لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ این ر او کی پاکستان میں تاریخ بتاتی ہے کہ نہ کوئی سچ بولتا ہے نہ آج تک کسی نے سچ بولا ہے خود نوازشریف جب اٹک کی جیل سے سعودی عرب کی مداخلت کے باعث26 سوٹ کیسوں میں اپنا سامان لے کر چلے گئے تھے اور تحریری معاہدہ کر کے گئے تھے کہ وہ 10 سال تک پاکستان کی سیاست میں حصہ نہیں لیں گے۔ اس وقت بھی نہ انہوں نے تسلیم کیا اور مسلسل 6،7 برس تک وہ یہی کہتے رہے کہ میں نے کوئی معاہدہ نہیں کیا اور نہ ہی میں نے اس قسم کی دستاویزات پر دستخط کئے ہیں لیکن یہ معاملہ کھلا اور جب شہباز شریف صاحب نے یہاں لاہور میں آنے کی کوشش کی اور ان کو واپس بھیج دیا گیا اور جب جناب نوازشریف نے کوشش کی تو ان کو بھی واپس آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے بعد نوازشریف نے سعودی عرب سے علاج کے بہانے لندن جانے کا فیصلہ کیا ہے اور علاج کے لئے لندن چلے گئے۔ انہوں نے اس وقت بھی این آر او کو نہیں تسلیم کیا تھا بعد میں جب دستاویزات سامنے آئیں تو سارے ٹی وی چینلز پر دکھائی گئیں اور تمام اخبارات میں اس کے فوٹو سٹیٹ چھپے تو بھی نہ شہباز شریف نے یا نہ نوازشریف صاحب نے کبھی مانا کہ ہم نے کوئی تحریری طور پر دستخط کئے تھے۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ کوئی این آر او ہو رہا ہے یہ اس بات کا جواب ہے کہ اگر انہوں نے یہ کہا بھی ہے کہ نہ کوئی این آر او ہو رہا ہے اور نہ اس کی ضرورت ہے تو بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جو کچھ انہوں نے کہا کہ وہ صحیح ہے۔ ان کی ماضی کی تاریخ خاص طور پر بسلسلہ این آر او وہ تو نہایت غیر مصدقہ رہی ہے انہوں نے مختلف وقتوں میں مختلف باتیں کی ہیں۔ میرا خیال ہے اگر بات بن جاتی اور دونوں طرف سے دستخط ہو جاتے اور یہ بھی دستخط کر دیتے تو آپ دیکھتے ہی رہ جاتے۔ رات کو آپ سونے کے لئے اپنے بستر پر جاتے اور صبح اٹھتے تو پتہ لگتا کہ راتوں رات سارے چلے گئے ہیں۔ ماضی میں خاص طور پر نوازشریف صاحب کی فیملی میں اس سے پہلے این آر او کے بارے میں بے نظیر بھٹو مانی تھیں کہ میرا این آر او ہوا ہے۔ مجھے تو خود محمد علی درانی نے بتایا تھا کہ جو وزیراطلاعات بھی رہے پرویز مشرف کے۔ انہوں نے مجھے خود بتایا کہ میں ابوظہبی ساتھ گیا تھا کہ میں باہر بیٹھا ہوا تھا کہ اندر ملاقات ہوئی ابوظہبی کے شاہی محل میں محترمہ بے نظیر بھٹو صاحب اور پرویز مشرف کی اور وہیں یہ ساری باتیں طے پاتی تھیں لیکن نہ کبھی جناب آصف زرداری نے تسلیم کیا نہ بے نظیر بھٹو نے تسلیم کیا تھا حتیٰ کہ مرد مجاہد جو تھے جو ہمیشہ دعویٰ کرتے ہیں کہ میں نے کبھی غلط بیانی نہیں کی۔ انہوں نے میری موجودگی میں اسلام آباد میں ہوٹل سرینا ہے اس کے بیسمنٹ میں کھانے کی میز پر میں بیٹھا تھا کہ میں نے ان سے کہا کہ ابھی مجھے کسی نے پیغام دیا ہے کہ آپ نے درخواست واپس لے لی ہے یہی جو آج جھگڑا پڑا ہوا ہے کہ سوئس بینکوں کے بارے میں اور آپ نے بطور صدر پاکستان دستخط کئے ہیں کسی خط پر جس پر لکھا ہوا ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ اس کی تاریخ دو، چار دن بعد آنے والی تھی کہ اس پر کوئی کارروائی ہو اور آپ نے درخواست کی ہے کہ یہ کارروائی ڈیٹ ان آفس کر دی جائے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ہر پارٹی کو خود اپلائی کرنا پڑتا ہے کہ ہم نے عدالو کو ڈیٹ ان آفس کی تھی اب ہم خود چاہتے ہیں کہ فلاں تاریخ یا اگلے ہفتے اس کی تاریخ دے دی جائے چنانچہ خود پرویز مشرف صاحب نے مجھے کہا کہ اچھا مجھے تو نہیں معلوم۔ مجھے اچھی طرح سے ان کے جملے بھی یاد ہیں۔ جب میں نے بحث کی میں نے کہا کہ میں ابھی سن کے آ رہا ہوں آپ نے اس پر دستخط کئے ہیں اسش پر اور میں نے کہا کہ یہ باہر کی ایجنسیوں سے جاری بھی ہو گیا ہے اور ابھی آپ گھر بھی نہیں پہنچے گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ بی بی سی لندن نے بھی کہہ دیا ہے آپ کیسی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے مجھے کہا کہ آپ لاہور جا رہے ہیں یا یہیں ہیں۔ میں نے کہا میں واپس جا رہا ہوں انہوں نے مجھے کہا کہ اگر آپ کل ادھر ہوں تو مجھ سے ملنا میں آپ کو تفصیل سے بتاﺅں گا۔ لیکن انہوں نے اقرار نہیں کیا انہوں نے گول مول سی بات کی۔ پرویز مشرف نے بھی جھوٹ بولا بے نظیر بھٹو، آصف زرداری نے بھی بات چھپائی۔ اور مجھے اپنے دوست کی وجہ سے یہ آپ اخبار میں ہیںیہ آﺅٹ نہ کریں میں باہر بیٹھا رہا۔ سوا گھنٹہ ان کی گفتگو ہوئی تھی میں ان کے مہمان خانے میں بیٹھا تھا اندر کسی جگہ پر سلطان النہان خود تھے اور بے نظیر اور پرویز مشرف تھے جب ان کا این آر او ہوا تھا۔ خدا کرے ایسا ہو کہ لیڈر یہ سب کریں مگر اعلانیہ کریں۔ کہا تو جاتا ہے کہ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ ملک میں نئی سیاست شروع ہوو گی۔ خدا کرے۔ اییسا ہوا۔ ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ ہم نے بڑے بڑے سیاستدانوں کو جھوٹ بولتے دیکھا ہے۔ شہباز صاحب نے جو کہا میں نے نہیں کہا غلط کہا ہے۔ میں نے یہ کہا کہ ان کا کوئی پتہ نہیں۔ یہ کہتا ہے کہ کل کلاں صلح صفائی ہو جائے اور یہ اسلام کہاں سے اچانک بستر باندھ کر کسی دوسرے ملک کی طرف پرواز کرتے ہوئے دکھائی دیں اور اسی جیل خانے میں جہاں وہ بند ہیں وہی گاڑیاں جائیں اور ان کو اور ذاتی سامان لے کر ایئرپورٹ پر چلے جائیں گے۔
14 اگست کو مولانا فضل الرحمن کا یوم آزادی نہ منانے اور شہباز شریف کے بلیک کہنے کے بیان پر ضیا شاہد نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن پہلی مرتبہ ہار گئے انہیں یقینا شکایات ہیں، انہوں نے تو ہارنا سیکھا ہی نہیں تھا اور شہباز شریف یعنی کیا نام ہے شہباز شریف 10 سال پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے اتنے بڑے ایڈمنسٹریٹر اور اتنے تعمیراتی کام کئے اورنج ٹرین نامکمل ہے مگر میٹرو لاہور، میٹرو راولپنڈی، میٹرو ملتان، ڈینگی والا معاملہ حل کیا۔ اتنا کام کرنے کے بعد اب اچانک وہ لاہور میں بھی ہار گئے، ڈیرہ غازی خان میں بھی ہار گئے۔ مولانا فضل الرحمن میانوالی میں ہار گئے جو ان کا جنم گرھ ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ افسوسناک نہیں ہیں لیکن جب تک کوئی چیز ثابت نہ ہو جائے۔ بہترین طریقہ یہی ہے کہ جیسے عمران خان نے کہا ہے جس کو شک و شبہ ہے وہ اپنا حلقہ کھلوا لے۔ ان کا مطالبہ تو مسلم لیگ (ن) نے نہیں مانا تھا۔ لیکن مسلم لیگ (ن) بارے ایک بات کہتا ہوں، میں تو کتاب بھی لکھ رہا ہوں، روزانہ قسط بھی چھپتی ہے میرا دوست محمد نوامشریف اس میں بھی میں نے لکھا ہے کہ ہمارے محترم استاد اور نظریہ پاکستان پریس کے سربراہ محترم مجید نظامی جو تھے، ہم سب اخبار نویسوں میں سب سے سینئر بھی تھے، وہ ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ یہ وہ سیاسی جماعت نہیں ہے نوازشریف کی، مسلم لیگ (ن) وہ سیاسی جماعت مسلم لیگ نہیں ہے جو قائداعظم نے بنائی تھی اور وہ بالکل تسلیم نہیں کرتے تھے اور ہمیشہ کھل کر کہتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ان کو بانانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ مجید نظامی کی بات کو ایک بار پھر شہباز شریف نے ثابت کر دیا۔ مولانا فضل الرحمن کے سیاسی آقا تو جمعیت علماءہند تھے۔ پاکستان بننے کے بعد جمعیت علماءاسلام بنی۔
آپ کا دور بہت اچھا گزرا۔ پاکستان کو اصل مسائل معاشی ہیں۔ چہرے بدلنے سے کوئی حالات میں تبدیلی آ جائے گی۔ معاشی مسائل پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ آپ یقینا جانتے ہیں کہ ہم معاشی دلدل کے حوالے سے کہاں کھڑے ہیں۔
سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ اگر ہم دیکھیں کہ 2013ءمیں جب پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو اس وقت پاکستان کے معاشی حالات کس قسم کے تھے چیلنجز کس قسم کے تھے۔ اس کے مقابلے میں آج حالات کے حالات میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ پاکستان اس وقت بہت بہتر صورت حال میں ہے۔ میں چیزوں سے اس کی نشاندہی کر دوں۔ معاشی ترقی میں جو سب سے بڑی رکاوٹ تھی ایک دہشت گردی کے حوالہ سے پورے ملک میں بم پھٹ رہے تھے۔ چاہے وہ لاہور، کوئٹہ ہو کراچی ہو کوئی شہر کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں مقدس جگہ ہوں یا یونیورسٹی ہوں، کالج ہوں یا شاپنگ سنٹرز ہوں۔ جہاں بم پھٹ رہے ہوں وہاں انویسٹمنٹ لانا بہت مشکل ہوتا ہے اور سرمایہ کاری میں بنیادی ذریعہ ہوتی ہے معاشی ترقی کے لئے۔ دوسری مشکل بجلی کے حوالے سے تھی۔ بجلی کی صورتحال بڑی خراب تھی اس کی وجہ سے ہم سب سی پیک کو لے کر آ گئے تھے۔وہ دو بڑی رکاوٹیں دور ہو چکی ہیں آج نئے مسائل ہیں۔ اس وقت ہماری ترقی کی شرح 3 فیصد سے کم تھی اور اب 5.8 فیصد ہے۔ آج کے پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار آگے لے کر جانا بہت حد تک آسان ہے۔ دونوں چیزوں پر تقریباً قابوپایا۔
ضیا شاہد نے کہا کہ آپ کی ٹیم کی رخصتی کے ساتھ ہی ڈالر فوراً مہنگا کیوں ہو گیا۔ اس کی وجہ کیا ہے؟
