہ اس کوضمنی بیان پر مقدمہ میں غلط طورپربدنیتی کے تحت ملوث کیاگیاہے جبکہ اس کے خلاف کوئی ثبوت بھی موجودنہیں ہے اسلئے اسکو ضمانت پر رہاکرنیکاحکم دیاجائے۔ سنٹرل جیل سے رہائی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ رہائی پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ بدھ کو میڈیا سے تفصیلی گفتگو میں پولیس اور جیل سے متعلق باتیں بھی ہوں گی۔ پولیس کے بارے میں اتنا کہوں گا کہ پنجاب پولیس زندہ باد۔ مفتی عبدالقوی کے وکلا نے خوشی میں تل شکری سے بنے لڈو ایک دوسرے کو کھلائے۔ دریں اثنا وکلا کے انگلش میں دلائل پر قندیل بلوچ کے والد کا عدالت کے اندر واویلا کیاکہ وکلا انگریزی میں گڈ مڈ کرتے ہیں مجھے سمجھ نہیں آتی ہے۔ بعدازاں ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بعد شام 6 بجے کے بعد مفتی عبدالقوی کو جیل سے رہا کر دیا گیا۔
بلا آخر27روز بعد مفتی عبدلقوی بارے اھم ترین خبر آگئی

