مستند عالمی ذرائع ابلاغ (جیسے رائٹرز، ٹائمز آف اسرائیل اور چائنا ڈیلی) کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی پوسٹ کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے ایران کو سخت وارننگ دی ہے۔
وینس نے اپنے بیان میں کہا:
"ایران نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے۔ ہم نے اس کا احترام کیا ہے۔ اگر انہیں اس بات پر کوئی اختلاف ہے کہ مفاہمت کی یادداشت (MOU) پر کس طرح عمل درآمد کیا جا رہا ہے، تو وہ فون اٹھا کر بات کر سکتے ہیں۔ لیکن تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔”
جنگ بندی کا معاہدہ: امریکہ اور ایران نے قطر اور پاکستان کی ثالثی کے بعد 18 جون 2026 کو جنگ بندی کی ایک ابتدائی مفاہمت کی یادداشت (MOU) پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کے محفوظ اور مفت گزرنے کو یقینی بنانا تھا۔
معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں سنگاپور کے جھنڈے والے ایک کارگو جہاز پر ڈرونز فائر کر کے اس معاہدے کی "احمقانہ خلاف ورزی” کی ہے۔
امریکہ کی جوابی کارروائی: اس ڈرون حملے کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے جمعہ کی رات جنوبی ایران میں واقع ایرانی میزائل، ڈرون اسٹوریج اور ساحلی ریڈار سائٹس پر شدید جوابی فضائی حملے کیے۔
ایران کا موقف: دوسری جانب ایرانی حکام اور پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کسی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ وہ آبنائے ہرمز میں صرف شپنگ قوانین کو نافذ کر رہے تھے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے جوابی کارروائی کے طور پر خطے میں ان مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جہاں امریکی افواج تعینات ہیں۔