سابق گورنر نے کہا کہ ڈالر خاص طور پر روپے کی قیمت کم ہونے میں اس میں غیر یقینی صورتحال کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ پہلے تو یہ تھا کہ الیکشن ہوں گے نہیں ہوں گے دوسرا یہ تھا نتائج کیا نکلیں گے۔ حکومت آئے گی، آگے چل بھی سکے گی، نہیں چل سکے گی۔ اس قسم کے ماحول میں ہمیشہ روپے پر ہمیشہ دباﺅ آتا ہے۔ جیسے ہی الیکشن ہو گئے روپے پر دباﺅ تھوڑا کم بھی ہوا ہے۔ وہ حکومت کو الزام نہیں دوں گا وہ حالات کی وجہ غیر یقینی صورتحال میں بزنس مین بھی گھبراہٹ کا شکار ہوتے ہیں اور وہ سیاست کو چھوڑ کر اپنی حفاظت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو چیلنجز ہیں آپ نے پوچھا تھا کہ یہ کوئی نئی چیز کریں گے دیکھیں اگر اسد عمر جیسے وزیرخزانہ بننے جا رہے ہیں ان کے بیانات دیکھیں وہیں چیزیں مسائل کے حل پیش کر رہے ہیں اس سے پہلے کی حکومت کر رہی تھی آئی ایم ایو میں جائیں گے۔ ہم باہر پاکستانی بنکوں کو بانڈز بیچیں گے۔ یورو بانڈز بیچیں گے۔ ظاہر ہے پیسہ حاصل کرنے کیلئے آپ کو یہ سب اقدامات کرنا پڑیں گے کس ریٹ پر کریں گے کیا شرائط ہوں گی آئی ایم ایف کی لیکن اس سب کو چھوڑ کر کسی کے پاس ایسا حل نہیں ہوتا کہ پی ٹی آئی آئے گی۔ تو پتہ نہیں کیا کر دے گی۔ ضیا شاہد نے کہا کہ نیت بڑی چیز ہے کہ آپ شہباز شریف سے ملے ہیں نوازشریف سے۔ آپ ان کے معتمد ساتھی رہے ہیں آپ کیا سمجھتے ہیں کہ نئی حکومت شروع ہونے جا رہی ہے اس کا عام طور پر 5 سال ہوتا ہے۔ کیا یہ آپ سمجھتے ہیں نوازشریف سے ملاقات کے بعد کہ کیا یہ پی ٹی آئی کی حکومت 5 سال پورے کر سکے گی ایجنسیوں کے ساتھ یا آپ کے خیال میں ایسا کرنا مشکل ہے۔ آپ کے خیال میں نوازشریف صاحب کی طبیعت کچھ صحیح نہیں تھی پھر ہسپتال منتقل ہوئے۔ پھرخود اپنے اصرار پر وہ واپس جیل میں آ گئے۔ اللہ ان کو صحت تے وہ ہسپتال میں رہ کر چلاج کراتے تو بہتر تھا۔ انہوں نے واپس جیل جانے کو کیوں ترجیح دی۔ محمد زبیر نے کہا کہ جیل میں جانے کو ترجیح اس لئے دی کہ ان کی ایک کمٹمنٹ ہے وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اصول کی سیاست کر رہے ہیں اور ہم سب سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ جو کیا گیا وہ ان فیئر تھا۔ باوجود اس کے کہ نوازشریف اور ہمارے سیریئس تحفظات ہیں، ہمیں قانون کی پاسداری کرنا ہے اس لئے انہوں نے جیل جانے کو ترجیح دی۔ نوازشریف کی صحت اچھی لگ رہی تھی اور جذبہ اس سے بھی اچھا لگ رہا تھا۔ ان سے ملنے جانے والے مریم اور نوازشریف کے مقابلے میں زیادہ گھبراہٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ اللہ انہیں جوش و جذبے کے ساتھ ہی رکھے۔ حکومت پوری کرنے کے معاملے میں اپوزیشن کا کردار اہم ہے کہ وہ کس طرح اپنے کارڈ کھیلتی ہے۔ اس سے زیادہ اہم عمران خان اور ان کی حکومت کا چیلنجز سے نمٹنا ہے۔ انہوں نے بڑی مشکل صورتحال میں ہر پارٹی سے اتحاد کیا ہے۔ ایم کیو ایم کو اس سے پندرہ دن پہلے دہشتگرد کہتے رہے ہیں دوسری جانب چودھری پرویز الٰہی کو سپیکر لگا رہے ہیں۔ اسی طرح چھوٹی چھوٹی پارٹیوں سے پریشر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں پرویز خٹک کے وزیراعلٰ نہ بننے پر ااصف خان بھی نہیں بنیں گے اور ایک کمپرومائز امیدوار آئے گا۔ یہ مشکلات تحریک انصاف فیس کے گی۔ اور بھی کمپرومائز ہوں گے۔ بلوچستان کی شیمل ہونے والی جماعتیں فری میں سپورٹ نہیں کریں گی۔ ان کے مطالبات ہیں۔ شہباز شریف کے این آر او کے حوالے سے بیان پر اور نواز شریف کے مفاہمت کے ذریعے جیل سے باہر آ کر لوگوں کو گائیڈ کرنے کی بات پر انہوں نے کہا کہ سیاست میں بات چیت سے انکار نہیں ہے مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ ان سے معافی نامہ لکھوایا جائے یا ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جائے یا سیاست سے الگ ہونے کی بات کی جائے۔ بات چیت اس پر ہو سکتی ہے کہ اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ کیا جائے گا۔ نوازشریف 13 جولائی کو گرفتار ہوئے۔ عابد باکسر کی 15 منٹ میں ضمانت ہو گئی اور راﺅ انوار 450 قتل کے مقدموں کے باوجود ضمانت پر ہیں۔ سب باہر آ جاتے ہیں۔ مگر ادھر کیپٹن (ر) صفدر جو صرف عینی شاہد تھے انہیں ایک سال قید فضول میں ہوئی۔ 5 منٹ نہیں لگتے ضمانت ہونے میں۔ مگر 8 ماہ گزرنے کے باوجود ضمانت کی شنوائی کا وقت نہیں آیا۔ ہم کہتے ہیں کہ شفاف کام کریں عدالتی عمل چلے جو سبکے لئے برابر ہو۔ یہ نہ ہو کہ سابق وزیراعظم پروویز اشرف اور یوسف رضا گیلانی کی احتساب عدالت میں تاریخ سال میں ایک بار لگے اور نوازشریف کے کیس کی اتنی جلدی ہے کہ ان کو سزا ہو گئی، 10 سال کے لئے قید ہو گئے، 100 پیشیاں بھی ہو گئیں۔ اس لئے شفافیت کوئی قبول نہیں کرے گا۔ عدالتی پراسس پر ہمارے ملک کی تاریخ سنہرے الفاظ میں نہیں لکھی جاتی۔ آج کوئی ماہر آئین و قانون تمیز الدین، ذوالفقار علی بھٹو اور ظفر علی خان سمیت نصرت بھٹو اور دیگر سیاسی کیسز کا دفاع نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ سیاسی کیس تھے۔ اسی طرح نوازشریف کے کیس کو بھی سیاسی طور پر بنایا گیا۔ اس پر ہم کوئی شرائط نہیں لے کر آئیں گے۔ این آر او کا مطلب بات چیت ہے تو ہم کہتے ہیں کہ نوازشریف کے کیس میں شفافیت ہونی چاہئے ضیا شاہد نے تحریک انصاف کے جنوبی پنجاب کے صوبے کے نعرے کے حوالے سے کہا کہ ہمیشہ سے جنوبی پنجاب کا الگ صوبہ بنانے کے حق میں ہوں۔ میرا تعلق اتفاق سے پرائمری تک بہاولنگر میں تعلیم پائی۔
جمعیت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حمد اللہ نے اس حوالے سے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ضیا شاہد صاحب آپ کی بہت قربانیاں ہیں مگر بدقسمتی ہے کہ ابھی تک جے یو آئی (ف) اور مولانا فضل الرحمن کی اس ملک کے آئین، قانون، جمہوریت، پارلیمنٹ کی سپریمسی کے لئے مولانا فضل الرحمن کی جدوجہد کی تاریخ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ انہوں نے کیا کیا ہے۔اس پر میں افسوس کر سکتا ہوں یا فاتحہ پڑھ سکتا ہوں اس کے علاوہ اور کوئی جواب نہیں ہے۔ کشمیر کا مسئلہ روز اول 1947ءسے آج تک ہے۔ قلم اور بندوق و بارود کا اختیار رکھنے والے حکمرانوں نے بھی اس ملک پر حکومت کی کیا انہوں نے اس مسئلے کا حل نکالا۔ اس معاملے پر ڈیبٹ رکھیں تو وہ آن ون بناﺅں گا کہ مولانا نے کشمیر کے لئے کیا کیا۔ مولانا سے بطور صدر کشمیر کمیٹی مسئلے کا حل لینا چاہتے ہیں تو 1947ءسے آج تک جتنے بھی حکمران آئے کسی نے کچھ نہیں کیا۔

