Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Trending
    • اقوام متحدہ نے غزہ میں نسل کشی کرنے پر اسرائیل کو بلیک لسٹ میں شامل کردیا، عرب میڈیا
    • مری: قربانی کیلئے لایا گیا بیل گہری کھائی میں جاگرا، موقع پر ذبح کرنا پڑا
    • قربانی کے گوشت کو زیادہ عرصے تک فریز کرنا کتنا محفوظ ہے؟ ماہرین نے اہم طبی حقائق بتا دیے
    • سوشل میڈیا نوجوانوں کیلئے سگریٹ نوشی جتنا خطرناک قرار!
    • مسلح افواج کے سربراہان کی قوم کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد
    • آسٹریلوی کپتان مچل مارش پاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز سے باہر
    • معروف بھارتی اداکار انتقال کرگئے
    • صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر رہنماؤں نے نماز عید کہاں ادا کی؟
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • سنڈے میگزین
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Khabrain Group Pakistan
    Home»انٹر نیشنل»افغانستان میں آدھی آبادی سکول نہیں جاتی
    انٹر نیشنل

    افغانستان میں آدھی آبادی سکول نہیں جاتی

    Daily KhabrainBy Daily Khabrainجون 4, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    کابل (ویب ڈیسک)اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے کہا ہے کہ طالبان کا زور ختم ہونے کے 16 برس بعد بھی افغانستان میں تاحال 3 میں سے ایک لڑکی اسکول جاتی ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یونیسف کی جاری کردہ اعداد وشمار میں کہا گیا کہ 7 سے 17 برس عمر کے 30 لاکھ 70 ہزار بچے جبکہ 20 لاکھ 70 ہزار لڑکیاں اسکول جانے سے گریزاں ہیں۔رپورٹ کے اعتبار سے 60 فیصد لڑکیاں اسکول نہیں جاتی۔اس حوالے سے یونیسف کی رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ ‘ملک میں سیکیورٹی خدشات اور پرتشدد واقعات سمیت غربت اور صنفی امیتاز کے باعث بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پرتشدد واقعات کے باعث متعدد اسکول بند ہو چکے ہیں جس سے ملک میں لڑکیوں کے لیے اسکول جانے کے مزید امکانات ختم ہو گئے اور لاکھوں لڑکیوں نے کبھی اسکول میں قدم نہیں رکھا۔علاوہ ازیں اسکول نہ جانے والی 85 فیصد لڑکیوں کا تعلق پرتشدد واقعات کے حوالے سے بدنام علاقے قندھار، ہلمند، پتیکا، زابل، وردک اور ارزگن سے ہے۔افغانستان میں یونیسف کی ترجمان ایڈیل کھودر کا کہنا ہے کہ دیگر اسباب کے علاوہ استحصال، مسلح گروپ میں جبری شمولیت، تشدد کی وجہ سے بھی بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں۔انہوں زور دیا کہ جنگ زدہ ماحول کے اثر کو ذہنوں سے زائل کرنے کے لیے اسکول ایک بہترین مرکز ثابت ہو سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اسکول روز مرہ زندگی میں ٹھہراو¿ پیدا کرتا ہے جو انتشار کا شکار ملکوں کے لیے بہترین سرمایہ کاری ہے’۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ کم عمری کی شادیاں، فیملی اساتذہ کی کمی اور ناقص انفراسٹرکچر کے باعث بھی حالات مزید بدتر ہو رہے ہیں۔ ‘تعلیم کا سال’افغانستان کے وزیرتعلیم میرواعظ بلخی نے کہا ہے کہ ‘متعدد وجوہات’ کے باعث بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘معاشرے میں سماجی اداروں کی ترقی کے لیے بچوں کی تعلیم بہت ضروری ہے۔تعلیم کی بدولت ہی جنگ، غربت اور بے روزگاری سے لڑا جا سکتا ہے اور اسی وجہ سے افغان حکومت نے 2018 کو ‘تعلیم کا سال’ قرار دیا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Daily Khabrain

    Related Posts

    اقوام متحدہ نے غزہ میں نسل کشی کرنے پر اسرائیل کو بلیک لسٹ میں شامل کردیا، عرب میڈیا

    مئی 28, 2026

    بھارت میں نمازِ عید ، گائے، بچھڑے اور اونٹ کی قربانی پر پابندی عائد کر دی گئی۔

    مئی 26, 2026

    اسرائیل کا وجود خاتمے کے قریب ہے اور وہ اگلے آنے والے 25 برس نہیں دیکھ سکے گا۔ مجتبی خامنه ای

    مئی 26, 2026

    Comments are closed.




    Facebook X (Twitter) Instagram Pinterest
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 ThemeSphere. Designed by ThemeSphere.

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.